بہار شریعت

کھانے پینے کی قسم کے متعلق مسائل

کھانے پینے کی قسم کے متعلق مسائل

جو چیز ایسی ہو کہ چبا کر حلق سے اتاری جاتی ہو اس کے حلق سے اتار نے کو کھانا کہتے ہیں اگرچہ اس نے بغیر چبائے اتارلی اور پتلی چیز بہتی ہوئی کو حلق سے اتار نے کو پینا کہتے ہیں مگر صرف اتنی ہی بات پر اقتصار نہ کرنا چاہئیے بلکہ محاورات کا ضرور خیال کرنا ہوگا کہ کہاں کھانے کا لفظ بولتے ہیں اور کہاں پینے کا کہ قسم کا دارومدار بول چال پر ہے۔

مسائل فقہیہ

مسئلہ۱: اردو میں دودھ پینے کو بھی دودھ کھانا کہتے ہیں لہذا اگر قسم کھائی کہ دودھ نہیں کھائوں گا تو پینے سے بھی قسم ٹوٹ جائیگی اوراگر کوئی ایسی چیز کھائی جس میں دودھ ملا ہوا ہے مگر اس کا مزہ محسوس نہیں ہوتا تو اس کے کھانے سے قسم نہیں ٹوٹی۔

مسئلہ۲: قسم کھائی کہ دودھ یا سرکہ یا شوربا نہیں کھائیگا اورروٹی سے لگا کر کھایا تو قسم ٹوٹ گئی اورخالی سرکہ پی گیا تو قسم نہیں ٹوٹی کہ اس کو کھانا نہ کہیں گے بلکہ یہ پینا ہے (بحر)

مسئلہ۳: قسم کھائی کہ یہ روٹی نہ کھائیگا اوراسے سکھا کر کوٹ کر پانی میں گھول کر پی گیا تو قسم نہیں ٹوٹی کہ یہ کھانا نہیں ہے پینا ہے (بحر)

مسئلہ۴: اگر کسی چیز کو منہہ میں رکھ کر اگل دیا تو یہ نہ کھانا ہے نہ پینا مثلاً قسم کھائی کہ یہ روٹی نہیں کھائے گا اورمنہہ میں رکھ کر اگل دی یا یہ پانی نہیں پیے گا اور اس سے کلی کی تو قسم نہیں ٹوٹی(بحر)

مسئلہ۵: قسم کھائی کہ یہ انڈا یا یہ اخروٹ نہیں کھائیگا اوراسے بغیر چبائے ہوئے نگل گیا تو قسم ٹوٹ گئی اور اگر قسم کھائی کہ یہ انگور یا انار نہیں کھائیگا اور چوس کر عرق پی گیا اور فضلہ پھینک دیا تو قسم ٹوٹ گئی کہ اس کو عرف میں کھانا کہتے ہیں ۔یونہی اگر شکر نہ کھانے کی قسم کھائی تھیں اوراسے منہہ میں رکھ کر جوگھلتی گئی حلق سے اتارتا گیا قسم ٹوٹ گئی (درمختار)

مسئلہ۶: چکھنے کے معنی ہیں کسی چیز کو منہہ میں رکھ کر اس کامزہ معلوم کرنا اور اردو محاورہ میں اکثر مزہ دریافت کرنے کے لئے تھوڑا سا کھالینے یا پی لینے کو چکھنا کہتے ہیں اگر قرینہ سے یہ بات معلوم ہو کہ اس کلام میں چکھنے سے مراد تھوڑا سا کھا کر مزہ معلوم کرنا ہے تو یہ مراد لیں گے۔ مثلاً کوئی شخص کچھ کھارہا ہے اس نے دوسرے کو بلایا اس نے انکار کیااس نے کہا ذرا چکھ کر تو دیکھو کیسی ہے تو یہاں چکھنے سے مراد تھوڑی سی کھالینا ہے اور اگر قرینہ نہ ہو تو مطلقًا مزہ معلوم کرنے کے لئے منہہ میں رکھنا مراد ہوگا کہ اس معنی میں بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے مگر اگر پانی کی نسبت قسم کھائی کہ اسے نہیں چھکوں گا پھر نماز کے لئے اس سے کلی کی تو قسم نہیں ٹوٹی کہ کلی کرنا نماز کے لے ہے مزہ معلوم کرنے کے لئے نہیں اگر چہ مزہ بھی معلوم ہوجائے۔

مسئلہ۷: قسم کھائی کہ یہ ستو نہیں کھائے گااور اسے گھول کر پیا یاقسم کھائی کہ یہ ستو نہیں پئے گا اور گوندھ کر کھایا یا ویسا ہی پھانک لیا تو قسم نہیں ٹوٹی۔

مسئلہ۸: آم وغیرہ کسی درخت کی نسبت کہا کہ اس میں سے کچھ نہ کھائوں گا تو اس کے پھل کھانے سے قسم ٹوٹ جائے گی کہ خود درخت کھانے کی کی چیز نہیں لہذا اس سے مراد اس کا پھل کھانا ہے۔ یونہی پھل کو نچوڑ کر جو نکلا وہ کھایا جب بھی قسم ٹوٹ گئی او اگر پھل کو نچوڑ کر اسکی کوئی چیز بنالی گئی ہو جیسے انگور سے سرکہ بناتے ہیں تو اس کے کھانے سے قسم نہیں ٹوٹی اوراگر صورت مذکورہ میں تکلف کرکے کسی نے اس درخت کا کچھ حصہ چھال وغیرہ کھالیا تو قسم نہیں ٹوٹی اگر چہ یہ نیت بھی ہو کہ درخت کا کوئی جز نہ کھائوں گا اور اگر وہ درخت ایسا ہو جس میں پھل ہوتا ہی نہ ہو یاہوتاہے مگر کھایا نہ جاتا ہو تو اس کی قیمت سے کوئی چیز خرید کر کھانے سے قسم ٹوٹ جائیگی کہ اسکے کھانے سے مراد اس کی قیمت سے کوئی چیز خرید کر کھانا ہے (درمختار، بحر، وغیرہما)

مسئلہ۹: قسم کھائی کہ اس آم کے درخت کی کیری نہ کھائو نگا اور پکے ہوئے کھائے یا قسم کھائی کہ اس درخت کے انگور نہ کھائوں گااور منقے کھائے یادودھ نہ کھائوں گا اور دہی کھایا تو قسم نہیں ٹوٹی (عامہ کتب)

مسئلہ۱۰: قسم کھائی کہ اس گائے یا بکری سے کچھ نہ کھائے گا تو اس کا دودھ دہی یا مکھن یا گھی کھانے سے قسم نہیں ٹوٹے گی اورگوشت کھانے سے ٹوٹ جائے گی۔(بحر وغیرہ)

مسئلہ۱۱: قسم کھائی کہ یہ آٹا نہیں کھائیگا اور اس کی روٹی یا اور کوئی بنی ہوئی چیز کھائی تو قسم ٹوٹ گئی اورخود آٹا ہی پھانک لیا تو نہیں (بحر ، ردالمحتار)

مسئلہ۱۲: قسم کھائی کہ روٹی نہیں کھائیگا تواس جگہ جس چیز کی روٹی لوگ کھاتے ہیں اس کی روٹی سے قسم ٹوٹے گی مثلاً ہندوستان میں گہیوں جو ، جوار، باجرا، مکا کی روٹی پکائی جاتی ہے تو چاول کی روٹی سے قسم نہیں ٹوٹے گی اور جہاں چاول کی روٹی لوگ کھاتے ہوں وہاں کے کسی شخص نے قسم کھائی تو چاول کی روٹی کھانے سے قسم ٹوٹ جائے گی۔(بحر)

مسئلہ۱۳: قسم کھائی کہ یہ سرکہ نہیں کھائے گا اور چٹنی یا سکنجین کھائی جس میں وہ سرکہ پڑا ہواتھا تو قسم نہیں ٹوٹی یا قسم کھائی کہ اس انڈے سے نہیں کھائے گا اس میں سے بچہ نکلا اوراسے کھایا تو قسم نہیں ٹوٹی (عالمگیری، بحر)

مسئلہ۱۴: قسم کھائی کہ اس درخت سے کچھ نہ کھائے گا اوراس کی قلم لگائی تو اس قلم کے پھل کھانے سے قسم نہیں ٹوٹی (درمختار)

مسئلہ۱۵: قسم کھائی کہ اس بچھیا کا گوشت نہیں کھائیگا پھر جب وہ جوان ہوگئی اس وقت اس کا گوشت کھایا تو قسم ٹوٹ گئی (درمختار)

مسئلہ۱۶: قسم کھائی کہ گوشت نہیں کھائیگا تو مچھلی کھانے سے قسم نہیں ٹوٹے گی اور اونٹ ، گائے بھینس، بھیڑ، بکری اورپرند وغیرہ جن کا گوشت کھایا جاتا ہے اگر ان کا گوشت کھایا ٹوٹ جائے گی خواہ شوربے دار ہو یا بھنا ہو یا کوفتہ اور کچا گوشت یاصرف شوربا کھایا تو نہیں ٹوٹی۔ یونہی کلیجی، تلی، پھیپڑا، دل، گردہ اوجھڑی، دنبہ کی چکی کے کھانے سے بھی نہیں ٹوٹے گی کہ ان چیزوں کو عرف میں گوشت نہیں کہتے اوراگر کسی جگہ ان چیزوں کا بھی گوشت میں شمار ہوتو وہاں ان کے کھانے سے بھی ٹوٹ جائے کی (درمختار ر، دالمحتار)

مسئلہ۱۷: قسم کھائی کہ بیل کا گوشت نہیں کھائیگا تو گائے کے گوشت سے قسم نہیں ٹوٹے گی اور گائے کے گوشت نہ کھانے کی قسم کھائی تو بیل کا گوشت کھانے سے ٹوٹ جائیگی کہ بیل کے گوشت کو بھی لوگ گائے کا گوشت کہتے ہیں اور بھینس کے گوشت سے نہیں ٹوٹے گی۔ اوربھینس کے گوشت کی قسم کھائی تو گائے بیل کے گوشت سے نہیں ٹوٹے گی اور بڑا گوشت کہا تو ان سب کو شامل ہے۔ اوربکری کا گوشت کہا تو بکرے کے گوشت سے بھی قسم ٹوٹ جائیگی کہ دونوں کو بکری کا گوشت کہتے ہیں ۔ یونہی بھـیڑ کا گوشت کہاتو مینڈھے کو بھی شامل ہے اور دنبہ ان میں داخل نہیں اگرچہ دنبہ اسی کی ایک قسم ہے اور چھوٹا گوشت ان سب کو شامل ہے۔

مسئلہ۱۸: قسم کھائی کہ چربی نہیں کھائیگا تو پیٹ اور آنتوں پر جو چربی لپٹی رہتی ہے اس کے کھانے سے قسم ٹوٹے گی پیٹھ کی چربی جو گوشت کے ساتھ ملی ہوئی ہوتی ہے اس کے کھانے سے یا دنبہ کی چکی کھانے سے نہیں ٹوٹے گی۔(درمختار)

مسئلہ۱۹: قسم کھائی کہ گوشت نہیں کھائے گا اور کسی خاص گوشت کی نیت ہے تو اس کے سوا دوسرا گوشت کھانے سے نہیں ٹوٹے گی۔ یونہی قسم کھائی کہ کھانا نہیں کھائیگا اورخاص کھانا مراد لیا تو دوسرا کھانا کھانے سے قسم نہیں ٹوٹے گی(عالمگیری)

مسئلہ۲۰: قسم کھائی کہ تل نہیں کھائے گا تو تل کے تیل کھانے سے قسم نہ ٹوٹی اور گہیوں نہ کھانے کی قسم کھائی تو بھنے ہوئے گہیوں کھانے سے قسم ٹوٹ جائے گی اور گہیوں کی روٹی یا آٹا یا ستویا کچے گہیوں کھانے سے قسم نہ ٹوٹے گی مگر جبکہ اس کی نیت ہو کہ گہیوں کی روٹی نہیں کھائیگا تو روٹی کھانے سے بھی ٹوٹ جائے گی (عالمگیری)

مسئلہ ۲۱ : قسم کھائی کہ یہ گیہوں نہیں کھائے گا پھر انہیں بویا اب جو پیدا ہوئے ان کے کھانے سے قسم نہیں ٹوٹے گی کہ یہ وہ گیہوں نہیں ہیں ۔ (درمختار)

مسئلہ۲۲: قسم کھائی کہ روٹی نہیں کھائیگا تو پراٹھے، پوریاں ، سنبو سے، بسکٹ، شیرمال، کلچے، گلگلے، نان، پائو کھانے سے قسم نہیں ٹوٹے گی کہ ان کو روٹی نہیں کہتے اورتنوری روٹی یاچپاتی یاموٹی روٹی یابیلن سے بنائی ہوئی روٹی کھانے سے قسم ٹوٹ جائے گی۔(درمختار ردالمحتار)

مسئلہ۲۳: قسم کھائی کہ فلاں کا کھانا نہیں کھائے گا اور اس کے یہاں کاسرکہ یا نمک کھایا تو قسم نہیں ٹوٹی (ردالمحتار)

مسئلہ۲۴: قسم کھائی کہ فلاں کا کھانا نہیں کھائیگا اور وشخص کھانا بیچا کرتا ہے اس نے خرید کر کھالیا تو قسم ٹوٹ گئی کہ اس کے کھانے سے مراد اس سے خرید کر کھانا کھانا ہے اور کھانا بیچنا اس کا کام نہ ہو تو مراد وہ کھا ناہے جو اس کی ملک میں ہے لہذا خرید کر کھانے سے قسم نہیں ٹوٹے گی (ردالمحتار)

مسئلہ۲۵: فلاں عورت کی پکائی ہوئی روٹی نہیں کھائیگا اور اس عورت نے خود روٹی پکائی ہے یعنی اس نے توے پر ڈالی اور سینکی ہے تو اس کے کھانے سے قسم ٹوٹ جائیگی اور اگر اس نے فقط آٹا گوندھا ہے یا روٹی بنائی ہے اور کسی دوسرے نے توے پر ڈالی اورسینکی اس کے کھانے نہیں ٹوٹے گی کہ آٹا گوندھنے یا روٹی بنانے کو پکانا نہیں کہیں گے اور اگر کہاں فلاں عورت کی روٹی نہیں کھائوں گا تو اس میں دوصورتیں ہیں اگر یہ مراد ہے کہ اس کی پکائی ہوئی روٹی نہیں کھائونگا تو وہی حکم ہے جو بیان کیا گیا اور اگر یہ مطلب ہے کہ اس کی ملک میں جو روٹی ہے وہ نہیں کھائوں گا تو اگرچہ کسی اور نے آٹا گوندھا یا روٹی پکائی ہو مگر جب اس کی ملک ہے تو کھانے سے ٹوٹ جائیگی (درمختار، ردالمحتار)

مسئلہ۲۶: قسم کھائی کہ یہ کھانا کھائیگا تو اس میں دوصورتیں ہیں کوئی وقت مقرر کردیا ہے یا نہیں اگر وقت نہیں مقرر کیا ہے پھر وہ کھانا کسی اور نے کھا لیا یا ہلاک ہوگیا یا قسم کھانے والا مرگیا تو قسم ٹوٹ گئی اور اگر وقت مقررکردیا ہے مثلاً آج اسکو کھائے گا اور دن گزرنے سے پہلے قسم کھانے والا مرگیا یا کھانا تلف ہوگیا تو قسم نہیں ٹوٹی (عالمگیری)

مسئلہ۲۷: قسم کھائی کہ کھانا نہیں کھائیگا تو وہ کھانا مراد ہے جس کو عادۃً کھاتے ہیں لہذا اگر مردار کا گوشت کھایا تو قسم نہیں ٹوٹی (درمختار)

مسئلہ۲۸: قسم کھائی کہ سری نہیں کھائے گا اوراس کی یہ نیت ہوکہ بکری گائے مرغ مچھلی وغیرہ کسی جانور کا سر نہیں کھائیگا تو جس چیز کا سر کھائے گا قسم ٹوٹ جائے گی اور اگر نیت نہ ہو تو گائے اوربکری کے سرکھانے سے قسم ٹوٹے گی اورچڑیا ٹڈی مچھلی وغیرہا جانوروں کے سرکھانے سے نہیں ٹوٹے گی (عالمگیری وغیرہ)

مسئلہ۲۹: قسم کھائی کہ انڈا نہیں کھائیگا اورنیت کچھ نہ ہو تو مچھلی کے انڈے کھانے سے نہیں ٹوٹے گی (عالمگیری)

مسئلہ۳۰: میوہ نہ کھانے کی قسم کھائی تو مراد سیب ، ناشپاتی، آڑو، انگور، انار، آم، امرود وغیرہا ہیں جن کو عرف میں میوہ کہتے ہیں کھیرا، ککڑی، گاجر، وغیرہا کو میوہ نہیں کہتے۔

مسئلہ۳۱: مٹھائی سے مراد امرتی، جلیبی ، پیڑا، بالوشاہی، گلاب جامن، قلا قند، برفی، لڈو وغیرہاجن کو عرف میں مٹھائی کہتے ہیں ہاں اس طرف بعض گائوں میں گڑ کو مٹھائی کہتے ہیں لہذا اگر اس گائوں والے نے مٹھائی نہ کھانے کی قسم کھائی تو گڑ کھانے سے قسم ٹوٹ جائیگی اورجہاں کا یہ محاورہ نہیں ہے وہاں والے کی نہیں ٹوٹے گی۔ عربی میں حلوا ہر میٹھی چیز کو کہتے ہیں یہاں تک کہ انجیر اور کھجور کو بھی مگر ہندوستان میں ایک خاص طرح سے بنائی ہوئی چیز کو حلوا کہتے ہیں کہ سوجی میدہ چاول کے آٹے وغیرہ سے بناتے ہیں اور یہاں بریلی میں اسکو میٹھا بھی بولتے ہیں غرض جس جگہ کا عرف ہو وہاں اسی کا اعتبار ہے سالن عموماً ہندوستان میں گوشت کو کہتے ہیں جس سے روٹی کھائی جائے اور بعض جگہ میں نے دال کو بھی سالن کہتے سنا اور عربی زبان میں تو سرکہ کو بھی ادام (سالن)کہتے ہیں آلو،رتالو، اروی، ترئی، بھنڈی، ساگ، کدو، شلجم، گوبھی، اور دیگر سبزیوں کو ترکاری کہتے ہیں جن کو گو شت میں ڈالتے ہیں یا تنہا پکاتے ہیں اور بعض گائوں میں جہاں ہندو کثرت سے رہتے ہیں گوشت کو بھی لوگ ترکاری بولتے ہیں ۔

مسئلہ۳۲: قسم کھائی کہ کھانا نہیں کھائیگا اور کوئی ایسی چیز کھائی جسے عرف میں کھانا نہیں کہتے ہیں مثلاً دودھ یا مٹھائی کھالی تو قسم نہیں ٹوٹی ۔

مسئلہ۳۳: قسم کھائی کہ نمک نہیں کھائیگا اور ایسی چیز کھائی جس میں نمک پڑا ہوا ہے توقسم نہیں ٹوٹی اگرچہ نمک کامزہ محسوس ہوتا ہو اور روٹی وغیرہ کو نمک لگا کر کھایا توقسم ٹوٹ جائیگی ہاں اگر اس کے کلام سے یہ سمجھا جاتا ہو کہ نمکین کھانا مراد ہے تو پہلی صورت میں بھی قسم ٹوٹ جائیگی۔ (ردالمحتار)

مسئلہ۳۴: قسم کھائی کہ مرچ نہیں کھائیگا اورگوشت وغیرہ کوئی ایسی چیز کھائی جس میں مرچ ہے اورمرچ کا مزہ محسوس ہوتا ہے تو قسم ٹوٹ گئی ضرورت نہیں کہ مرچ کھائے تو قسم ٹوٹے (درمختار)

مسئلہ۳۵: قسم کھائی کہ پیاز نہیں کھائیگا اور کوئی ایسی چیز کھائی جس میں پیاز پڑی ہے تو قسم نہیں ٹوٹی اگرچہ پیاز کا مزہ معلوم ہوتا ہو (درمختار)

مسئلہ ۳۶: جس کھانے کی نسبت قسم کھائی کہ اس کو نہیں کھائے گا یا پانی کی نسبت کہ اس کو نہیں پئیے گا اگر وہ اتنا ہے کہ یک مجلس میں کھاسکتا ہے اورایک پیاس میں پی سکتا ہے تو جب تک کل نہ کھائے پئیے قسم نہیں ٹوٹے گی۔ مثلاً قسم کھائی کہ یہ روٹی نہیں کھائے گا اور روٹی ایسی ہے کہ ایک مجلس میں پوری کھاسکتا ہے تو اس روٹی کا ٹکڑا کھانے سے قسم نہیں ٹوٹے گی۔ یونہی قسم کھائی کہ اس گلاس کا پانی نہیں پئیے گا تو ایک گھونٹ پینے سے نہیں ٹوٹی۔ اور اگر کھانا اتنا ہے کہ ایک مجلس میں نہیں کھاسکتا تو اس میں سے ذرا سا کھانے سے بھی قسم ٹوٹ جائیگی مثلاً قسم کھائی کہ اس گائے کا گوشت نہیں کھائیگا اورایک بوٹی کھائی قسم ٹوٹ گئی ۔یونہی قسم کھائی کہ اس مٹکے کا پانی پیوں گا اور مٹکا پانی سے بھرا ہے تو ایک گھونٹ سے بھی ٹوٹ جائیگی۔ اور اگر یوں کہا کہ یہ روٹی مجھ پر حرام ہے تو اگرچہ ایک مجلس میں وہ روٹی کھاسکتا ہو مگر اس کا ٹکڑا کھانے سے بھی کفارہ لازم ہوگا۔ یونہی یہ پانی مجھ پر حرام ہے اورایک گھونٹ پی لیا تو کفارہ واجب ہوگیا اگرچہ وہ ایک پیاس کا بھی نہ ہو۔(عالمگیری)

مسئلہ۳۷: قسم کھائی کہ یہ روٹی نہیں کھائے گا اورکل کھاگیا ایک ذراسی چھوڑی تو قسم ٹوٹ گئی کہ روٹی کا ذراساحصہ چھوڑدینے سے بھی عرف میں یہی کہا جائیگا کہ روٹی کھالی ہاں اگر اس کی یہ نیت تھی کہ کل نہیں کھائیگا تو ذراسی چھوڑدینے سے قسم نہیں ٹوٹی (عالمگیری)

مسئلہ ۳۸ : قسم کھائی کہ اس انار کو نہیں کھائوں گا اور سب کھا لیا ایک دو دانے چھوڑ دیئے تو قسم ٹوٹ گئی اور اگر اتنے زیادہ چھوڑ ے کہ عادۃً اتنے نہیں چھوڑے جاتے تو نہیں ٹوٹی۔ (عالمگیری)

مسئلہ۳۹: قسم کھائی کہ حرام نہیں کھائیگا اورغصب کئے ہوئے روپے سے کوئی چیز خرید کر کھائی تو قسم نہیں ٹوٹی مگر گنہگار ہوا اور جوچیز کھائی اگروہ غصب کی ہوئی ہے تو قسم ٹوٹ گئی(عالمگیری)

مسئلہ۴۰: قسم کھائی کہ زید کی کمائی نہیں کھائے گا اورزید کو کوئی چیز وراثت میں ملی تو اس کے کھانے سے قسم نہیں ٹوٹے گی۔اور اگرزید نے کوئی چیز خریدی یاہبہ یاصدقہ میں کوئی چیز ملی اورزید نے اسے قبول کرلیا تو اسکے کھانے سے قسم ٹوٹ جائیگی۔ اوراگر زید سے میں نے کوئی چیز خرید کر کھائی تو نہیں ٹوٹی۔ اور اگر زید مرگیا اور اس کی کمائی کا مال زید کے وراث کے یہاں کھایا یا یہ قسم کھانے والا خود ہی وارث ہے اور کھالیا تو قسم ٹوٹ گئی (عالمگیری)

مسئلہ۴۱: کسی کے پاس روپے ہیں قسم کھائی کہ ان کو نہیں کھائیگا پھر روپے کے پیسے بھنالیے یا اشرفیاں کرلیں پھران پیسوں یا اشرفیوں سے کوئی چیز خریدکر کھائی توقسم ٹوٹ گئی اور اگر ان پیسوں یا اشرفیوں سے زمین خریدی پھر اسے بیچ کر کھایا تو نہیں ٹوٹی (عالمگیری)

مسئلہ۴۲: قسم اس وقت صحیح ہوگی کہ جس چیز کی قسم کھائی ہو وہ زمانہ آئندہ میں پائی جاسکے یعنی عقلاً ممکن ہو اگرچہ عادۃً محال ہو مثلاً یہ قسم کھائی کہ میں آسمان پر چڑھو ں گا یا اس مٹی کو سونا کردوں گا تو قسم ہوگئی اور اسی وقت ٹوٹ بھی گئی۔ یونہی قسم کے باقی رہنے کی بھی یہ شرط ہے وہ کام اب بھی ممکن ہو لہذا اگر اب ممکن نہ رہا تو قسم جاتی رہی مثلاً قسم کھائی کہ میں تمھارا روپیہ کل ادا کرونگا اورکل کے آنے سے پہلے ہی مرگیا تو اگر چہ قسم صحیح ہوگئی تھی مگر اب قسم نہ رہی کہ وہ رہاہی نہیں اس قاعدہ کے جاننے کے بعد اب یہ دیکھئے کہ اگر قسم کھائی کہ میں اس کو زہ کا پانی آج پیوں گا اور کوزہ میں پانی نہیں ہے یا تھا مگر رات کے آنے سے پہلے اس میں کا پانی گر گیا یا اس نے گرادیا تو قسم نہیں ٹوٹی کہ پہلی صورت میں قسم صحیح نہ ہوئی اور دوسری صورت میں صحیح تو ہوئی مگر باقی نہ رہی۔ یونہی اگر کہا میں اس کو زہ کاپانی پیوں گا اور اس میں پانی اس وقت نہیں ہے تو نہیں ٹوٹی مگر جبکہ یہ معلوم ہے کہ پانی نہیں ہے اور پھر قسم کھائی تو گنہگار ہوا اگر چہ کفارہ لازم نہیں اور اگر پانی تھا اور گرگیا یا گروایا تو قسم ٹوٹ گئی اور کفارہ لازم (درمختار ر، دالمحتا ر، بحر)

مسئلہ۴۳: عورت سے کہا اگر تو نے کل نماز نہ پڑھی تو تجھ کو طلاق ہے صبح کو عورت کو حیض آگیا طلاق نہ ہوئی۔ یونہی عورت سے کہا کہ جوروپیہ تونے میری جیب سے لیا ہے اگر اس میں نہ رکھے گی تو طلاق ہے اور دیکھا تو روپیہ جیب ہی میں موجود ہے طلاق نہ ہوئی(درمختار)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button