ARTICLES

گیارہ تاریخ کو ایک جمرہ کی رمی ترک کرنے کا حکم

الاستفتاء : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے گیارہ تاریخ کو رمی کی اور ایک جمرہ کی رمی نہ کرسکا کیونکہ وہ بھول گیا یا اس نے کسی اور وجہ سے رمی نہ کی اب بارہ تاریخ ہوچکی ہے اس صورت میں اس پر کیا لازم ائے گا؟

(السائل : مولانا انوار الحق نعیمی،مکہ مکرمہ)

متعلقہ مضامین

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : ۔صورت مسؤلہ میں جاننا چاہیے کہ اگر اکثر رمی رہ جائے تو دم لازم اتا ہے ۔ چنانچہ علامہ ابو منصور محمد بن کرم حنفی متوفی592ھ لکھتے ہیں :

فان ترک الاکثر منھا فعلیہ دم کما مر ان للاکثر حکم الکل۔(66)

یعنی،پس اگر اکثر رمی ترک کی تو اس پردم لازم ہے جیسا کہ گزرا کہ اکثر کے لیے کل کا حکم ہے ۔ اور اگر کم رہ جائے جیسے گیارہ یا بارہ تاریخ کو دو جمرات کی رمی کی اور ایک کی چھوڑ دی تو صدقہ لازم اتاہے ۔ چنانچہ امام شمس الدین ابو بکر محمدسرخسی حنفی متوفی483ھ لکھتے ہیں :

وان ترک رمی احدی الجمار فی الیوم الثانی فعلیہ صدقۃ،لان رمی الجمار الثلاث فی الیوم الثانی نسک واحد ،فاذا ترک احدھا کان المتروک اقل فتکفیہ الصدقۃ۔(67)

یعنی،اگر جمرات میں سے ایک کی رمی دوسرے دن ترک کی تو اس پر صدقہ لازم ہے کیونکہ دوسرے دن تینوں جمرات کی رمی ایک ہی واجب ہے پس جب اس نے اس میں سے ایک کوترک کیا توچھوڑا گیا کم ہے پس اسے صدقہ کافی ہوگا۔ اورعلامہ ابو منصور محمد بن کرم حنفی متوفی592ھ لکھتے ہیں :

فان ترک احدی الجمار فی الیوم الثانی فعلیہ صدقۃ کما مر انہ اقلھا۔(68)

یعنی،پس اگر دوسرے دن میں کسی ایک جمرہ کی رمی ترک کی تو اس پر صدقہ کرنا لازم ہے جیسا کہ گزراکہ(اس روز ایک جمرہ) اقل ہے ۔ اور اگر پہلے روز تین یااس سے کم اور اس کے بعد کے دنوں میں دس کنکریاں چھوڑیں تو اس پر ہر کنکری کے بدلے صدقہ ہے ہاں اگران صدقات کی قیمت دم کی قیمت کے برابر ہوجائے تواس میں سے کچھ کم کردیں اسی طرح’’لباب المناسک‘‘اور ’’المسلک المتقسط‘‘میں ہے ۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

یوم الخمیس،12’’ذی الحجۃ‘‘1439ھ،23’’اغسطس‘‘2018م FU-30

حوالہ جات

(66) المسالک فی المناسک ، فصل فی الجنایات عرفۃ والمزدلفۃ ومنی،2/779

(67) کتاب المبسوط للسرخسی، کتاب المناسک ،باب رمی الجمار،2/59

(68) المسالک فی المناسک ، فصل فی الجنایات عرفۃ والمزدلفۃ ومنی،2/779

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button