ARTICLES

کیا حدیبیہ، تنعیم اور جعرانہ حدودِ حرم میں ہیں ؟

استفتاء : ۔کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اِس مسئلہ میں کہ مزدلفہ حرم میں ہے یا خارج از حرم ہے ؟ (2) حرم کی حدود کیا ہیں ؟ (3) منیٰ، مزدلفہ، حدیبیہ، عرفات، تنعیم اور جعرانہ میں سے کون کون سے مقامات حرم میں ہیں ؟ بینوا و توجروا

(السائل : محمد عرفان قادری، نور مسجد کاغذی بازار، کراچی)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : (1) مزدلفہ حرم کی حدّ کے اندر ہے چنانچہ علّامہ سیّد محمود احمد رضوی لکھتے ہیں : ’’عرفات خارج از حرم ہے ،قریش زمانۂ جاہلیّت میں عرفات میں وقوف نہیں کرتے تھے ۔ وہ کہتے تھے ہم أہلُ اللہ ہیں ، حرم سے باہر کیوں جائیں ، اُس کی جگہ وہ مزدلفہ میں وقوف کرتے تھے جو حرم کی حدّ کے اندر ہے ۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا :

{ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ} الاٰیۃ (239)

ترجمہ : ’’اے قریشیو! تم بھی وہیں سے پلٹو جہاں سے لوگ واپس ہوتے ہیں ‘‘ (240) اور علامہ بد ر الدین عینی حنفی لکھتے ہیں :

إن قریشاً کانوا یقُولُوْن : نحن أ ہل اللّٰہ فلا نخرج من الحرم، و کان غیرہم یقفون بعرفۃ و عرفۃ خارج الحرم، فبین اللّٰہ تعالیٰ فی قولہ : ( ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاس)۔ و فیہ : وکانوا یقولون : عزتنا بالحرم و سکنانا فیہ و نحن جیران اللہ فلا نری الخروج عنہ إلی الحل عند وقوفنا فی الحج الخ (241)

یعنی، قریش (زمانۂ جاہلیت میں ) کہتے ہم اَہلُ اللہ ہیں لہٰذا ہم حرم سے نہیں نکلیں گے اور ان کے علاوہ دوسرے لوگ عرفات میں وقوف کرتے اور عرفات حرم سے باہر ہے او راللہ تعالیٰ نے اپنے فرمان میں فرمایا کہ ’’اے قریشیو! تم بھی وہیں سے پلٹو جہاں سے لوگ واپس ہوتے ہیں ‘‘(247)۔ اِسی میں ہے کہ وہ کہا کرتے تھے کہ ہماری عزّت حرم کے ساتھ ہے اور ہماری رہائش حرم میں ہے اور ہم اللہ کے گھر کے پڑوسی ہیں تو ہم حج میں وقوف کے وقت حِل کی طرف نکلنا اچھا نہیں سمجھتے ۔ اور علامہ شمس الدین محمد بن عبداللہ احمد غزی تمرتاشی حنفی متوفی1004لکھتے ہیں :

و یسحب أن یأتیہا ماشیا(242)

اِس کے تحت علامہ سیّد محمد امین ابن عابدین شامی متوفی 1252ھ لکھتے ہیں :

أی إذا قُرب منہا یدخلہا ماشیاً تأدّباً و تواضعاً لأنہا من المحترم (243)

یعنی، مستحب ہے کہ مزدلفہ پیدل آئے یعنی جب مزدلفہ کے قریب پہنچے تو ادب اور تواضع کے لئے پیدل داخل ہو کیونکہ مزدلفہ حرم سے ہے ۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ مزدلفہ حدِّ حرم کے اندر ہے ۔ (2) حُدود ِ حرم(244) یہ ہیں : 1۔ تنعیم : آج کل یہ مسجد عائشہ رضی اللہ عنہا کے نام سے معروف ہے او ریہ مسجد الحرام سے شمال کی جانب مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ روڈ پر واقع ہے ، اور حُدودِ حرم میں سے یہ قریب ترین حدّ ہے ۔ 2 ۔ جعرانہ : آج کل اس جگہ ایک بستی ہے جو وادیٔ سرف کے شروع میں ہے اور یہاں ایک مسجد ہے جس سے عمرہ کرنے والے احرام باندھتے ہیں او ریہ مسجد الحرام سے شمال مشرقی سمت میں ہے ۔ 3۔ حدیبیہ : مکہ جدّہ کی قدیم شاہراہ پر ایک مقام ہے ، آج کل یہ جگہ شمیسی کے نام سے معروف ہے ، یہ مسجد الحرام کی مغربی سمت میں ہے بقول صاحبِ ہدایہ(صاحبِ ہدایہ کی عبارت آگے مذکور ہے ) کے اِس کا کچھ حصہ حرم میں ہے ، اس جگہ ایک نئی مسجد تعمیر کی گئی ہے اور ایک قدیم مسجد کے آثار بھی ملتے ہیں ۔ 4۔ نخلہ : یہ مقام مکہ اور طائف کے درمیان ہے جو مسجد الحرام سے مشرق اور شمال کی سمت حرم کی حدّ ہے ۔ 5۔ اضاء ۃ لبن : یہ ایک جھیل نما مقام ہے جو مسجد الحرام کی جنوبی سمت میں حرم کی حدّ ہے آج کل یہ جگہ عقیشیہ کے نام سے معروف ہے ۔ جبکہ عرفات حُدودِ حرم سے خارج ہے ،مسجد الحرام کی مشرقی سمت میں مائل بجنوب واقع ہے ۔ اور قاضی ابو الفضل نویری نے مدینہ منورہ، عراق، طائف، جدّہ، جعرانہ اور یمن کی جانب کو مسجد الحرام سے حرم کی حدّ کا فاصلہ اس وقت کی پیمائش کے پیمانے سے ذکر کیا ہے چنانچہ وہ فاصلہ یہ ہے : … مدینہ منورہ کی جانب سے تین میل … عراق کی جانب سے سات میل … طائف کی جانب سے سات میل … جدہ کی جانب سے دس میل … جعرانہ کی جانب سے نو (9) میل … یمن کی جانب سے سات میل اور قاضی ابو الفضل(245) نے اسے ایک شعر میں بیان کیا اور وہ شعر مندرجہ ذیل ہیں :

و للحرم التحدید من أرض طیبۃ ثلاثۃ أمیال إذا رمت اتقانہ و سبعۃ أمیال عراق و طائف و جدۃ عشر ثم تسع جعرانہ و من یمن سبع بتقدیم سینہا و قد کملت فاشکر لربک احسانہ (246)

اور مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی حنفی لکھتے ہیں :

پس حد آن ازطریق مدینہ منورہ بقُرب تنعیم است بر سہ میل از مکہ معظمہ و از طریق جعرانہ حد حرم در شعب آل عبداللہ بن خالد است بر نہ میل از مکہ و از طریق جدہ بردہ میل است و از طریق طائف حدّ حرم بر عرفات است در بطن عرنہ بر ہفت میل از مکہ و از طریق عراق حد حرم بر ثنیہ جبلی است کہ درقطع است بر مسافت ہفت میل نیز۔ (247)

یعنی، پس حرم کی حدطریق مدینہ منورہ سے تین میل ہے مکہ معظمہ سے اور طریق جعرانہ سے حدِ حرم شعب عبداللہ بن خالد میں ہے بطن عُرَنَہ میں سات میل مکہ سے اور طریق عراق سے حدِّ حرم ثنیہ پر ہے جو ایک پہاڑ ہے جو سفر کے لحاظ سے سات میل ہے ۔ (3)منیٰ حرم میں ہے ، چنانچہ علامہ علامہ ابو الحسن علی بن أبی بکر مرغینانی متوفی 593ھ لکھتے ہیں :

لأن السنّۃ جرت فی الحج بالحلق بمنی و ہو من الحرم (248)

یعنی، کیونکہ حج میں منیٰ میں حلق کرنے کی عادت جاری ہے او رمنیٰ حرم سے ہے ۔ اور علامہ علاؤ الدین حصکفی متوفی 1088ھ لکھتے ہیں :

قریۃ من الحرم علی فرسخ من مکۃ (249)

یعنی، منیٰ حرم کا ایک قریہ ہے مکہ سے ایک فرسخ پر ہے ۔ … مُزدلفہ حرم میں ہے ، چنانچہ علامہ سیّد محمد امین ابن عابدین شامی متوفی 1252ھ لکھتے ہیں :

لأنہا من الحرم المحترم (250)

یعنی، کیونکہ مزدلفہ حرم محترم سے ہے ۔ … حدیبیہ کا بعض حصہ حرم میں ہے او رباقی حِل میں ، چنانچہ علامہ ابو الحسن علی بن أبی بکر مرغینانی لکھتے ہیں :

و بعض الحدیبیۃ من الحرم (251)

یعنی، حدیبیہ کا کچھ حصہ حرم میں ہے ۔ …عرفات حدودِ حرم سے باہر ہے ، چنانچہ علامہ ابو الحسن علی بن أبی بکر مرغینانی لکھتے ہیں :

لأن أدا الحج فی عرفۃ و ہی فی الحل(252)

یعنی، حج کی ادائیگی عرفات میں ہے اور وہ حِل میں ہے ۔ اس کے تحت علّامہ بدر الدین عینی حنفی متوفی 855ھ لکھتے ہیں :

و الحال أن عرفۃ فی الحل، و قال لأنہا خارجۃ عن حد الحرم(253)

حالانکہ عرفات حل میں ہے اور فرمایا کہ وہ حدِّ حرم سے خارج ہے ۔ … تنعیم حدِّ حرم سے خارج ہے ، چنانچہ علامہ ابو الحسن علی بن أبی بکر مرغینانی لکھتے ہیں :

و أمر أخا عائشۃ أن یعمّرھا من التنعیم، و ہی فی الحل(254)

یعنی، نبی ا نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی کو حکم فرمایا کہ انہیں تنعیم سے عمرہ کرائے اور وہ حِل میں ہے ۔ علامہ بدر الدین عینی لکھتے ہیں :

ہو موضع قریب من مکۃ عند مسجد عائشۃ رضی اللہ عنہا، و سمی تنعیماً لأن یمینہ جبلاً یقال لہ نعیم و عن شمالہ جبل یقال لہ ناعماً (255)

یعنی، تنعیم مسجد عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس، مکہ مکرمہ کے قریب ایک جگہ ہے اور اس کا نام تنعیم اس لئے رکھا گیا کہ اس دائیں کی طرف ایک پہاڑ ہے جسے ’’ نعیم‘‘ اور بائیں طرف ایک پہاڑ ہے جسے ’’ناعم‘‘ کہا جاتا ہے ۔ … جعرانہ حدِّ حرم سے خارج ہے ، چنانچہ مفتی محمد وقار الدین لکھتے ہیں : (عمرہ کے ) احرام کے لئے حرم سے باہر (حقیقۃً یا حکماً مکی کے واسطے ) قریب ترین میقات (یہاں میقات سے مراد حدّ حرم ہے نہ کہ حدّ حِل) ’’تنعیم‘‘ ہے اور سب سے دُور میقات ’’جعرانہ‘‘ ہے ۔ (256) اور حضور انے طائف سے واپسی پر جعرانہ سے احرام باندھا تھا اور یہ اِس بات کی دلیل ہے کہ جعرانہ حدودِ حرم سے باہر ہے ۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم السبت، 17شوّال1421ھ، 13ینایر2001م (267-F)

حوالہ جات

239۔ البقرۃ : 2/199

240۔ فیوض الباری شرح بخاری، حصہ ہفتم، 3/9

241۔ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری، باب الوقوف بعرفۃ، قبل رقم الحدیث 1664، 7/255

242۔ تنویر الأبصار مع شرحہ للحصکفی، کتاب الحج، ص162

243۔ رَدُّ المحتار، کتاب الحج، فصل فی الاحرام وصفۃ المفرد بالحج، مطلب : فی الرفع من عرفات، تحت قول التنویر : ماشیاً، 3/599

244۔ علامہ سیّد محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی 1252ھ نقل کرتے ہیں کہ : حرم محترم کے تمام جوانب میں علامات نصب کی گئی ہیں انہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس طرح نصب فرمایا کہ جبریل علیہ السلام آپ کو دکھاتے جاتے آپ علامت نصب فرماتے ،پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان علامات کی تجدید کا حکم فرمایا ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ، پھرحضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ، پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اور یہ علامات اب تک قائم ہیں سوائے جہتِ جدہ اور جہتِ جعرانہ کے ۔(رَدّ المحتار ، کتاب الحج، فصل فی الاحرام ، مطلب : فی المواقیت، تحت قولہ : نظم حدود الحرم الخ، 3/555)

اور اب ان اطراف میں بھی علامات نصب ہیں ۔

245۔ پہلے دو شعر علامہ علاؤ الدین حصکفی نے ’’درمختار‘‘ میں ذکرکئے ہیں اور تیسرا شعر علامہ شامی نے ’’ردالمحتار‘‘ میں ذکر کیا اور علامہ شامی نے لکھا ہے کہ ان اشعار کو نظم کرنے والے قاضی ابوالفضل نویری ہیں اور صاحبِ درمختار نے پہلے دو شعور ابن الملقن شافعی کے حوالے سے نقل کئے ہیں دیکھئے (ردالمحتار، کتاب الحج، فصل فی الاحرام، مطلب فی المواقیت،تحت قولہ : ونظم حدود الحرم الخ، 3/555)

246۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب سیزدہم دربعضے مسائل متفرقہ، فصل دہم دربیان تقدیر حدود حرم الخ، ص283

247۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب سیزدہم دربعضے مسائل متفرقہ، فصل دہم دربیان تقدیر حدود حرم الخ، ص283

248۔ الھدایۃ، کتاب الحج، باب الجنایات، فصل من طاف طواف القدم الخ، تحت قولہ : فان حلق فی الخ، 1۔2/201

249۔ الدرالمختار، کتاب الحج، فصل فی الاحرام وصفۃ المفرد بالحج، تحت قولہ : ثامن الشھر خرج الی منی، ص161

250۔ ردالمحتار، کتاب الحج، فصل فی الاحرام وصفۃ المفرد بالحج، مطلب : فی الرفع من عرفات، تحت قولہ : ماشیاً، 3/599

251۔ الھدایۃ، کتاب الحج، باب الجنایات، فصل من طاف طواف القدوم الخ، تحت قولہ : فان حلق فی أیام الحر الخ، 1۔2/201

252۔ الہدایۃ، کتاب الحج، فصل : والمواقیت التی الخ، تحت قولہ : من فی مکۃ الخ، 1۔2/164

253۔ البنایۃ فی شرح الھدایۃ للعینی، کتاب الحج، فصل فی المواقیت ، 1۔2/1417

254۔ الھدایۃ، کتاب الحج، فصل : والمواقیت التی الخ، تحت قولہ : ومن فی مکۃ الخ، 1۔2/164

255۔ البنایۃ شرح الھدایۃ، کتاب الحج، فصل فی المواقیت، تحت قولہ : ولأن اداء الحج الخ، 4/165

256۔ وقار الفتاویٰ، کتاب المناسک، احرام کہاں سے باندھا جائے ، 2/452

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button