ARTICLESشرعی سوالات

گیارہ اوربارہ تاریخ کو رمی کا حکم

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ گیارہ اور بارہ کو رمی زوال سے قبل کرنا شرعاً کیسا ہے ؟ اگر کوئی شخص زوال سے قبل رمی کر لے تو وہ رمی شمار ہو گی یا نہیں اگر نہیں تو کیا اس پر اس سے مشروع وقت میں اعادہ لازم ہو گا اور بعض حنفی علماء کرام زوال سے قبل رمی کو جائز قرار دیتے ہیں ان کے قول کا اعتبار ہو گا یا نہیں ؟

(السائل : محمد عرفان ضیائی)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : گیارہ اور بارہ ذو الحجہ کی رمی کا وقت زوال کے بعد شروع ہوتا ہے اور صحیح ، و مشہور قول کے مطابق اس سے قبل رمی کی تو درست نہ ہو گی، چنانچہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی حنفی متوفی 1174ھ لکھتے ہیں :

وقت صحت برائے رمی جمرات ثلاثہ در روز ثانی و ثالث از أیام نحر إبتداء آن بعد از زوال است پس جائز نیفتد رمی قبل از وی درین ہر دو روز بر قول صحیح مشہور وہو مختار صاحب ’’الہدایۃ‘‘، و ’’قاضی خان‘‘، و ’’الکافی‘‘ و ’’البدائع‘‘ و غیرہم ، و رد روایتی آمدہ کہ جائز است رمی درین دو روز قبل از زوال نزد أبی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی، اگرچہ افضل بعد الزوال است و لیکن ظاہر الروایۃ قول اول است۔ (62)

یعنی، ایام نحر کے دوسرے اور تیسرے روز رمی جمرات کے درست ہونے کے وقت کی ابتداء زوال کے بعد ہے ، پس ان دونوں دنوں میں زوال سے قبل رمی صحیح مشہور قول کے مطابق جائز نہ ہو گی اور یہی قول صاحبِ ’’ہدایہ‘‘، ’’قاضی خان‘‘، صاحبِ ’’ کافی‘‘، اور صاحبِ ’’بدائع‘‘ و غیرہم کا مختار ہے ۔ اور ایک روایت (جو کہ غیر ظاہر الروایت ہے ) میں آتا ہے کہ ان دونوں دِنو ں میں زوالِ آفتاب سے قبل رمی امام ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کے نزدیک جائز ہے ، اگرچہ افضل رمی بعد الزوال ہے ، لیکن ظاہر الروایت پہلا قول ہے (جو کہ عدم جواز کا قول ہے )۔ اور ’’حیاۃ القلوب ‘‘کے حاشیہ میں ہے :

و احترز فی ’’المحیط‘‘ بقولہ : ’’فی ظاہر الروایۃ‘‘ عمّا ذکرہ الحاکم فی ’’المنتقیٰ‘‘ عن الإمام أنہ لو أراد النفر فی الیوم الثالث قبل الزوال جاز لہ أن یرمی، کذا فی ’’المبسوط‘‘ و کثیر من المعتبرات، وہی روایۃ عن أبی یوسف، کذا فی ’’شرح الطحاوی‘‘ و علٰی ہذہ الروایۃ عمل الناس الیوم، و فیہا رحمۃ الراحۃ من الزحمۃ (ضیاء الأبصار حاشیۃ لنسک الدر المختار، شیخ محمد طاہر سنبل المکی علیہ الرحمہ)۔ صحیح آنست کہ مصنّف قدس اللہ سرہ نوشت قول ثانی ضعیف و مرجوح است۔ در ’’غنیۃ الناسک‘‘ مصنّفہ سید حسن شاہ مہاجر مکی می نویسد : فلا یجوز قبل الزوال فی ظاہر الروایۃ، و علیہ الجمہور و من أصحاب المتون و الشروح و الفتاویٰ ، قال فی ’’الفیض‘‘ : وہو الصواب 1ھ و روی حسن الخ وہو خلاف ظاہر الروایۃ، و خلاف النّصّ من فعلہ ﷺ، و فعل الصحابۃ بعدہٗ، و قال فی ’’البدائع‘‘ : و ہذا باب لا یعرف بالقیاس بل التوقیف 1ھ، و قال فی ’’الفتح‘‘ : لا یجوز فیہما قبل الزوال اتفاقًا لوجوب إتباع المنقول لعدم المعقولیۃ 1ھ، قال فی ’’الدر‘‘ : ما اتفق علیہ أصحابنا فی الروایات الظاہرۃ یفتی بہ قطعاً و اختلفوا فیما اختلفوا فیہ 1ھ، و قال الشارح : و الصحیح أنہ لا یصح فی الیومین إلا بعد الزوال مطلقاً 1ھ (63)

یعنی، اور ’’محیط‘‘ میں اپنے قول ’’فی الظاہر الروایۃ‘‘ میں اس سے احتراز کیا جسے حاکم نے ’’منتقیٰ‘‘ میں امام اعظم سے ذکر کیا کہ اگر حاجی تیسرے دن زوال سے قبل کُوچ کرنے کا ارادہ کرے تو اس کے لئے جائز ہے کہ رمی کر لے ، اسی طرح ’’مبسوط‘‘ اور کثیر معتبرات میں ہے کہ یہ امام ابو یوسف سے ایک روایت ہے اسی طرح ’’شرح الطحاوی‘‘ میں ہے ۔ اور اس پر آج لوگوں کا عمل ہے اور اسی میں زحمت سے راحت ہے (ضیاء الأبصار حاشیہ نسک در مختار لشیخ محمد طاہر سنبل مکی حنفی علیہ الرحمہ) اور صحیح وہی ہے جسے مصنّف(مخدوم محمد ہاشم) قدس سرہ نے ذکر کیا ، دوسرا قول ضعیف اور مرجوح ہے ۔ ’’غنیۃ الناسک ‘‘مصنّفہ سید حسن شاہ مہاجر مکی میں لکھتے ہیں : پس ظاہر الراویۃ میں رمی قبل الزوال جائز نہیں ہے اور اصحابِ مُتون و شروح اور فتاوی سے جمہور علماء اسی پر ہیں ۔ ’’فیض‘‘ میں فرمایا : یہی صواب ہے 1ھ اور حسن بن زیاد نے روایت کیا ہے الخ (امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ سے کہ اگر وہ ایام نحر کے تیسرے روز (یعنی بارہ ذوالحجہ کو) کُو چ کرنے کا ارادہ کرے تو اس کے لئے جائز ہے کہ وہ زوال سے قبل رمی کر لے ، اگرچہ زوال کے بعد رمی کرنا افضل ہے اور جو شخض اس روز کوچ کا ارادہ نہیں رکھتا اس کے لئے زوال سے قبل رمی کرنا جائز نہیں ہے ۔ غینۃ الناسک، باب رمی الجمار، ص181) اور وہ ظاہر الروایۃ کے خلاف ہے اور حضور ا کے فعل اور آپ کے بعد آپ کے صحابہ کرام کے فعل کی تصریح کے خلاف ہے اور ’’بدائع‘‘ میں فرمایا یہ باب (یعنی حج کا باب) قیاس سے نہیں پہچانا جاتا بلکہ توقیف سے پہچانا جاتا ہے 1ھ اور ’’فتح القدیر‘‘ میں فرمایا ان دونوں دنوں میں رمی زوال سے قبل بالاتفاق جائز نہیں کیونکہ معقولیت نہ ہو نے کی وجہ سے منقول کی اتباع واجب ہونے کے سبب (رمی قبل الزوال جائز نہیں )1ھ اور ’’در مختار‘‘ میں فرمایا : روایاتِ ظاہرہ جس پر ہمارے اصحاب نے اتفاق کیا قطعاً اسی پر فتویٰ دیا جائے گا اور فقہاء کا فتویٰ دینے میں ان روایات کے بارے میں اختلاف ہے جن میں ہمارے اصحاب نے اختلاف کیا 1ھ (’’در مختار‘‘ کی یہ عبارت ’’غنیۃ الناسک‘‘ کے مطبوعہ نسخے میں اس مقام پر نہیں ہے ۔ نعیمی) اور شارح نے فرمایا : اور صحیح یہ ہے کہ رمی ان دونوں گیارہ اور بارہ تاریخ میں مطلقاً درست نہیں مگر زوال کے بعد ۔ اور علامہ سراج الدین ابن نجیم حنفی متوفی 1005ھ صاحب کنز کے قول ’’فارم الجمار الثلاث فی ثانی النحر بعد الزوال‘‘ (پھر یوم نحر کے دوسرے روز زوال کے بعد تینوں جمرات کی رمی کر) کے تحت لکھتے ہیں :

بیان لأول وقتہ، و ہذا ہو المشہور عن الإمام

یعنی، (مصنّف کا یہ قول ان دنوں میں ) رمی کے اول وقت کا بیان ہے )اور امام اعظم (کے اقوال میں ) سے مشہور (قول) ہے ۔ پھر امام اعظم سے غیر مشہور قول کرنے کے بعد لکھتے ہیں :

و الظاہر الأول (64)

یعنی، ظاہر الروایت پہلا قول ہے ۔ لہٰذا بہر صورت ان دودنوں کی رمی قبل الزوال صحیح نہ ہو گی۔ جب فقہاء کرام نے صراحتہً لکھا ہے کہ یوم نحر کے دوسرے اور تیسرے روز صحتِ رمی کا ابتدائی وقت زوالِ آفتاب کے بعد سے ہے اور اس سے قبل رمی درست نہ ہو گی تو ظاہر تو یہی ہے کہ کہ جب رمی درست نہ ہوئی تو اعادہ لازم ہوا اور وقت میں اعادہ نہ کرنے کی صورت میں دم لازم ہو مگر کُتُبِ فقہ خصوصاً کُتُبِ مناسک میں ایسی صورت میں دَم کا لازم ہونا نظر سے نہیں گزرا۔ اور بعض حنفی علماء کا 11، 12 کی قبلِ زوال رمی کو جائز کہنا ہرگز ہرگز درست نہیں ، ان کا یہ قول قابل اعتبار نہیں کیونکہ کُتُب فقہ میں تصریح موجود ہے کہ قبلِ زوال رمی کا درست نہ ہونا ظاہر الروایت ہے اور ظاہر الروایت کے بارے میں علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی متوفی 1252ھ لکھتے ہیں :

معناہ ما کان من المسائل فی الکتب التی رویت عن محمد بن الحسن روایۃ ظاہرۃ یفتی بہ و إن لم یصرحوا بتصحیحہ (65)

یعنی، ظاہر الروایۃ کا معنی یہ ہے کہ وہ مسئلہ ان مسائل میں سے ہو جو اُن کُتُب میں ہے جنہیں امام محمد بن حسن شیبانی سے روایت ظاہرہ کے ساتھ روایت کیا گیا ہے ، اسی پر فتویٰ دیا جائے گا اگر چہ انہوں نے اس (مسئلہ) کی تصحیح کی صراحت نہ کی ہو۔ ہاں ایک صورت ہے کہ جب مسئلہ توکُتُبِ ظاہر الروایہ میں مذکور ہو اور فقہاء کرام نے دوسری روایت کی تصحیح کی ہو جو ظاہر الروایہ کُتُب کے غیر میں مروی ہو تو اس وقت اس کا اتباع ہو گا کہ جس کی فقہاء کرام نے تصحیح کی، چنانچہ لکھتے ہیں :

نعم لو صححوا روایۃ أخریٰ من غیر کتب ظاہر الروایۃ یتبع ما صححوہ (ص134)

یعنی، ہاں اگر دوسری روایت کی تصحیح کی غیر کُتُب ظاہر الروایہ سے اس کا اتباع کیا جائے جس کی تصحیح کی ہو۔ اور ظاہر الروایۃ میں غالب یہی ہوتا ہے کہ وہ ائمہ ثلاثہ (امام اعظم، ابو یوسف اور محمد حسن) کا قول ہو یا ان کے بعض کا قول ہو :

لکن الغالب الشائع فی ظاہر الروایۃ أن یکون قول الثلاثۃ أو بعضہم (ص16)

یعنی، لیکن ظاہر الروایہ میں غالب اور شائع ہے کہ وہ ائمہ ثلاثہ یا ان میں سے بعض کا قول ہو۔ لیکن اس کے لئے ایک قاعدہ ہے چنانچہ لکھتے ہیں :

و ذکر المحقّق ابن الہمام کما فی فتاویٰ تلمیذہ العلامۃ قاسم أن ما لم یحک محمد فیہ خلافاً فہو قولہم جمیعاً (ص19)

یعنی، محقّق ابن ہمام نے ذکر کیا جیسا کہ ان کے شاگرد علامہ قاسم کے ’’فتاویٰ‘‘ میں ہے جب تک اس مسئلہ میں امام محمد اختلاف کی حکایت نہ کریں تو وہ ان سب (یعنی آئمہ ثلاثہ امام اعظم، امام ابو یوسف اور امام محمد) کا قول ہوتا ہے ۔ اور علامہ حسن بن منصور اوزجندی قاضیخان متوفی 592ھ (66) لکھتے ہیں اور اُن سے علامہ قاسم بن قطلوبغا حنفی متوفی 879ھ (67) اور ان سے علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی (68)نقل کرتے ہیں :

المفتی فی زماننا من أصحابنا إذا استفتی فی مسئلۃ و سئل عن واقعۃ إن کانت المسئلۃ مرویۃ عن أصحابنا فی الروایۃ الظاہرۃ بلا خلاف بینہم فإنہ یمیل إلیہم و یفتی بقولہم و لا یخالفہم برأیہ و إن کان مجتہداً متقناً، لأن الظاہر أن یکون الحق مع أصحابنا و لا یعدوہم، و إجتہادہ لا یبلغ اجتہادہم و لا ینظر إلی قول من خالفہم و لا تقبل حجتہ الخ

یعنی، ہمارے زمانے میں ہمارے اصحاب میں سے مفتی سے جب کسی بارے میں فتویٰ طلب کیا جائے یا کسی واقعہ کے بارے میں پوچھا جائے تو مسئلہ اگر ہمارے اصحاب سے ان کے آپس میں کسی اختلاف کے بغیر روایت ظاہرہ میں مروی ہو تو وہ ان کی طرف مائل ہو گا، اُن کے قول پر فتویٰ دے گا او راپنی رائے سے اُن سے اختلاف نہیں کرے گا اگرچہ وہ (خود) مجتہد متقن ہو، کیونکہ ظاہر ہے کہ حق ہمارے اصحاب کے ساتھ ہے تو وہ ان سے تجاوز نہیں کرے گا اور اس کا اجتہاد اُن کے اجتہاد کو نہیں پہنچتا اور جو اُن کی مخالفت کرے اس کے قول کی طرف نظر نہ کی جائے اور اس کی حجت قبول نہ کی جائے ۔ اس سے ثابت ہوا کہ مقلّد اگر مجتہد ہو تو اُسے بھی ظاہر الروایت کا خلاف جائز نہیں ، جب اس مقلّد کے لئے یہ حکم ہے جو مجتہد بھی ہے تو پھر مقلّد محض کے لئے بھلا ظاہر الروایت کا خلاف کیسے جائز ہو سکتا ہے ، لہٰذا اس مسئلہ میں ظاہر الروایۃ پر یہی عمل ہو گا۔ اور اگر کوئی یہ کہے کہ جواز کا قول بھی امام اعظم سے ایک روایت ہے تو اس کے لئے عرض یہ ہے کہ اس سے انکار نہیں کہ فقہاء کرام نے بھی یہی لکھا ہے مگر ساتھ ہی یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ عدم جواز کا قول ظاہر الروایۃ ہے او رامام اعظم سے مشہور روایت ہے ۔ اور ظاہر الروایۃ اور مشہور قول ہی راجح ہے اور دوسری روایت نوادر کی روایت ہے اور غیر مشہور قول ہے اس لئے وہ مرجوح ہے اور مرجوح راجح کے مقابلے میں کالعدم ہوتا ہے چنانچہ علامہ قاسم بن قطلوبغا حنفی لکھتے ہیں :

و المرجوح فی مقابلۃ الراجح بمنزلۃ العَدَم (69)

یعنی، مرجوح راجح کے مقابلے میں عدم کے مرتبے میں ہوتا ہے ۔ اور علامہ قاسم حنفی، امام شہاب الدین ابو العباس احمد بن ادریس قرافی مصری مالکی متوفی 684ھ کی کتاب ’’الإحکام فی تمییز الفتاویٰ عن الأحکام و تصرّفات القاضی و الإمام‘‘ سے نقل کرتے ہیں :

و إن کان مقلّداً جاز لہ أن یفتی بالمشہور فی مذہبہ و أن یحکم بہ و إن لم یکن راجحاً عندہ … و إما اتباع الہویٰ فی الحکم أو الفُتیا فحرام إجماعاً، و أما الحکم أو الفُتیا بما ہو مرجوح فخلاف الإجماع اھ (70)

یعنی، اور اگر مقلِّد ہو تو اس کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنے مذہب میں (اپنے امام کے ) مشہور (قول) پر فتویٰ دے اور اُسی کے ساتھ حکم کرے اگرچہ (وہ مشہور قول) اس کے اپنے نزدیک راجح نہ ہو… مگر حکم اور فتویٰ میں خواہش کی پیروی تو وہ اجماعاً حرام ہے اور مرجوح قول پر حکم کرنا یا فتویٰ دینا تویہ اجماع کے خلاف ہے ۔ اور جب ان ایام میں غروبِ آفتاب کے بعد بھی رمی جائز ہے اگر چہ مکروہ ہے کیونکہ ان ایام میں صحتِ رمی کا وقت بالاتفاق دوسرے دن کے طلوعِ فجر تک ہے اس لئے دن کی رمی آنے والی رات میں کرے گا تو بھی درست ہو جائے گی اگرچہ غروبِ آفتاب کے بعد مکروہ ہے چنانچہ علامہ زین الدین ابن نجیم حنفی متوفی 970ھ لکھتے ہیں :

و ہو ممتد إلی طلوع الشمس من الغد فلو رمی لیلاً صح و کرہ، کذا فی ’’المحیط‘‘ (71)

یعنی، وہ (یعنی صحت رمی کا وقت) اگلے روز کے طلوعِ آفتاب تک ہے لہٰذا اگر اس نے رات میں رمی کی تو درست ہو گئی، اگرچہ مکروہ ہے ۔ اس کے تحت علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی لکھتے ہیں :

ذکر مثلہ فی ’’البحر العمیق‘‘ و ’’منسک الفارسی‘‘ ، و الطرابلسی و یخالفہ ما فی ’’لباب المناسک‘‘ و ’’شرحہ‘‘ (أی المسلک المتقسّط) من أنہ إذا طلع الفجر فقد فات وقت الأداء عند الإمام خلافاً لہما و بقی وقت القضاء اتفاقًا فہو صریح فی أن آخر الرمی فی ہذین الیومین إلی طلوع الفجر، و أقر علیہ الشارح المرشدی و مثلہ فی ’’منسک العفیف‘‘ و یدل علیہ قول صاحب البدائع فإن أخر الرمی فیہا إلی اللیل فرمی قبل طلوع الفجر جاز و لا شیٔ علیہ لأن اللیل وقت الرمی فی أیام الرمی لما روینا من الحدیث 1ھ… و قول الحدادی فی ’’الجوہرۃ النیرۃ‘‘ فإن رمی باللیل قبل طلوع الفجر جاز و لا شیٔ علیہ 1ھ و کان فیہ اختلاف الروایۃ (72)

یعنی، اس کی مثل ’’البحر العمیق‘‘ ، ’’منسک الفارسی‘‘ اور ’’منسک الطرابلسی‘‘ میں ذکر کیا گیا اور جو ’’لباب المناسک‘‘ (یعنی ان سب میں ہے کہ جوازِ رمی وصحتِ رمی کا وقت طلوع آفتاب تک ہے ) اور اس کی شرح میں ہے وہ اس کے مخالف ہے کہ جب (دوسرے دن کی) فجر طلوع ہوئی تو امام اعظم کے نزدیک وقتِ ادا فوت ہو گیا برخلاف صاحبین کے اور قضاء کا وقت بالاتفاق باقی رہا اور یہ اس میں صریح ہے کہ ان دو دنوں (یعنی گیارہ اور بارہ ذوالحجہ) میں رمی کا آخری وقت طلوعِ فجر تک ہے اور اسی کو شارح مرشدی (یعنی علامہ حنیف الدین) نے ثابت رکھا اور اسی کی مثل ’’منسک العفیف‘‘ میں ہے اور اسی پر صاحبِ بدائع (علامہ علاؤ الدین کاسانی) کا قول دلالت کرتا ہے کہ ان دونوں دنوں میں رمی کا آخری وقت رات تک ہے پس جس نے طلوع فجر سے قبل رمی کر لی تو جائز ہے اور اس پر کچھ لازم نہیں کیونکہ رات ایام رمی میں رمی کا وقت ہے اس کی دلیل وہ حدیث ہے جسے ہم ے روایت کیا الخ اور (علامہ ابو بکر بن علی) حدادی کا ’’الجوہرۃ النیرۃ‘‘ میں قول ہے کہ پس اگر رات میں طلوعِ فجر سے قبل رمی کر لی تو جائز ہے اور اس پر کچھ نہیں الخ (علامہ شامی فرماتے ہیں ) گویا کہ اس میں (یعنی، 10، 11، 12 ذوالحجہ کو صحتِ رمی کے آخری وقت میں ) روایت کا اختلاف ہے ۔ بہر حال ہم متفق علیہ وقت یعنی طلوعِ فجر کو لے لیں تو بھی گیارہ اور بارہ کو زوال سے لے کر طلوعِ فجر تک کافی وقت ہے ۔ اور پھر کمزور و ضعیف اور خواتین ازدحام کی وجہ سے اگر بعد المغرب یا رات کو رمی کریں تو ان کے لئے کراہت تنزیہی بھی نہیں ہے تو مرجوح قول پر عمل کر کے اجماع کا خلاف کرنا اور دوسروں کو یہی فتویٰ دینا سمجھ سے بالا تر ہے ۔ باقی رہا امام اہلسنّت کے فتاویٰ میں ضرورت کے تحت زوال سے قبل رمی کے جواز کا ذکر تو اس کے لئے عرض ہے ، امام اہلسنّت نے اپنے ایک فتویٰ میں اس کا ذکر کیا اور وہاں جوصورت مذکور ہے وہ فی زمانہ پائی ہی نہیں جاتی اور فی زمانہ اس کے پائے جانے کا امکان بھی نہیں اور پھر امام اہلسنّت نے اسی مقام پریہ بھی لکھا ہے کہ ’’یہ (یعنی گیارہ اور بارہ تاریخ کو زوال سے قبل رمی) ہمارے مذہب ظاہر الروایۃ میں گناہ ہے ‘‘،علماء کرام کو چاہئے کہ وہ خود بھی مذہب میں راجح اور صحیح اقوال پر عمل کریں اور دوسروں کو بھی اسی کے مطابق فتویٰ دیں ۔ اس کے لئے وہ کُتُبِ فقہ کا مطالعہ کریں خصوصاً حج پر جانے والے اور وہ جن سے مناسکِ حج کے بارے کثرت سے سوال ہوتے ہیں وہ فقہ حنفی کی کُتُب میں مناسکِ حج و عمرہ کے مسائل کا ضرور مطالعہ رکھیں پھر بھی کسی مسئلہ کے بارے میں علم نہ ہو تو کُتُب کی طرف مراجعت کریں کُتُب میسر نہ آنے کی صورت میں ایسے علماء کی طرف خود رجوع کریں کہ جن کی مناسک پر اچھی نظر ہو پھر سائل کو وہ مسئلہ بتائیں ورنہ سائل کو دوسرے حنفی عالم کی طرف بھیج دیں ۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم السبت،17 ذی القعدۃ1427ھ، 9دیسمبر 2006 م (276-F)

حوالہ جات

62۔ حیاۃ القلوب ، باب دہم، فصل چہارم دربیان وقت رمی جمار، ص216

63۔ حاشیۃ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب،باب نہم، فصل چہارم در بیان وقت رمی جمار، ص216۔217

64۔ النہر الفائق شرح کنز الدقائق، کتاب الحج، باب الإحرام، 2/91

65۔ مجموعۃ رسائل ابن عابدین، شرح الرسالۃ المسّماۃ بعقود رسم المفتی، ص16

66۔ فتاویٰ قاضیخان علی ہامش الفتاویٰ الہندیۃ،فصل فی رسم المفتی، 1/3

67۔ و التصحیح و الترجیح علی مختصر القدوری، مقدمۃ المؤلف، ص124۔ 125

68۔ مجموعہ رسائل ابن عابدین ، شرح الرسالۃ المسّماۃ بعقود رسم المفتی، ص24۔ 25

69۔ التصحیح و الترجیح، مقدمۃ المؤلف، ص121

70۔ التصحیح و الترجیح علی مختصر القدوری، مقدمۃ المؤلف، ص130

71۔ البحرالرائق،کتاب الحج، باب الاحرام ، تحت قولہ : ثم الی منی فارم الجمار….الخ، 2/610

72۔ منحۃ الخالق حاشیۃ البحر الرائق، کتاب الحج، باب الإحرام تحت قول الکنز : ثم إلی منی فارم الخ و تحت قول البحر : و ہو ممتد إلی طلوع الشمس، 2/610

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button