بہار شریعت

ہدی کے متعلق مسائل

ہدی کے متعلق مسائل

اللہ عزوجل فرماتا ہے :۔

ومن یعظم شعآئراللہ فانھا من تقوی القلوب ۵ لکم فیھا منافع الی اجلٍ مسمی ثم محلھا الی البیت العتیق۵ ولکل امۃٍ جعلنا منسکًا لیذکرو ااسم اللہ علی ما رزقھم من م بھیمۃ الا نعام ط

متعلقہ مضامین

(اور جو اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کی پرہیز گاری سے ہے تمھارے لئے چوپایوں میں ایک مقررہ میعاد تک فائدے ہیں پھر ان کا پہنچنا ہے اس آزاد گھر تک ‘ اور ہر امت کے لئے ہم ایک قربانی مقررکی کہ اللہ کا نا م ذکر کریں ان بے زبان چو پایوں پر جو اس نے انھیں دیئے )

اور فرماتا ہے :۔

والبدن جعلنھا لکم من شعآئر اللہ لکم فیھا خیرٌ ق فاذکرو ااسم اللہ علیھا صوآف ج فاذاوجبت جنوبھا فکلو امنھا واطعمو االقانع والمعتر ط کذالک سخر نھا لکم لعلکم تشکرون ۵ لن ینال اللہ لحو مھا ولآ دمآؤھا ولکن ینالہٗ التقوی منکم کذالک سخرھا لکم لتکبرواللہ علی ما ھدکم و بشرالمحسنین ۵

(اور قربانی کے اونٹ گائے ہم نے تمھارے لئے اللہ کی نشانیوں سے کئے تمھارے لئے ان میں بھلائی ہے تو ان پر اللہ کا نام لو ایک پاؤں بندھے تین پاؤں سے کھڑے پھر جب ان کی کروٹیں گر جائیں تو ان میں سے خود کھاؤ اور قناعت کرنے والے اور بھیک مانگنے والے کو کھلاؤ‘ یونہی ہم نے ان کو تمھارے قابو میں کردیا کہ تم احسان مانو‘ اللہ کو ہر گز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں نہ ان کے خون ہاں اس تک تمھاری پر ہیز گاری پہنچتی ہے یونہی ان کو تمھارے قابو میں کردیا کہ تم اللہ کی بڑائی بولو اس پر کہ اس نے تمہیں اس نے ہدایت فرمائی اور خوشخبری پہنچادو نیکی کرنے والوں کو )

حدیث ۱: صحیحین میں ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی کہتی ہیں میں نے نبی ﷺ کی قربانیوں

کے ہار اپنے ہاتھ سے بنائے پھر حضور نے ان کے گلوں میں ڈالے اور ان کے کوہان چیرے اور حرم کو روانہ کیں (بخاری ص۲۳۰ج۱‘ مسلم ص۴۲۵ج۱‘ ابوداؤد ص۱۷۶ج۱)

حدیث۲: صحیح مسلم شریف میں جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی کہ رسول اللہ ﷺ نے دسویں ذی الحجہ کو عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی طرف سے ایک گائے ذبح فرمائی اور دوسری روایت میں ہے کہ ازواج مطہرات کی طرف سے حج میں گائے ذبح کی ( مسلم ص۴۲۴ج۱)

حدیث۳: صحیح مسلم شریف میں جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ‘ کہتے ہیں میں نے نبی ﷺ کو فرماتے سنا کہ جب تو مجبور ہو جائے تو ہدی پر معروف کے ساتھ سوار ہو جب تک دوسری سواری نہ ملے (مسلم ص۲۴۶ج۱‘ ابوداؤد ص ۷۶اج۱)

حدیث ۴: صحیح مسلم میں ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی کہ رسول اللہ ﷺ نے سولہ اونٹ ایک شخص کے ساتھ حرم کو بھیجے ۔ انھوں نے عرض کی ان میں سے اگر کوئی تھک جائے تو کیا کروں ۔ فرمایا اسے نحر کردینا اور خون سے اس کے پاؤ ں رنگ دینا اور پہلو پر اسکا چھاپا لگا دینا اور اس میں سے تم اور تمھارے ساتھیوں میں سے کوئی نہ کھائے (مسلم ص۴۲۷ج۱‘ ابو داود ص۱۷۶ج۱)

حدیث ۵: صحیحین میں علی رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ‘ کہتے ہیں مجھے رسول اللہ ﷺ نے اپنی قربانی کے جانور وں پر مامور فرمایا اور مجھے حکم فرمایا کہ گوشت اور کھالیں اور جھول تصدق کردوں اور قصاب کو اس میں سے کچھ نہ دوں ۔ فرمایا کہ ہم اسے اپنے پاس سے دیں گے (بخاری ص۲۳۰۔۲۳۲ج۱‘ مسلم ص۲۴۳ج۱)

حدیث ۶: ابوداؤد عبداللہ بن قرط رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ پانچ یا چھ اونٹ حضور ﷺ کی خدمت میں قربانی کے لئے پیش کئے گئے وہ سب حضور ﷺسے قریب ہونے لگے کہ کس سے شروع فرمائیں (یعنی ہر ایک کی خواہش تھی کہ پہلے مجھے ذبح فرمائیں یا اس لئے کہ جسے جسے چاہیں ذبح فرمائیں ) پھر جب ان کی کروٹیں زمین سے لگ گئیں تو فرمایا جو چاہے ٹکڑا لے لے (ابوداود ص۱۷۶ج۱)

مسئلہ ۱: ہدی اس جانور کو کہتے ہیں جو قربانی کے لئے حرم کو لے جایا جائے ۔ یہ تین قسم کے جانور ہیں (۱) بکری ‘ اس میں بھیڑ دنبہ بھی داخل ہے ۔(۲)گائے ‘ بھینس بھی اسی میں شمار ہے ۔(۳) اونٹ ۔ ہدی کا ادنی درجہ بکری ہے تو اگر کسی نے حرم کو قربانی بھیجنے کی منت مانی اور معین نہ کی تو بکری کافی ہے (درمختار و ردالمحتارص ۳۴۱ج۲‘ عالمگیری ص۲۶۱ج۱‘ بحر ص ۷۰ ج۳‘ جوہرہ ص۳۳۳ج۱‘ تبیین ص۸۹ج۲‘ منسک ص۳۱۱)

مسئلہ ۲: قربانی کی نیت سے بھیجا یا لے گیا جب تو ظاہر ہے کہ قربانی ہے اور اگر بدنہ کے گلے میں ہار ڈال کر ہانکا جب بھی ہدی ہے اگر چہ نیت نہ ہو ۔ اس لئے کہ اس طرح قربانی ہی کو لے جاتے ہیں (درمختار و ردالمحتار ص۳۴۲ج۲‘ عالمگیری ص۲۶۱ج۱‘ بحر ص۷۰ج۳‘ منسک ص۳۱۴)

مسئلہ ۳: قربانی کے جانور میں جو شرطیں ہیں وہ ہدی کے جانور میں بھی ہیں مثلاً اونٹ پانچ سال کا ‘ گائے دوسال کی ‘ بکری

ایک سال کی مگر بھیڑ دنبہ چھ مہینے کا اگر سا ل بھر والی کی مثل ہو تو ہو سکتا ہے اور اونٹ گائے میں یہاں بھی سات آدمی کی شرکت ہو سکتی ہے (درمختار و ردالمحتار ص۳۴۲ج۲‘ بحر ص۷۰ج۴‘ جوہرہ ص۲۳۳ج۱‘ تبیین ص۸۹ ج۲‘ منسک ص۳۱۵)

مسئلہ ۴: اونٹ گائے کے گلے میں ہار ڈال دینا مسنون ہے اور بکری کے گلے میں ہار ڈالنا سنت نہیں مگر صرف شکرانہ یعنی تمتع و قران اور نفل اور منت کی قربانی میں سنت ہے ‘ احصار ا ور جرمانہ کے دم میں نہ ڈالیں (عالمگیری ص۳۶۱ج۱’ درمختار و ردالمحتار ص۳۴۲ج۲‘ بحر ص۷۳۔۷۴ج۳‘ تبیین ص۹۱ج۲‘ جوہرہ ص۲۳۲ج۱‘ منسک ص۳۱۳)

مسئلہ ۵: ہدی اگر قران یاتمتع کا ہو تو اس میں سے کچھ کھا لینا بہتر ہے ۔ یونہی اگر نفل ہو اور حرم کو پہنچ گیا ہو اور اگر حرم کو نہ پہنچا تو خود نہیں کھا سکتا فقرأ کا حق ہے اور ان تین کے علاوہ نہیں کھا سکتا اور جسے خود کھا سکتا ہے مالداروں کو بھی کھلا سکتا ہے ، نہیں تو نہیں ، اور جس کو نہیں کھا سکتا اس کی کھال وغیرہ سے بھی نفع نہیں لے سکتا (درمختار و ردالمحتار ص۳۴۳ج۲‘ عالمگیری ص۲۶۲ج۱‘بحر ص۷۱ج۳‘ جوہرہ ص۲۳۴ج۱‘ تبیین ص۸۹ج۲‘منسک

ص۳۱۲)

مسئلہ ۶: تمتع وقران کی قربانی دسویں سے پہلے نہیں ہو سکتی اور دسویں کے بعد کی تو ہو جائے گی مگر دم لازم ہے کہ تاخیر جائز نہیں اور ان دو کے علاوہ کے لئے کوئی دن معین نہیں اور بہتر دسویں ہے حرم میں ہونا سب میں ضروری ہے منی کی خصوصیت نہیں ‘ ہاں دسویں کو ہو تو منی میں ہونا سنت ہے اور دسویں کے بعد مکہ میں ‘ منت کے بدنہ کا حرم میں ذبح ہونا شرط نہیں جبکہ منت میں حرم کی شرط نہ لگائی(درمختار و ردالمحتار ص۳۴۴ج۲‘ عالمگیری ص۲۶۱ج۱‘ بحر ص۷۲ج۳‘ جوہرہ ص۲۳۴ج۱‘ تبیین ص۹۰ج۲)

مسئلہ ۷: ہدی کا گوشت حرم کے مسکین کو دینا بہتر ہے اس کی نکیل اور جھول کو خیرات کردیں اور قصاب کو اس کے گوشت میں سے نہ دیں ہاں اگر اسے بطور تصدق دیں توحرج نہیں (درمختار و ردالمحتار ص۳۴۴ج۲‘ عالمگیری ص۲۶۲ج۱‘ بحر ص۷۱۔۷۲ج۳‘ جوہرہ ص۲۳۴۔۲۳۵ج۱‘ تبیین ص۹۰ج۲‘ منسک ص۳۱۲)

مسئلہ ۸: ہدی کے جانور پر بلا ضرورت سوار نہیں ہو سکتا نہ اس پر سامان لاد سکتا ہے اگر چہ نفل ہو‘ اور ضرورت کے وقت سوار ہو ا یا سامان لادا اور اس کی وجہ سے اس میں کچھ نقصان آیا تو اتنامحتاجوں پر تصد ق کرے (عالمگیری ص۲۶۱ج۱‘ درمختارو ردالمحتار ص۳۴۴ج۲‘ بحر ص۷۳ج۳‘ جوہرہ ص ۲۳۵ج۱‘ تبیین ص۹۱ج۲‘ منسک ص۳۱۴)

مسئلہ ۹: اگر وہ دودھ والا جانور ہے تو دودھ نہ دوہے اور تھن پر ٹھنڈا پانی چھڑک دیا کرے کہ دودھ موقوف ہو جائے اور اگر ذبح میں وقفہ ہواور نہ دوہنے سے ضرر ہو گا تو دوہ کر خیرات کردے اور اگر خود کھا لیا یا غنی کو دیدیایا ضائع

کردیا تو اتنا ہی دودھ یا اس کی قیمت مساکین پر تصدق کرے (عالمگیری ص۲۶۱ج۱‘ درمختار و ردالمحتار ص۳۴۴ج۲‘ بحر ص۷۳ج۳‘ جوہرہ ص۲۳۵ج۱‘ تبیین ص۹۱ج۲‘ منسک ص۳۱۴)

مسئلہ ۱۰: اگر وہ بچہ جنے تو بچہ کو تصدق کردے یا اسے بھی اس کے ساتھ ذبح کردے اور اگر بچہ کو بیچ ڈالا یا ہلاک کردیا تو قیمت کو تصدق کردے اور اس قیمت سے قربانی کا جانور خرید لیا تو بہتر ہے (عالمگیری ص۲۶۱ج۱‘ درمختار و ردالمحتار ص۳۴۵ج۲‘ بحر ص۷۳ج۳‘ تبیین ص۹۱ج۲‘ منسک ص۳۱۳)

مسئلہ ۱۱: غلطی سے اس نے دوسرے کے جانور کو ذبح کردیا اور دوسرے نے اس کے جانور کو تو دونوں کی قربانیاں ہو گئیں (منسک ص۳۱۳)

مسئلہ ۱۲: اگر حرم کو جانور لے جا رہاتھا راسۃ میں مرنے لگا تو اسے وہیں ذبح کر ڈالے اور خون سے اس کا ہار رنگ دے اور کوہان پر چھاپا لگادے تاکہ اسے مالدار لوگ نہ کھائیں فقرا ہی کھائیں ، پھر اگر وہ نفل تھا تو اس کے بدلے کا دوسرا جانور لے جانا ضروری نہیں اور اگر واجب تھا تو اس کے بدلے کا دوسرا جانور لے جانا واجب ہے اور اگر اس میں کوئی ایسا عیب آگیا کہ قربانی کے قابل نہ رہا تو اسے جو چاہے کرے اور اس کے بدلے دوسرا لے جائے جب کہ واجب ہو۔(درمختار و ردالمحتار ص۳۴۵ج۲‘ عالمگیری ص۲۶۱ج۱‘ بحر ص۷۳ج۳‘ جوہرہ ص۲۳۵۔۲۳۶ج۱‘ تبیین ص۹۱ج۲‘ منسک ص۳۱۴)

مسئلہ ۱۳: جانور حرم کو پہنچ گیا اور وہاں مرنے لگا تو اسے ذبح کر کے مساکین پر تصدق کردے اور خود نہ کھائے اگر چہ نفل ہو اور اگر اس میں تھوڑا سا نقصان پیدا ہو ا ہے کہ ابھی قربانی کے قابل ہے تو قربانی کرے اور خود بھی کھا سکتا ہے (عالمگیری ص۲۶۱ج۱‘ بحر ص۷۱۔۷۳ج۳‘ جوہرہ ص۲۳۶ ج۱‘ تبیین ص۹۱ج۲‘ منسک ص۳۲۱۔۳۱۴)

مسئلہ ۱۴: جانور چوری گیا اس کے بدلے کا دوسرا خریدا اور اسے ہار ڈال کر لے چلا پھر وہ پہلا مل گیا تو بہتر یہ ہے کہ دونوں کی قربانی کردے اور اگر پہلے کی قربانی کی اور دوسرے کو بیچ ڈالا تو یہ بھی ہو سکتا ہے اور اگر پچھلے کو ذبح کیا اور پہلے کو بیچ ڈالا تو اگر وہ اس کی قیمت کے برابر تھا یا زیادہ تو کافی ہے ‘ اور کم ہے تو جتنی کمی ہوئی صدقہ کردے(عالمگیری ص۲۶۱ج۱‘ تبیین ص۹۱ج۲‘ منسک ص۳۱۴)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button