ARTICLESشرعی سوالات

کنکریوں کو دھونا کیسا ہے ؟

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مزدلفہ سے رمی کے لئے کنکریاں چُن کر انہیں دھو لینا جائز ہے یا نہیں کیونکہ اس سال مزدلفہ میں ایک شخص کو میں نے سنا کہ وہ دوسروں کو کنکریاں دھونے سے منع کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ شریعت میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے برائے مہربانی اگر کوئی اس کا ثبوت ہماری فقہ کی کتابوں میں ہو تو بتائیے تاکہ ہمارا دل مطمئن ہو کہ ہم ہمیشہ سے یہی عمل کرتے ہیں ؟

(السائل : محمد رضوان بکالی، لبیک حج گروپ، مکہ مکرمہ)

جواب

باسمہ تعالی وتقدس الجواب : رمی کے لئے چُنی گئی کنکریوں کو دھونا جائز ہے کیونکہ کنکری اگر یقینی نجس (ناپاک) ہے تو اس سے رمی کرنا مکروہ ہے چنانچہ علامہ نظام الدین حنفی متوفی 861ھ لکھتے ہیں :

و لو رمی بمتنجّسۃ بیقین کرہ وأجزاہ کذا فی ’’فتح القدیر‘‘ (257)

یعنی، اگریقینی نجس کنکری کے رمی کی تومکروہ ہے اور اُسے جائز ہوجائے گی (یعنی رمی ہوجائے گی)اسی طرح ’’فتح القدیر‘‘ (258)میں ہے ۔ اور علامہ علاؤ الدین حصکفی متوفی 1088ھ لکھتے ہیں :

و یکرہ أنْ یرمیَ بمتنجِّسۃٍ بیقینٍ ملخصاً (259)

یعنی، ایسی کنکری سے رمی کرنا مکروہ ہے کہ جس کا ناپاک ہونا یقینی ہو۔ اور اگر کنکری یقینا ناپاک نہیں تو بغیر دھونے کے ان سے رمی کرنا مکروہ نہیں چنانچہ علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی متوفی 1252ھ لکھتے ہیں :

و أما بدونِ تیقُّنٍ فلا یکرہُ لأنَّ الأصل الطہارۃُ

یعنی، نجاست کے یقین کے بغیر کراہت نہیں کیونکہ اصل طہارت ہے ۔ کنکریوں کی نجاست کا یقین نہ ہو تو بغیر دھوئے اُن سے رمی اگرچہ مکروہ نہیں مگر اُن کو دھو لینا مستحب ہے تاکہ یقینی پاکی حاصل ہو جائے ، چنانچہ امام کمال الدین محمد بن عبدالواحد ابن الھمام حنفی متوفی 861ھ لکھتے ہیں :

و یستحب أن یغسل الحصیات قبل أن یرمیہا لیتنقّن طہارتہا فإنہ یقام بہا قربۃ (260)

یعنی، مستحب ہے کہ رمی سے قبل کنکریوں کو دھولے تاکہ ان کی پاکی کا یقین حاصل ہو جائے اس لئے کہ ان کے ذریعے قُربت قائم کی جائے گی۔ اور علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی لکھتے ہیں :

و یستحب أن یغسل الحصاۃ (261)

اور علامہ شامی لکھتے ہیں :

لکن یندبُ غَسلُہا لتکون طہارتہا متیقَّنۃً کما ذکرَہ ُفی ’’البحر‘‘ و غیرہ (262)

یعنی، لیکن کنکریوں کو دھونا مندوب (یعنی مستحب) ہے تاکہ ان کی پاکی یقینی ہو جائے جیسا کہ اسے ’’بحر الرائق‘‘ (263) وغیرہ میں ذکر کیا ہے ۔ اور فی زمانہ حاجیوں کی کثرت کے باعث مشاہدہ یہ ہے کہ لوگ پہاڑوں اور رستوں کے اطراف میں بول وبراز کر دیتے ہیں اس لئے کنکریوں کے ناپاک ہونے کا قوی احتمال ہوتا ہے اس لئے مناسب یہی ہے کہ اُن کو دھو لیا جائے چنانچہ امام برہان الدین ابو المعالی محمود بن صدر الشریعہ ابن مازہ نجاری حنفی متوفی 616ھ لکھتے ہیں :

فنقول : ینبغی أن تکون الحصاۃ مغسولۃ (264)

اور علامہ نظام الدین حنفی اور جماعت علماء ہند نے لکھا کہ

ینبغی أن تکون مغسولۃً کذا فی ’’السراج الوھاج‘‘ (265)

یعنی، کنکریوں کا دُھلا ہوا ہونا مناسب ہے ،اِسی طرح ’’السراج الوھاج‘‘ میں ہے ۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم الأحد، 14ذی الحجۃ 1428ھ، 23دیسمبر 2007 م (New 29-F)

حوالہ جات

257۔ الفتاویٰ الہندیۃ،کتاب المناسک، الباب الخامس فی کیفیۃ أداء الحج، 1/233

258۔ فتح القدیر، کتاب الحج، باب الاحرام، تحت قولہ : وأجزأہ، 2/385

259۔ الدر المختار، کتاب الحج، تحت قولہ : وأن یلتقط حجراً واحداً الخ، ص163

260۔ فتح القدیر، کتاب الحج، باب الاحرام، تحت قولہ : أحزأہ، 2/385

261۔ مجامع المناسک ونفع المناسک، باب المزدلفۃ، فصل : فی رفع الحصا، ص175، المحمودیۃ، وص261 أفغانستان

262۔ رد المحتار، کتاب الحج، مطلب : فی جمرۃ العقبۃ، تحت قولہ : ببقین ، 3/610

263۔ البحرالرائق، کتاب الحج، باب الاحرام، تحت قولہ : فارم جمرۃ العقبۃ، 2/654

264۔ المحیط البرھانی، کتاب المناسک، الفصل الثالث تعلیم أعمال الحج، 3/406

265۔ الفتاوی الھندیۃ، کتاب المناسک، الباب الخامس فی کیفیۃ أداء الحج، والکلام فی الرمی، 1/232

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button