ARTICLES

11،اور12‘تاریخ کوزوال سے پہلے رمی کاحکم

الاستفتاء : کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اج کل حج کے موقع پرمعلم کے ادمی اور انتظامیہ حاجیوں کوگیارہویں اور بارہویں ذوالحجہ کوزوال سے پہلے صبح ہی مجبورکرکے رمی کے لئے بھیج دیتے ہیں ،اس صورت حال میں حاجیوں کوکیاکرناچاہیے ؟

(سائل : طفیل سروربلوچ،پرنسپل ماڈل ہائی اسکول،قصور)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں حاجیوں کوگیارہویں اوربارہویں ذوالحجہ کی رمی زوال سے پہلے نہیں کرنی چاہیے ،کیونکہ گیارہویں اوربارہویں کی رمی کاوقت زوال سے شروع ہوتاہے ۔ چنانچہ امام محمدبن حسن شیبانی حنفی متوفی189ھ لکھتے ہیں :

ان رماھا یوم الثانی قبل الزوال لم یجزہ ، و کذلک الیوم الثالث۔( )

یعنی،حاجی نے اگرگیارہویں کوزوال سے پہلے رمی کی تووہ اسے کافی نہ ہوا،اور بارہویں کاحکم بھی اسی طرح ہے ۔ اورعلامہ علاءالدین ابی بکربن مسعودکاسانی حنفی متوفی587ھ لکھتے ہیں :

وقت الرمي من اليوم الاول والثاني من ايام التشريق،وهو اليوم الثاني والثالث من ايام الرمي فبعد الزوال حتى لا يجوز الرمي فيهما قبل الزوال في الرواية المشهورة عن ابي حنيفة.وروي عن ابي حنيفة ان الافضل ان يرمي في اليوم الثاني والثالث بعد الزوال،فان رمى قبله جاز، وجه هذه الرواية ان قبل الزوال وقت الرمي في يوم النحر فكذا في اليوم الثاني والثالث؛ لان الكل ايام النحر، وجه الرواية المشهورة ما روي عن جابرٍ – رضي الله عنه «ان رسول اللٰه صلى الله عليه وسلم رمى الجمرة يوم النحر ضحًى، ورمى في بقية الايام بعد الزوال»، وهذا باب لا يعرف بالقياس بل بالتوقيف۔( )

یعنی،ایام تشریق کاپہلااوردوسرا دن جوکہ ایام رمی کا’’دوسرا ‘‘اور ’’تیسرا‘‘دن ہے ،ان میں رمی کاوقت زوال کے بعدسے ہے ،یہاں تک کہ امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مشہور روایت کے مطابق گیارہویں اوربارہویں میں زوال سے قبل رمی جائز نہیں ہے اورامام ابوحنیفہ سے مروی ہے کہ گیارہویں اور بارہویں میں زوال کے بعدرمی کرناافضل ہے ،پس اگرکسی نے زوال سے پہلے رمی کرلی توجائزہے ،اس روایت کی وجہ یہ ہے کہ دسویں ذوالحجہ میں رمی کاوقت زوال سے پہلے ہے پس اسی طرح گیارہویں اور بارہویں میں بھی،کیونکہ یہ تمام ایام نحرہیں ،اور مشہور روایت کی وجہ وہ ہے جو حضرت جابررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے دسویں ذوالحجہ کوچاشت کے وقت جمرہ کورمی فرمائی اور بقیہ ایام میں زوال کے بعداوریہ وہ باب ہے جسے قیاس کے ذریعے نہیں پہچانا جاسکتا، بلکہ توقیف کے ساتھ پہچاناجاسکتاہے ۔ اورامام فخرالدین حسن بن منصوراوزجندی حنفی متوفی592ھ لکھتے ہیں :

لا یدخل وقت الرمی فی الیوم الاول والثانی من ایام التشریق حتی تزول الشمس فی المشھور من الروایۃ۔( )

یعنی،ایام تشریق کے پہلے اوردوسرے روزمیں رمی کاوقت نہیں داخل ہوتا یہاں تک کہ مشہورروایت کے مطابق سورج ڈھل جائے ۔ اورعلامہ برہان الدین ابوالمعالی محمودبن صدرالشریعہ ابن مازہ بخاری حنفی متوفی616ھ لکھتے ہیں :

اما فی الیوم الثانی والثالث،فوقت الرمي ما بعد الزوال ولو رمى قبل الزوال لا يجزئه،هكذا ذكر في«الاصل» و«المجرد»۔( )

یعنی،گیارہویں اوربارہویں ذوالحجہ میں رمی کاوقت زوال کے بعد ہے اور اگرکسی نے زوال سے قبل رمی کرلی تواسے کافی نہ ہوگا،اسی طرح ’’ کتاب الاصل‘‘ اور’’المجرد‘‘میں مذکورہے ۔ اورامام حافظ الدین ابوالبرکات عبداللہ بن احمدنسفی حنفی متوفی710ھ لکھتے ہیں :

لا یدخل وقت الرمی حتی یزول الشمس فی الیوم الاول والثانی من ایام التشریق فی الروایۃ المشھورۃ لحدیث جابر انہ علیہ السلام رمي الجمرۃ يوم النحر ضحیً ورمی في بقيۃ الايام بعد الزوال۔( )

یعنی،ایام تشریق کے پہلے اوردوسرے دن رمی کاوقت مشہورروایت کے مطابق افتاب ڈھلنے کے بعدداخل ہوتاہے ، حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کی وجہ سے ہے کہ بے شک حضورنبی علیہ الصلوۃ و السلام کریمﷺنے دسویں ذوالحجہ کوچاشت کے وقت جمرہ کورمی فرمائی اوربقیہ ایام میں زوال کے بعد۔ اورعلامہ فریدالدین عالم بن علاء دہلوی حنفی متوفی786ھ لکھتے ہیں :

واما فی الیوم الثانی والثالث وقت الرمی ما بعد الزوال، ولو رمی قبل الزوال لایجزیہ،ھکذا ذکر فی الاصل.وفی الھدایۃ : لایجوز فی المشھور من الروایۃ۔( )

یعنی،گیارہویں اوربارہویں ذوالحجہ رمی کاوقت زوال کے بعد ہے ، اور اگرکسی نے زوال سے پہلے رمی کی تواسے کافی نہ ہوگا، اسی طر ح’’ کتاب الاصل‘‘ میں مذکورہے ،اور’’ہدایہ‘‘میں ہے کہ مشہورروایت کے مطابق زوال سے پہلے رمی کرناجائز نہیں ہے ۔ اورعلامہ نظام الدین حنفی متوفی1161ھ اورعلمائے ہندکی جماعت نے لکھا ہے :

وقت الرمي في اليوم الثاني والثالث فهو ما بعد الزوال الى طلوع الشمس من الغد حتى لا يجوز الرمي فيهما قبل الزوال الا ان ما بعد الزوال الى غروب الشمس وقت مسنون وما بعد الغروب الى طلوع الفجر وقت مكروه هكذا روي في ظاهر الرواية۔( )

یعنی،گیارہویں اوربارہویں ذوالحجہ میں رمی کاوقت زوال سے لے کر اگلے دن کے طلوع شمس تک ہے ( )یہاں تک کہ ان دونوں دنوں میں زوال سے پہلے رمی کرناجائزنہیں ہے ،مگرزوال کے بعدسے غروب افتاب تک رمی کرنے کامسنون وقت ہے جبکہ غروب افتاب سے لے کرطلوع فجرتک رمی کرنے کامکروہ وقت ہے ، اسی طرح ’’ظاہرالروایہ‘‘میں مروی ہے ۔ اورعلامہ رحمت اللہ سندھی حنفی متوفی993ھ اورملاعلی قاری حنفی متوفی 1014ھ لکھتے ہیں :

(وقت الرمی الجمار الثلاث فی الیوم الثانی والثالث من ایام النحر : بعد الزوال،فلا یجوز)ای الرمی(قبلہ)ای قبل الزوال فیھما(فی المشھور)ای عند الجمھور کصاحب ’’الھدایۃ‘‘ وقاضیخان و’’الکافی‘‘و’’البدائع‘‘وغیرھا۔( )

یعنی،ایام نحرکے دوسرے اورتیسرے دن تینوں جمرات کی رمی کاوقت زوال کے بعدہے ،پس ان دونوں دنوں میں اس سے پہلے رمی کرناجمہورکے نزدیک جائزنہیں ہے جیسے صاحب’’ہدایہ‘‘،( ) اور’’قاضیخان‘‘( )،اور’’کافی‘‘( )اور ’’بدائع‘‘( )وغیرہ۔ اورصدرالشریعہ محمدامجدعلی اعظمی حنفی لکھتے ہیں : گیارہویں بارھویں کا وقت افتاب ڈھلنے (یعنی ظہر کا وقت شروع ہونے )سے صبح تک ہے مگر رات میں یعنی افتاب ڈوبنے کے بعدمکروہ ہے ۔( ) اورزوال سے پہلے رمی کرناہمارے اصل مذہب کے خلاف ہے اورایک ضعیف روایت ہے ۔ چنانچہ صدرالشریعہ محمدامجدعلی اعظمی حنفی متوفی1367ھ لکھتے ہیں : گیارہویں تاریخ بعدنماز ظہر امام کا خطبہ سن کر پھر رمی کو چلو…بعینہ اسی طرح بارھویں تاریخ بعد زوال تینوں جمرے کی رمی کرو، بعض لوگ دوپہر سے پہلے اج رمی کر کے مکہ معظمہ کو چل دیتے ہیں ۔ یہ ہمارے اصل مذہب کے خلاف اور ایک ضعیف روایت ہے تم اس پرعمل نہ کرو۔( ) لہٰذادلائل وبراہین کی روسے یہ بات واضح ہوگئی کہ مشہورروایت کے مطابق گیارہویں اوربارہویں ذوالحجہ میں رمی کاوقت افتاب ڈھلنے پرداخل ہوتا ہے اوریہی ظاہرالروایہ ہے ،پس اس کے خلاف پرعمل نہیں کیاجائے گا۔ اورعلامہ نجم الدین ابراہیم بن علی طرسوسی حنفی متوفی758ھ لکھتے ہیں :

والقاضی المقلد لا یجوز لہ ان یحکم الا بما ھو ظاھر المذھب لا بالروایۃ الشاذۃ، الا ان ینصوا علی ان الفتوی علیھا۔( )

یعنی،مقلدکیلئے جائزنہیں کہ وہ فیصلہ کرے مگرظاہرالروایہ پرنہ کہ روایت شاذہ پر،سوائے اس کے کہ فقہائے کرام نے اس پرفتویٰ ہونے کی تصریح فرمائی ہو۔ اورانہی کے حوالے سے علامہ سیدمحمدامین ابن عابدین شامی حنفی متوفی1252ھ نے ’’شرح عقودرسم المفتی‘‘( )میں نقل کیا ہے ۔ اورمخدوم عبدالواحدسیوستانی حنفی متوفی1224ھ لکھتے ہیں :

بل لایؤخذ لکونھا خارجۃ عن ظاھرالروایۃ۔( )

یعنی،بلکہ اسے ظاہرالروایۃ سے خارج ہونے کی وجہ سے نہیں لیاجائے گا۔ اورعلامہ داملااخوندجان حنفی متوفی1320ھ لکھتے ہیں :

وقد تقرر فی کتبنا انہ لا یعدل عن ظاھر الروایۃ، الا اذا صحح خلافہ فی کتاب مشھور تلقتہ الفحول بالقبول کالھدایۃ و الکافی۔( )

یعنی،اورہماری کتب میں یہ بات ثابت ہے کہ ظاہرالروایہ سے عدول نہیں کیاجائے گامگرجبکہ اس کاخلاف کسی ایسی کتاب میں صحیح قراردیاگیاہوکہ جومشہورہو جسے فضیلت والے علمائے کرام نے قبول کیاہوجیسے ہدایہ اورکافی۔ چنانچہ امام اہلسنت امام احمدرضا خان حنفی متوفی1340ھ لکھتے ہیں : ہاں جب سوال کیا جائے تو جواب میں وہی کہا جائے گاجواپنا مذہب ہے وﷲالحمدیہ عوام کالانعام کے لئے ہے البتہ وہ عالم کہلانے والے کہ مذہب امام بلکہ مذہب جملہ ائمہ حنفیہ کو پس پشت ڈالتے تصحیحات جماہیرائمہ ترجیح وفتوی کو پیٹھ دیتے اور ایک روایت نادرہ مرجوعہ عنہا غیرصحیح کی بنا پر ان جہال کوردہ میں جمعہ قائم کرنے کا فتوی دیتے ہیں یہ ضرور مخالفت مذہب کے مرتکب او ران جہلا ءکے گناہ کے ذمہ دار ہیں ۔( ) اورفقیہ ملت مفتی جلال الدین احمدامجدی حنفی متوفی1422ھ کے مصدقہ فتاویٰ میں ہے : وہ روایت ضعیف جو ہمارے اصل مذہب کے خلاف ہووہ ہمارامذہب نہیں اورنہ توہم ظاہرالروایہ کے خلاف فتویٰ دے سکتے ہیں کہ ظاہر الروایہ کے خلاف فتویٰ دیناجہلاءکے گناہوں کاذمہ اپنے سرلیناہے ۔( ) جب یہ ثابت ہوگیاکہ گیارہ اوربارہ ذوالحجہ کوزوال سے قبل رمی کاجوازیہ ہمارامذہب نہیں ہے اس لئے حکم یہ ہے کہ اگرکوئی قاضی شرع اپنے مذہب کے خلاف فیصلہ دے دے تووہ فیصلہ نافذنہیں ہوتااسی طرح اگرکوئی مفتی اپنے مذہب کے خلاف فتویٰ صادرکردے تواس کے فتوی پرعمل نہیں کیاجائے گا۔چنانچہ مخدوم عبدالواحدسیوستانی حنفی لکھتے ہیں :

القاضی المقلد اذا قضی علی خلاف مذھبہ لا ینعقد، وفی ’’الدر المختار‘‘ : قضی علی خلاف مذھبہ لاینعقد، وفی ’’الدر المختار‘‘ : قضی من لیس مجتھدا کحنفیۃ زماننا بخلاف مذھبہ لا ینفذ اتفاقا۔( )

یعنی،قاضی مقلدجب اپنے مذہب کے خلاف فیصلہ کرے گاتووہ منعقدنہ ہوگا، اور ’’درمختار‘‘( )میں ہے کہ مقلدنے اپنے مذہب کے خلاف فیصلہ کیاتووہ منعقدنہیں ہوگا،اور’’درمختار‘‘میں ہے کہ غیرمجتہد جیسے ہمارے زمانے کے علمائے احناف نے اپنے مذہب کے برخلاف فیصلہ کیا،تووہ بالاتفاق نافذ نہیں ہوگا۔ پس اگرکسی نے زوال سے قبل رمی کی تواس سے رمی کاوجوب ادانہ ہوگا۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب اتوار،2صفرالمظفر،1441ھ۔19ستمبر2020م

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button