شرعی سوالات

ہبہ میں کفالت کی شرط لگانا باطل ہے ،البتہ ہبہ صحیح ہی رہے گا

سوال:

حاجی عبد الوالی جب ضعیف ہو گیا تو اپنی جائداد کے کچھ حصہ کے بارے میں اپنے دونوں لڑکوں صغیر احمد و خلیق الزماں کو ہدایت کی کہ وہ اس حصہ کو مجھ سے اپنے درمیان اس شرط پر نصف نصف تحریری ہبہ کرا لیں کہ تا حیات یہ دونوں لڑ کے میرے خورد و نوش و علاج وغیرہ کے ذمہ دار ہوں گے مگر صغیر احمد نے تحریری ہبہ نامہ میں دھوکا کیا اور اپنے ذمہ خلیق الزماں کا ڈھائی گنا ہبہ کرا لیا اور میری جہالت ضعف بصارت و سماعت کا فائدہ اٹھا کر دستخط کرا لیا اور میری کفالت کا بھی صاف انکاری ہے حتی کہ پڑوسیوں کے سمجھانے بجھانے پر بھی کوئی اثر قبول نہ کیا بلکہ یہ کہا کہ میں نے ان  سے کب کہا تھا کہ میں ان کی کفالت کروں گا اور وہ مجھے کفالت کی شرط پر ہبہ کر دیں وغیرہ وغیرہ ۔اس کے علاوہ اس کی بیوی بھی بد زبانی کرتی ہے اور یہ دونوں مل کر مجھے ہر طرح سے پریشان کر تے ہیں  اور بے حد اذیت دیتے ہیں۔ میرے خواب و خیال میں بھی یہ نہ تھا کہ ہبہ سے ایسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ میں اپنے مستقبل سے متفکر ہوں اور اب مذکورہ بالا ہبہ نامہ توڑنا چاہتا ہوں ۔ در یافت طلب امر یہ ہے کہ میرا یہ فعل مطابق شرع ہو گا یا اس کے بر خلاف ؟

جواب:

صورت مسئولہ میں رہائش ،خورد و نوش اور علاج وغیرہ میں صرفہ کی مقدار چوں کہ معلوم نہیں اس لیے یہ شرط لگانا باطل ہے تو اس صورت میں کفالت وغیرہ کی شرط باطل ہوئی اور ہبہ صحیح ہو گیا اور حاجی عبد الوالی کو اس شرط کی بنیاد پر ہبہ کو فسخ کرنے کا حق حاصل نہیں ہو تا ، ہاں اگر حاجی عبد الوالی نے اس جائداد سے اپنا قبضہ ہٹا کر اور دونوں لڑکوں کے حصہ کو علیحدہ علیحدہ  ( تقسیم کر کے ان پر لڑکوں کا قبضہ نہ کرا دیا ہو، یا ان دو باتوں میں سے کوئی ایک بات نہ پائی گئی ہو تو ہبہ ہوا ہی نہیں ،کل جائداد حاجی عبد الوالی کی ہے ،اس میں جو چاہیں تصرف کر سکتے ہیں۔ مشاع کا ہبہ صحیح نہیں ہوتا آج کل عام طور سے ہی ہوتا ہے کہ باپ لڑکوں کو مکان دے دیتا ہے مگر ایک لمحہ کیلیے بھی اپنا دخل ہٹا کر لڑکوں کو دخل نہیں دلاتا۔  چند لڑکوں کو گھر دے دیتا ہے مگر تقسیم کا سوال حب اٹھتا ہے جب کوئی جھگڑا پڑ تا ہے، ایسی صورت میں ہبہ صحیح نہیں ہوتا ، اور جائداد واہب کی ہی رہتی ہے ۔

  (فتاوی بحر العلوم، جلد5، صفحہ18، شبیر برادرز، لاہور)

  (فتاوی بحر العلوم، جلد5، صفحہ20، شبیر برادرز، لاہور)

  (فتاوی بحر العلوم، جلد5، صفحہ22، شبیر برادرز، لاہور)

  (فتاوی بحر العلوم، جلد5، صفحہ23، شبیر برادرز، لاہور)

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button