شرعی سوالات

ہندوستانی کافروں کے اموال عقود فاسدہ کے ذریعہ حاصل کرنا سود یا حرام نہیں ہے

سوال:

(3)اگر ہندوستان دارالحرب  ہے تو ہندوں سے سودلینا سود ہوگا یا نہیں؟

(4)ایک شخص ہندوستان کو دارالحرب کہتا ہے اور کہتا ہے کہ کتب فقہ میں ہے کہ لا ربا بین المسلم والحربی لہذا ہندوں سے سود لینا سودنہیں۔اس کے بارے کیا حکم ہے؟

(5)لاربا بین المسلم والحربی میں مسلم عام ہے یا دارالاسلام کا مسلم مراد ہے اور حربی سے کافر حربی مراد ہے یا عام شخص دارالحرب کا رہنے والا خواہ مسلم ہو یا کافر؟

(6)شخص مذکور ڈاکخانے کے نفع کو سود نہیں کہتا جبکہ بینک کے نفع کو سود کہتا ہے؟

جواب:

(3-4)اگرچہ ہندوستان دارالاسلام ہے مگر یہاں کے کفار نہ ذمی ہیں نہ مستامن ۔ان سے بذریعہ عقود فاسدہ ان کے اموال لینا جائز ہے وہ سود نہیں۔

(5)مسلم عام ہے اور حربی وہ کہ نہ ذمی ہو نہ مستامن کہ یہ بھی مدت معینہ تک کے لیے حکم ذمی میں ہوجاتا ہے۔

(6)جسے ڈاکخانہ سود کہہ کر دیتا ہے وہ سود نہیں ہے۔

(فتاوی امجدیہ، کتاب الرباء ،جلد3،صفحہ 229،مطبوعہ  مکتبہ رضویہ،کراچی)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button