شرعی سوالات

یوم شک کا روزہ رکھنا کیسا

 کیا فرماتے ہیں علماےدین و مفتیان شرع متین اس بارےمیں کہ یوم شک کا روزہ رکھنا کیسا ہے؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الوہاب اللہم ہدایۃالحق والصواب

یوم شک کواگر رمضان کی نیّت سے روزہ رکھا تو مکروہ تحریمی ہے، نفل کے سوا کسی اور نیت سے روزہ رکھا(کسی دوسرے فرض یا واجب کی نیت سے یامطلق روزے کی نیت سے، خواہ نیت معین ہو یا متردد ) تو مکروہ تنزیہی ہے، فقط نفل کی نیّت سے روزہ رکھاتو جائز ہے اور اگر یوم شک اس دن آیا جس دن روزہ رکھنے کا عادی تھا یا چند روز پہلے سے روزے رکھ رہا تھا توروزہ رکھنا افضل ہے۔

تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے”ولا یصام یوم الشک الا نفلا(ویکرہ غیرہ) ولو صام لواجب آخر کرہ (تنزیھا ، ولو جزم ان یکون عن رمضان کرہ تحریما)”

ترجمہ:نفل کی نیت کے علاوہ یو م شک کا روزہ رکھنا مکروہ ہے،اور اگر اس نے کسی دوسرے واجب کی نیت سے رکھا تو مکروہ تنزیہی ہے،اور اگر رمضان کے روزے کے جزم کے ساتھ رکھا تو مکروہ تحریمی ہے۔

                        (تنویر الابصار مع الدر المختار،جلد3،صفحہ400،مکتبۃ رحمانیہ،لاہور)

فتاوی تاتارخانیہ میں ہے”اتفق مشائخنا علی انہ اذا کان یوافق یوما کان یصومہ قبل ذلک بان اعتاد رجل صوم الخمیس ویوم الجمعۃ ،ووقع الشک فی ذلک الیوم ان الافضل ان یصوم تطوعا”

ترجمہ:ہمارے مشائخ اس بات پر متفق ہیں کہ یوم شک اس دن کے موافق ہو جائے جس دن وہ پہلے بھی روزہ رکھتا تھا ،مثلاایک شخص جمعرات کے روزے کا عادی تھا اور یوم شک بھی اسی دن آیا ،تو اس کے لئے افضل ہے کہ وہ نفلی روزہ رکھے۔

                         (فتاوی تاتارخانیہ،جلد 1،صفحہ421،مکتبہ رشیدیہ،کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے”یوم الشّک یعنی شعبان کی تیسویں تاریخ کو نفل خالص کی نیّت سے روزہ رکھ سکتے ہیں اور نفل کے سوا کوئی اور روزہ رکھا تو مکروہ ہے، خواہ مطلق روزہ کی نیّت ہو یا فرض کی یا کسی واجب کی، خواہ نیّت معیّن کی کی ہو یا تردد کے ساتھ یہ سب صورتیں مکروہ ہیں۔ پھر اگر رمضان کی نیّت ہے تو مکروہ تحریمی ہے ۔”

                             (بہار شریعت،جلد1،صفحہ992،مکتبۃالمدینہ،کراچی)

 بہار شریعت میں ہے”اگر تیسویں تاریخ ایسے دن ہوئی کہ اس دن روزہ رکھنے کا عادی تھا تو اُسے روزہ رکھناافضل ہے، مثلاً کوئی شخص پیر یا جمعرات کا روزہ رکھا کرتا ہے اور تیسویں اسی دن پڑی تو رکھنا افضل ہے۔ یوہیں اگر چند روز پہلے سے رکھ رہا تھا تو اب یوم الشّک میں کراہت نہیں۔ ”

                          (بہار شریعت،جلد1،صفحہ992،مکتبۃالمدینہ،کراچی)

                             واللہ اعلم ورسولہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button