شرعی سوالات

کھڑی فصل کوتیار ہونے سے پہلے باہمی رضامندی سے سستا بیچنا جائز ہے

سوال:  

فصل تیار ہونے سے پہلے سستے داموں بیچنا کیسا؟

جواب:

اس طرح پر کسی چیز کا خریدنا اور بیچنا کہ قیمت ادا کر دی جائے گی اور جس چیز کو خرید رہا ہے ، وہ بعد کو لی جائے گی اسکو شریعت میں بیع سلم کہتے ہیں ۔ حدیثوں میں اس کا جائز ہونا اور اس کی شرطیں بیان کر دی گئی ہیں ۔ وہ شرائط یہ ہیں کہ قیمت اور مبیع دونوں صاف صاف طور پر بیان کر دیے جائیں اور جس مجلس میں یہ بیع ہوئی ہے اسی مجلس میں قیمت دے دی جائے اور بیچنے والا اس پر قبضہ کر لے اور اگر اس مجلس میں قبضہ نہیں کیا جائے گا تو یہ بیع باطل ہو جائے گی۔ جس چیز کو بیچنا ہے ، وہ ایسی ہو کہ بیع کے وقت سے دینے کے وقت تک برابر بازار میں ملتی رہے اور دینے کا وقت بالکل معین کر دیا جائے  اور کم از کم ایک مہینے کی مدت مقرر کی جائے ۔ اس میں یہ شرط نہیں لگائی جا سکتی ہے کہ کاشت کار کے فلاں کھیت میں جو گیہوں پیدا ہو گا وہ دے گا۔ اگر ایسی شرط لگائیں گے تو یہ بیع باطل ہو جائے گی۔ ان شرطوں کے ساتھ  جب بیع کی جائے گی تو بیع جائز ہوتی ہے۔ اور مذکورہ شرائط میں سے کوئی شرط نہ پائی گئی تو بیع باطل اور حرام ہو گی۔ بعض لوگ جس طرح نقد کے مقابلے میں ادھار چیز کو زیادہ قیمت پر بیچتے ہیں اس طرح خریدار بھی پیسے ابھی دے کر چیز بعد کو لے گا تو سستی خریدے گا اور بیچنے والا کم داموں میں بیچنے گا۔ خریدار اور بیچنے والا جب خرید و فرخت کریں اور شریعت کی شرائط ملحوظ رکھیں تو بیع جائز ہو گی۔

                                                (وقار الفتاوی، جلد 3، صفحہ 269، بزم وقار الدین، کراچی)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button