ARTICLES

کیا اب زمزم جنت کے چشموں میں سے ایک چشمہ ہے ؟

الاستفتاء : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہم نے سنا ہے کہ اب زمزم جنت کے چشموں میں سے ایک چشمہ ہے تو کیا کسی روایت میں اس کا تذکرہ ملتا ہے ؟ (السائل : اویس عبد الرحیم،مکہ مکرمہ)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : ۔صورت مسؤلہ میں وہ کنواں جنت کے چشموں میں سے ایک چشمہ ہے کہ جو بیت اللہ یا حجر اسود کے پاس سے انے والاہے ۔ چنانچہ امام ابو بکر عبد اللہ بن محمد بن ابی شیبۃ عبسی کوفی متوفی235ھ کی روایت میں ہے : عن ابن عباسٍ، ان زنجیا وقع فی زمزم فمات قال : فانزل الیہ رجلًا فاخرجہ ثم قال : انزفوا ما فیہا من ماء ٍ ثم قال للذی فی البئر : ضع دلوک من قبل العین التی تلی البیت او الرکن فانہا من عیون الجنۃ۔(83) یعنی،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بے شک ایک حبشی زمزم میں گر کر مرگیا تو فرمایا کہ پس ایک مرد نے اترکر اسے نکالا پھر فرمایاتم جو کچھ کنویں میں پانی ہے اسے نکالوپھر کنویں میں موجود شخص سے فرمایا کہ اپنے ڈول کو اس چشمہ کی جانب رکھ کہ جو بیت اللہ یا حجر اسود کے پاس سے انے والا ہے پس بے شک یہ جنت کے چشموں میں سے ہے ۔ اور امام ابو عبد اﷲ محمد بن احمد انصاری قرطبی متوفی668ھ روایت نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں : وروی عن عبد اللہ بن عمرٍو : ان فی زمزم عینًا فی الجنۃ من قبل الرکن۔(84) یعنی،حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کیا گیاہے کہ بے شک زمزم میں حجر اسود کی جانب سے انے والا چشمہ جنت میں سے ہے ۔ تو مذکورہ دونوں روایتوں کو مدنظر رکھتے ہوا یہ نتیجہ اخذہوا کہ اس چاہ زمزم کے پانی میں جنت کے چشمے کا پانی شامل ہے کہ جو بیت اللہ یا حجر اسود کی جانب سے اتاہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب یوم
الاحد،29،ذوالحجۃ1439ھ۔9سبتمبر2018م FU-51

حوالہ جات

(83) المصنف لابن ابی شیبۃ کتاب الطھارۃ ، باب فی الفارۃ والدجاجۃ واشباھھما تقع فی البئر ، برقم : 1734،2/197

(84) الجامع لاحکام القران ، سورہ ابراہیم،تحت الایۃ : 37، 5/370

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button