شرعی سوالات

ہندو ستانی گورنمنٹ لاٹری کا روپیہ لینا جائز ہے لیکن جو شخص لاٹری کا ٹکٹ خریدے اس پر توبہ لازم ہے

سوال :

ہندو ستانی گورنمنٹ لاٹری کا روپیہ لینا کیسا؟ ملخصا

جواب :

 لاٹری ایک قسم کا جوا ہے اور جوا حرام ہے۔ جو شخص لاٹری کا ٹکٹ خریدے اس پر توبہ و استغفار لازم ہے لیکن اگر کسی کو اس طرح روپیہ مل گیا ہو تو حلال ہے کہ گورنمنٹ خالص حربی کافروں کی ہے۔

(فتاوی فیض الرسول،کتاب الربا،جلد2،صفحہ399،شبیر برادرز لاہور)

سوال:

 لاٹری کا جو عام طور پر پچاس ہزار، ایک لاکھ وغیرہ کا ٹکٹ خریدتے ہیں اور قرعہ اندازی پر نام نکلتا ہے۔ یہ روپیہ جائز ہے یا نہیں جب کہ اس میں نفی اثبات دونوں پہلو موجود ہیں جواب باصواب سے نوازیں۔

جواب:

لاٹری ایک قسم کا جوا ہے جو حرام و ناجائز ہے۔ اگر کسی نے اس کا ٹکٹ خریدا تو وہ توبہ و استغفار کرے اور آئندہ اس کے قریب ہرگز نہ جائے۔ لیکن جو روپیہ مل گیا وہ جائز ہے اس لئے کہ لاٹری حکومت کی ہوتی ہے اور یہاں کی حکومت حربی کافروں کی ہے اور حربی کافر نے جو مال اپنی خوشی سے دے دیا وہ مسلمانوں کے لئے حلال ہے۔

(فتاوی فیض الرسول،کتاب الربا،جلد2،صفحہ392، 393،شبیر برادرز لاہور)

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button