بہار شریعت

کفن کے متعلق مسائل

کفن کے متعلق مسائل

مسئلہ ۱: میت کو کفن دینا فرض کفایہ ہے۔ کفن کے تین درجے ہیں ۔

(۱) ضرورت (۲) کفایت (۳) سنت

مرد کے لئے سنت تین کپڑے ہیں ۔

(۱) لفافہ (۲) ازار (۳) قمیص

اور عورت کے لئے پانچ۔

تین یہ ہیں (۴) اوڑھنی (۵) سینہ بند

کفن کفایت مرد کے لئے دو کپڑے ہیں ۔

(۱) لفافہ (۲) ازار

اور عورت کے لئے۔

(۱) لفافہ (۲) ازار (۳) اوڑھنی یا

(۱) لفافہ (۲) قمیص (۳) اوڑھنی۔

کفن ضرورت دونوں کے لئے یہ کہ جو میسر آئے اور کم از کم اتنا تو ہو کہ سارا بدن ڈھک جائے۔ (درمختار ج ۱ ص ۸۰۸ تا ۸۰۶، عالمگیری ج ۱ ص ۱۶۰ وغیرہما)

مسئلہ ۲: لفافہ یعنی چادر کی مقدار یہ ہے کہ میت کے قد سے اس قدر زیادہ ہو کہ دونوں طرف باندھ سکیں اور ازار یعنی تہہ بند چوٹی سے قدم تک یعنی لفافہ سے اتنی چھوٹی جو بندش کے لئے زیادہ تھا اور قمیص جس کو کفنی کہتے ہیں گردن سے گھٹنوں کے نیچے تک اور یہ آگے اور پیچھے دونوں طرف برابر ہوں اور جاہلوں میں جو رواج ہے کہ پیچھے سے کم رکھتے ہیں یہ غلطی ہے، چاک اور آستین اس میں نہ ہوں ۔ مرد اور عورت کی کفنی میں فرق ہے مرد کی کفنی مونڈھے پرچیریں اور عورت کے لئے سینہ کی طرف۔ اوڑھنی تین ہاتھ کی ہوئی چاہیئے یعنی ڈیڑھ گز۔ سینہ بند پستان سے ناف تک اور بہتر یہ ہے کہ ران تک ہو۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۶۰، ردالمحتار ج ۱ ص ۸۰۸، ۸۰۷ وغیرہما)

مسئلہ ۳: بلاضرورت کفن کفایت سے کم کرنا ناجائز مکروہ ہے۔ (درمختار ج ۱ ص ۸۰۸) بعض محتاج کفن ضرورت پر قادر ہوتے ہیں مگر کفن مسنون میسر نہیں وہ کفن مسنون کے لئے لوگوں سے سوال کرتے ہیں یہ ناجائز ہے کہ سوال بلا ضرورت جائز نہیں ہاں اگر بغیر مانگے مسلمان خود کفن مسنون پورا کر دیں تو انشاء اللہ تعالی پورا ثواب پائیں گے۔ (فتاوی رضویہ)

مسئلہ ۴: ورثہ میں اختلاف ہوا کوئی دو کپڑوں کے لئے کہتا ہے کوئی تین کے لئے تو تین کپڑے دیئے جائیں گے کہ یہ سنت ہے یا یوں کیا جائے گا کہ اگر مال زیادہ ہے اور وارث کم تو کفن سنت دیں اور مال کم ہے وارث زیادہ تو کفن کفایت۔ (جوہرہ وغیرہا)

مسئلہ ۵: کفن اچھا ہونا چاہئیے یعنی مرد عیدین و جمعہ کے لئے جیسے کپڑے پہنتا تھا اور عورت جیسے کپڑے پہن کر میکے جاتی تھی اس قیمت کا ہونا چاہیئے حدیث میں ہے مردوں کو اچھا کفن دو کہ وہ باہم ملاقات کرتے اور اچھے کفن سے تفاخر کرتے یعنی خوش ہوتے ہیں سفید کفن بہتر ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اپنے مردے سفید کپڑوں میں کفنائو۔ (غنیہ، ردالمحتار ج ۱ ص ۸۰۷)

مسئلہ ۶: کسم یا زعفران کا رنگا ہوا ریشم کا کفن مرد کو ممنوع ہے اور عورت کے لئے جائز یعنی جو کپڑا زندگی میں پہن سکتا ہے اس کا کفن دیا جا سکتا ہے اور جو زندگی میں ناجائز اس کا کفن بھی ناجائز۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۶۱)

مسئلہ ۷: خنثی مشکل عورت کی طرح پانچ کپڑے دیئے جائیں مگر کسم یا زعفران کا رنگا ہوا اور ریشمی کفن اسے ناجائز ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۶۰)

مسئلہ ۸: کسی نے وصیت کی کہ اسے دو کپڑے دیئے جائیں تو یہ وصیت جاری نہ کی جائے تین کپڑے دیئے جائیں اور اگر یہ وصیت کی کہ ہزار روپے کا کفن دیا جائے تو یہ بھی نافذ نہ ہوگی متوسظ درجہ کا دیا جائے۔ (ردالمحتار ج ۱ ص ۸۰۷)

مسئلہ ۹: جو نابالغ حدشہوت تک کو پہنچ گیا وہ بالغ کے حکم میں ہے یعنی بالغ کو کفن میں جتنے کپڑے دیئے جاتے ہیں اسے بھی دیئے جائیں اور اس سے چھوٹے لڑکے کو ایک کپڑا اور چھوٹی لڑکی کو دو (۲) کپڑے دے سکتے ہیں اور اگر لڑکے کو بھی دو (۲) کپڑے دیئے جائیں تو اچھا ہے اور بہتر یہ ہے کہ دونوں کو پورا کفن دیں اگرچہ ایک دن کا بچہ ہو۔ (ردالمحتار ج ۱ ص ۸۰۹)

مسئلہ ۱۰: پرانے کپڑے کا بھی کفن ہو سکتا ہے مگر پرانا ہو تو دھلا ہوا ہو کہ کفن ستھرا ہونا مرغوب ہے۔ (جوہرہ)

مسئلہ ۱۱: میت نے اگر کچھ مال چھوڑا تو کفن اسی کے مال سے ہونا چاہیئے اور مدیون ہے تو قرضخواہ کفن کفایت سے زیادہ کو منع کر سکتا ہے اور منع نہ کیا تو اجازت سمجھی جائے گی۔ (ردالمحتار ج ۱ ص ۸۱۰) مگر قرض خواہ کو ممانعت کا اس وقت حق ہے جب وہ تمام مال دین میں مستغرق ہو۔

مسئلہ ۱۲: دین و وصیت و میراث ان سب پر کفن مقدم ہے اور دین وصیت پر اور وصیت میراث پر ۔ (جوہرہ)

مسئلہ ۱۳: میت نے مال نہ چھوڑا تو کفن اس کے ذمہ ہے جس کے ذمہ زندگی میں نفقہ تھا اور اگر کوئی ایسا نہیں جس پر نفقہ واجب ہوتا یا ہے مگر نادار ہے تو بیت المال سے دیا جائے اور بیت المال بھی وہاں نہ ہو جیسے یہاں ہندوستان میں تو وہاں کے مسلمانوں پر کفن دینا فرض ہے اگر معلوم تھا اور نہ دیا تو سب گنہگار ہوں گے اگر ان لوگوں کے پاس بھی نہیں تو ایک کپڑے کی قدر اور لوگوں سے سوال کر لیں ۔ (جوہرہ ج ۱ ص ۸۱۱، درمختار ج ۱ ص ۸۱۰)

مسئلہ ۱۴: عورت نے اگرچہ مال چھوڑا اس کا کفن شوہر کے ذمہ ہے بشرطیکہ موت کے وقت کوئی ایسی بات نہ پائی گئی جس سے عورت کا نفقہ شوہر پر سے ساقط ہو جاتا اگر شوہر مرا اور اس کی عورت مالدار ہے جب بھی عورت پر کفن واجب نہیں ۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۶۱، درمختار ج ۱ ص ۸۱۰ وغیرہما)

مسئلہ ۱۵: جو کچھ کہا گیا کہ فلاں پر کفن واجب ہے اس سے مراد کفن شرعی ہے یونہی باقی سامان تجہیز مثلاً خوشبو اور غسال اور لے جانے والوں کی اجرت اور دفن کے مصارف سب میں شرعی مقدار مراد ہے باقی اور باتیں اگر میت کے مال سے کی گئیں اور ورثہ بالغ ہوں اور سب وارثوں نے اجازت بھی دے دی ہو تو جائز ہے ورنہ خرچ کرنے والے کے ذمہ ہے ۔ (ردالمحتار ج ۱ ص ۸۱۰)

مسئلہ ۱۶: کفن کیلئے سوال کر کے لائے اس میں سے کچھ بچ رہا تو اگر معلوم ہے کہ فلاں نے دیا ہے تو اسے واپس کر دیں ورنہ دوسرے محتاج کے کفن میں صرف کر دیں یہ بھی نہ ہو تو تصدق کر دیں ۔ (درمختار ج ۱ ص ۸۱۱)

مسئلہ ۱۷: میت ایسی جگہ ہے کہ وہاں صرف ایک شخص ہے اور اس کے پاس صرف ایک ہی کپڑا ہے تو اس پر یہ ضرور نہیں کہ اپنے کپڑے کو کفن کر دے۔ (درمختار ج ۱ ص ۸۱۱)

مسئلہ ۱۸: کفن پہنانے کا طریقہ یہ ہے کہ میت کو غسل دینے کے بعد بدن کسی پاک کپڑے سے آہستہ پونچھ لیں کہ کفن تر نہ ہو اور کفن کو ایک یا تین یا پانچ یا سات بار دھونی دے لیں اس سے زیادہ نہیں پھر یہ کفن یوں بچھائیں کہ پہلے بڑی چارد پھر تہبند پھر کفنی پھر میت کو اس پر لٹائیں اور کفنی پہنائیں اور داڑھی اور تمام بدن پر خوشبو ملیں اور مواضع سجود یعنی ماتھے ناک ہاتھ گھٹنے قدم پر کافور لگائیں پھر ازار یعنی تہبند لپیٹیں پہلے بائیں جانب سے پھر دہنی طرف سے پھر لفافہ لپیٹیں پہلے بائیں طرف سے پھر دہنی طرف سے تاکہ دہنا اوپر رہے اور سر اور پائوں کی طرف باندھ دیں کہ اڑنے کا اندیشہ نہ رہے عورت کو کفنی پہنا کر اس کے بال کے دو حصے کر کے کفنی کے اوپر سینہ پر ڈالدیں اور اوڑھنی نصف پشت کے نیچے سے بچھا کر سر پر لا کر منہ پر مثل نقاب ڈال دیں کہ سینہ پر رہے کہ اس کا طول نصف پشت سے سینہ تک رہے اور عرض ایک کان کی لو سے دوسرے کان کی لو تک ہے اور یہ جو لوگ کیا کرتے ہیں کہ زندگی کی طرح اڑھاتے ہیں یہ محض بیجا و خلاف سنت ہے پھر بدستور ازار و لفافہ لپیٹیں پھر سب کے اوپر سینہ بند بالائے پستان سے ران تک لا کر باندھیں ۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۶۱، ۱۶۰، درمختار ج ۱ ص ۸۰۸ وغیرہما)

مسئلہ ۱۹: مرد کے بدن پر ایسی خوشبو لگانا جائز نہیں جس میں زعفران کی آمیزش ہو عورت کے لئے جائز ہے جس نے احرام باندھا ہے اس کے بدن پر بھی خوشبو لگائیں اور اس کا منہ اور کفن سے چھپایا جائے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۶۱)

مسئلہ ۲۰: اگر مردہ کا کفن چوری ہو گیا اور لاش ابھی تازہ ہے تو پھر کفن دیا جائے اگر میت کا مال بدستور ہے تو اس سے اور تقسیم ہو گیا تو ورثہ کے ذمہ کفن دیناہے وصیت یا قرض میں دیا گیا تو ان لوگوں پر نہیں اور اگر کل ترکہ دین میں مستغرق ہے اور قرضخواہوں نے اب تک قبضہ نہ کیا ہو تو اسی مال سے دیں اور قبضہ کر لیا تو ان سے واپس نہ لیں گے بلکہ کفن اس کے ذمہ ہے کہ مال نہ ہونے کے صورت میں جس کے ذمہ ہوتا ہے اور اگر صورت مذکورہ میں لاش پھٹ گئی تو کفن مسنون کی حاجت نہیں ایک کپڑا ہی کافی ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۶۱، درمختار،ر دالمحتار ج ۱ ص ۸۰۹)

مسئلہ ۲۱: اگر مردہ جانور کھا گیا اور کفن پڑا ملا تو اگر میت کے مال سے دیا گیا ہے ترکہ میں شمار ہو گا اور کسی نے دیا ہے اجنبی یا رشتہ دار نے تو مالک ہے جوچاہے کرے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۶۲)

مسئلہ ضروریہ: ہندوستان میں عام رواج ہے کہ کفن مسنون کے علاوہ اوپر سے ایک چادر اڑھاتے ہیں وہ تکیہ دار یا کسی مسکین پرصدقہ کرتے ہیں ایک جا نماز ہوتی جس پر امام جنازہ کی نمازہ پڑھاتا ہے وہ بھی تصدق کرتے ہیں اگر یہ چادر و جا نماز میت کے مال سے نہ ہوں بلکہ کسی نے اپنی طرف سے دیا ہے (اور عادۃً وہی دیتا ہے جس نے کفن دیا بلکہ کفن کے لئے جو کپڑا لایا جاتا ہے وہ اسی انداذ سے لایا جاتا ہے کہ جس میں یہ دونوں بھی ہو جائیں ) جب تو ظاہر ہے کہ اس کی اجازت ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں اور اگر میت کے مال سے ہے تو دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ ورثہ سب بالغ ہوں اور اور سب کی اجازت سے ہو جب بھی جائز ہے ور اگر اجازت نہ دی تو جس نے میت کے مال سے منگایا اور تصدق کیا اس کے ذمہ یہ دونوں چیزیں ہیں یعنی ان میں جو قیمت صرف ہوئی ترکہ میں شمارکی جائے گی اور وہ قیمت خرچ کرنے والا اپنے پاس سے دے گا دوسری صورت یہ کہ ورثاء میں کل یا بعض نابالغ ہیں تو اب وہ دونوں چیزیں ترکہ سے ہرگز نہیں دی جا سکتیں اگرچہ اس نابالغ نے اجازت بھی دیدی ہو کہ نابالغ کے مال کو صرف کر لینا حرام ہے۔ لوٹے، گھڑے ہوئے خاص میت کے نہلانے کے لئے خریدے تو اس میں یہی تفصیل ہے، تیجہ، دسواں ، چالیسواں ، ششماہی، برسی کے مصارف میں بھی یہی تفصیل ہے کہ اپنے مال سے جو چاہے خرچ کرے اور میت کو ثواب پہنچائے اور میت کے مال سے یہ مصارف اسی وقت کئے جائیں کہ سب وارث بالغ ہوں اور سب کی اجازت ہو ورنہ نہیں ، مگر جو بالغ ہو اپنے حصہ سے کر سکتا ہے۔ ایک صورت اور بھی ہے کہ میت نے وصیت کی ہو تو دین ادا کرنے کے بعد جو بچے اس کی تہائی میں وصیت جاری ہو گی۔ اکثر لوگ اس سے غافل ہیں یا ناواقف کہ اس قسم کے تمام مصارف کر لینے کے بعد اب جو باقی رہتا ہے اسے ترکہ سمجھتے ہیں ۔ ان مصارف میں نہ وارث سے اجازت لیتے ہیں نہ نابالغ وارث ہونا مضر جانتے ہیں اور یہ سخت غلطی ہے اس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ تیجہ وغیرہ کو منع کیا جاتا ہے کہ یہ تو ایصال ثواب ہے اسے کون منع کرے گا۔ منع وہ کرے جو وہابی ہو بلکہ ناجائز طور پر جو ان میں صرف کیا جاتا ہے اس سے منع کیا جاتا ہے کوئی اپنے مال سے کرے یا ورثاء بالغین ہی ہوں ان سے اجازت لے کر کرے تو ممانعت نہیں ۔

جنازہ لے چلنے کے متعلق مسائل

مسئلہ ۱: جنازہ کو کندھا دینا عبادت ہے ہر شخص کو چاہیئے کہ عبادت میں کوتاہی نہ کرے اور حضور سید المرسلین ﷺ نے سعد بن معاذ رضی اللہ تعالی عنہ کا جنازہ اٹھایا۔ (جوہرہ)

مسئلہ ۲: سنت یہ ہے کہ چار اشخاص جنازہ اٹھائیں ایک پایہ ایک شخص لے اور اگر صرف دو (۲) شخصوں نے جنازہ اٹھایا ، ایک سرہانے اور ایک پائنتی تو بلا ضرورت مکروہ ہے اور ضرورت سے ہو مثلاً جگہ تنگ ہے تو حرج نہیں ۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۶۲)

مسئلہ ۳: سنت یہ ہے کہ یکے بعد دیگرے چاروں پایوں کو کندھا دے اور ہر بار دس(۱۰) دس (۱۰) قدم چلے اور پوری سنت یہ ہے کہ پہلے داہنے سرہانے کو کندھا دے پھر داہنی پائنتی پھر بائیں سرہانے پھر بائیں پائنتی اور دس (۱۰) دس (۱۰) قدم چلے تو کل چالیس (۴۰) قدم ہوئے کہ حدیث میں ہے کہ جو چالیس (۴۰) قدم جنازہ لے چلے اس کے چالیس کبیرہ گناہ مٹا دیئے جائیں گے، نیز حدیث میں ہے جو جنازہ کے چاروں پایوں کو کندھا دے اللہ تعالی اس کی حتمی مغفرت فرمائے گا۔ (جوہرہ، عالمگیری ج ۱ ص ۱۶۲، درمختار ج ۱ ص ۸۳۳)

مسئلہ ۴: جنازہ لے چلنے میں چارپائی کو ہاتھ سے پکڑ کو مونڈھے پر رکھے، اسباب کی طرح گردن یا پیٹھ پر لادنا مکروہ ہے، چوپایہ پر جنازہ لادنا بھی مکروہ ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۶۲، غنیہ، درمختار ج ۱ ص ۸۳۳) ٹھیلے پر لادنے کا بھی یہی حکم ہے۔

مسئلہ ۵: چھوٹا بچہ، شیرخوار یا ابھی دودھ چھوڑا ہے یا اس سے کچھ بڑا اس کو اگر ایک شخص ہاتھ پر اٹھا کر لے چلے تو حرج نہیں اور یکے بعد دیگرے لوگ ہاتھوں ہاتھ لیتے رہیں اور اگر کوئی شخص سواری پر ہو اور اتنے چھوٹے جنازہ کو ہاتھ پر لئے ہوں جب بھی حرج نہیں اور اس سے بڑا مردہ ہو تو چارپائی پر لے جائیں ۔ (غنیہ، عالمگیری ج ۱ ص ۱۶۲ وغیرہما)

مسئلہ ۶: جنازہ معتدل تیزی سے لے جائیں مگر نہ اس طرح کہ میت کو جھٹکا لگے اور ساتھ جانے والوں کے لئے افضل یہ ہے کہ جنازہ سے پیچھے چلیں ، دائیں بائیں نہ چلیں اور اگر کوئی آگے چلے تو اسے چاہیئے کہ اتنی دور رہے کہ ساتھیوں میں نہ شمار کیا جائے اورسب کے سب آگے ہوں تو مکروہ ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۶۲)

مسئلہ ۷: جنازہ کے ساتھ پیدل چلنا افضل ہے اور سواری پر ہو تو آگے چلنا مکروہ اور آگے ہو تو جنازہ سے دور ہو۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۶۲، صغیری ج ۱ ص ۲۹۵)

مسئلہ ۸: عورتوں کو جنازہ کے ساتھ جانا ناجائز و ممنوع ہے اور نوحہ کرنے والی ساتھ ہوں تو اسے سختی سے منع کیا جائے اگر نہ مانے تو اس کی وجہ سے جنازہ کے ساتھ جانا نہ چھوڑا جائے کہ اس کے ناجائز فعل سے کیوں سنت ترک کرے بلکہ دل سے اسے برا جانے اور شریک ہو۔ (درمختار ج ۱ ص ۸۳۴، صغیری ج ۱ ص ۲۹۶)

مسئلہ ۹: اگر عورتیں جنازے کے پیچھے ہوں اور مرد کو یہ اندیشہ ہو کہ پیچھے چلنے میں عورتوں سے اختلاط ہو گا یا ان میں کوئی نوحہ کرنے والی ہو ان صورتوں میں مرد کو آگے چلنا بہتر ہے۔ (درمختار، ردالمحتار ج ۱ ص ۸۳۴)

مسئلہ ۱۰: جنازہ لے چلنے میں سرہانا آگے ہونا چاہیئے اور جنازہ کے ساتھ آگ لے جانے کی ممانعت ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۶۲)

مسئلہ ۱۱: جنازہ کے ساتھ چلنے والوں کو سکوت کی حالت میں ہونا چاہیئے۔ موت اور احوال و اہوال قبر کو پیش نظر رکھیں دنیا کی باتیں نہ کریں نہ ہنسیں ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک شخص کو جنازہ کے ساتھ ہنستے دیکھا، فرمایا، تو جنازہ میں ہنستا ہے تجھ سے کبھی کلام نہ کروں گا اور ذکر کرنا چاہیں تو دل میں کریں اور بلحاظ زمانہ اب علماء نے ذکر جہر کی بھی اجازت دی ہے۔ (صغیری، درمختار ج ۱ ص ۸۳۵ وغیرہما)

مسئلہ ۱۲: جنازہ جب تک رکھا نہ جائے بیٹھنا مکروہ ہے اور رکھنے کے بعد بے ضرورت کھڑا نہ رہے اور اگر لوگ بیٹھے ہوں اور نماز کے لئے وہاں جنازہ لایا گیا تو جب تک نہ رکھا جائے کھڑے نہ ہوں یونہی اگر کسی جگہ بیٹھے ہوں اور وہاں سے جنازہ گزرا تو کھڑا ہونا ضروری نہیں ہاں جو شخص جانا چاہتا ہے وہ اٹھے اور جائے جب جنازہ رکھا جائے تو یوں نہ رکھیں کہ قبلہ کو پائوں ہوں یا سر بلکہ آڑا رکھیں کہ دہنی کروٹ قبلہ کو ہو۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۶۲، درمختار ج ۱ ص ۸۳۴)

مسئلہ ۱۳: جنازہ اٹھانے پر اجرت لینا دینا جائز ہے جب کہ اور اٹھانے والے بھی موجود ہوں ۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۶۲)

مسئلہ ۱۴: میت اگر پڑوسی یا رشتہ داریاکوئی نیک شخص ہو تو اس کے جنازہ کے ساتھ جانا نفل نماز پڑھنے سے افضل ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۶۲)

مسئلہ ۱۵: جو شخص جنازہ کے ساتھ ہو اسے بغیر نماز پڑھے واپس نہ ہونا چاہیئے اور نماز کے بعد اولیائے میت سے اجازت لے کر واپس ہو سکتا ہے اور دفن کے بعد اولیاء سے اجازت کی ضرورت نہیں ۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۶۵)

نماز جنازہ کے متعلق مسائل

مسئلہ ۱: نماز جنازہ فرض کفایہ ہے کہ ایک نے بھی پڑھ لی تو سب بری الذمہ ہو گئے ورنہ جس جس کو خبر پہنچی تھی اور نہ پڑھی گنہگار ہوا۔ (عامہ کتب، درمختار ج ۱ ص ۸۱۱) اسکی فرضیت کا جو انکار کرے کافر ہے۔ (درمختار ج ۱ ص ۸۱۱)

مسئلہ ۲: اس کے لئے جماعت شرط نہیں ایک شخص بھی پڑھ لے فرض ادا ہو گیا۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۶۲)

مسئلہ ۳: نماز جنازہ واجب ہونے کے لئے وہی شرائط ہیں جو اور نمازوں کے لئے ہیں یعنی (۱) قادر (۲) بالغ (۳) عاقل (۴) مسلمان ہونا، ایک بات اس میں زیادہ ہے یعنی اس میں موت کی خبر ہونا۔ (ردالمحتار ج ۱ ص ۸۱۱)

مسئلہ ۴: نماز جنازہ میں دو طرح کی شرطیں ہیں ایک مصلی کے متعلق دوسری میت کے متعلق، مصلی کے لحاظ سے تو وہی شرطیں ہیں جو مطلق نماز کی ہیں یعنی (۱) مصلی کا نجاست حکمیہ و حقیقیہسے پاک ہونا نیز اس کے کپڑے اور جگہ کا پاک ہونا (۲) ستر عورت (۳) قبلہ کو منہ ہونا (۴) نیت، اس میں وقت شرط نہیں اور تکبیر تحریمہ رکن ہے شرط نہیں جیسا پہلے ذکر ہوا ۔ (ردالمحتار ج ۱ ص ۸۱۱ وغیرہ) بعض لوگ جوتا پہنے اور بہت لوگ جوتے پر کھڑے ہو کر نماز جنازہ پڑھتے ہیں اگر جوتا پہنے پڑھی تو جوتا اور اس کے نیچے کی زمین دونوں کا پاک ہونا ضروری ہے بقدر مانع نجاست ہو گی تو اس کی نماز نہ ہوگی اور جوتے پر کھڑے ہو کر پڑھی تو جوتے کا پاک ہونا ضروری ہے۔

مسئلہ ۵: جنازہ تیار ہے جانتا ہے کہ وضو یا غسل کرے گا تو نماز ہو جائے گی تیمم کر کے پڑھے اس کی تفصیل باب تیمم میں مذکور ہوئی۔

مسئلہ ۶: امام طاہر نہ تھا تو نماز پھر پڑھیں اگرچہ مقتدی طاہر ہوں کہ جب امام کی نہ ہوئی کسی کی نہ ہوئی اور اگر امام طاہر تھا اور مقتدی بلا طہارت تو اعادہ نہ کیا جائے کہ اگرچہ مقتدیوں کی نہ ہوئی مگر امام کی تو ہو گئی اگر عورت نے نماز پڑھائی اور مردوں نے اس کی اقتدا کی تو لوٹائی نہ جائے کہ اگرچہ مردوں کی اقتدا صحیح نہ ہوئی مگر عورت کی نماز تو ہو گئی وہی کافی ہے اور نماز جنازہ کی تکرار جائز نہیں ۔ (درمختار ج ۱ ص ۸۱۲)

مسئلہ ۷: نماز جنازہ سواری پر پڑھی تو نہ ہوئی امام کا بالغ ہونا شرط ہے خواہ امام مرد ہو یا عورت نابالغ نے نماز پڑھائی تو نہ ہوئی ۔(درمختار ج ۱ ص ۸۱۳،۸۱۲، عالمگیری ج ۱ ص ۱۶۴)

نماز جنازہ میں میت سے تعلق رکھنے والی چند شرطیں ہیں ۔

(۱) میت کا مسلمان ہونا۔

مسئلہ ۸: میت سے مراد وہ ہے جو زندہ پیدا ہوا پھر مر گیا تو اگر مردہ پیدا ہوا بلکہ اگر نصف سے کم باہر نکلا اس وقت زندہ تھا اور باہر نکلنے سے پیشتر مر گیا تو اس کی بھی نماز نہ پڑھی جائے آگے تفصیل آتی ہے۔(شامی ج ۱ ص ۸۳۰)

مسئلہ ۹: چھوٹے بچے کے ماں باپ دونوں مسلمان ہوں یا ایک تو وہ مسلمان ہے اس کی نماز پڑھی جائے اور دونوں کافر ہیں تو نہیں ۔ (درمختار ج ۱ ص ۸۳۲ وغیرہ)

مسئلہ ۱۰: مسلمان کو دارلحرب میں چھوٹا بچہ تنہا ملا اور اس نے اٹھا لیا پھر مسلمان کے یہاں مرا تو اس کی نماز پڑھی جائے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۶۳)

مسئلہ ۱۱: ہر مسلمان کی نماز پڑھی جائے اگرچہ وہ کیسا ہی گنہگار و مرتکب کبائر ہو مگر چند قسم کے لوگ ہیں کہ ان کی نماز نہیں ۔ (۱) باغی جو امام برحق پر ناحق خروج کرے اور اسی بغاوت میں مارا جائے (۲) ڈاکو کہ ڈاکہ میں مارا گیا نہ ان کو غسل دیا جائے نہ ان کی نماز پڑھی جائے مگر جبکہ بادشاہ اسلام نے ان پر قابو پایا اورقتل کیا تو نماز و غسل ہے یا وہ نہ پکڑے گئے نہ مارے گئے بلکہ ویسے ہی مرے تو بھی غسل و نماز ہے (۳) جو لوگ ناحق پاسداری سے لڑیں بلکہ جو ان کا تماشہ دیکھ رہے تھے اور پتھر آکر لگا اور مر گئے تو ان کی بھی نماز نہیں ہاں انکے متفرق ہونے کے بعد مرے تو نماز ہے (۴) جو کسی شخص کا گلاگھونٹ کا مار ڈالے (۵) شہر میں رات کو ہتھیار لے کر لوٹ مار کریں وہ بھی ڈاکو ہیں اس حالت میں مارے جائیں تو ان کی بھی نماز نہ پڑھی جائے (۶) جس نے اپنی ماں یا باپ کو مار ڈالا اس کی بھی نماز نہیں (۷) جو کسی کا مال چھین رہا تھا اور اس حالت میں مارا گیا اس کی بھی نہیں ۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۶۳، درمختار ج ۱ ص ۸۱۴،۸۱۵ وغیرہما)

مسئلہ ۱۲: جس نے خودکشی کر لی حالانکہ یہ بہت بڑا گناہ ہے مگر اس کے جنازہ کی نماز پڑھی جائے گی اگرچہ قصداً خودکشی کی ہو جو شخص رجم کیا گیا یا قصاص میں مارا گیا اسے غسل دیں گے اور نماز پڑھیں گے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۶۳، درمختار ج ۱ ص ۸۱۵ وغیرہما)

(۲) میت کے بدن و کفن کا پاک ہونا۔

مسئلہ ۱۳: بدن پاک ہونے سے یہ مراد ہے کہ اسے غسل دیا گیا ہو یا غسل نا ممکن ہونے کی صورت میں تیمم کرایا گیا ہو اور کفن پہنانے سے پیشتر بدن سے نجاست نکلی تو دھو ڈالی جائے اور بعد میں خارج ہوئی تو دھونے کی حاجت نہیں اور کفن پاک ہونے کا یہ مطلب ہے کہ پاک کفن پہنایا جائے اور بعد میں اگر نجاست خارج ہوئی اور کفن آلودہ ہوا تو حرج نہیں ۔ (درمختار ج ۱ ص ۸۱۲)

مسئلہ ۱۴: بغیر غسل نماز پڑھی گئی نہ ہوئی اسے غسل دے کر پھر پڑھیں اور اگر قبر میں رکھ چکے مگر مٹی ابھی نہیں ڈالی گئی تو قبر سے نکالیں اور غسل دے کر نماز پڑھیں اور مٹی دے چکے تو اب نکال نہیں سکتے لہذا اب اس کی قبر پر نماز پڑھیں کہ پہلی نماز نہ ہوئی تھی اور اب چونکہ غسل نا ممکن ہے لہذا اب ہو جائے گی۔ (ردالمحتار ج ۱ ص ۸۱۲،۸۱۱ وغیرہ)

(۳) جنازہ کا وہاں موجود ہونا یعنی کل یا اکثر یا نصف مع سر کے موجود ہونا لہذا غائب کی نماز نہیں ہو سکتی۔

(۴) جنازہ زمین پر رکھا ہو یا ہاتھ پر ہو مگر جانور پر لدا ہو تو نماز نہ ہوگی۔

(۵) جنازہ مصلی کے آگے قبلہ کو ہونا۔ اگر مصلی کے پیچھے ہو گا نماز صحیح نہ ہوگی۔ (درمختار ج ۱ ص ۸۱۳،۸۱۲)

مسئلہ ۱۵: اگر جنازہ الٹا رکھا یعنی امام کے دہنے میت کا قدم ہو تو نماز ہو جائے گی مگر قصداً ایسا کیا تو گنہگار ہوئے۔ (درمختار ج ۱ ص ۸۱۳)

مسئلہ ۱۶: اگر قبلہ کے جاننے میں غلطی ہوئی یعنی میت کو اپنے خیال سے قبلہ ہی کو رکھا تھا مگر حقیقۃً قبلہ کو نہیں تو موضع تحری میں اگر تحری کی نماز ہو گئی ورنہ نہیں ۔ (درمختار ج ۱ ص ۸۱۳)

(۶) میت کا وہ حصہ بدن جس کا چھپانا فرض ہے چھپا ہونا۔

(۷) میت امام کے محاذی ہو یعنی اگر ایک میت ہے تو اس کا کوئی حصہ بدن امام کے محاذی ہوں اور چند ہوں تو کسی ایک کا حصہ بدن امام کے محاذی ہونا کافی ہے۔ (ردالمحتار ج ۱ ص ۸۱۳،۸۱۲)

مسئلہ ۱۷: نماز جنازہ میں دو (۲) رکن ہیں :۔

(۱) چار بار اللہ اکبر کہنا (۲) قیام

بغیر عذر بیٹھ کر سواری پر نماز جنازہ پڑھی نہ ہوئی اور اگر ولی یا امام بیمار تھا اس نے بیٹھ کر پڑھائی اور مقتدیوں نے کھڑے ہو کر پڑھی ہو گئی۔ (درمختار، ردالمحتار ج ۱ ص ۸۱۳)

مسئلہ ۱۸: نماز جنازہ میں تین چیزیں سنت مؤکدہ ہیں :۔

(۱) اللہ عزوجل کی ثنا (۲) نبی ﷺ پر درود (۳) میت کے لئے دعا

نماز جنازہ کا طریقہ یہ ہے کہ کان تک ہاتھ اٹھا کر اللہ اکبر کہتا ہوا ہاتھ نیچے لائے اور ناف کے نیچے حسب دستور باندھ لے اور ثنا پڑھے یعنی

سبحانک اللھم وبحمدک وتبارک اسمک وتعالے جدک وجل ثناؤک ولاالہ غیرک

پھر بغیرہاتھ اٹھائے اللہ اکبر کہے اور درود شریف پڑھے بہتر وہ درود ہے جو نماز میں پڑھا جاتا ہے اور کوئی دوسرا پڑھا جب بھی حرج نہیں پھر اللہ اکبر کہہ کر اپنے اور میت اور تمام مومنین و مومنات کے لئے دعا کرے اور بہتر یہ کہ وہ دعا پڑھے جو احادیث میں وارد ہیں اور ماثور دعائیں اگر اچھی طرح نہ پڑھ سکے تو جو دعا چاہے پڑھے مگروہ دعا ایسی ہو کہ آخرت سے متعلق ہو۔ (جوہرہ نیرہ، عالمگیری ج ۱

ص ۱۴۶،د رمختار ج ۱ ص ۸۱۳،۸۱۶) بعض ماثور دعائیں یہ ہیں :۔ (نوٹ : بریکٹ میں مؤنث (یعنی عورت) کے صیغہ ہے )

(۱) اللھم اغفرلحینا ومیتنا وشاھدنا وغائبنا وصغیرنا وکبیرنا وذکرنا وانثانا اللھم من احییتہ‘ منا فاحیہٖ علی الاسلام ومن توفیتہ‘ منا فتوفہ‘ علی الایمان ط اللھم لا تحرمنا اجرہ‘ (ھا) ولا تفتنا بعدہ‘ (ھا)

(اے اللہ تو بخش دے ہمارے زندہ اور مردہ اور ہمارے حاضر و غائب کو اور ہمارے چھوٹے اور بڑے کو مرد اور عورت کو اے اللہ ہم میں سے تو جسے زندہ رکھے اسے اسلام پر زندہ رکھ اور ہم میں سے تو جس کو وفات دے اسے ایمان پر وفات دے اے اللہ تو ہمیں اس کے اجر سے محروم نہ رکھ اور اس کے بعد ہمیں فتنہ میں نہ ڈال)

(۲) اللھم اغفرلہ‘ (لھا) وارحمہ‘ (ھا) واعف عنہ (ھا) واکرم نزلہ‘ (ھا) ووسع مدخلہ‘ (ھا) واغسلہ (ھا) بالمائ والثلج والبردونقہٖ (ھا) من الخطایا کما نقیت الثوب الابیض من الدنس وابدلہ (ھا) دارًا خیرًا من دارہٖ (ھا) واھلاً خیرًا من اھلہٖ (ھا) وزوجًا خیرًا من زوجہٖ وادخلہ (ھا) الجنۃ واعدہ (ھا) من عذاب القبر ومن فتنۃ القبر وعذاب النار

(اے اللہ اس کو بخش دے اور رحم کر اور عافیت دے اور معاف کر اور عزت کی مہمانی کر اور اس کی جگہ کو کشادہ کر اور اس کو پانی اور برف اور اولے سے دھو دے اور اس کو خطا سے پاک کر جیسا تو نے سفید کپڑے کو میل سے پاک کیا اور اس کو گھرکے بدلے بہتر گھر دے اور اہل کے بدلے میں بہتر اہل دے اور بی بی کے بدلے میں بہتر بی بی اور اس کو جنت میں داخل کر اور عذاب قبر و فتنہ قبر و عذاب جہنم سے محفوظ رکھ)

(۳) اللھم عبدک (امتک) وابن (بنت) امتک یشھد (تشھد) ان لا الہ الا انت وحدک لا شریک لک و یشھد (تشھد) ان محمدًا عبدک ورسولک اصبح فقیرًا (اصبحت فقیرۃً) الی رحمتک واصبحت غنیا عن عذابہٖ (ھا) تخلی (تخلت) من الدنیا واھلھا ان کان (کانت) زاکیًا (زکیۃً) فزکہ (ھا) وان کان (کانت) مخطئًا (مخطئۃً) فاغفرلہ‘ (ھا) اللھم لا تحرمنا اجرہ‘ (ھا) ولا تضلنا بعدہ‘ (ھا)

(اے اللہ یہ تیرا بندہ ہے اور تیری باندی کا بیٹا ہے گواہی دیتا ہے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو تنہا ہے تیرا کوئی شریک نہیں گواہی دیتا ہے کہ محمد تیرے بندے اور رسول ہیں یہ تیری رحمت کا محتاج ہے اور تو اسکے عذاب سے غنی ہے دنیااور دنیا والوں سے جدا ہو کر اگر یہ پاک ہے تو تو اسے پاک و صاف کر اور اگر خطا کار ہے تو بخش دے اے اللہ اس کے اجر سے ہمیں محروم نہ رکھ اور اس کے بعد ہمیں گمراہ نہ کر)

(۴) اللھم ھذا (ھذہٖ) عبدک ابن (امتک بنت) عبدک ابن (بنت) امتک ماضٍ فیہ (ھا) حکمک خلقتہ‘ (ھا) ولم یک (تک) شیئًا مذکورًا ط نزل (لت) بک وانت خیر منزولٍ بہٖ اللہ لقنہ (ھا) حجتہ‘ (ھا) والحقہ (ھا) بنبیہٖ (ھا)محمدٍ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ط وثبتہ (ھا) بالقول الثابت فانہ‘(ھا) افتقر (افتقرت) الیک واستغیت عنہ (ھا) کان (نت) یشھد (تشھد) ان لا الہ الا اللہ فاغفرلہ‘ (لھا) وارحمہ (ھا) ولا تحرمنا اجرہ‘ (ھا) ولا تفتنا بعدہ‘ (ھا) ط اللھم ان کان (نت) زاکیا (زاکیۃً) فزکہٖ (ھا) وان کان (کانت) خاطئًا (خاطئۃً) فاغفرلہ‘ (ھا)

(اے اللہ یہ تیرا بندہ ہے اورتیرے بندہ اور تیری باندی کا بیٹا ہے اس کے متعلق تیرا حکم نافذ ہے تو نے اسے پیدا کیا حالانکہ یہ قابل ذکر سے نہ تھا۔ تیرے پاس آیا تو ان سب سے بہتر ہے جن کے پاس اتر جائے۔ اے اللہ حجت کی تو اس کو تلقین کر اور اس کو اس کے نبی محمد ﷺ کے ساتھ ملا دے اور قول ثابت پر اسے ثابت رکھ اسلیئے کہ یہ تیری طرف محتاج ہے اور تو اس سے غنی ہے یہ شہادت دیتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں پس اسے بخش دے اور رحم کر اور اس کے اجر سے ہم کو محروم نہ کر اور اس کے بعد ہمیں فتنہ میں نہ ڈال اے اللہ اگر یہ پاک ہے تو پاک کر اور اگر بدکار ہے تو بخشدے)

(۵) اللھم عبدک (امتک) وابن (بنت) امتک احتاج (جت) الی رحمتک وانت غنی عن عذابہٖ (ھا) ان کان (نت) محسنًا (محسنۃً) فزدفی احسانہٖ (ھا) وان کان (کانت) مسیئًا (مسیئۃً) فتجاوز عنہ (ھا)

(اے اللہ یہ تیرا بندہ ہے اور تیری باندی کا بیٹا ہے تیری رحمت کا محتاج ہے اور تو اسکے عذاب سے غنی ہے اگر نیکوکار ہے تو اسکی خوبی میں زیادہ کر اور اگر گنہگار ہے تو درگذر فرما)

(۶) اللھم عبدک (امتک) وابن (بنت) عبدک کان (نت) یشھد (تشھد) ان لا الہ الا اللہ وان محمدًا عبدک ورسولک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم وانت اعلم بہٖ (ھا) منا ان کان (نت) محسنًا (محسنۃ) فزدفی احسانہٖ (ھا) وان کان (نت) مسیئًا (مسیئۃً) فاغفرلہ‘ (ھا) ولا تحرمنآ اجرہ‘ (ھا) ولا تفتنا بعدہ‘ (ھا)

(اے اللہ یہ تیرا بندہ ہے اور تیرے بندہ کا بیٹا ہے گواہی دیتا تھا کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ تیرے رسول ہیں اور تو ہم سے زیادہ اسے جانتا ہے اگر نیکوکار ہے تو نیکی میں زیادہ کر اور گناہ گار ہے تو اسے بخش دے اور اس کے اجر سے ہمیں محروم نہ کر اور اس کے بعد فتنہ میں نہ ڈال)

(۷) اصبح عبدک ھذا (اصبحت امتک ھذہٖ) قد تخلی (تخلت) عن الدنیا وترکھا (ترکتھا) لاھلھا وافتقرا (افتقرت) الیک واستغیت عنہ (ھا) وقد کان (نت) یشھد (تشھد) ان لا الہ الا اللہ وان محمدًا عبدک ورسولک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ط اللھم اغفرلہ‘ (ھا) وتجاوز عنہ (ھا) والحقہ (ھا) بنبیہٖ (ھا) صلی اللہ تعالی علیہ وسلم

( آج تیرا یہ بندہ دنیا سے نکلا اور دنیا کو اہل دنیا کے لئے چھوڑا۔ تیری طرف محتاج ہے اور تو اس سے غنی گواہی دیتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اورمحمد ﷺ تیرے بندہ اور رسول ہیں اے اللہ تو اس کو بخش دے ور اس دے درگذر فرما اور اس کو اس کے نبی ﷺ کے ساتھ لاحق کر دے)

(۸) اللھم انت ربھا وانت خلقتھا وانت ھدیتھا للاسلام ط وانت قبضت روحھا وانت اعلم بسرھا وعلانیتھا جئنا شفعائ فاغفرلھا

(اے اللہ تو اس کا رب ہے اور تو نے اس کو پیدا کیا اورتو نے اس کو اسلام کی طرف ہدایت کی اور تو نے اس کی روح کو قبض کیا تو اس کے پوشیدہ اور ظاہر کو جانتا ہے ہم سفارش کے لئے حاضر ہوئے اسے بخش دے)

(۹) اللھم اغفرلاخواننا واخواتنا واصلح ذات بیننا والف بین قلوبنا اللھم ھذا (ھذہٖ) عبدک (امتک) فلان بن فلانٍ فلانۃ بنت فلانٍ ولا نعلم الا خیرًا وانت اعلم بہٖ (بھا) منا فاغفرلنا ولہ‘ (لھا)

(اے اللہ ہمارے بھائیوں اور بہنوں کو بخش دے اور ہماے آپس کی حالت درست کر اور ہمارے دلوں میں الفت پیدا کر دے۔ اے اللہ یہ تیرا بندہ فلاں بن فلاں ہے ہم اس کے متعلق خیر کے سوا کچھ نہیں جانتے اور تو اس کو ہم سے زیادہ جانتا ہے تو ہم کو اور ان کو بخش دے)

(۱۰) اللھم فلان بن فلان (فلانہ بنت فلان) فی ذمتک وحبل جوارک فقہٖ (ھا) من فتنۃ القبر و عذاب النار وانت اھل الوفائ والحمد ط اللھم اغفرلہ‘ (ھا) وارحمہ‘ (ھا) انک انت الغفور الرحیم

(اے اللہ فلاں بن فلاں تیرے ذمہ اور تیری حفاظت میں ہے اس کو فتنہ قبر اور عذاب جہنم سے بچا تو وفا اور حمد کا حامل ہے اے اللہ اس کو بخش اور رحم کر بے شک تو بخشنے والا مہربان ہے)

(۱۱) اللھم اجرنا من الشیطان و عذاب القبر ط اللھم جاف الارض عن جنبیھا وصعد روحھا ولفھا منک رضوانًا ط

(اے اللہ اس کو شیطان سے اور عذاب قبر سے بچا اے اللہ زمین کو اس کی دونوں کروٹوں سے کشادہ کر دے اور اس کی روح کو بلند کر اور اپنی خوشنودی دے)

(۱۲) اللھم انک خلقتنا ونحن عبادک ط انت ربنا و الیک معادنا

(اے اللہ تو نے ہم کو پیدا کیا اور ہم تیرے بندے ہیں تو ہمارا رب ہے اور تیری ہی طرف ہم کو لوٹنا ہے)

(۱۳) اللھم اغفر لاولنا واخرنا وحینا ومیتنا وذکرنا وانثانا وصغیرنا وکبیرنا وشاھدنا وغائبنا اللھم لا تحرمنا اجرہ‘ (ھا) ولا تفتنا بعدہ‘ (ھا)

(اے اللہ بخش دے ہمارے اگلے اور پچھلے کو اورہمارے زندہ و مردہ کو اور ہمارے مرد و عورت کو اور ہمارے چھوٹے اور بڑے کو اور ہمارے حاضر و غائب کو اے اللہ اس کے اجر سے ہمیں محروم نہ کر اور اس کے بعد ہمیں فتنہ میں نہ ڈال)

(۱۴) اللھم یا ارحم الراحمین یا ارحم الرحمین یا ارحم الرحمین یا حی یا قیوم یا بدیع السموت والارض یا ذالجلال والاکرام انی اسئالک بانی اشھد انک انت اللہ الاحد الصمد الذی لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ‘ کفوًا احدٌ ہ اللھم انی اسئلک واتوجہ الیک بنبیک محمدٍ نبی الرحمۃ ط صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ط اللھم ان الکریم اذا امر بالسئوال لم یردہ‘ ابدًا و قد امرتنا فدعونا واذنت لنا فشفعنا وانت اکرم الاکرمین ط فشفعنا فیہ (ھا) وارحمہ (ھا) فی وحدتہٖ (ھا) وارحمہ (ھا) فی وحشتہٖ (ھا) وارحمہ (ھا) فی غربتہٖ (ھا) وارحمہ (ھا) فی کربتہٖ (ھا) واعظم لہ‘ (لھا) اجرہ‘ (ھا) ونورلہ‘ (ھا) ووارحمہ (ھا) وبیض لہ‘ (لھا) وجھہ‘ (ھا) وبرد لہ‘ (ھا) مضجعہ‘ (ھا) وعطرلہ‘ (ھا) منزلہ‘ (ھا) واکرم لہ‘ (ھا) نزلہ (ھا) یا خیر المنزلین ج ویاخیرالغافرین و یاخیرالراحمین ج امین امین امین صل وسلم وبارک علی سید الشافعین محمدٍ والہٖ وصحبہٖ اجمعین ط والحمدللہ رب العالمین ہ

(اے اللہ اے ارحم الرحمین اے الرحم الراحمین اے الرحم الراحمین اے زندہ اے قیوم اے آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے اے عظمت و بزرگی والے میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس وجہ سے کہ میں شہادت دیتا ہوں کہ تو اللہ یکتا ہے بے نیاز ہے جو نہ دوسرے کو جنا نہ دوسرے سے جنا اور اس کا مقابل کوئی نہیں ۔اے اللہ میں سوال کرتا ہوں اور تیری طرف نبی ﷺ کے ذریعہ سے متوجہ ہوتا ہوں اے اللہ کریم جب سوال کا حکم دیتا ہے تو واپس کبھی نہیں کرتا اور تو نے ہمیں حکم دیا ہم نے دعاکی اور تو نے ہمیں اجازت دی ہم نے سفارش کی اور تو سب کریموں سے زیادہ کریم ہے ہماری سفارش اس کے بارہ میں قبول کر اور اس کی تنہائی میں تو اس پر رحم کر اور اس کی وحشت میں تو رحم کر اس کی غربت میں تو رحم کر اس کی بے چینی میں تو رحم کر اور اس کے اجر کو عظیم اور اس کی قبر کو منور کر اور اس کے چہرہ کو سپید کر اور اس کی خواب گاہ کو ٹھنڈا کر اور اس کی منزل کو معطر کر اور اس کی مہمانی کا سامان اچھا کر۔ اے بہتر اتارنے والے اور اے بہتر بخشنے والے اور اے بہتر رحم کرنے والے۔ آمین، آمین، آمین، درودو سلام بھیج اور برکت کر شفاعت کرنے والوں کے سردار محمد اور ان کی آل و اصحاب سب پر تمام تعریفیں اللہ کے لئے جو رب ہے تمام جہان کا)

فائدہ: نویں دسویں دعائوں میں اگر میت کے باپ کا نام معلوم نہ ہو تو تو اس کی ولدیت آدم علیہ الصلوۃ والسلام کہے وہ سب آدمیوں کے باپ ہیں اور اگر خود میت کا نام بھی معلوم نہ ہو تو نویں دعا میں ھذا عبدک یا ھذہٖ امتک پر قناعت کرے فلاں بن فلاں یا بنت فلاں کو چھوڑ دے اور دسویں اس کی جگہ عبدک ھذا یا عورت ہو تو امتک ھذہٖ کہے۔

فائدہ: میت کا فسق و فجور معلوم ہو تو نویں دعا میں لا نعلم الا خیرًا کی جگہ قد علمنا منہ خیرًا کہے کہ اسلام ہر چیز سے بہترخیر ہے۔

ٖفائدہ: ان دعائوں میں بعض مضامین مکرر ہیں اور دعا میں تکرار مستحسن اگر سب دعائیں یاد ہوں اور وقت میں گنجائش ہو تو سب کا پڑھنا اولی ورنہ جو چاہے پڑھے اور امام جتنی دیر میں یہ دعائیں پڑھے اگر مقتدی کو یاد نہ ہوں تو پہلی دعا کے بعد آمین آمین کہتا رہے۔

مسئلہ ۱۹: میت مجنون یا نابالغ ہو تو تیسری تکبیر کے بعد یہ دعا پڑھے:۔

اللھم اجعلہ لنا فرطًا و جعلہ لنا اجرًا و جعلہ لنا شافعًا و مشفعا

(اے اللہ تو اس کو ہمارے لئے پیش رو کر اور اسکو ہمارے لئے ذخیرہ کر اور اسکو ہماری شفاعت قبول کرنیوالا اور مقبول الشفاعۃ کر دے)

اور لڑکی ہو تو اجعلھا اور شافعۃً و مشفعۃً (جوہرہ)

مجنوں سے مراد وہ مجنوں ہے کہ بالغ ہونے سے پہلے مجنوں ہوا کہ وہ کبھی مکلف نہ ہوا اور اگر جنون عارضی ہے تو اس کی مغفرت کی دعا کی جائے جیسے اوروں کے لئے کی جاتی ہے کہ جنوں سے پہلے تو وہ مکلف تھا اور جنون کے پیشتر کے گناہ جنوں سے جاتے نہ رہے ۔(غنیہ)

مسئلہ ۲۰: چوتھی تکبیر کے بعد بغیر کوئی دعا پڑھے ہاتھ کھول کر سلام پھیر دے سلام میں میت اور فرشتوں اورحاضرین نماز کی نیت کرے اسی طرح جیسے اور نمازوں کے سلام میں نیت کی جاتی ہے یہاں اتنی بات زیادہ ہے کہ میت کی بھی نیت کرے۔ (درمختار ،ر دالمحتار ج ۱ ص ۸۱۷ وغیرہما)

مسئلہ ۲۱: تکبیر اور سلام کو امام جہر کے ساتھ کہے باتی تمام دعائیں آہستہ پڑھی جائیں اور صرف پہلی مرتبہ اللہ اکبر کہنے کے وقت ہاتھ اٹھائے پھر ہاتھ اٹھانا نہیں ۔ (جوہرہ، درمختار ج ۱ ص ۸۱۷)

مسئلہ ۲۲: نماز جنازہ میں قرآن بہ نیت قرآن یا تشہد پڑھنا منع ہے اور بہ نیت دعا و ثنا الحمد وغیرہ آیات دعائیہ و ثنائیہ پڑھنا جائز ہے۔ (درمختار ج ۱ ص ۸۱۷)

مسئلہ ۲۳: بہتر یہ ہے کہ نماز جنازہ میں تین صفیں کریں کہ حدیث میں ہے کہ جس کی نماز تین صفوں نے پڑھی اس کی مغفرت ہو جائے گی اور اگر کل سات ہی شخص ہوں تو ایک امام ہو اور تین پہلی صف میں اور دو دوسری میں اور ایک تیسری میں ۔ (غنیہ)

مسئلہ ۲۴: جنازہ میں پچھلی صف کو تمام صفوں پر فضیلت ہے۔ (درمختار ج ۱ ص ۸۱۷)

مسئلہ ۲۵: نماز جنازہ میں امامت کا حق بادشاہ اسلام کوہے پھر قاضی پھر امام جمعہ پھر امام محلہ پھر ولی کو۔ امام محلہ کا ولی پر تقدیم کا بطور استحباب ہے اور یہ بھی اس وقت کے ولی سے افضل ہو ورنہ ولی بہترہے۔ (غنیہ، درمختار ج ۱ ص ۸۲۳)

مسئلہ ۲۶: ولی سے مراد میت کے عصبہ ہیں اور نماز پڑھانے میں اولیا کی وہی ترتیب ہے جو نکاح میں ہے صرف فرق اتنا ہے کہ نماز جنازہ میں میت کے باپ کو بیٹے پر تقدم ہے اورنکاح میں بیٹے کو باپ پر۔ البتہ اگر باپ عالم نہیں اور بیٹا عالم ہے تو نماز جنازہ میں بھی بیٹا مقدم ہے اگر عصبہ نہ ہوں تو زوی الارحام غیروں پر مقدم ہیں ۔ (درمختار، ردالمحتار ج ۱ ص ۸۲۴)

مسئلہ ۲۷: میت کا ولی اقرب (سب سے زیادہ نزدیک کا رشتہ دار) غائب ہے اور ولی ابعد (دور کا رشتہ والا) حاضر ہے تو یہی ابعد نماز پڑھائے غائب ہونے سے مراد یہ ہے کہ اتنی دور ہے کہ اس کے آنے کے انتظار میں حرج ہو۔ (ردالمحتار ج ۱ ص ۸۲۴)

مسئلہ ۲۸: عورت کا کوئی ولی نہ ہو تو شوہر نماز پڑھائے وہ بھی نہ ہو تو پڑوسی یونہی مرد کا ولی نہ ہو تو پڑوسی اوروں پر مقدم ہے۔ (درمختار ج ۱ ص ۸۲۴)

مسئلہ ۲۹: غلام مر گیا تو اس کا آقا بیٹے اور باپ پر مقدم ہے اگرچہ یہ دونوں آزاد ہوں اور آزاد شدہ غلام میں باپ اور بیٹے اور دیگر ورثہ آقا پر مقدم ہیں ۔ (درمختار، ردالمحتار ج ۱ ص ۸۲۴)

مسئلہ ۳۰: مکاتب کا بیٹا یا غلام مر گیا تو نماز پڑھانے کا حق مکاتب کو ہے مگر اس کا مولی اگر موجود ہو تو اسے چاہئیے کہ مولی سے پڑھوائے اور اگر مکاتب مر گیا اور اتنا مال چھوڑا کہ بدل کتابت ادا ہو جائے اور وہ مال وہاں موجود ہے تو اس کا بیٹا نماز پڑھائے اور مال غائب ہے تو مولی۔ (جوہرہ)

مسئلہ ۳۱: عورتوں اور بچوں کی نماز جنازہ کی ولایت نہیں ۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۶۳)

مسئلہ ۳۲: میت کے ولی اقرب اورولی ابعد دونوں موجود ہیں تو ولی اقرب کو اختیار ہے کہ ابعد کے سوا کسی اور کو پڑھوائے ابعد کو منع کرنے کا اختیار نہیں اور ولی اقرب غائب ہے اور اتنی دور ہے کہ اس کے آنے کا انتظار نہ کیا جا سکے اور کسی تحریر کے ذریعہ سے ابعد کے سوا کسی اور سے پڑھوانا چاہے تو ابعد کو اختیار ہے کہ اسے روک دے اور ولی اقرب موجود ہے مگر بیمار ہے تو جس سے چاہے پڑھوا دے ابعد کو منع کا اختیار نہیں ۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۶۳)

مسئلہ ۳۳: ولی اور بادشاہ اسلام کو اختیار ہے کہ کسی اور کو نماز جنازہ پڑھانے کی اجازت دے دے ۔(عالمگیری ج ۱ ص ۱۶۴)

مسئلہ ۳۴: عورت مر گئی شوہر اور جوان بیٹا چھوڑا تو ولایت بیٹے کو ہے شوہر کو نہیں البتہ اگر یہ لڑکا اسی شوہر سے ہے تو باپ پر پیش قدمی مکروہ ہے اسے چاہیئے کہ باپ سے پڑھوائے اور اگر دوسرے شوہر سے ہے توسوتیلے باپ پر تقدم کر سکتا ہے کوئی حرج نہیں اور بیٹا بالغ نہ ہو تو عورت کے بعد جو اور ولی ہوں ان کا حق ہے شوہر کا نہیں ۔(جوہرہ،عالمگیری ج ۱ ص ۱۶۳)

مسئلہ ۳۵: دو یا چند شخص ایک درجہ کے ولی ہوں تو زیادہ حق اس کا ہے جو عمر میں بڑا ہے مگر کسی کو یہ اختیار نہیں کہ دوسرے ولی کے سوا کسی اور سے بغیر اس کی اجازت کے پڑھوادے اور اگر ایسا کیا یعنی خود نہ پڑھائی اور کسی اور کو اجازت دے دی تو دوسرے ولی کومنع کا اختیار ہے اگرچہ یہ دوسرا ولی عمر میں چھوٹا ہو اور اگر ایک ولی نے ایک شخص کو اجازت دی دوسری نے دوسرے کو تو جس کو بڑے نے اجازت دی وہ اولی ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۶۳)

مسئلہ ۳۶: میت نے وصیت کی تھی کہ میری نماز فلاں پڑھائے یا مجھے فلاں شخص غسل دے تو یہ وصیت باطل ہے یعنی اس وصیت سے ولی کا حق جاتا نہ رہے گا ہاں ولی کو اختیار ہے کہ خود نہ پڑھائے اس سے پڑھوادے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۶۳)

مسئلہ ۳۷: ولی کے سوا کسی ایسے نے نماز پڑھائی جو ولی پر مقدم نہ ہو اورولی نے اسے اجازت بھی نہ دی تھی تو ا گر ولی نماز میں شریک نہ ہوا تو نماز کا اعادہ کر سکتا ہے اور اگر مردہ دفن ہو گیا ہے تو قبر پر نماز پڑھ سکتا ہے اور اگر وہ ولی پر مقدم ہے جیسے بادشاہ و قاضی و امام محلہ کہ ولی سے افضل ہو تو اب ولی نماز کا اعادہ نہیں کر سکتا اور اگرایک ولی نے نماز پڑھا دی تو دوسرے اولیا اعادہ نہیں کر سکتے اور ہر صورت اعادہ میں جو شخص پہلی نماز میں شریک نہ تھا وہ ولی کے ساتھ پڑھ سکتا ہے اور جو شخص شریک تھا وہ ولی کے ساتھ نہیں پڑھ سکتا کہ جنازہ کی دو مرتبہ نماز ناجائز ہے سوا اس صورت میں کہ غیر ولی نے بغیر اذن ولی پڑھائی۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۶۴،۱۶۳، درمختار ج ۱ ص ۸۲۶،۸۲۵ وغیرہما)

مسئلہ ۳۸: جن چیزوں سے تمام نمازیں فاسد ہو جاتی ہیں نماز جنازہ بھی ان سے فاسد ہو جاتی ہے سوا ایک بات کہ عورت مرد کے محاذی ہو جائے تونماز جنازہ فاسد نہ ہو گی۔

مسئلہ ۳۹: مستحب یہ ہے کہ میت کے سینہ کے سامنے امام کھڑا ہو اور میت سے دور نہ ہو میت خواہ مرد ہو یا عورت بالغ ہو یا نابالغ یہ اس وقت ہے کہ ایک ہی میت کی نماز پڑھائی ہو اور اگر چند ہوں تو ایک کے سینہ کے مقابل اورقریب کھڑا ہو۔ (درمختار،ردالمحتار ج ۱ ص ۸۱۹)

مسئلہ ۴۰: امام نے پانچ تکبیریں کہیں تو پانچویں تکبیر میں مقتدی امام کی متابعت نہ کرے بلکہ چپ کھڑا رہے جب امام سلام پھیرے تو اس کے ساتھ سلام پھیر دے۔ (درمختار ج ۱ ص ۸۱۸،۸۱۷)

مسئلہ ۴۱: بعض تکبیریں فوت ہو گئیں یعنی اس وقت آیا کہ بعض تکبیریں ہو چکی ہیں تو فوراً شامل نہ ہو اس وقت ہو جب امام تکبیر کہے اور اگر انتظار نہ کیا بلکہ فوراً شامل ہو گیا تو امام کے تکبیر کہنے سے پہلے جو کچھ ادا کیا اس کا اعتبار نہیں اگر وہیں موجود تھا مگر تکبیر تحریمہ کے وقت امام کے ساتھ اللہ اکبر نہ کہا خواہ غفلت کی وجہ سے دیر ہوئی یا ہنوز نیت ہی کرتا رہ گیا تو یہ شخص اس کا انتظار نہ کرے کہ امام دوسری تکبیر کہے تو اس کے ساتھ شامل ہو بلکہ فوراً ہی شامل ہو جائے۔ (درمختار ج ۱ ص ۸۱۹، غنیہ)

مسئلہ ۴۲: مسبوق یعنی جس کی تکبیرں فوت ہو گئیں وہ اپنی باقی تکبیریں امام کے سلام پھیرنے کے بعد کہے اور اگر یہ اندیشہ ہو کہ دعائیں پڑھے گا تو پوری کرنے سے پہلے لوگ میت کو کندھے تک اٹھالیں گے تو صرف تکبیرں کہہ لے دعائیں چھوڑ دے۔ (درمختار ج ۱ ص ۸۲۰)

مسئلہ ۴۳: لاحق یعنی جو شروع میں شامل ہوا مگر کسی وجہ سے درمیان کی بعض تکبیریں رہ گئیں مثلاً پہلی تکبیر امام کے ساتھ کہی مگر دوسری اور تیسری جاتی رہیں تو امام کی چوتھی تکبیر سے پیشتر یہ تکبیریں کہہ لے۔ (ردالمحتار ج ۱ ص ۸۲۰)

مسئلہ ۴۴: چوتھی تکبیر کے بعد جو شخص آیا تو جب تک امام نے سلام نہ پھیرا شامل ہو جائے اور امام کے سلام کے بعد تین بار اللہ اکبر کہے۔ (درمختار ج ۱ ص ۸۲۱)

مسئلہ ۴۵: کئی جنازے جمع ہوں تو ایک ساتھ سب کی نماز پڑھ سکتا ہے یعنی ایک ہی نماز میں سب کی نیت کر لے اور افضل یہ ہے کہ سب کی علیحدہ علیحدہ پڑھے ا ورا س صورت میں یعنی جب علیحدہ علیحدہ پڑھے تو ان میں جو افضل ہے اس کی پہلے پڑھے اور اس کی جو اس کے بعد سب میں افضل ہے وعلی ھذا القیاس۔ (درمختار ج ۱ ص ۸۲۲،۸۲۱)

مسئلہ ۴۶: چند جنازے کی نماز ایک ساتھ پڑھائی تو اختیار ہے کہ سب کو آگے پیچھے رکھیں یعنی سب کا سینہ امام کے مقابل ہو یا برابر رکھیں یعنی ایک کی پائنتی یا سرہانے دوسرے کو اورا س دوسرے کی پائنتی یا سرہانے تیسرے کو وعلی ھذا القیاس اگر آگے پیچھے رکھے تو امام کے قریب اس کا جنازہ ہو جو سب میں افضل ہو پھر اس کے بعد جو ا فضل ہو وعلی ھذا القیاس اوراگر فضیلت میں برابر ہوں تو جس کی عمر زیادہ ہو اسے امام کے قریب رکھیں یہ اس وقت ہے کہ سب ایک جنس کے ہوں اور اگر مختلف جنس کے ہوں تو امام کے قریب مرد ہو اس کے بعد لڑکا پھر خنثی پھر عورت پھر مراہقہ یعنی نماز میں جس طرح مقتدیوں کی صف میں ترتیب ہے ا س کا عکس یہاں ہے اور اگر آزاد و غلام کے جنازے ہوں تو آزاد کو امام کے قریب رکھیں گے اگرچہ نابالغ ہو اس کے بعد غلام کو اور کسی ضرورت سے ایک ہی قبر میں چند مردے دفن کریں تو ترتیب عکس کریں یعنی اسے رکھیں جو افضل ہے جب کہ سب مرد یا سب عورتیں ہوں ورنہ قبلہ کی جانب مرد کو رکھیں پھر لڑکے پھر خنثی کو پھر عورت کو پھر مراہقہ کو۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۶۵، درمختار ج ۱ ص ۸۲۲)

مسئلہ ۴۷: ایک جنازہ کی نماز شروع کی تھی کہ دوسرا آگیا تو پہلے کی پوری کر لے اور اگردوسری تکبیر میں دونوں کی نیت کر لی جب بھی پہلے ہی کو ہو گی اور اگر صرف دوسرے کی نیت کی تو دوسرے کی ہو گی اس سے فارغ ہو کر پہلے کی پھر پڑھے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۶۵)

مسئلہ ۴۸: نماز جنازہ میں امام بے وضو ہو گیا اور کسی کو اپنا خلیفہ کیا تو جائز ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۶۵)

مسئلہ ۴۹: میت کو بغیر نماز جنازہ پڑھے دفن کر دیا اور مٹی بھی دے دے گئی تو اب اس کی قبر پر نماز پڑھیں جب تک پھٹنے کا گمان نہ ہو اور مٹی نہ دی گئی ہو تو نکال لیں اور نماز پڑھ کر دفن کریں اور قبر پر نماز پڑھنے میں دنوں کی کوئی تعداد مقرر نہیں کہ کتنے دن تک پڑھی کہ یہ موسم اور زمین اور میت کے جسم و مرض کے اختلاف سے مختلف ہے گرمی میں جلد پھٹے گا اور جاڑے میں بدیر تر یا شور زمین میں جلد خشک اور غیر شور میں بدیر فربہ جسم جلد۔ لا غر دیر میں ۔ (درمختار، ردالمحتار ج ۱ ص ۸۲۷،۸۲۶)

مسئلہ ۵۰: کوئیں میں گرکر مر گیا یا اس کے اوپر مکان گر پڑا اور مردہ نکالا نہ جا سکا تو اسی جگہ اس کی نماز پڑھیں اور دریا میں ڈوب گیا اور نکالا نہ جا سکا تو اس کی نماز نہیں ہو سکتی کہ میت کا مصلی کے آگے ہونا معلوم نہیں ۔ (ردالمحتار ج ۱ ص ۸۲۷)

مسئلہ ۵۱: مسجد میں جنازہ مطلقاً مکروہ تحریمی ہے خواہ میت مسجد کے اندر ہو یا باہر ، سب نمازی مسجد میں ہوں یا بعض کہ حدیث میں نماز جنازہ مسجد میں پڑھنے کی ممانعت آئی۔ (درمختار ج ۱ ص ۸۲۷،۸۲۸) شارع عام اور دوسرے کی زمین پر نماز جنازہ پڑھنا منع ہے۔ (ردالمحتار ج ۱ ص ۸۲۷) یعنی جب کہ مالک زمین منع کرتا ہو۔

مسئلہ ۵۲: جمعہ کے دن کسی کا انتقال ہوا تو اگر جمعہ سے پہلے تجہیز و تکفین ہو سکے تو پہلے ہی کر لیں اس خیال سے روک رکھنا کہ جمعہ کے بعد مجمع زیادہ ہو گا مکروہ ہے۔(ردالمحتار ج ۱ ص ۸۳۳ وغیرہ)

مسئلہ ۵۳: نماز مغرب کے وقت جنازہ آیا تو فرض اور سنتیں پڑھ کر نماز جنازہ پڑھیں یونہی کسی اور فرض نماز کے وقت جنازہ آئے اور جماعت تیار ہو تو فرض و سنت پڑھکر نماز جنازہ پڑھیں بشرطیکہ نماز جنازہ کی تاخیر میں جسم خراب ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۶۴)

مسئلہ ۵۴: نماز عید کے وقت جنازہ آیا تو پہلے عید کی نماز پڑھیں پھر جنازہ پھر خطبہ اور گہن کی نماز کے وقت آئے تو پہلے جنازہ پھر گہن کی۔ (درمختار ج ۱ ص ۷۷۵)

مسئلہ ۵۵: مسلمان مرد یا عورت کا بچہ زندہ پیدا ہوا یعنی اکثر حصہ باہر ہونے کے وقت زندہ تھا پھر مر گیا تو اس کو غسل و کفن دیں گے اور اس کی نماز پڑھیں ورنہ اسے نہلا کر ایک کپڑے میں لپیٹ کر دفن کر دیں گے اس کے لئے غسل و کفن بطریق مسنون نہیں اور نماز بھی اس کی نہیں پڑھی جائے گی یہاں تک کہ سر جب باہر ہوا تھا اس وقت چیختا تھا مگراکثر حصہ نکلنے سے پیشتر مر گیا تو نماز نہ پڑھی جائے۔ اکثر کی مقدار یہ ہے کہ سر کی جانب سے ہو تو سینہ تک اکثر ہے اور پائوں کی جانب سے ہو تو کمر تک۔ (درمختار ج ۱ ص ۸۲۸ تا ۸۳۱ وغیرہما)

مسئلہ ۵۶: بچہ کی ماں یا جنائی نے زندہ پیدا ہونے کی شہادت دی تو اس کی نماز پڑھی جائے مگروراثت کے بارے میں ا ن کی گواہی نامعتبر ہے یعنی بچہ اپنے باپ فوت شدہ کا وارث نہیں قرار دیا جائے نہ بچہ کی وارث اس کی ماں ہو گی یہ اس وقت کہ خود باہر نکلا اور کسی نے حاملہ کے شکم پر ضرب لگائی کہ بچہ مرا ہوا نکلا تو وارث ہو گا اور وارث بنائے گا۔ (ردالمحتار ج۱ ص ۸۲۹،۸۳۱)

مسئلہ ۵۷: بچہ زندہ پیدا ہوا یا مردہ اس کی خلقت تمام ہو یا نا تمام بہرحال اس کا نام رکھا جائے اور قیامت کے دن اس کا حشر ہو گا۔ (درمختار،ردالمحتار ج ۱ ص ۸۳۰)

مسئلہ ۵۸: کافر کا بچہ دارالحرب میں اپنی ماں یا باپ کے ساتھ یا بعد میں قید کیا گیا پھر وہ مر گیا اور اس کے ماں باپ میں سے اب تک کوئی مسلمان نہ ہوا تو اسے نہ غسل دیں گے نہ کفن خواہ دارالحرب ہی میں مرا ہو یا دارالاسلام میں اور اور اگر تنہا دارالاسلام میں اسے لائیں یعنی اس کے ماں باپ میں سے کسی کو قید کر کے نہ لائے ہوں نہ وہ بطور خود بچہ کے لانے سے پہلے ذمی بن کر آئے تو اسے غسل و کفن دیں گے اور اس کی نماز پڑھی جائے گی اگر اس نے عاقل ہو کر کفر اختیار نہ کیا۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۵۹، درمختار ج ۱ ص ۸۳۱ وغیرہما)

مسئلہ ۵۹: کافر کے بچہ کو قید کیا اور ابھی وہ دارالحرب میں ہی تھا کہ اس کا باپ دارالاسلام میں آکر مسلمان ہو گیا تو بچہ مسلمان سمجھا جائے گا یعنی اگرچہ دارالحرب میں مر جائے اسے غسل و کفن دیں گے اس کی نماز پڑھیں گے۔ (ردالمحتار ج ۱ ص ۸۳۱)

مسئلہ ۶۰: بچہ کو ماں باپ کے ساتھ قید کر لائے اور ان میں سے کوئی مسلمان ہو گیا یا وہ بچہ سمجھ دار تھا خود مسلمان ہو گیا تو ان دونوں صورتوں میں وہ مسلمان سمجھا جائے گا۔ (تنویر الابصار ج ۱ ص ۸۳۲)

مسئلہ ۶۱: کافر کے بچہ کو ماں باپ کے ساتھ قید کیا مگر وہ دونوں وہیں دارالحرب میں مر گئے تو اب مسلمان سمجھا جائے مجنون بالغ قید کیا گیا تو اس کا حکم وہی ہے جو بچہ کا ہے ۔ (ردالمحتار ج ۱ ص ۸۳۲)

مسئلہ ۶۲: مسلمان کا بچہ کافرہ سے پیدا ہوا اور وہ اس کی کی منکوحہ نہ تھی وہ بچہ زنا کا ہے تو اس کی نماز پڑھی جائے گی۔ (ردالمحتار)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button