ARTICLES

کیا اب زمزم ٹوپی اتار کر پینا چاہیے ؟

الاستفتاء : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اب زمزم کھڑے ہونے کے ساتھ ساتھ ٹوپی بھی اتار کر پینا چاہیے اس کی کیا حقیقت ہے برائے کرم نقلی وعقلی دلیل سے جواب عنایت فرمائیں نوازش ہوگی؟ (السائل : عبد القادر راغب رضوی،امام اعظم گروپ، انڈیا)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : ۔صورت مسؤلہ میں اب زمزم پینے والا اگر حالت احرام میں ہوگاتو ننگے سر پئے گاکیونکہ حالت احرام میں سر ڈھکنا ممنوعات احرام میں سے ہے کہ حالت احرام میں سر ڈھکنے پر کفارہ لازم اتا ہے ۔ چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی متوفی993ھ اورملا علی بن سلطان قاری حنفی متوفی 1014ھ لکھتے ہیں : ( ولو غطی جمیع راسہ او وجھہ ) ای جمیع وجھہ ( بمخیط او غیرہ یوما او لیلۃ ) وکذا مقدار احدھما ( فعلیہ دم ) ای کامل بلا خلاف (وفی الاقل من یوم ) وکذا من لیلۃ ( صدقۃ۔والربع منھما کالکل )(85) یعنی،اگر کسی نے اپنے تمام سر یا چہرے کو سلے ہوئے کپڑے یا اس کے علاوہ کے ساتھ مکمل ایک دن(صبح صادق تا غروب افتاب) یا مکمل ایک رات (بعد غروب افتاب تا صبح صادق)ڈھانپ لیا اور اسی طرح ان دونوں (یعنی دن اوررات )میں سے کسی ایک کی مکمل مقدار ڈھانپا تو اس پر بغیرکسی اختلاف کے دم لازم ہوگااور ایک دن اور ایک رات سے کم ڈھانپنے میں صدقہ لازم ہوگااور ان دونوں (چہرہ یا سر) میں سے چوتھائی کے ڈھانپنے پر کل کو ڈھانپنے کی مثل حکم ہے ۔ ہاں اگر کسی شخص پر احرام کی پابندیاں عائد نہ ہوں اور وہ ٹوپی پہنے ہوئے ارادہ کرے کہ میں اب زمزم سے تین چلوپانی اپنے سر پر ڈالوں تو اسے چاہیے کہ اگر یہ فعل ادا کرنا ٹوپی اتارے بغیر ممکن نہ ہو تو اسے اتار کر کرلے کیونکہ جو کوئی ایسا فعل کرے تو وہ ہمیشہ ذلت سے محفوظ رہے گا۔ چنانچہ قاضی ومفتی مکہ مکرمہ امام ابو البقاء محمد بن احمد بن محمد بن ضیاء مکی حنفی متوفی54 8ھ لکھتے ہیں : ومنھا : انہ ان من حثی علی راسہ منھا ثلاث حثیاتٍ لم تصبہ ذلۃ ابدا۔(86) یعنی،اب زمزم کے خواص سے ہے کہ بے شک جو زمزم سے تین چلو لے کراپنے سرپر ڈالے تو تو اسے کبھی ذلت نہ پہنچے گی۔ لہٰذا اگر کوئی اس فضیلت کو پانے کے لیے ٹوپی اتارے جبکہ بغیر اس کے پانی نہ پہنچتا ہو توپھر یہ کرنا(یعنی ٹوپی اتارنا) مستحسن قرارپائے گا کیونکہ مقصودذکر کردہ فضیلت کا حصول ہے ۔ اور اب زمزم پینے والا جب حالت احرام میں نہ ہواور اس کے سر پرٹوپی یا عمامہ ہو توزمزم پینے کے لئے سر کو ننگا کرنا مناسب نہیں ہے اور احادیث نبویہ علیہ التحیۃ والثناء میں سے کوئی ایسی حدیث شریف اور فقہائے احناف کے اقوال میں سے کسی فقیہ کا قول نظر سے نہیں گزرا کہ جس میں اس بات کی تصریح ہو کہ اب زمزم نوش کرتے وقت سر کو ننگا کرنا واجب ہے یا سنت ہے یا مستحب ہے ۔ واللٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب یوم الاثنین 3ذوالحجۃ1439ھ۔14اغسطس2018م FU-18

حوالہ جات

(85) لباب المناسک وشرحہ المسلک المتقسط،باب الجنایات وانواعھا ،النوع الاول : فی حکم اللبس،فصل فی تغطیۃ الراس والوجہ،ص : 435

(86) البحر العمیق،الباب التاسع عشر فی تاریخ مکۃ وما یتعلق بالکعبۃ ۔۔۔۔۔الخ،ذکر فضل زمزم وخواصھا، 5/2573

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button