بہار شریعت

گواہی کے متعلق مسائل

گواہی کے متعلق مسائل

اللہ عزوجل فرماتا ہے:۔

واستشھدوا شھدین من رجالکم ج فان لم یکونا رجلین فرجلٌ وامرأتن ممن ترضون من الشھدائ ان تضل احدھما فتذکر احدھما الاخری ولا باب الشھدائ اذا ما دعوا ولا تسئموا ان تکتبوہ صغیرًا او کبیرًا الی اجلہٖ ذلکم اقسط عنداللہ واقوم للشھادۃ وادنی الا ترتابو الا انتکون تجارۃً حاضرۃً تدیرونھا بینکم فلیس علیکم جناحٌ الا تکتبوہا واشہدو واذ تبایعتم ولا یضار کاتبٌ ولا شھیدٌ وان تفعلوا فانہ‘ فسوقٌ بکم واتقواللہ ویعلمکم اللہ واللہ بکل شییٔ علیمٌ ہ

(اپنے مردوں میں سے دو کو گواہ بنا لو اور اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ان کو گواہوں سے جن کو تم پسند کرتے ہو کہ کہیں ایک عورت بھول جائے تو اسے دوسری یاد دلادے گی۔ گواہ جب بلائے جائیں تو انکار نہ کریں ۔ معاملہ کسی میعاد تک ہو تو اس کے لکھنے سے مت گھبرائو چھوٹا معاملہ ہو یا بڑا۔ یہ اللہ کی نزدیک انصاف کی بات ہے اور شہادت کو درست رکھنے والا ہے اور اس کے قریب ہے کہ تمہیں شبہ نہ ہو ہاں اس صورت میں کہ تجارت فوری طور پر ہو جس کو تم آپس میں کر رہے ہو تو اس کے نہ لکھنے میں حرج نہیں ۔ اور جب خرید و فروخت کرو تو گواہ بنا لو اور نہ تو کاتب نقصان پہنچائے نہ گواہ اور اگر تم نے ایسا کیا تو یہ تمہارا فسق ہے اور اللہ سے ڈرو اور اللہ تم کو سکھاتا ہے اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے)

اور فرماتا ہے:۔

ولا تکتموا الشھادۃ ومن یکتہما فانہ‘ اثمٌ قلبہ‘ واللہ بما تعملون علیمٌ

(اور شہادت کو نہ چھپائو اور جو اسے چھپائے گا اس کا دل گنہگار ہے اورجو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کو جانتا ہے)

حدیث ۱ : امام مالک و مسلم و احمد و ابودائود و ترمذی زین بن خالد جہنی رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم کو یہ خبر نہ دوں کہ بہترا گواہ کون ہے وہ جو گواہی دیتا ہے اس سے قبل کہ اس سے گواہی کے لئے کہا جائے۔

حدیث ۲ : بیہقی ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے راوی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر لوگوں کو محض ان کے دعوے پر چیز دلائی جائے تو بہت سے لوگ خون اور مال کے دعوے کر ڈالیں گے و لیکن مدعی کے ذمہ بینہ (گواہ) ہے اور منکر پر قسم۔

حدیث ۳ : ابودائود نے ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کی کہ دو شخصوں نے میراث کے متعلق حضور کی خدمت میں دعوی کیا اور گواہ کسی کے پاس نہ تھے ارشاد فرمایا کہ اگر کسی کے موافق اس کے بھائی کی چیز کا فیصلہ دیا جائے تو وہ آگ کا ٹکڑا ہے یہ سن کر دونوں نے عرض کی یا رسول اللہ میں اپنا حق اپنے فریق کو دیتا ہوں فرمایا یوں نہیں بلکہ تم دونوں جاکر اسے تقسیم کرو اور ٹھیک ٹھیک تقسیم کرو۔ پھر قرعہ اندازی کر کے اپنا حصہ لے لو اور ہر ایک دوسرے سے (اگر اس کے حصہ میں اس کا حق پہنچ گیا ہو) معافی کرا لے۔

حدیث ۴ : شرح سنت میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی کہ دو شخصوں نے ایک جانور کے متعلق دعوی کیا ہر ایک نے اس بات پر گواہ کئے کہ میرے گھر کا بچہ ہے رسول اللہ ﷺ نے اس کے موافق فیصلہ کیا جس کے قبضہ میں تھا۔

حدیث ۵ : ابودائود نے ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کہ کہ حضور کے زمانۂ اقدس میں دو شخصوں نے ایک اونٹ کے متعلق دعوی کیا اور ہر ایک نے گواہ پیش کئے حضور نے دونوں کے مابین نصف نصف تقسیم فرما دیا۔

حدیث ۶ : صٓحیح مسلم میں ہے علقمہ بن دائل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک شخص حضر موت کا اور ایک قبیلۂ کندہ کا دونوں حاضر ہوئے حضر موت والے نے کہا یا رسول اللہ اس نے میری زمین زبردستی لے لی کندی نے کہا وہ زمین میری ہے اور میرے قبضہ میں ہے اس میں اس شخص کا کوئی حق نہیں حضور نے حضرموت والے سے فرمایا کیا تمہارے پاس گواہ ہیں عرض کی نہیں ۔ فرمایا تو اب اس پر حلف دے سکتے ہو عرض کی یا رسول اللہ یہ شخص فاجر ہے اس کی پرواہ بھی نہ کرے گا کہ کس چیز پر قسم کھاتا ہے ایسی باتوں سے پرہیز نہیں کرتا ارشاد فرمایا اس کے سوا دوسری بات نہیں ۔ جب وہ شخص قسم کے لئے آمادہ ہوا ارشاد فرمایا اگر یہ دوسرے کے مال پر قسم کھائے گا کہ بطور ظلم اس کا مال کھا جائے تو خدا سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس سے اعراض فرمانے والا ہے۔

حدیث ۷ : ترمذی نے عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کی کہ حضور نے ارشاد فرمایا کہ نہ خیانت کرنے والے مرد اور خیانت کرنے والی عورت کی گواہی جائز اور نہ اس مرد کی جس پر حد لگائی گئی اور نہ ایسی عورت کی اور نہ اس کی جس کو اس سے عداوت ہے جس کے خلاف گواہی دیتا ہے اور نہ اس کی جس کی جھوٹی گواہی کا تجربہ ہو چکا ہو اور نہ اس کے موافق جس کا یہ تابع ہے (یعنی اس کا کھانا پینا جس کے ساتھ ہو) اورنہ اس کی جو ولا یا قرابت میں متہم ہو۔

حدیث ۸ : صحیح بخاری و مسلم میں انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کبیرہ گناہ یہ ہیں اللہ کے ساتھ شریک کرنا۔ ماں باپ کی نافرمانی کرنا۔ کسی کو ناحق قتل کرنا۔ اور جھوٹی گواہی دینا۔

حدیث ۹ : ابودائود ابن ماجہ نے خریم بن فائک اور امام احمد و ترمذی نے ایمن بن خزیم رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز صبح پڑھ کر قیام کیا اور یہ فرمایا کہ جھوٹی گواہی ہی شرک کے ساتھ برابر کر دی گئی پھر اس آیت کی تلاوت فرمائی:۔

فاجتنبوا الرجس من الاوثان واجتنبوا قول الزور حنفائ للہ غیر مشرکین بہٖ

(بتوں کی ناپاکی سے بچو اور جھوٹی بات سے بچو اللہ کے لئے باطل سے حق کی طرف مائل ہو جائو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو)

حدیث ۱۰ : بخاری و مسلم میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سب سے بہتر میرے ز مانہ کے لوگ ہیں پھر جو ان کے بعد ہیں پھر وہ جو ان کے بعد ہیں پھر ایسی قوم آئے گی کہ ان کی گواہی قسم پر سبقت کرے گی اور قسم گواہی پر یعنی گواہی دینے اور قسم کھانے میں بے باک ہوں گے۔

حدیث ۱۱ : ابن ماجہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے راوی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جھوٹے گواہ کے قدم ہٹنے بھی نہ پائیں گے کہ اللہ تعالی اس کے لئے جہنم واجب کر دے گا۔

حدیث ۱۲ : طبرانی ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے راوی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے ایسی گواہی دی جس سے کسی مرد مسلم کا مال ہلاک ہو جائے یا کسی کا خون بہایا جائے اس نے جہنم واجب کر لیا۔

حدیث ۱۳ : بیہقی ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ فرمایا جو شخص لوگوں کے ساتھ یہ ظاہر کرتے ہوئے چلا کہ یہ بھی گواہ ہے حالانکہ یہ گواہ نہیں وہ بھی جھوٹے گواہ کے حکم میں ہے اور جو بغیر جانے ہوئے کسی کے مقدمہ کی پیروی کرے وہ اللہ کی ناخوشی میں ہے جب تک اس سے جدا نہ ہو جائے۔

حدیث ۱۴ : طبرانی ابوموسی رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ حضور نے ارشاد فرمایا جو گواہی کے لئے بلایا گیا اور اس نے گواہی چھپائی یعنی ادا کرنے سے گریز کی وہ ویسا ہی ہے جیسا جھوٹی گواہی دینے والا۔

مسائل فقہیہ

مسئلہ ۱ : کسی حق کے ثابت کرنے کے لیے مجلس قاضی میں لفظ شہادت کے ساتھ سچی خبر دینے کو شہادت یا گواہی کہتے ہیں ۔

مسئلہ ۲ : مدعی کے طلب کرنے پر گواہی دینا لازم ہے اور اگر گواہ کو اندیشہ ہو کہ گواہی نہ دے گا تو صاحب حق کا حق تلف ہو جائے گا یعنی اسے معلوم ہی نہیں ہے کہ فلاں شخص معاملہ کو جانتا ہے کہ اسے گواہی کے لئے طلب کرتا اس صورت میں بغیر طلب بھی گواہی دینا لازم ہے۔ (درمختار)

مسئلہ ۳ : شہادت فرض کفایہ ہے بعض نے کر لیا تو باقی لوگوں سے ساقط اور دو ہی شخص ہوں تو فرض عین ہے۔ خواہ تحمل ہو یا ادا یعنی گواہ بنانے کے لئے بلائے گئے یا گواہی دینے کے لئے دونوں صورتوں میں جانا ضروری ہے۔ (بحر)

مسئلہ ۴ : شہادت کے لئے دو قسم کی شرطیں ہیں ۔ شرائط تحمل و شرائط ادا۔

تحمل یعنی معاملہ کے گواہ بننے کے لئے تین شرطیں ہیں ۔

(۱) بوقت تحمل عاقل ہونا (۲) انکھیارا ہونا (۳) جس چیز کا گواہ بنے اس کا مشاہدہ کرنا۔

لہذا مجنوں یا لا یعقل بچہ یا اندھے کی گواہی درست نہیں ۔ یونہی جس چیز کا مشاہدہ نہ کیا ہو محض سنی سنائی بات کی گواہی دینا جائز نہیں ۔ ہاں بعض امور کی شہادت بغیر دیکھے محض سننے کے ساتھ ہو سکتی ہے جن کا ذکر آئے گا۔ تحمل کے لئے بلوغ ، حریت ، اسلام، عدالت شرط نہیں یعنی اگر وقت تحمل بچہ یا غلام یا کافر یا فاسق تھا مگر ادا کے وقت بچہ بالغ ہو گیا ہے غلام آزاد ہو چکا ہے کافر مسلمان ہو چکا ہے فاسق تائب ہو چکا ہے تو گواہی مقبول ہے۔ (عالمگیری وغیرہ)

مسئلہ ۵ : شرائط ادا یہ ہیں ۔ (۱) گواہ کا عاقل (۲) بالغ (۳) آزاد (۴) انکھیارا ہونا (۵)نا طق ہونا (۶) محدود فی القذف نہ ہونا یعنی اسے تہمت کی حد نہ ماری گئی ہو (۷) گواہی دینے میں گواہ کا نفع یا دفع ضرر مقصود نہ ہونا (۸) جس چیز کی شہادت دیتا ہو اس کوجانتا ہو اس وقت بھی اسے یاد ہو گا (۹) گواہ کا فریق مقدمہ نہ ہونا (۱۰) جس کے خلاف شہادت دیتا ہے وہ مسلمان ہو تو گواہ کا مسلمان ہونا (۱۱) حدودو قصاص میں گواہ کر مرد ہونا (۱۲) حقوق العباد میں جس چیز کی گواہی دیتا ہے اس کا پہلے سے دعوی ہونا (۱۳) شہادت کا دعوے کے موافق ہونا۔ (عالمگیری ، درمختار)

مسئلہ ۶ : شہادت کا رکن یہ ہے کہ بوقت ادا گواہ یہ لفظ کہے کہ میں گواہی دیتا ہوں اس لفظ کا یہ مطلب ہے کہ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اس بات پر مطلع ہوا اور اب اس کی خبر دیتا ہوں ۔ اگر گواہی میں یہ لفظ کہہ دیا کہ میرے علم میں یہ ہے یامیرا گمان یہ ہے تو گواہی مقبول نہیں ۔ (درمختار) آج کل انگریزی کچہریوں میں ان لفظوں سے گواہی دی جاتی ہے میں خدا کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں ۔ یہ شرع کے خلاف ہے۔

مسئلہ ۷ : شہادت کا حکم یہ ہے کہ گواہوں کا جب تزکیہ ہو جائے اس کے موافق حکم کر نا واجب ہے اور جب تمام شرائط پائے گئے اور قاضی نے گواہی کے موافق فیصلہ نہ کیا تو گنہگار ہوا اورمستحق عزل وتعزیر ہے۔ (درمختار)

مسئلہ ۸ : ادائے شہادت واجب ہونے کے لئے چند شرائط ہیں : (۱) حقوق العباد میں مدعی کا طلب کرنا اور اگر مدعی کو اس کا گواہ ہونا معلوم نہ ہو اور اس کو معلوم ہو کہ گواہی نہ دے گا تو مدعی کی حق تلفی ہو گی اس صورت میں بغیر طلب گواہی دینا واجب ہے۔ (۲) یہ معلوم ہو کہ قاضی اس کی گواہی قبول کر لے گا اور اگر معلوم ہو کہ قبول نہیں کرے گا تو گواہی دینا واجب نہیں ۔ (۳) گواہی کے لئے یہ معین ہے اور اگر معین نہ ہو یعنی اور بھی بہت سے گواہ ہوں تو گواہی دینا واجب نہیں جب کہ دوسرے لوگ گواہی دے دیں اور وہ اس قابل ہوں کہ ان کی گواہی مقبول ہو گی۔ اور اگر ایسے لوگوں نے شہادت دی جن کی گواہی مقبول نہ ہو گی اور اس نے نہ دی تو یہ گنہگار ہے اور اگر اس کی گواہی دوسروں کی بہ نسبت جلد قبول ہو گی اگرچہ دوسروں کی بھی قبول ہو گی اور اس نے نہ دی گنہگار ہے۔ (۴) دوعادل کی زبانی اس امر کا بطلان معلوم نہ ہوا ہو جس کی شہادت دینا چاہتا ہے مثلاً مدعی نے دین کا دعوی کیا ہے جس کا یہ شاہد ہے مگردو عادل سے معلوم ہوا کہ مدعی علیہ دین ادا کر چکا ہے یازوج نکاح کا مدعی ہے اور گواہ کو معلوم ہوا کہ تین طلاقیں دے چکا ہے یا مشتری غلام خرید نے کا دعوی کرتا ہے اورگواہ کو معلوم ہوا ہے کہ مشتری اسے آزاد کر چکا ہے یاقتل کا دعوی ہے اور معلوم ہے کہ ولی معاف کر چکا ہے ان سب صورتوں میں دین و نکاح و بیع و قتل کی گواہی دینا درست نہیں ۔ اور اگر خبر دینے والے عادل نہ ہوں تو گواہ کو اختیار ہے گواہی دے اور قاضی کے سامنے جو کچھ سنا ہے ظاہر کر دے اور یہ بھی اختیار ہے کہ گواہی سے انکار کر دے۔ اور اگر خبر دینے والا ایک عادل ہوتو گواہی سے انکار نہیں کر سکتا۔ نکاح کے دعوے میں گواہ سے دو عادل نے کہا کہ ہم نے خود معاینہ کیا ہے کہ دونوں نے ایک عورت کا دودھ پیا۔ یا گواہوں نے دیکھا ہے کہ مدعی اس چیز میں اس طرح تصرف کرتا ہے جیسے مالک کیا کرتے ہیں او ردو عادل نے ان کے سامنے یہ شہادت دی کہ وہ چیز دوسرے شخص کی ہے تو گواہی دینا جائز نہیں ۔ (۵) جس قاضی کے پاس شہادت کے لئے بلایا جاتا ہے وہ عادل ہو۔ (۶) گواہ کو یہ معلوم نہ ہو کہ مقر نے خوف کی وجہ سے اقرار کیا ہے۔ اگر یہ معلوم ہو جائے تو گواہی نہ دے مثلاً مدعی علیہ سے جبراً ایک چیز کااقرار کرایا گیا تو اس اقرار کی شہادت درست نہیں ۔ (۷) گواہ ایسی جگہ ہو کہ وہ کچہری سے قریب ہو یعنی قاضی کے یہاں جا کر گواہی دے کر شام تک اپنے مکان کو واپس آسکتا ہو اور اگر زیادہ فاصلہ ہو کہ شام تک واپس نہ آسکتا ہو تو گواہی نہ دینے میں گناہ نہیں اور اگر بوڑھا ہے کہ پیدل کچہری تک نہیں جا سکتا اور خود اسکے پاس سواری نہیں ہے مدعی اپنی طرف سے اسے سوار کر کے لے گیا اس میں حر ج نہیں اور گواہی مقبول ہے اور اگر اپنی سواری پر جا سکتا ہو اور مدعی سوار کر کے لے گیا تو گواہی مقبول نہیں ۔ (بحرالرائق)

مسئلہ ۹ : آج کل انگریزی کچہریوں میں گواہی دینے کی جو صورت ہے وہ اہل معاملہ پر مخفی نہیں وکیل مدعی جھوٹ بولنے پر زور دیتے ہیں اور وکیل مدعی علیہ جھوٹا بنانے کی کوشش کرتے ہیں ایسی گواہی سے خدا بچائے۔

مسئلہ ۱۰ : مدعی نے گواہوں کو کھانا کھلایا اگر اس کی صورت یہ ہے کہ کھانا تیار تھا اور گواہ اس موقع پر پہنچ گیا اسے بھی کھلا دیا تو گواہی مقبول ہے اور اگر خاص گواہوں کے لئے کھانا تیار ہوا ہے تو گواہی مقبول نہیں مگر امام ابو یوسف فرماتے ہیں کہ اس صورت میں بھی مقبول ہے۔ (بحرالرائق)

مسئلہ ۱۱: حقوق اللہ میں گواہی دینا بغیر طلب مدعی بھی واجب ہے بلکہ گواہی میں تاخیر کرنا بھی اس کے لئے جائز نہیں اگر بلا عذر شرعی تاخیر کرے گا فاسق ہو جائے گا اور اس کی گواہی مردود ہو گی مثلاً کسی نے اپنی عورت کو بائن طلاق دے دی ہے اسکی گواہی دینا ضروری ہے اور اگر مغلظ طلاق کے بعد وہ دونوں میاں بی بی کی طرح رہتے ہوں اور اسے معلوم ہے اور گواہی نہیں دی کچھ دنوں کے بعد گواہی دیتا ہے مردود الشہادۃ ہے۔ (درمختار، بحر)

مسئلہ ۱۲ : ایک شخص مر گیا اس نے زوجہ اور دیگر وارث چھوڑے گواہوں نے گواہی دی کہ ا س نے صحت کی حالت میں ہمارے سامنے اقرار کیا تھا کہ عورت کو تین طلاقیں دے دی ہیں یا بائن طلاق دی ہے یہ گواہی مردود ہے جب کہ وہ عورت اسی مرد کے ساتھ رہتی ہو کہ ان لوگوں نے اب تک دیکھا اور خاموش رہے لہذا فاسق ہو گئے۔ (بحرالرائق)

مسئلہ ۱۳ : ہلال رمضان و عید الفطر و عیداضحی کی شہادت دینا بھی واجب ہے اور وقف کی گواہی بھی ضروری ہے۔ (درمختا ر، ردالمحتار)

مسئلہ ۱۴ : حدودکی گواہی میں دونوں پہلو ہیں ایک ازالۂ منکر ورفع فساد اور دوسرا مسلم کی پردہ پوشی کرنا گواہ کو اختیار ہے کہ پہلی صورت اختیار کرے اور گواہی دے یا دوسری صورت اختیار کرے اور گواہی دینے سے اجتناب کرے اور یہ دوسری صورت زیادہ بہتر ہے مگر جب کہ وہ شخص بیباک ہو حدود شرعیہ کی محافظت نہ کرتا ہو۔ (درمختار)

مسئلہ ۱۵ : چوری کی شہادت میں بہتر یہ کہنا ہے کہ اس نے اس شخص کامال لے لیا یہ نہ کہے کہ چوری کی کہ اس طرح کہنے میں احیأ حق بھی ہو جاتا ہے اور پردہ پوشی بھی۔ (ہدایہ)

مسئلہ ۱۶ : نصا ب شہادت زنا میں چار مرد ہیں بقیہ حدود وقصاص کے لئے دو مرد ان دونوں چیزوں میں عورتوں کی گواہی معتبر نہیں ہاں اگر کسی نے طلاق کو شراب پینے پر معلق کیا تھا اور اس کے شراب پینے کی گواہی ایک مرد اور دو عورتوں نے دی تو طلاق واقع ہونے کا حکم دیا جائے گا اگرچہ حد نہیں جاری ہو گی۔ (درمختار)

مسئلہ ۱۷ : کسی مرد کافر کے اسلام لانے کا ثبوت بھی دو مردوں کی شہادت سے ہو گا۔ اسی طرح مسلمان کے مرتد ہونے کا ثبوت بھی دو مردوں کی گواہی سے ہو گا۔ (درمختار)

مسئلہ ۱۸ : ولادت و بکارت اور عورتوں کے وہ عیوب جن پر مردوں کو اطلاع نہیں ہوتی ان میں ایک عورت حرہ مسلمہ کی گواہی کافی ہے اور دو عورتیں ہوں توبہتر اور بچہ زندہ پیدا ہونے کے وقت رویا تھا اس کی نماز جنازہ پڑھنے کے حق میں ایک عورت کی گواہی کافی ہے۔ مگر حق وراثت میں امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیک ایک عورت کی گواہی کافی نہیں ۔ (درمختار)

مسئلہ ۱۹ : عورتوں کے وہ عیوب جن پر مردوں کو اطلاع نہیں ہوتی اور ولادت کے متعلق اگر ایک مرد نے شہادت دی تو اس کی دو صورتیں ہیں اگر کہتا ہے میں نے بالقصد ادھر نطر کی تھی گواہی مقبول نہیں کہ مرد کو نظر کرنا جائز نہیں ۔ اور اگر یہ کہتا ہے کہ اچانک میری اس طرف نظر چلی گئی تو گواہی مقبول ہے۔ (درمختار ، ردالمحتار)

مسئلہ ۲۰ : مکتب کے بچوں میں مار پیٹ جھگڑے ہو جائیں ان میں تنہا معلم کی گواہی مقبول ہے۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۲۱ : ان کے علاوہ دیگر معاملات میں دو مرد یا ایک مرد اور دوعورتوں کی گواہی معتبر ہے جس حق کی شہادت دی گئی ہو وہ مال ہو یا غیر مال مثلاً نکاح ، طلاق، عتاق، وکالت کہ یہ مال نہیں ۔ (درمختار)

مسئلہ ۲۲ : کسی معاملہ میں تنہا چار عورتیں گواہی دیں جن کے ساتھ مرد کوئی نہیں یہ گواہی نامعتبر ہے۔ (درمختار)

مسئلہ ۲۳ : گواہی کی ہر صورت میں یہ کہنا ضروری ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں یعنی صیغۂ حال کہنا ضروری ہے اور جہاں یہ لفظ شرط نہ ہو مثلاً پانی کی طہارت اور رویت ہلال رمضان کہ یہ از قبیل شہادت نہیں بلکہ اخبار ہے۔ شہادت کے واجب القبول ہونے کے لئے عدالت شرط ہے۔ صحت قضا کیلئے عدالت شرط نہیں اگر غیر عادل کی شہاد ت قاضی نے قبول کر لی اور فیصلہ دے دیا تو یہ فیصلہ نافذ ہے اگرچہ قاضی گنہگار ہوا اور اگر قاضی کے لئے بادشاہ کا یہ حکم ہے کہ فاسق کی گواہی قبول نہ کرنا اور قاضی نے قبول کر لی تو فیصلہ نافذ نہ ہو گا۔ (درمختار)

مسئلہ ۲۴ : گواہی ایسے شخص پر دیتا ہو جو موجود ہے تو گواہ کو مدعی و مدعی علیہ و مشہود بہ (وہ چیز جس کے متعلق شہادت دیتا ہے) کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے جب کہ مشہود بہ عین ہو اور غائب یا میت پر شہادت دیتا ہو تو اس کا اور اس کے باپ اور دادا کے نام لینا ضروری ہے اور اگر اس کے باپ اور پیشہ کا نام لیا دادا کانام نہ لیا یہ کافی نہیں ہاں اگر اس کی وجہ سے ایسا ممتاز ہو جائے کہ کسی قسم کا شبہہ باقی نہ رہے تو کافی ہے اور اگر وہ اتنا معروف ہے کہ فقط نام یا لقب ہی سے بالکل ممتاز ہو جائے تویہی کافی ہے۔ (درمختار)

مسئلہ ۲۵ : قاضی کو اگر گواہوں کا عادل ہونا معلوم ہو تو ان کے حالات کی تحقیق کی کیا حاجت اور معلوم نہ ہو تو حدود و قصاص میں تحقیقات کرنا ہی ہے مدعی علیہ اس کی درخواست کرے یا نہ کرے اور ان کی غیر میں اگر مدعی علیہ ان پر طعن کرتا ہو تو ضرور ہے ورنہ قاضی کو اختیار ہے۔ اور اس زمانہ میں مخفی طور پر گواہوں کے حالات دریافت کئے جائیں علانیہ دریافت کرنے میں بڑے فتنے ہیں ۔ (ہدایہ وغیرہ)

مسئلہ ۲۶ : جو چیز دیکھنے کی ہے اسے آنکھ سے دیکھا اور جو چیز سننے کی ہے اسے اپنے کان سے سنا مگر جس سے سنا اس کو بھی آنکھ سے دیکھا ہو تو گواہی دینا جائز ہے اگرچہ پردہ کی آڑ سے دیکھا ہو کہ اس نے دیکھا اور اس نے نہ دیکھا یہ ضرور نہیں کہ اس نے کہہ دیا ہو کہ میں نے تمہیں گواہ بنایا مثلاً دو شخصوں کے مابین بیع ہوئی اس نے دونوں کو دیکھا اور دونوں کے الفاظ سنے یا بطور تعاطی دو شخصوں کے مابین بیع ہوئی جس کو خود اس نے دیکھا یہ بیع کا گواہ ہے یا مجلس نکاح میں حاضر ہے الفاظ ایجاب و قبول اپنے کان سے سنے اوردونوں کو بوقت سننے کے دیکھ رہا ہے یہ نکاح گواہ ہے اگرچہ رسمی طور پر اس کو گواہی کے لئے نامزد نہ کیا ہو۔ یونہی اگر اس کے سامنے مقر نے اقرار کیا کہ یہ اقرار کا گواہ ہے۔ (درمختار)

مسئلہ ۲۷ : جس کی بات اس نے سنی وہ پردے میں ہے آواز سنتا ہے مگر اسے دیکھتا نہیں ہے اس کے متعلق اس کی گواہی درست نہیں اگرچہ آواز سے معلوم ہو رہا ہے کہ یہ فلاں کی آواز ہے ہاں اگر اسے واضح طور پر یہ معلوم ہو کہ اس کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہے یوں کہ یہ خود پہلے مکان میں گیا تھا اور دیکھ آیا تھا کہ مکان میں اس کے سوا کوئی نہیں ہے اور یہ دروازہ پر بیٹھا رہا کوئی دوسرا مکان کے اندر گیا نہیں اورمکان میں جانے کا کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں ایسی حالت میں جو کچھ اندر سے آواز آئی اور اس نے سنی اس کی شہادت دے سکتا ہے۔ (درمختار)

مسئلہ ۲۸ : ایک عورت نے کوئی بات کہی یہ اس کو دیکھ رہا ہے مگر چہرہ نہیں دیکھا کہ پہچانتا اور دو شخصوں نے اس کے سامنے یہ شہادت دی کہ یہ فلانی عورت ہے تو نام و نسب کے ساتھ یعنی فلانی عورت فلاں کی بیٹی نے یہ اقرارکیا یوں گواہی دینا جائز ہے اور اگر دیکھا نہیں فقط آواز سنی اور دو شخصوں نے اس کے سامنے شہادت دی کہ یہ فلانی عورت ہے اس صورت میں گواہی دینا جائز نہیں ۔ اور اگر چہرہ اس نے خود دیکھ لیا اور اس نے خود اپنے منہ سے کہہ دیا کہ میں فلانہ بنت فلاں ہوں تو جب تک وہ زندہ ہے یہ گواہی دے سکتا ہے اور اس کی طرف اشارہ کر کے یہ کہہ سکتا ہوں کہ اس نے میرے سامنے یہ اقرار کیا تھا اس صورت میں اس کی ضرورت نہیں کہ دو شخص اس کے سامنے گواہی دیں کہ یہ فلانی ہے اور اس کے مرنے کے بعد یہ شہادت دینا جائز نہیں کہ فلانی عورت نے میرے سامنے اقرار کیا جب کہ یہ خود پہچانتا نہیں محض اس کے کہنے سے جان لیا ہو۔ (درمختار ، عالمگیری)

مسئلہ ۲۹ : ایک عورت کے متعلق نام و نسب کے ساتھ گواہی دی اور عورت کچہری میں حاضر ہے حاکم نے دریافت کیاکہ اس عورت کو پہچانتے ہو گواہ نے کہا نہیں یہ گواہی مقبول نہیں اور اگر گواہوں نے یہ کہا کہ وہ عورت جس کا نام و نسب یہ ہے اس نے جو بات کہی تھی ہم اس کے شاہد ہیں مگر یہ ہم کو معلوم نہیں کہ یہ وہی ہے یا دوسری تو اس نا مبردہ پر شہادت صحیح ہے مگر مدعی کے ذمہ یہ ثابت کرنا ہے کہ یہ عورت جو حاضر ہے وہی ہے ۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۳۰ : ایک شخص کے ذمہ کسی کامطالبہ ہے وہ تنہائی میں اقرار کر لیتا ہے مگر جب لوگوں کے سامنے دریافت کرتا ہے تو انکار کر دیتا ہے صاحب حق نے یہ حیلہ کیا کہ کچھ لوگوں کو مکان کے اندر چھپا دیا اوراس کو بلایا اور دریافت کیا اس نے یہ سمجھ کر کہ یہاں کوئی نہیں ہے اقرار کر لیا جس کو ا ن لوگوں نے سنا اگر ان لوگوں نے دروازہ کی جھری یا سوراخ سے اس شخص کو دیکھ لیا گواہی دینا درست ہے۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۳۱ : ملک کو جانتا ہے مگر مالک کو نہیں پہنچانتا مثلاً ایک مکان ہے جس کو اس نے دیکھا ہے اور اس کے حدود اربعہ کو پہچانتا ہے اور لوگوں سے اس نے سنا ہے کہ یہ مکان فلاں بن فلاں کا ہے جس کو یہ پہچانتا نہیں اس کو گواہی دینا جائز ہے اور گواہی مقبول ہے اور اگر ملک و مالک دونوں کو نہیں پہچانتا مثلاً یہ سنا ہے کہ فلاں بن فلاں کا فلاں گائوں میں ایک مکان ہے جس کے حدود یہ ہیں نہ مکان کو دیکھا نہ مالک کو تصرف کرتے دیکھا اس صورت میں گواہی دینا جائز نہیں اور اگر مالک کو دیکھا ہے مگر ملک کو نہیں دیکھا ہے مثلاً اس شخص کو خوب پہچانتا ہے اور لوگوں سے سنتا ہے کہ فلاں جگہ اس کا ایک مکان ہے جس کے حدود یہ ہیں اس صورت میں گواہی دینا جائز نہیں ۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۳۲ : مالک وملک دونوں کو دیکھاہے اس شخص کو دیکھا ہے کہ اس ملک میں اس قسم کا تصرف کرتا ہے جس طرح مالک کرتے ہیں اور وہ کہتا ہے کہ یہ چیز میری ہے اور گواہ کی سمجھ میں بھی یہ بات آگئی کہ یہ اسی کی ہے پھر کچھ دنوں کے بعد وہ چیز دوسرے کے قبضہ میں دیکھی شخص اول کی ملک کی شہادت دے سکتا ہے مگر قاضی کے سامنے اگر یہ بیان کر دے گا کہ مجھے اس کی ملک ہونا اس طرح معلوم ہوا ہے کہ میں نے اسے تصرف کرتے دیکھا ہے تو گواہی رد کر دی جائے گی ہاں اگر دو عادل نے گواہ کو یہ خبر دی کہ یہ چیز شخص ثانی کی ہے اس نے پہلے کے پاس امانت رکھی تھی تو اب پہلے کے لئے گواہی دینا جائز نہیں ۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۳۳ : جو بات معروف و مشہور ہو جس میں سن کر بھی گواہی دینا جائز ہو جاتا ہے مثلاً کسی کی موت و نکاح نسب جب کہ دل میں یہ بات آتی ہے کہ جو کچھ لوگ کہہ رہے ہیں ٹھیک ہے اس کے متعلق اگر دو عادل یہ کہہ دیں کہ ویسا نہیں ہے جو تمہارے دل میں ہے اب گواہی دینا جائز نہیں ہاں اگر گواہ کو یقین ہے کہ یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں غلط ہے تو گواہی دے سکتا ہے اور اگر ایک عادل نے اس کے خلاف کی شہادت دی ہے تو گواہی دینا جائز ہے مگر جب دل میں یہ بات آئے کہ یہ شخص سچ کہتا ہے تو ناجائزہے۔ (خانیہ)

مسئلہ ۳۴ : مدعی نے ایک تحریر پیش کی کہ یہ مدعی علیہ کی تحریر ہے اور مدعی علیہ کہتا ہے کہ یہ میری تحریر نہیں مدعی علیہ سے ایک تحریر لکھوائی گئی دونوں تحریروں کو ملایا گیا بالکل مشابہ ہیں محض اتنی بات سے مدعی علیہ کی تحریر قرار دے کر اس پر مال لازم نہیں کیا جا سکتا جب تک گواہوں سے وہ تحریر اس کی ثابت نہ ہواور اگرمدعی علیہ اپنی تحریر بتاتا ہے مگر مال سے انکار کرتا ہے اگر وہ تحریر باضابطہ ہے یعنی اس طرح لکھی ہے جس طرح اقرار نامہ لکھا جاتا ہے تو مدعی علیہ پرمال لازم ہے۔ (درمختار)

مسئلہ ۳۵ : دستاویز پر اس کی گواہی لکھی ہوئی ہے اگر اس کے سامنے دستاویز پیش ہوئی پہچان لیا کہ یہ میرے دستخط ہیں اگر واقعہ اس کو یاد آگیا اگرچہ اس سے پہلے یاد نہ تھا گواہی دینا جائز ہے۔ اور اگر اب بھی یاد نہیں آتا یا یہ یاد آتا ہے کہ میں نے اس کاغذ پر گواہی لکھی تھی مگر مال دیا گیا یہ یاد نہیں تو امام محمد رحمۃ اللہ تعالی کے نزدیک گواہی دینا جائز ہے۔ یہ پہچانتا ہے کہ دستخط میرے ہیں مگر معاملہ بالکل یاد نہیں اگر کاغذ اس کی حفاظت میں تھا جب تو امام ابو یوسف کے نزدیک بھی گواہی دینا جائز ہے اور فتوی اس پر ہے کہ اگر اسے یقین ہے کہ یہ دستخط میرے ہی ہیں تو چاہے کاغذ اس کے پاس ہو یا مدعی کے پاس ہو گواہی دینا جائز ہے۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۳۶ : دستخط پہچانتا ہو کہ میرے ہی ہیں اور مقر کا اقرار بھی یاد ہے اور مقرلہ کو بھی پہچانتا ہے مگر یاد نہیں کہ وہ کیا وقت تھا اور کونسی جگہ تھی گواہی دینا حلال ہے۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۳۷ : گواہوں کے سانے دستاویز لکھی گئی مگر پڑھ کر سنائی نہیں گئی گواہوں سے کہا جو کچھ اس میں لکھا ہے اس کے گواہ ہو جائو ان لوگوں کوشہادت دینا جائز نہیں ۔ گواہی دینا ا س وقت جائز ہے کہ انھیں پڑھ کر سنا دے یا دوسرے نے دستاویز لکھی اور مقر نے خود پڑھ کر سنائی اور یہ کہہ دیا کہ جو کچھ اس میں لکھا ہے اس کے گواہ ہو جائو یا گواہوں کے سامنے خود مقر نے لکھی اور گواہوں کو معلوم ہے جو کچھ اس میں لکھا ہے اور مقر نے کہہ دیا جو کچھ میں نے اس میں لکھا ہے اس کے تم گواہ ہو جائو۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۳۸ : مقر نے دستاویز لکھی اور گواہوں کومعلوم ہے جو کچھ اس میں لکھا ہے مگر مقر نے گواہوں سے نہیں کہا کہ تم اس کے گواہ ہو جائو اگر وہ اقرار نامہ رسم کے مطابق ہے اور گواہوں کے سامنے لکھا ہے ان کوگواہی دینا جائز ہے۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۳۹ : جس چیز کی گواہی دی جاتی ہے اس کی دو قسمیں ہیں ۔ ایک یہ کہ محض اس کامعاینہ گواہی دینے کے لئے کافی ہے جیسے بیع، اقرا، غصب، قتل کہ بائع و مشتری سے بیع کے الفاظ سنے یا مقر سے اقرار سنا یا غصب و قتل کرتے ہوئے دیکھا گواہی دینا درست ہے اس کو گواہ بنایا ہوا ہو یا نہ بنایا ہو۔ اگر گواہ نہیں بنایا ہے تو یہ کہے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں یہ نہیں کہے گا کہ مجھے گواہ بنایا ہے۔ دوسری قسم یہ ہے کہ بغیر گواہ بنائے ہوئے گواہی دینا درست نہیں جیسے کسی کو گواہی دیتے ہوئے دیکھا تو یہ گواہی نہیں دے سکتا یعنی یوں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ ا س نے یہ گواہی دی ہاں اگر اس نے اس کو گواہ بنایا تو گواہی دے سکتا ہے ۔ (ہدایہ وغیرہ)

مسئلہ ۴۰ : قاضی نے اس کے سامنے فیصلہ سنایا یہ گواہی دے سکتا ہے کہ فلاں قاضی نے اس معاملہ میں یہ فیصلہ کیا ہے۔ (درمختار)

مسئلہ ۴۱ : چند چیزیں وہ ہیں کہ محض شہرت اور سننے کے بنا پر ان کی شہادت دینا درست ہے اگرچہ اس نے خود مشاہدہ نہ کیا ہو جب کہ ایسے لوگوں سے سنا ہو جن پر اعتماد ہو۔

(۱) نکاح (۲) نسب (۳) موت (۴) قضا (۵) دخول

مثلاً ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ایک عورت کے پاس جاتا ہے اور لوگوں سے سنا کہ یہ اس کی بی بی ہے یہ نکاح کی گواہی دے سکتا ہے۔ یا لوگوں سے سنا ہے یہ شخص فلاں کابیٹا ہے شہادت دے سکتا ہے۔ یا ایک شخص کو دیکھا کہ لوگوں کے معاملات فیصل کرتا ہے اور لوگوں سے سنا کہ یہ یہاں کا قاضی ہے ۔ گواہی دے سکتا ہے کہ یہ قاضی ہے اگرچہ بادشاہ نے جب قاضی بنایا اس نے مشاہدہ نہیں کیا۔ یا ایک شخص کی نسبت لوگوں سے سنا کہ مر گیا اس کی موت کی شہادت دے سکتا ہے مگر ان صورتوں میں گواہ کو چاہئیے کہ یہ ظاہر نہ کرے کہ میں نے ایسا سنا ہے اگر سننا بیان کر دے گا تو گواہی رد ہو جائے گی۔ (ہدایہ ، عالمگیری)

مسئلہ ۴۲ : مرد و عورت کو ایک گھر میں رہتے دیکھا اور یہ کہ وہ اس طرح رہتے ہوں جیسے میاں بی بی اس صورت میں نکاح کی گواہی دے سکتا ہے۔ (ہدایہ)

مسئلہ ۴۳ : اگر کسی کے دفن میں یہ خود حاضر تھا یا اس کے جنازہ کی نماز پڑھی تو یہ معاینہ ہی کے حکم میں ہے اگر نہ مرتے وقت حاضر تھا نہ میت کا چہرہ کھول کر دیکھا۔ اگر اس امر کو قاضی کے سامنے بھی ظاہر کر دے گا جب بھی گواہی مقبول ہے۔ (ہدایہ)

مسئلہ ۴۴ : کسی کے مرنے کی خبر آئی اور گھر والوں نے وہ چیزیں کیں جو اموات کے لئے کرتے ہیں مثلاً سوم ۔و ایصال ثواب وغیرہ محض اتنی بات معلوم ہونے پر موت کی شہادت دینا درست نہیں جب تک معتبر آدمی یہ خبر نہ دے کہ وہ مر گیا اور اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۴۵ : (۶) اصل وقف کی شہادت سننے کی بنا پر جائز ہے شرائط کے متعلق سن کر شہادت دینا درست ہے کیونکہ عام طور پر وقف ہی کی شہرت ہوا کرتی ہے اور یہ بات کہ اس کی آمدنی اس نوعیت سے خرچ کی جائے گی اس کو خاص ہی جانتے ہیں ۔ (ہدایہ)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button