ARTICLES

گونگے کے احرام کا حکم

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اِس مسئلہ میں کہ ایک شخص گونگا ہے بولنے سے عاجز ہے وہ جب حج یا عمرہ کا احرام باندھنے کے لئے احرام کی چادریں بھی پہن لے اور پھر دو رکعت نفل بھی پڑھ لے تو اُس کا احرام درست ہو جائے گا یا نہیں ۔اگر اس طرح احرام درست نہ ہو تو اُسے کیا کرناہو گا کہ اُس کا احرام درست ہو جائے ؟

(السائل : عرفان ضیائی ، کراچی)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : گونگا احرام کے لئے دل میں احرام کی نیّت کرے اور تلبیہ کے کلمات کے لئے اپنی زبان کو حرکت دے تو اُس کا احرام درست ہو جائے گا۔ چنانچہ ابوالفضل محمدبن محمد بن احمد مروزی حاکم شہید حنفی متوفی لکھتے ہیں :

و إذا توضأ الأخرس و لبس ثوبین و صلّی رکعتین وہو یرید الإحرام فلما انصرف نوی الإحرام بقلبہ و حرّک لسانہ کان محرماً (199)

یعنی، گونگا جب وضو کر لے اور احرام کی چادریں پہن لے اور دو رکعت نفل پڑھ لے حالانکہ وہ احرام کا ارادہ رکھتا ہو ، پس جب وہ نفل پڑھ کر اُٹھے تو اپنے دل میں احرام کی نیت کرے اور کلمات تلبیہ کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت دے تو وہ احرام والا ہو گیا۔ اسلام نے کسی کو اس کام کا مکلّف نہیں کیا جس کی وہ استطاعت نہیں رکھتا جیسے فقیرپر زکوٰۃ فرض نہیں ، چنانچہ علامہ ابو الحسن علی بن ابی بکر مرغینانی متوفی 593 ھ لکھتے ہیں :

لأن التَّکلِیفَ بِحسْبِ الْوَسْعِ (200)

یعنی، کیونکہ تکلیف بحسب وسعت ہے ۔ اور علامہ عبداللہ بن محمود موصلی حنفی متوفی 683ھ لکھتے ہیں :

اذ التَّکلیف بِقدرِ الطَّاقَۃِ (201)

یعنی،کیونکہ تکلیف (دشوار کام کا حکم دینا) بحسب استطاعت ہے یا بقدر طاقت ہے ۔ اور امام ِ اہلسنّت امام احمد رضا خان متوفی 1340ھ لکھتے ہیں : تکلیف بقدرِ وسعت اور طاعت بحسب طاقت ہوتی ہے ۔ (202) اوراس نے وہ کیا جو اس کی وسعت میں تھا اور اس سے زیادہ کی اُسے استطاعت نہ تھی، لہٰذا اِس طرح کرنے سے اس کا احرام درست ہو جائے گا، جیسا کہ وہ نماز شروع کرتا ہے تو نماز شروع کرنے کی نیت کے ساتھ تکبیر کے لئے زبان کو حرکت دیتا ہے تو اس کی تکبیر تحریمہ درست ہو جاتی ہے ۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم الجمعۃ، 25شوال المکرم 1427 ھ، 17نوفمبر 2006 م (247-F)

حوالہ جات

199۔ الکافی للحاکم الشھید فی ضمن کتاب الأصل، کتاب المناسک، باب التلبیۃ، 2/456

200۔ الھدایۃ، کتاب الصّلاۃ، باب شروط الصّلاۃ، تحت قولہ : وسیتقبل القبلۃ، 1۔2/56

201۔ کتاب الاختیار لتعلیل المختار، کتاب الصلاۃ، باب ما یفعل قبل الصلاۃ، تحت قولہ : ان کان خائفا الخ، 1/64

202۔ فتاویٰ رضویہ، جلد (3)، کتاب الصلاۃ، باب القبلۃ،6/65(مترجم)

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button