بہار شریعت

کہاں قصاص واجب ہوتا ہے کہاں نہیں

کہاں قصاص واجب ہوتا ہے کہاں نہیں

مسئلہ ۱ : قتل عمد میں قصاص واجب ہوتا ہے کہ ایسے کو قتل کیا جس کے خون کی محافظت ہمیشہ کے لئے ہو۔ جیسے مسلم یا ذمی کہ اسلام نے ان کی محافظت کا حکم دیا ہے۔ بشرط یہ کہ قاتل مکلف ہو، یعنی عاقل بالغ ہو۔ مجنون یا نابالغ سے قصاص نہیں لیا جائے گا۔ بلکہ اگر قتل کے وقت عاقل تھا اور بعد میں مجنون ہوگیا۔ اگر قتل کے لئے ابھی تک حوالے نہیں کیا گیا ہے۔ قصاص ساقط ہو جائے گا اور اگر قصاص کا حکم ہوچکا اور قتل کرنے کے لئے دیا جاچکا ہے اس کے بعد مجنون ہوگیا تو قصاص ساقط نہیں ہوگا اور ان صورتوں میں بجائے قصاص اس پر دیت واجب ہوگی (بحرالرائق ص ۲۹۴ ج ۸، شامی ص ۴۷۰ ج ۵)

مسئلہ ۲ : جو شخص کبھی مجنون ہو جاتا ہے اور کبھی ہوش میں آجاتا ہے۔ اس نے اگر حالت افاقہ میں کسی کو قتل کیا ہے تو اس کے بدلے میں قتل کیا جائے گا۔ ہاں اگر قتل کے بعد اسے جنون مطبق ہوگیا تو قصاص ساقط ہوگیا اور جنون مطبق نہیں ہے تو قتل کیا جائے گا (بزازیہ برہندیہ ص ۳۸۱ ج ۶، درمختار و شامی ص ۴۷۰ ج ۵، قاضی خاں برہندیہ ص ۳۸۱ ج ۳)

مسئلہ ۳ : قصاص کے لئے یہ بھی شرط ہے کہ قاتل و مقتول کے مابین شبہ نہ پایا جاتا ہو۔ مثلاً باپ بیٹا اور آقا و غلام کہ یہاں قصاص نہیں اور اگر مقتول نے قاتل کو کہہ دیا ہے کہ مجھے قتل کر ڈال، اس نے قتل کر دیا اس میں بھی قصاص واجب نہیں ۔ (درمختار و شامی ص ۴۷۰ ج ۵)

مسئلہ ۴ : آزاد کو آزاد کے بدلے میں قتل کیا جائے گا اور غلام کے بدلے میں بھی قتل کیا جائے گا اور غلام کو غلام کے بدلے میں اور آزاد کے بدلے میں قتل کیا جائے گا۔ مرد کو عورت کے بدلے میں اور عورت کو مرد کے بدلے میں قتل کیا جائے گا۔ مسلم کو ذمی کے بدلے میں قتل کیا جائے گا۔ حربی اور مستامن کے بدلے مین نہ مسلم سے قصاص لیا جائے گا نہ ذمی سے…… اسی طرح مستامن سے مستامن کے مقابل میں قصاص نہیں ۔ ذمی نے ذمی کو قتل کیا، قصاص لیا جائے گا اور قتل کے بعد قاتل مسلمان ہوگیا جب بھی قصاص ہے۔ (شامی و درمختار ص ۴۷۱ ج ۵، بحرالرائق ص ۲۹۶ ج ۸، عالمگیری ص ۳ ج ۶)

مسئلہ ۵ : مسلم نے مرتد یا مرتدہ کو قتل کیا اس صورت میں قصاص نہیں ۔ دو مسلمان دارالحرب میں امان لے کر گئے اور ایک نے دوسرے کو وہیں قتل کر دیا قصاص نہیں (قاضی خاں برعالمگیری ص ۴۴۱ ج ۳، بحرالرائق ص ۲۹۶ ج ۸، عالمگیری ص ۳ ج ۶)

مسئلہ ۶ : عاقل سے مجنون کے بدلے میں اور بالغ سے نابالغ کے بدلے میں اور انکھیارے سے اندھے کے بدلے میں اور ہاتھ پائوں والے سے لنجے یا جس کے ہاتھ پائوں نہ ہوں اس کے بدلے میں تندرست سے بیمار کے بدلے میں اور مرد سے عورت کے بدلے میں قصاص لیا جائے گا۔ (درمختار و شامی ص۴۷۲ ج ۵، بحرالرائق ص ۲۹۶ ج ۸، عالمگیری ص ۳ ج ۶، قاضی خاں برعالمگیری ص ۴۳۶ ج ۳)

مسئلہ ۷ : اصول نے فروع کو قتل کیا مثلاً ماں ، باپ، دادا، دادی، نانا، نانی نے بیٹے یا پوتے یا نواسے کو قتل کیا اس میں قصاص نہیں بلکہ خود اس قاتل سے دیت دلوائی جائے گی بلکہ باپ کے ساتھ اگر بیٹے کے قتل میں کوئی اجنبی بھی شریک تھا تو اس اجنبی سے بھی قصاص نہیں لیا جائے گا بلکہ اس سے بھی دیت ہی لی جائے گی۔ اس کا قاعدہ کلیئہ یہ ہے کہ دو شخصوں نے مل کر اگر کسی کو قتل کیا اور ان میں سے ایک وہ ہے کہ اگر وہ تنہا کرتا تو قصاص واجب ہوتا اور دوسرا وہ ہے کہ اگر تنہا قتل کرتا تو اس پر قصاص واجب نہیں ہوتا تو اس پہلے سے بھی قصاص واجب نہیں ، مثلاً اجنبی اور باپ دونوں نے قتل کیا یا ایک نے قصداً قتل کیا اور دوسرے نے خطا کے طور پر۔ ایک نے تلوار سے قتل کیا، دوسرے نے لاٹھی سے، ان سب صورتوں میں قصاص نہیں ہے بلکہ دیت واجب ہے۔ (عالمگیری ج ۶ ص ۴، بحرالرائق ج ۸ ص ۲۹۷، قاضی خان برہندیہ ج ۳ ص ۴۴۱، شامی ج ۵ ص ۴۷۲)

مسئلہ ۸ : مولی نے اپنے غلام کو قتل کیا اس میں قصاص نہیں ۔ اسی طرح اپنے مدبر یا مکاتب یا اپنی اولاد کے غلام کو قتل کیا یا اس غلام کو قتل کیا جس کے کسی حصہ کا قاتل مالک ہے (درمختار ص ۴۷۲ ج ۵، عالمگیری ص ۴ ج ۶، بحرالرائق ص ۲۹۷ ج ۸، تبیین ص ۱۰۵ ج ۶)

مسئلہ ۹ : قتل سے قصاص واجب تھا مگر اس کا وارث ایسا شخص ہوا کہ وہ قصاص نہیں لے سکتا تو قصاص ساقط ہوگیا مثلاً وہ قاتل اس وارث کے اصول میں سے ہے تو اب قصاص نہیں ہوسکتا۔ جیسے ایک شخص نے اپنے خسر کو قتل کیا اور اس کی وارث صرف اس کی لڑکی ہے یعنی قاتل کی بیوی۔ پھر یہ عورت مرگئی اور اس کا لڑکا وارث ہوا جو اسی شوہر سے ہے تو قصاص کی صورت میں بیٹے کا باپ سے قصاص لینا لازم آتا ہے، لہذا قصاص ساقط (درمختار و شامی ص ۴۷۳ ج ۵، تبیین ص ۱۰۶ ج ۶)

مسئلہ ۱۰ : مسلم نے اگر مسلم کو مشرک سمجھ کر قتل کیا، مثلاً جہاد میں ایک مسلم کو کافر سمجھا اور مار ڈالا، اس صورت میں قصاص نہیں بلکہ دیت و کفارہ ہے کہ یہ قتل عمد نہیں بلکہ قتل خطا ہے اور اگر مسلم صف کفار میں تھا اور کسی مسلم نے قتل کر ڈالا تو دیت و کفارہ بھی نہیں (درمختار و شامی ص ۴۷۴ ج ۵)

مسئلہ ۱۱ : جن اگر ایسی شکل میں آیا جس کا قتل جائز ہے۔ مثلا سانپ کی شکل میں آیا تو اس کے قتل میں کوئی مواخذہ نہیں (درمختار و شامی ص ۴۷۴ ج ۵)

مسئلہ ۱۲ : قصاص میں جس کو قتل کیا جائے تو یہ ضرور ہے کہ تلوار ہی سے قتل کیا جائے اگرچہ قاتل نے اسے تلوار سے قتل نہ کیا ہو بلکہ کسی اور طرح سے مار ڈالا ہو جس سے قصاص و اجب ہوتا ہو۔ خنجر یا نیزہ سے یا دوسرے اسلحہ سے قتل کرنا بھی تلوار ہی کے حکم میں ہے۔ لہذا اگر اسلحہ کے سوا کسی اور طرح سے قصاص یں قتل کیا، مثلا کنوئیں میں گرا کر مار ڈالا یا پتھر وغیرہ سے قتل کیا تو ایسا کرنے سے تعزیر کا مستحق ہے (ہدایہ ص ۵۶۳ ج ۴، درمختار و شامی ص ۴۷۴ ج ۵)

مسئلہ ۱۳ : کسی کے ہاتھ پائوں کاٹ ڈالے اور وہ مرگیا تو قاتل کی گردن تلوار سے اڑا دی جائے یہ نہیں کہ اس کے ہاتھ پائوں کاٹ کر چھوڑ دیں ۔ اسی طرح اگر اس کا سر توڑ ڈالا اور مرگیا تو قاتل کی گردن تلوار سے کاٹ دی جائے گی۔ (عالمگیری ص ۴ ج ۶، درمختار و شامی ص ۴۷۷ ج ۵)

مسئلہ ۱۴ : بعض اولیائے مقتول نے قصاص لے لیا تو باقی اولیاء اس سے ضمان نہیں لے سکتے (درمختار و شامی ص ۴۷۷ ج ۵)

مسئلہ ۱۵ : دو شخص ولی مقتول تھے، ان میں سے ایک نے معاف کر دیا اور دوسرے نے قاتل کو قتل کر ڈالا، اگر اسے یہ معلوم تھا کہ بعض اولیاء کے معاف کر دینے سے قصاص ساقط ہو جاتا ہے تو اس سے قصاص لیا جائے گا اور اگر نہیں معلوم تھا تو اس سے دیت لی جائے گی۔ (قاضی خاں برہندیہ ص ۴۴۱ ج ۳، درمختار و شامی ص ۴۷۷ ج ۵)

مسئلہ ۱۶ : مقتول کے بعض اولیاء بالغ ہیں اور بعض نابالغ تو قصاص میں یہ انتظار نہیں کیا جائے گا کہ وہ نابالغ بالغ ہو جائیں بلکہ جو ورثا بالغ ہیں وہ ابھی قصاص لے سکتے ہیں (ہدایہ ص ۵۶۵ ج ۴، درمختار و شامی ص ۴۷۶ ج ۵، بحرالرائق ص ۳۰۰ ج ۸، عالمگیری ص ۸ ج ۶، قاضی خاں برہندیہ ص ۴۴۲ ج ۳)

مسئلہ ۱۷ : قاتل کو کسی اجنبی شخص نے (یعنی اس نے جو مقتول کا ولی نہیں ہے) قتل کر ڈالا، اگر اس نے عمداً قتل کیا ہے تو اس قاتل سے قصاص لیا جائے گا۔ اور خطا کے طور پر قتل کیا ہے تو اس قاتل کے عصبہ سے دیت لی جائے گی، کیوں کہ اس اجنبی کے لئے اس کا قتل حلال نہ تھا، اب اگر مقتول اول کا ولی یہ کہتا ہے کہ میں نے اس اجنبی سے قتل کرنے کو کہا تھا لہذا اس سے قصاص نہ لیا جائے تو جب تک گواہ نہ ہوں ۔ اس کی بات نہیں مانی جائے گی اور اس اجنبی سے قصاص لیا جائے اور بہرصورت جب کہ قاتل کو اجنبی نے قتل کر ڈالا تو ولی مقتول کا حق ساقط ہوگیا یعنی قصاص تو ہو ہی نہیں سکتا کہ قاتل رہا ہی نہیں اور دیت بھی نہیں لی جاسکتی کہ اس کے لئے رضامندی درکار ہے اور وہ پائی نہیں گئی۔ جس طرح قاتل مر جائے تو ولی مقتول کا حق ساقط ہو جاتا ہے۔ اسی طرح یہاں (درمختار و شامی ص ۴۷۶ ج ۵)

مسئلہ ۱۸ : اولیائے مقتول نے گواہی سے یہ ثابت کیا کہ زید نے اسے زخمی کیا اور قتل کیا ہے اور زید نے گواہوں سے یہ ثابت کیا کہ خود مقتول نے یہ کہا ہے کہ زید نے نہ مجھے زخمی کیا نہ قتل کیا تو انھیں گواہوں کو ترجیح دی جائے گی (درمختار و شامی ص ۴۷۷ ج ۵)

مسئلہ ۱۹ : مجروح نے یہ کہا کہ فلاں نے مجھے زخمی نہیں کیا ہے، یہ کہہ کر مرگیا تو اس کے ورثہ اس شخص پر قتل کا دعوی نہیں کرسکتے۔ مجروح نے یہ کہا کہ فلاں شخص نے مجھے قتل کیا۔ یہ کہہ کر مرگیا اب اس کے ورثاء دوسرے شخص پر دعوی کرتے ہیں کہ اس نے قتل کیا ہے۔ یہ دعوی مسموع نہیں ہوگا۔ (درمختار و شامی ص ۴۷۸ ج ۵)

مسئلہ ۲۰ : جس کو زخمی کیا گیا۔ اس نے مرنے سے پہلے معاف کر دیا یا اس کے اولیاء نے مرنے سے پہلے معاف کر دیا یہ معافی جائز ہے۔ یعنی اب قصاص نہیں لیا جائے گا۔ (درمختار ص ۴۷۸ ج ۵)

مسئلہ ۲۱ : کسی کو زہر دے دیا ۔اسے معلوم نہیں اور لاعلمی میں کھا پی گیا تو اس صورت میں نہ قصاص ہے نہ دیت، مگر زہر دینے والے کو قید کیا جائے گا اور اس پر تعزیر ہوگی اور اگر خود اس نے اس کے منہ میں زہر زبردستی ڈال دیا یا اس کے ہاتھ میں دیا اور پینے پر مجبور کیا تو دیت واجب ہوگی (درمختار و شامی ص ۴۷۸ ج ۵، بزازیہ برہندیہ ص ۳۸۵ ج ۶، بحرالرائق ۲۹۴ ج ۸)

مسئلہ ۲۲ : یہ کہا کہ میں نے اپنی بددعا سے فلاں کو ہلاک کر دیا یا باطنی تیروں سے ہلاک کیا یا سورہ انفال پڑھ کر ہلاک کیا تو یہ اقرار کرنے والے پر قصاص وغیرہ لازم نہیں ۔ اسی طرح اگر وہ یہ کہتا ہے کہ میں نے اللہ تعالی کے اسمائے قہر یہ پڑھ کر اس کو ہلاک کر دیا، اس کہنے سے بھی کچھ لازم نہیں ۔ نظر بد سے ہلاک کرنے کا اقرار کرے اس کے متعلق کچھ منقول نہیں (شامی ص ۴۷۸ ج ۵)

مسئلہ ۲۳ : کسی نے اس کا سر توڑ ڈالا اور خود اس نے بھی اپنا سر توڑا اور شیر نے اسے زخمی کیا اور سانپ نے بھی کاٹ کھایا اور یہ مرگیا تو اس شخص پر جس نے سر توڑا ہے تہائی دیت واجب ہوگی (عالمگیری ص ۴ ج ۶)

مسئلہ ۲۴ : ایک شخص نے کئی شخصوں کو قتل کیا اور ان تمام مقتولین کے اولیاء نے قصاص کا مطالبہ کیا تو سب کے بدلے میں اس قاتل کو قتل کیا جائے گا اور فقط ایک کے ولی نے مطالبہ کیا اور قتل کر دیا گیا تو باقیوں کا حق ساقط ہو جائے گا۔ یعنی اب ان کے مطالبہ پر کوئی مزید کاروائی نہیں ہوسکتی۔ (عالمگیری ص ۴ ج ۶)

مسئلہ ۲۵ : ایک شخص کو چند شخصوں نے مل کر قتل کیا تو اس کے بدلے میں یہ سب قتل کئے جائیں گے۔ (عالمگیری ص ۵ ج ۶، بزازیہ برہندیہ ص ۳۸۲ ج ۶، قاضی خاں برہندیہ ص ۴۴۰ ج ۳)

مسئلہ ۲۶ : ایک سے زیادہ مرتبہ جس نے گلا گھونٹ کر مار ڈالا اس کو بطور سیاست قتل کیا جائے اور گرفتاری کے بعد اگر توبہ کرے تو اس کی توبہ مقبول نہیں اور اس کا وہی حکم ہے جو جادوگر کا ہے (درمختار و شامی ص ۴۸۱ ج ، بحرالرائق ص ۲۹۴ ج ۸)

مسئلہ ۲۷ : کسی کے ہاتھ پائوں باندھ کر شیر یا درندے کے سامنے ڈال دیا اس نے مار ڈالا، ایسے شخص کو سزا دی جائے اور مارا جائے اور قید میں رکھا جائے یہاں تک کہ وہیں قید خانہ ہی میں مرجائے اسی طرح اگر ایسے مکان میں کسی کو بند کر دیا جس میں شیر ہے جس نے مار ڈالا یا اس میں سانپ ہے جس نے کاٹ لیا۔ (درمختار و شامی ص ۴۸۰ ج ۵)

مسئلہ ۲۸ : بچہ کے ہاتھ پائوں باندھ کر دھوپ یا برف پر ڈال دیا اور وہ مرگیا تو ان دونوں صورتوں میں دیت ہے اور اگر آگ یں ڈال کر نکال لیا اور تھوڑی سی زندگی باقی ہے مگر کچھ دنوں بعد مرگیا تو قصاص ہے اور اگر چلنے پھرنے لگا پھر مرگیا تو قصاص نہیں ہے (عالمگیری ص ۶ ج ۶، بحرالرائق ص ۲۹۴ ج ۸)

مسئلہ ۲۹ : ایک شخص نے دوسرے کا پیٹ پھاڑ دیا کہ آنتیں نکل پڑیں ۔ پھر کسی اور نے اس کی گردن اڑا دی تو قاتل یہی ہے جس نے گردن ماری۔ اگر اس نے عمداً کیا ہے تو قصاص ہے اور خطا کے طور پر ہو تو دیت واجب ہے اور جس نے پیٹ پھاڑا اس پر تہائی دیت واجب ہے اور اگر پیٹ اس طرح پھاڑا کہ پیٹھ کی جانب زخم نفوذ کر گیا تو دیت کی دو تہائیاں ۔ یہ حکم اس وقت ہے کہ پیٹ پھاڑنے کے بعد وہ شخص ایک دن یا کچھ کم زندہ رہ سکتا ہو، اور اگر زندہ نہ رہ سکتا ہو اور مقتول کی طرح تڑپ رہا ہو تو قاتل وہ ہے جس نے پیٹ پھاڑا، اس نے عمداً کیا ہو تو قصاص ہے اور خطا کے طور پر ہو تو دیت ہے اور جس نے گردن ماری اس پر تعزیر ہے۔ اسی طرح اگر ایک شخص نے ایسا زخمی کیا کہ امید زیست نہ رہی۔ پھر دوسرے نے اسے زخمی کیا تو قاتل وہی پہلا شخص ہے۔ اگر دونوں نے ایک ساتھ زخمی کیا تو دونوں قاتل ہیں ۔ اگرچہ ایک نے دس وار کئے اور دوسرے نے ایک ہی وار کیا ہو (بزازیہ برہندیہ ص ۳۸۱ ج ۶، عالمگیری ص ۶ ج ۶، شامی ص ۴۸۰ ج ۵، بحرالرائق ص ۲۹۵ ج ۸)

مسئلہ ۳۰ : کسی شخص کا گلا کاٹ دیا۔ صرف حلقوم کا کچھ حصہ باقی رہ گیا ہے اور ابھی جان باقی ہے دوسرے نے اسے قتل کر ڈالا تو قاتل پہلا شخص ہے دوسرے پر قصاص نہیں کیوں کہ اس کا میت میں شمار ہے لہذا اگر مقتول اس حالت میں تھا اور مقتول کا بیٹا مرگیا تو بیٹا وارث ہوگا یہ مقتول اپنے بیٹے کا وارث نہیں ہوگا۔ (عالمگیری ص ۶ ج ۶، بحرالرائق ص ۲۹۵ ج ۸)

مسئلہ ۳۱ : جو شخص حالت نزع میں تھا اسے قتل کر ڈالا اس میں بھی قصاص ہے۔ اگرچہ قاتل کو یہ معلوم ہو کہ اب زندہ نہیں رہے گا۔ (درمختار و شامی ص ۴۸۰ ج ۵)

مسئلہ ۳۲ : کسی کو عمداً زخمی کیا گیا کہ وہ صاحب فراش ہوگیا اور اسی میں مرگیا تو قصاص لیا جائے گا۔ ہاں اگر کوئی ایسی چیز پائی گئی جس کی وجہ سے یہ کہا گیا ہو کہ اسی زخم ے نہیں مرا ہے تو قصاص نہیں ۔ مثلاً کسی دوسرے نے اس مجروح کی گردن کاٹ دی تو اب مرنے کو اس کی طرف نسبت کیا جائے گا یا وہ شخص اچھا ہو کر مرگیا تو اب یہ نہیں کہا جائے گا کہ اسی زخم سے مرا (درمختار و شامی ص ۴۸۰ ج ۵، تبیین ص ۱۰۹ ج ۶)

مسئلہ ۳۳ : جس نے مسلمانوں پر تلوار کھینچی ایسے کو اس حالت میں قتل کر دینا واجب ہے یعنی اس کے شر کو دفع کرنا واجب ہے، اگرچہ اس کے لئے قتل ہی کرنا پڑے اسی طرح اگر ایک شخص پر تلوار کھینچی تو اسے بھی قتل کرنے میں کوئی حرج نہیں خواہ وہی شخص قتل کرے جس پر تلوار اٹھائی یا دوسرا شخص۔ اسی طرح اگر رات کے وقت شہر میں لاٹھی سے حملہ کیا یا شہر سے باہر دن یا رات میں کسی وقت بھی حملہ کیا اور اس کو کسی نے مار ڈالا تو اس کے ذمہ کچھ نہیں (ہدایہ ص ۵۶۷ ج ۴، درمختار و شامی ص ۴۸۱ ج ۵، عالمگیری ص ۷ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۰۲ ج ۸، تبیین ص ۱۱۰ ج ۶)

مسئلہ ۳۴ : مجنون نے کسی پر تلوار کھینچی اور اس نے مجنون کو قتل کر دیا تو قاتل پر دیت واجب ہے جو خود اپنے مال سے ادا کرے۔ یہی حکم بچہ کا ہے کہ اس کی بھی دیت دینی ہوگی اور اگر جانور نے حملہ کیا اور جانور کو مار ڈالا تو اس کی قیمت کا تاوان دینا ہوگا۔ (ہدایہ ص ۵۶۸ ج ۴، درمختار و شامی ص ۴۸۲ ج ۵، عالمگیری ص ۷ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۰۲ ج ۸، تبیین ص ۱۱۰ ج ۶)

مسئلہ ۳۵ : کوئی شخص تلوار مار کر بھاگ گیا کہ اب دوبارہ مارنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ پھر اسے کسی نے مار ڈالا تو قاتل سے قصاص لیا جائے گا۔ یعنی اسی وقت اس کو قتل کرنا جائز ہے جب وہ حملہ کر رہا ہو یا حملہ کرنا چاہتا ہے بعد میں جائز نہیں ۔ (تبیین ص ۱۱۰ ج ۶، عالمگیری ص ۷ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۰۲ ج ۸، ہدایہ ص ۵۶۸ ج ۴)

مسئلہ ۳۶ : گھر میں چور گھسا اور مال چرا کر لے جانے لگا صاحب خانہ نے پیچھا کیا اور چور کو مار ڈالا۔ تو قاتل کے ذمہ کچھ نہیں مگر یہ اس وقت ہے کہ معلوم ہے کہ شور کرے گا اور چلائے گا تو مال چھوڑ کر نہیں بھاگے گا اور اگر معلوم ہے کہ شور کرے گا تو مال چھوڑ کر بھاگ جائے گا تو قتل کرنے کی اجازت نہیں بلکہ اس وقت قتل کرنے سے قصاص واجب ہوگا (عالمگیری ص ۷ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۰۲ ج ۸، تبیین ص ۱۱۱ ج ۶، ہدایہ ص ۵۶۸ ج ۴)

مسئلہ ۳۷ : مکان میں چور گھسا اور ابھی مال لے کر نکلا نہیں اس نے شور و غل کیا مگر وہ بھاگا نہیں یا اس کے مکان میں یا دوسرے کے مکان میں نقب لگا رہا ہے اور شور کرنے سے بھاگتا نہیں ، اس کو قتل کرنا جائز ہے۔ بشرط یہ کہ چور ہونا اس کا مشہور و معروف ہو۔ (درمختار و شامی ص ۴۸۲ ج ۵)

مسئلہ ۳۸ : ولی مقتول نے قاتل کو یا کسی دوسرے کو قصاص ہبہ کر دیا۔ یہ ناجائز ہے۔ یعنی قصاص ایسی چیز نہیں جس کا مالک دوسرے کو بنایا جاسکے اور اس کو ہبہ کرنے سے قصاص ساقط نہیں ہوگا (درمختار و شامی ص ۴۸۳ ج ۵)

مسئلہ ۳۹ : ولی مقتول نے معاف کر دیا یہ صلح سے افضل ہے اور صلح قصاص سے افضل ہے اور معاف کرنے کی صورت میں قاتل سے دنیا میں مطالبہ نہیں ہوسکتا ہے نہ اب قصاص لیا جاسکتا ہے نہ دیت لی جاسکتی ہے (درمختار و شامی ص ۴۸۴ ج ۵) رہا مواخذہ اخروی، اس سے بری نہیں ہوا، کیوں کہ قتل ناحق میں تین حق اس کے ساتھ متعلق ہیں ۔ ایک حق اللہ ، دوسرا حق مقتول، تیسرا حق ولی مقتول، ولی کو اپنا حق معاف کرنے کا اختیار تھا سو اس نے معاف کر دیا مگر حق اللہ ا ور حق مقتول بدستور باقی ہیں ۔ ولی کے معاف کرنے سے وہ معاف نہیں ہوئے (درمختار و شامی ص ۴۸۴ ج ۵)

مسئلہ ۴۰ : مجروح کا معاف کرنا صحیح ہے یعنی معاف کرنے کے بعد مرگیا تو اب ولی کو قصاص لینے کا اختیار نہیں رہا (درمختار ص ۴۸۴ ج ۵)

مسئلہ ۴۱ : قاتل کی توبہ صحیح نہیں جب تک وہ اپنے کو قصاص کے لئے پیش نہ کر دے۔ یعنی اولیائے مقتول کو جس طرح ہوسکے راضی کرے۔ خواہ وہ قصاص لے کر راضی ہوں یا کچھ لے کر مصالحت کریں یا بغیر کچھ لئے معاف کر دیں ۔ اب وہ دنیا میں بری ہوگیا اور معصیت پر اقدام کرنے کا جرم و ظلم یہ توبہ سے معاف ہو جائے گا۔ (درمختار و شامی ص ۴۸۴ ج ۵)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button