ARTICLES

کیا حاجی منیٰ میں عید نماز سے قبل قربانی کر سکتا ہے ؟

استفتاء : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص منیٰ میں اپنی عید کی قربانی کرنا چاہے تو کیا وہ عید نماز سے قبل قربانی کر سکتا ہے ؟ جب کہ عام طور پر حکم یہ ہے کہ عید سے قبل قربانی جائز نہیں ہوتی۔

(السائل : ایک حاجی، مکہ مکرمہ)

متعلقہ مضامین

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : حاجی منیٰ میں نماز عید سے قبل عید کی قربانی کر سکتا ہے ، چنانچہ امام شمس الدین احمد بن محمد سرخسی حنفی متوفی 483ھ اور ان سے علامہ حسن بن عمار شرنبلالی حنفی متوفی 1069ھ نقل کرتے ہیں :

یجوز لہم التضحیۃ بعد انشقاق الفجر کما یجوز لاہل القری اھـ (220)

یعنی، طلوع فجر کے بعد اہل منیٰ کے لئے قربانی کرنا جائز ہے جیسا کہ دیہات والوں کے لئے جائز ہے ۔ یاد رہے کہ اہل منیٰ کے لئے عید کی قربانی جائز ہے نہ کہ حج قران اور تمتع کی قربانی کیونکہ اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ جمرہ عقبہ کی رمی کے بعد ہو۔

واللٰہ تعالی اعلم بالصواب

یوم السبت، 10 ذوالحجۃ 1435ھـ، 4 اکتوبر 2014 م 945-F

حوالہ جات

220۔ المبسوط للسرخسی، کتاب الذبائح، باب الاضحیۃ، 6/77

غنیۃ ذوی الاحکام فی بغیۃ درر الحکام، کتاب الاضحیۃ، تحت قولہ : لا تذبح الاضحیۃ فی المصر، 1/268

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button