شرعی سوالات

کمی بیشی کے ساتھ نوٹ قرض پر لینا جائز ہے ۔

سوال:

             سو کا نوٹ ایک ماہ کے ادھار پر ڈیڑھ سو میں بیچنا خریدنا یا قرض لینا کیسا ہے؟

جواب:

             صورت مسئولہ میں تحقیق مسئلہ یہ ہے کہ نوٹ حقیقت میں کاغذ اور اصطلاح میں ثمن ہے لہذا نقد نوٹ کمی بیشی کے ساتھ بیچنا جائز ہے۔ اور لیکن ادھار خریدنا اور بیچنا نوٹ کا تو یہ بھی سود و حرام اور گناہ نہیں بلکہ صرف مکروہ تنزیہی یعنی خلاف اولی ہے۔ لیکن قرض لے کر سو کا ڈیڑھ سو لینا یا دینا کسی طرح جائز نہیں کہ نرا سود حرام ہے۔

                                                (فتاوی فقیہ ملت، جلد 2، صفحہ 199، شبیر برادرز لاہور)

سوال:

نوٹ کی بیع نوٹ کے عوض کمی بیشی کے ساتھ جائز یا نہیں ؟

جواب:

حرمت ربا کی علت ناپ یا تول ہے اتحاد جنس کے ساتھ اگر قدر و جنس دونوں پائی جائیں تو کمی بیشی اور ادھار دونوں حرام ہیں اور اگر وہ دونوں نہ پائی جائیں تو کمی بیشی اور ادھار دونوں حلال ہیں۔ اور اگر دونوں میں سے ایک پائی جائے تو کمی بیشی حلال اور ادھار حرام ہے۔ اور جب نوٹ کو نوٹ کے بدلے بیچا گیا تو اس صورت میں اگرچہ دونوں متحد الجنس ہیں کہ دونوں کاغذ ہیں لیکن قدر میں شرکت نہیں اس لئے کہ نوٹ نہ کیلی ہے نہ وزنی بلکہ عددی ہے اور عددیات میں کمی  و بیشی کے ساتھ خرید و فروخت جائز ہے اور ادھار جائز نہیں ۔ لہذا نوٹوں کی بیع نوٹوں کے عوض کمی بیشی کے ساتھ جائز ہے اور ادھار جائز نہیں۔ زید کو جو نوٹوں کی بیع کے ذریعہ زائد رقم ملی ان کو مدرسہ اسلامیہ میں دینا جائز بلکہ کارثواب ہے اور اپنی ضروریات پر خرچ کرنا بھی جائز ہے۔

(فتاوی فقیہ ملت، جلد 2، صفحہ 204، شبیر برادرز لاہور)

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button