بہار شریعت

کفالت کے متعلق مسائل

کفالت کے متعلق مسائل

اصطلاح شرع میں کفالت کے معنی یہ ہیں کہ ایک شخص اپنے ذمہ کو دوسرے کے ذمہ کے ساتھ مطالبہ میں ضم کر دے یعنی مطالبہ ایک شخص کے ذمہ تھا دوسر ے نے بھی مطالبہ اپنے ذمہ لے لیا خواہ وہ مطالبہ نفس کا ہو یا دین یا عین کا۔ (ہدایہ ، درمختار ج ۴ ص ۲۴۹)

جس کا مطالبہ ہے اس کو طالب و مکفول لہ کہتے ہیں اور جس پر مطالبہ ہے وہ اصیل و مکفول عنہ ہے اور جس نے ذمہ داری کی وہ کفیل ہے اور جس چیز کی کفالت کی وہ مکفول بہ ہے۔ (درمختار ص ۲۵۲)

مسئلہ ۱ : جس مدعی کو یہ ڈر ہو کہ معلوم نہیں مال وصول ہو گا یا نہ ہو گا اور جس مدعی علیہ کو یہ اندیشہ ہو کہ کہیں حراست میں نہ لیا جائوں ان دونوں کو اس اندیشہ سے بچانے کے لئے کفالت کرنا محمود و حسن ہے اور اگر کفیل یہ سمجھتا ہو کہ مجھے خود شرمندگی حاصل ہو گی تو اس سے بچنا ہی احتیاط ہے تو رات مقدس میں ہے کہ کفالت کی ابتدا ملامت ہے اور اوسط ندامت ہے اور آخر غرامت ہے یعنی ضامن ہوتے ہی خود اس کا نفس یا دوسرے لوگ ملامت کریں گے اور جب اس سے مطالبہ ہونے لگا تو شرمندہ ہونا پڑتا ہے اور آخر یہ کہ گرہ سے دینا پڑتا ہے۔ (درمختار ، ردالمحتار ج ۴ ص ۲۵۳)

کفالت کا جواز اور اس کی مشروعیت قرآن و حدیث سے ثابت ہے اور اس کے جواز پر اجماع منعقد ہے۔ قرآن مجید سورۂ یوسف میں ہے۔ وانا بہٖ زعیمٌ میں اس کا کفیل و ضامن ہوں ۔ حدیث میں ہے جس کو ابودائود و ترمذی نے روایت کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کفیل ضامن ہے۔ ایک معاملہ میں حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہا نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی کفالت کی تھی ۔ (فتح القدیر)

مسئلہ ۲ : کفالت کے لئے الفاظ مخصوص ہیں جو بیان کیے جائیں گے اور اس کا رکن ایجاب و قبول ہے یعنی ایک شخص الفاظ کفالت سے ایجاب کرے دوسرا قبول کرے۔ تنہا کفیل کے کہہ دینے سے کفالت نہیں ہو سکتی جب تک مکفول لہ یا اجنبی شخص نے قبول نہ کیا ہو۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مکفول لہ یا اجنبی نے کسی سے کہا کہ تم فلاں کی کفالت کر لو اس نے کفالت کر لی تو یہ کفالت صحیح ہے قبول کی اس صورت میں ضرورت نہیں ۔ اور اگر کفیل نے کفالت کی اور مکفول لہ وہاں موجود نہیں ہے کہ قبول یا رد کرتا تو یہ کفالت مکفول لہ کی اجازت پر موقوف ہے جب خبر پہنچی اس نے قبول کر لی کفالت صحیح ہو گی۔ اور جب تک مکفول لہ نے جائز نہ کی ہو کفیل کفالت سے دست بردار ہو سکتا ہے۔ (عالمگیری ج ۴ ص ۱۳۴)

مسئلہ ۳ : مکفول عنہ کا قبول کرنا یا اس کے کہنے سے کسی شخص کا کفالت کرنا کافی نہیں مثلاً اس نے کسی سے کہا میری کفالت کر لو اس نے کفالت کر لی یا اس نے خودہی کہا کہ میں فلاں شخص کی طرف سے کفیل ہوتا ہوں اور مکفول عنہ نے کہا میں نے قبول کیا یہ کفالت صحیح نہیں ۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۴: مریض نے اپنے ورثہ سے کہا فلاں شخص کا میرے ذمہ یہ مطالبہ ہے تم ضامن ہو جائو۔ ورثہ نے کفالت کر لی یہ کفالت درست ہے۔ اگرچہ مکفول لہ نے قبول نہ کیا ہو بلکہ وہاں موجود بھی نہ ہو۔ مریض کے مرنے کے بعد ورثہ سے مطالبہ ہو گا مگر میت نے ترکہ نہ چھوڑا ہو تو ورثہ ادا کرنے پر مجبور نہیں کیے جا سکتے۔ (عالمگیری ص ۳۴۵)

مسئلہ ۵ : مریض نے کسی اجنبی شخص کو اپنا ضامن بنایا وہ ضامن ہو گیا اگرچہ مکفول لہ موجود نہیں ہے کہ اس کفالت کو قبول کرے یہ کفالت بھی درست ہے لہذا اس اجنبی نے دین ادا کر دیا تو اس کے ترکہ سے وصول کر سکتا ہے۔ (عالمگیری ص ۷)

مسئلہ ۶ : مریض نے ورثہ سے ضمانت کو نہیں کہا بلکہ خود ورثہ ہی نے مریض سے کہا کہ لوگوں کے جو کچھ دیون تمہارے ذمہ ہیں ہم ضامن ہیں اور قرض خواہ وہاں موجود نہیں ہیں کہ قبول کرتے یہ کفالت صحیح نہیں ۔ اور اس کے مرنے کے بعد ورثہ نے کفالت کی تو صحیح ہے۔ (خانیہ ، ہندیہ ص ۱۳۴)

مسئلہ ۷ : مکفول بہ کبھی نفس ہو تا ہے کبھی مال۔ نفس کی کفالت کا یہ مطلب ہے کہ اس شخص کو جس کی کفالت کی حاضر لائے جس طرح آج کل بھی کچہریوں میں ہوتا ہے کہ مدعی علیہ سے کفیل طلب کیا جاتا ہے جو اس امر کا ذمہ دار ہوتا ہے اس پر لازم ہے کہ تاریخ پر حاضر لائے اور نہ لائے تو خود اسے حراست میں رکھتے ہیں ۔

کفالت کے شرائط حسب ذیل ہیں :۔

(۱) کفیل کا عاقل ہونا (۲) بالغ ہونا

مجنوں یا نابالغ نے کفالت کی، صحیح نہیں ۔ مگر جب کہ ولی نے نابالغ کے لئے قرض لیا اور نابالغ سے کہہ دیا کہ تم اس مال کی کفالت کر لو اس نے کفالت کر لی یہ کفالت صحیح ہے اور اس کفالت کا مطلب یہ ہو گا کہ نابالغ کو مال ادا کرنے کی اجازت ہے اور اس صورت میں اس بچہ سے دین کا مطالبہ ہو سکتا ہے اور کفالت نہ کرتا تو صرف ولی سے مطالبہ ہوتا۔ ولی نے نابالغ کو کفالت نفس کا حکم دیا اس نے کفالت کر لی یہ صحیح نہیں ۔ (درمختارص ۳۵۷ ، عالمگیری ص ۱۳۴)

مسئلہ ۸ : نابالغ نے کفالت کی اور بالغ ہونے کے بعد کفالت کا اقرار کرتا ہے تو اس سے مطالبہ نہیں ہو سکتا اور اگر بعد بلوغ اس میں اور طالب میں اختلاف ہوا یہ کہتا ہے میں نے نابالغی میں کفالت کی تھی اور طالب کہتا ہے بالغ ہونے کے بعد کفالت کی ہے تو نابالغ کا قول معتبر ہے۔ (عالمگیری ص ۱۳۴)

(۳) آزاد ہونا۔

یہ شرط نفاذ ہے یعنی اگر غلام نے کفالت کی تو جب تک آزاد نہ ہو اس سے مطالبہ نہیں ہو سکتا اگرچہ وہ ایسا غلام ہو جس کو تجارت کرنے کی اجازت ہو ہاں جب وہ آزاد ہو گیا تو اس کفالت کی وجہ سے جو غلامی کی حالت میں کی تھی اس سے مطالبہ ہو سکتا ہے اور اگر مولی نے اسے کفالت کی اجازت دے دی تو اس کی کفالت صحیح و نافذ ہے جب کہ مدیون نہ ہو۔ (درمختار ص ۲۵۲ ، عالمگیری ص ۱۳۴)

(۴) مریض نہ ہونا۔

یعنی جو شخص مرض الموت میں ہو اور ثلث مال سے زیادہ کی کفالت کرے تو صحیح نہیں ۔ یونہی اگر اس پر اتنا دین ہو جو اس کے ترکہ کو محیط ہو تو بالکل کفالت نہیں کر سکتا۔ مریض نے وارث کے لئے یا وارث کی طرف سے کفالت کی یہ مطلقاً صحیح نہیں ۔ (درمختار ج ۲ ص ۲۵۲ ، ردالمحتار)

مسئلہ ۹ : اگر مریض پر بظاہر دین نہ تھا اس نے کسی کی کفالت کی تھی پھر یہ اقرار کیا کہ مجھ پر اتنا دین ہے جو کل مال کو محیط ہے پھر مر گیا اس کا مال مقرلہ کو ملے گا مکفول لہ کو نہیں ملے گا۔ اور اگر اتنے مال کا اقرار کیا ہے جو کل مال کو محیط نہیں ہے اور دین نکالنے کے بعد جو بچا کفالت کی رقم اس کی تہائی تک ہے تو یہ کفالت درست ہے اور اگر کفالت کی رقم تہائی سے زیادہ ہے تو تہائی کی قدر کفالت صحیح ہے۔ (ردالمحتار ص ۱۱)

مسئلہ ۱۰ : مریض نے حالت مرض میں یہ اقرار کیا کہ میں نے صحت میں کفالت کی ہے یہ اس کے پورے مال میں صحیح ہے بشرطیکہ یہ کفالت نہ وارث کے لئے ہو نہ وارث کی طرف سے ہو۔ (ردالمحتار ص ۱۱ )

(۵) مکفول بہ مقدور التسلیم ہو۔

یعنی جس چیز کی کفالت کی اس کو ادا کرنے پر قادر ہو۔ حدود و قصاص کی کفالت نہیں ہو سکتی۔ جس پر حد واجب ہو اسکے نفس کی کفالت ہو سکتی ہے۔ جب کہ اس حدمیں بندوں کا حق ہو۔ یونہی میت کی کفالت بالنفس نہیں ہو سکتی۔کیوں کہ جب وہ مر چکا تو حاضر کیونکر کر سکتا ہے بلکہ اگر زندگی میں کفالت کی تھی پھر مر گیا تو کفالت بالنفس باطل ہو گئی کہ وہ رہا ہی نہیں جس کی کفالت کی تھی۔

(۶) دین کی کفالت کی تو وہ دین صحیح ہو۔

یعنی بغیر اداکئے یا مدعی کے معاف کئے وہ ساقط نہ ہو سکے۔ بدل کتابت کی کفالت نہیں ہو سکتی کہ یہ دین صحیح نہیں ۔ یونہی زوجہ کے نفقہ کی کفالت نہیں ہو سکتی جب تک قاضی نے اس کا حکم نہ دیا ہو کہ یہ دین صحیح نہیں ۔

(۷) وہ دین قائم ہو۔

لہذا جو مفلس مرا اور ترکہ نہیں چھوڑا اس جو جو دین ہے قابل کفالت نہیں کہ ایسے دین کا دنیا میں مطالبہ ہی نہیں ہو سکتا۔یہ دین قائم نہ رہا۔

مسئلہ ۱۱ : کفالت ایسے الفاظ سے ہوتی ہے جن سے کفیل کا ذمہ دار ہونا سمجھا جاتا ہو مثلاً خود لفظ کفالت ضمانت۔ یہ مجھ پر ہے ۔میری طرف ہے۔ میں ذمہ دار ہوں ۔ یہ مجھ پر ہے کہ اس کو تمہارے پاس لائوں ۔ فلاں شخص میری پہچان کا ہے یہ کفالت بالنفس ہے۔ (عالمگیری ص ۱۳۵)

مسئلہ ۱۲ : تمہارا جو کچھ فلاں پر ہے میں دوں گا یہ کفالت نہیں بلکہ وعدہ ہے۔ تمہارا جو دین فلاں پر ہے میں دوں گا میں ادا کروں گا یہ کفالت نہیں جب تک یہ نہ کہے کہ میں ضامن ہوں یا وہ مجھ پر ہے ۔ (عالمگیری ص ۱۳۵)

مسئلہ ۱۳ : یہ کہا کہ جو کچھ تمہارا فلاں پر ہے میں اس کا ضامن ہوں یہ کفالت صحیح ہے۔ یا یہ کہا جو کچھ تم کواس بیع میں پہنچے گا میں اس کا ضامن ہوں یعنی یہ کہ بیع میں اگر دوسرے کا حق ثابت ہو تو ثمن کا ذمہ دار ہوں یہ کفالت بھی صحیح ہے۔ اس کو ضمان الدرک کہتے ہیں ۔ (درمختار ص ۲۶۴، ردالمحتار)

مسئلہ ۱۴ : کفالت بالنفس میں یہ کہنا ہو گا کہ اس کے نفس کا ضامن ہوں یا ایسے عضو کو ذکر کرے جو کل کی تعبیر ہوتا ہے۔مثلاً گردن ، جزو شائع نصف و ربع کی طرف اضافت کرنے سے بھی کفالت ہو جاتی ہے۔ اگر یہ کہا اس کی شناخت میرے ذمہ ہے تو کفالت نہ ہوئی۔ (درمختار ص ۲۵۳)

مسئلہ ۱۵ : کفالت کا حکم یہ ہے کہ اصیل کی طرف سے اس نے جس چیز کی کفالت کی ہے اس کا مطالبہ اس کے ذمہ لازم ہو گیا یعنی طالب کے لئے حق مطالبہ ثابت ہو گیا وہ جب چاہے اس سے مطالبہ کر سکتا ہے اس کو انکار کی گنجائش نہیں ۔ یہ ضروری نہیں کہ اس سے مطالبہ اسی وقت کرے جب اصیل سے مطالبہ نہ کر سکے بلکہ اصیل سے مطالبہ کر سکتا ہو۔ جب بھی کفیل سے مطالبہ کر سکتا ہے۔ اور اصیل سے مطالبہ شروع کر دیا جب بھی کفیل سے مطالبہ کر سکتا ہے۔ ہاں اگر اصیل سے اس نے اپنا حق وصول کر لیا تو کفالت ختم ہو گئی اب کفیل بری ہو گیا مطالبہ نہیں ہو سکتا۔ (درمختار ص ۲۵۱، ردالمحتار)

مسئلہ ۱۶ : میں نے فلاں کی کفالت کی آج سے ایک ماہ تک تو ایک ماہ کے بعد کفیل بری ہو جائے گا مطالبہ نہیں ہو سکتا ۔ اور فقط اتنا ہی کہا کہ ایک ماہ کفیل ہوں یہ نہ کہا کہ آج سے جب بھی عرف یہی ہے کہ ایک ماہ کی تحدید ہے اس کے بعد کفیل سے تعلق نہ رہا۔ (ردالمحتار ص ۲۵۵)

مسئلہ ۱۷ : کفیل نے یوں کفالت کی کہ جب تو طلب کرے گا تو ایک ماہ کی مدت میرے لئے ہو گی یہ کفالت صحیح ہے۔ اور وقت طلب سے ایک ماہ کی مدت ہو گی اور مدت پوری ہونے پر تسلیم کرنا لازم ہے اب دوبارہ مدت نہ ہو گی۔ (درمختار ص ۲۵۵)

مسئلہ ۱۸ : اس شرط پر کفالت کی کہ مجھ کو تین دن یا دس دن کا خیار ہے کفالت صحیح ہے اور خیار بھی صحیح یعنی جس مدت تک خیار لیا ہے اس کے بعد مطالبہ ہو گا اور اندرون مدت اس کو اختیار ہے کہ کفالت کو ختم کر دے۔ (درمختار ص ۲۵۶ وغیرہ)

مسئلہ ۱۹ : کفیل نے وقت معین کر دیا ہے کہ میں فلاں وقت اس کو حاضر لائوں گا اور طالب نے طلب کیا تو اس وقت معین پر حاضر لانا ضروری ہے اگر حاضر لایا فبہا ورنہ خود اس کفیل کو حبس کر دیا جائے گا۔ یہ اس صورت میں ہے جب حاضر کرنے میں اس نے خود کوتاہی کی ہو اور اگر معلوم ہو کہ اس کی جانب سے کوتاہی نہیں ہے تو ابتدأً حبس نہ کیا جائے بلکہ اس کو اتنا موقع دیا جائے کہ کوشش کرکے لائے۔ (عالمگیری ص ۱۳۶، درمختار ص ۱۵۶)

مسئلہ ۲۰ : کفالت بالنفس کی تھی اور وہ شخص غائب ہو گیا کہیں چلا گیا تو کفیل کو اتنے دنوں کی مہلت دی جائے گی کہ وہاں جا کر لائے اور مدت پوری ہونے پر بھی نہ لایا تو قاضی کفیل کو حبس کرے گا اور اگر یہ معلوم نہ ہو کہ وہ کہاں گیا تو کفیل کو چھوڑ دیا جائے گا۔ جب کہ طالب بھی اس بات کو مانتا ہو کہ وہ لاپتہ ہے اور اگر طالب گواہوں سے ثابت کر دے کہ وہ فلاں جگہ ہے تو کفیل مجبور کیا جائے گا کہ وہاں سے جا کر لائے۔ (عالمگیری ص ۱۳۶، درمختار ص ۲۵۶)

مسئلہ ۲۱ : یہ جو کہا گیا کہ کفیل اس کو وہاں سے جا کر لائے اگر یہ اندیشہ ہو کہ کفیل بھی بھاگ جائے گا تو طالب کو یہ حق ہو گا کہ کفیل سے ضامن طلب کرے اور کفیل کو اس صورت میں ضامن دینا ہو گا۔ (عالمگیری ص ۴)

مسئلہ ۲۲ : کفالت بالنفس میں اگر مکفول بہ مر گیا کفالت باطل ہو گئی ۔ یونہی اگر کفیل مر گیا جب بھی کفالت باطل ہو گئی اس کے ورثہ سے مطالبہ نہیں ہو سکتا۔ طالب کے مرنے سے کفالت باطل نہیں ہوتی اس کے ورثہ یا وصی کفیل سے مطالبہ کر سکتے ہیں ۔ کفیل نے مدعی علیہ کو مدعی کے پاس حاضر کر دیا تو کفالت سے بری ہو گیا مگر شرط یہ ہے کہ ایسی جگہ حاضر لایا ہو جہاں مدعی کو مقدمہ پیش کرنے کا موقع ہو یعنی جہاں حاکم رہتا ہو یعنی اسی شہر میں حاضر لانا ہو گا دوسرے شہر یا جنگل یا گائوں میں اس کے پاس حاضر لانا کافی نہیں ۔ کفیل کے بری ہونے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ ضمانت کے وقت یہ شرط کرے کہ جب میں حاضر لائوں بری ہو جائوں گا یعنی بغیر اس شرط کے بھی حاضر کر دینے سے بری ہو جائے گا۔ (درمختار ، ردالمحتار ص ۲۵۷)

مسئلہ ۲۳ : کفیل کی برأت کے لئے یہ ضروری نہیں کہ جب حاضر کر دے تو مکفول لہ قبول کر لے وہ انکار کرتا ہے اور یہ کہے کہ اسے دوسرے وقت لانا جب بھی کفیل بری الذمہ ہو گیا۔ کفیل کے ذمہ صرف ایک بار حاضر کر دینا ہے۔ ہاں اگر ایسے لفظ سے کفالت کی ہو جس سے عموم سمجھا جاتا ہو مثلاً یہ کہ جب کبھی تو اسے طلب کرے گا میں حاضر لائوں گا تو ایک مرتبہ کے حاضر کرنے سے بری الذمہ نہ ہو گا۔ (درمختار ص ۲۵۷)

مسئلہ ۲۴ : کفالت میں شرط کر دی ہے کہ مجلس قاضی میں حاضر کرے گا اب دوسری جگہ مدعی کے پاس حاضر لانا کافی نہیں ۔ ہاں امیر شہر کے پاس حاضر کر دیا یا امیر کے پاس حاضر کرنے کی شرط تھی اور قاضی کے پاس لایا دوسرے قاضی کے پاس لایا یہ کافی ہے۔ (درمختار ص ۲۵۷ ، عالمگیری ص ۱۳۷)

مسئلہ ۲۵ : مطلوب (مدعی علیہ) نے خود اپنے کو حاضر کر دیا کفیل بری ہو گیا جب کہ اس نے مطلوب کے کہنے سے کفالت کی ہو اور اگر بغیر کہے اپنے آپ ہی کفالت کر لی تو اس کے خود حاضر ہونے سے کفیل بری نہ ہوا۔ کفیل کے وکیل یا قاصد نے حاضر کر دیا کفیل بری ہو گیا مگر ان تینوں میں یعنی خود حاضر ہو گیا یا وکیل یا قاصد نے حاضر کر دیا شرط یہ ہے کہ وہ یہ کہے کہ میں بمقتضائے کفالت حاضر ہوا یا کفیل کی طرف سے پیش کرتا ہوں اوراگر یہ ظاہر نہ کیا تو کفیل بریٔ الذمہ نہ ہوا۔ (درمختار ، ردالمحتار ص ۲۵۸)

مسئلہ ۲۶ : کسی اجنبی شخص نے جو کفیل کی طرف سے مامور نہیں ہے مطلوب کو پیش کر دیا اور کہہ دیا کہ کفیل کی طرف سے پیش کرتا ہوں اگر طالب نے منظور کر لیا کفیل بری ہو گیا ورنہ نہیں ۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۲۷ : کفیل نے یوں کفالت کی کہ اگر میں کل اس کو حاضر نہ لایا تو جو مال اس کے ذمہ ہے میں اس کا ضامن ہوں اور باوجود قدرت اس نے حاضر نہیں کیا تو مال کا ضامن ہو گیا اس سے مال وصول کیا جائے گا اور اگر مطلوب بیمار ہو گیا یا قید کر دیا گیا یا اس کا پتہ نہیں ہے کہ کہاں ہے ان وجوہ سے کفیل نے حاضر نہیں کیا تو مال کا ضامن نہیں ہوا اور اگر مطلوب مر گیا یا مجنوں ہو گیا اس وجہ سے نہیں حاضر کر سکا تو ضامن ہے اور اگر صورت مذکورہ میں خود طالب مر گیا تو اس کے ورثہ اس کے قائم مقام ہیں اور اگر کفیل مر گیا تو اس کے ورثہ سے مطالبہ ہو گا یعنی اس وقت تک وارث نے اس کو حاضر کر دیا بری ہو گیا ورنہ وارث پر لازم ہو گا کہ کفیل کے ترکہ سے دین ادا کرے۔ (درمختار ، ردالمحتار ص ۲۵۸ ، ۲۵۹)

مسئلہ ۲۸ : کفیل نے یہ کہا تھا کہ اگر کل فلاں جگہ اس کو تمہارے پاس نہ لائوں تو مال کا میں ضامن ہوں کفیل اسے لایا مگر طالب کو نہیں پایا اور اس پر لوگوں کو گواہ کر لیا تو کفیل دونوں کفالتوں (کفالت نفس اور کفالت مال) سے بری ہو گیا۔ اور اگر صورت مذکورہ میں طالب وکفیل میں اختلاف ہوا۔ طالب کہتا ہے تم اسے نہیں لائے ۔ کفیل کہتا ہے میں لایا تم نہیں ملے۔ اور گواہ کسی کے پاس نہ ہوں تو طالب کا قول معتبر ہے یعنی کفیل کے ذمہ مال لازم ہو گیا اور اگر کفیل نے گواہوں سے ثابت کر دیا کہ اسے لایا تھا تو کفیل بری ہو گیا۔ (عالمگیری ، درمختار، ردالمحتار)

مسئلہ ۲۹ : کفیل مطلوب کو لایا مگر خود طالب چھپ گیا اس صورت میں قاضی اس کی طرف سے کسی کو وکیل مقرر کر دے گا کفیل اس وکیل کو سپرد کر دے گا۔ اسی طرح مشتری کو خیار تھا اور بائع غائب ہو گیا یا کسی نے قسم کھائی تھی کہ آج میں اپنا قرض ادا کر دوں گا اور قرض خواہ غائب ہو گیا یا کسی نے عورت سے کہا تھا اگر تیرا نفقہ تجھ کو آج نہ پہنچے تو تجھ کو طلاق دے لینے کا اختیار ہے اور عورت کہیں چھپ گئی ان سب صورتوں میں قاضی ان کی طرف سے وکیل مقرر کر دے گا اور وکیل کا فعل مؤکل کا فعل ہو گا۔ (ردالمحتار ص ۲۶۰)

مسئلہ ۳۰ : قاضی یا اس کے امین نے مدعی علیہ سے کفیل طلب کیا جو اس کے حاضر لانے کا ضامن ہو مدعی کے کہنے سے کفیل طلب کیا ہو یا بغیر کہے کفیل پر لازم ہو گا کہ مدعی علیہ کو قاضی کے پاس حاضر لائے مدعی کے پاس لانے سے بری الذمہ نہ ہو گا ہاں اگر قاضی نے یہ کہہ دیا ہو کہ مدعی تم سے کفیل طلب کرتا ہے تم اسکو کفیل دو تو اب مدعی کے پاس لانا ہو گا قاضی کے پاس لانے سے بری الذمہ نہ ہو گا۔ (خانیہ)

مسئلہ ۳۱ : طالب نے کسی کو وکیل کیا کہ مطلوب سے ضامن لے اس کی دو صورتیں ہیں وکیل نے کفالت کی اپنی طرف نسبت کی یا مؤکل کی طرف اگر اپنی طرف نسبت کی تو کفیل سے مطالبہ خود وکیل کرے گا اور مؤکل کی طرف نسبت کی تو مؤکل کے لئے حق مطالبہ ہے مگر کفیل نے اگر مؤکل کے پاس مطلوب کو پیش کر دیا تو دونوں صورتوں میں بری الذمہ ہو گیا اور وکیل کے پاس حاضر لایا تو پہلی صورت میں بری ہو گا دوسری صورت میں نہیں ۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۳۲ : ایک شخص کی کفالت چند شخصوں نے کی اگر یہ ایک کفالت ہو تو ا ن میں کسی ایک کا حاضر لانا کافی ہے سب بری ہو گئے اور اگر متفرق طور پر سب نے کفالت کی ہے تو ایک کا حاضر لانا کافی نہیں یعنی یہ بری ہو گیا دوسرے بری نہیں ہوئے۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۳۳ : کفالت صحیح ہونے کے لئے یہ شرط نہیں کہ وقت کفالت دعوی صحیح ہو بلکہ اگر دعوی میں جہالت ہے اور کفالت کر لی یہ کفالت صحیح ہے مثلاً ایک شخص نے دوسرے پر ایک حق کا دعوی کیا اور یہ بیان نہیں کیا کہ وہ حق کیا ہے یا سو اشرفیوں کا دعوی کیا اور یہ بیان نہیں کیا کہ وہ اشرفیاں کس قسم کی ہیں ۔ ایک شخص نے مدعی سے کہا اس کو چھوڑ دو میں اس کی ذات کا کفیل ہوں اگر میں اس کو کل حاضر نہ لایا تو سو اشرفیاں میرے ذمہ ہیں ۔ یہاں دو کفالتیں ہیں ایک نفس کی دوسری مال کی اور دونوں صحیح ہیں لہذا اگر دوسرے دن حاضر نہ لایا تو اشرفیاں دینی پڑیں گی یا وہ حق دینا ہو گا رہا یہ کہ کیونکر معلوم ہو گا کہ وہ حق کیا ہے یا اشرفیاں کس قسم کی ہیں اس کی صورت یہ ہو گی کہ مدعی اپنے دعوے کی تفصیل میں جو بیان کرے اور اس کو گواہوں سے ثابت کر دے یا مدعی علیہ اس کی تصدیق کرے کفیل کے ذمہ وہ دینا لازم ہو گا اور اگر نہ مدعی نے گواہوں سے ثابت کیا نہ مدعی علیہ نے اس کی تصدیق کی بلکہ دونوں میں اختلاف ہوا تو مدعی کا قول معتبر ہے۔ (درمختار ، ردالمحتار ص ۲۶۰)

مسئلہ ۳۴ : کفالت بالمال کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ نفس مال کا ضامن ہو دوسری یہ کہ تقاضا کرنے کی ذمہ داری کرے ایک شخص کا دوسرے کے ذمہ کچھ مال تھا تیسرے شخص نے طالب سے کہا کہ میں ضامن ہوتا ہوں کہ اس سے وصول کرکے تم کو دوں گا یہ مال کی ضمانت نہیں ہے کہ اپنے پاس سے دیدے بلکہ تقاضا کرنے کا ضامن ہے کہ جب اس سے وصول ہو گا دے گا اس سے مال کا مطالبہ نہیں ہو سکتا۔ زید نے عمرو کے ہزار روپے غصب کر لئے تھے عمرواس سے جھگڑاکر رہا تھا کہ میرے روپے دیدے تیسرے شخص نے کہا لڑو مت میں اس کا ضامن ہوں کہ اس سے لے کر تم کو دوں اس ضامن کہ ذمہ لازم ہے کہ وصول کر کے دے اور اگر زید نے وہ روپے خرچ کر ڈالے تو یہ بھی نہ رہا کہ وہ روپے وصول کر کے دے صرف تقاضا کرنے کا ضامن ہے۔ (ردالمحتار ص ۲۶۳)

مسئلہ ۳۵ : کفالت ا س وقت صحیح ہے جب وہ اپنے ذمہ لازم کرے یعنی کوئی ایسا لفظ کہے جس سے التزام سمجھا جاتا ہو مثلاً یہ کہ میرے ذمہ ہے یا مجھ پر ہے میں ضامن ہوں کفالت کرتا ہوں اور اگر فقط یہ کہا کہ فلاں کے ذمہ جو تمہارا روپیہ ہے اس کو میں تمہیں دوں گا میں تسلیم کروں گا میں وصول کروں گا اس کہنے سے کفیل نہیں ہوا اور اگر ان الفاظ کو تعلیق کے طور پر کہا کہ وہ نہیں دے تو میں دوں گا میں ادا کروں گا یوں کہنے سے کفیل ہو گیا۔ (ردالمحتار ص ۲۶۲)

مسئلہ ۳۶ : اگر کسی وجہ سے اصیل سے اس وقت مطالبہ نہ ہو سکتا ہو اور اس کی کسی نے کفالت کر لی کفالت صحیح ہے اور کفیل سے اسی وقت مطالبہ ہو گا مثلاً غلام محجور (جس کو مالک نے خرید و فروخت کی ممانعت کر دی ہو) اس نے کسی کی چیز ہلاک کر دی یااس پر قرض ہے اس سے مطالبہ آزاد ہونے کے بعد ہو گا مگر کسی نے اس کی کفالت کر لی تو کفیل سے ابھی مطالبہ ہو گا یونہی مدیون کے متعلق قاضی نے مفلسی کا حکم دے دیا تو اس سے مطالبہ مؤخر ہو گیا مگر کفیل سے مؤخر نہیں ہو گا۔ (ردالمحتار ص ۲۶۲)

مسئلہ ۳۷ : مال مجہول کی کفالت بھی صحیح ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کفالت نفس و کفالت مال میں تردید کرے مثلاً یہ کہے کہ میں فلاں شخص کا ضامن یا اس کے ذمہ جو فلاں کا مال ہے اس کا ضامن ہوں اور کفیل کو اختیار ہے دونوں کفالتوں میں سے جس کو چاہے اختیار کرے۔ (درمختار ، ردالمحتار ص ۲۶۳)

مسئلہ ۳۸ : دو شخصوں میں دین مشترک ہے یعنی ان دونوں کا کسی کے ذمہ دین تھا مثلاً دونوں نے ایک مشترک چیز کسی کے ہاتھ بیچی یا ان کے مورث کا کسی کے ذمہ دین تھا یہ دونوں اس میں شریک ہیں ان میں سے ایک دوسرے کے لئے کفالت نہیں کر سکتا پورے دین کا کفیل بھی نہیں ہو سکتا اور دوسرے کے حصہ کا بھی کفیل نہیں ہو سکتا اور اگر دونوں ایک چیز میں شریک تھے اور دونوں نے اپنا اپنا حصہ علیحدہ علیحدہ بیچا ایک عقد میں بیع نہیں کیا تو ایک دوسرے کے لئے کفالت کر سکتا ہے اور پہلی صورتوں میں اگر ایک نے دوسرے کو بقدر اس کے حصہ کے بلا کفالت دیدیا یہ دینا درست ہے مگر اس کا معاوضہ نہیں ملے گا۔ (درمختار)

مسئلہ ۳۹ : عورت کا نفقہ جوزن وشوہر کی باہم رضا مندی سے مقرر ہوا ہے یا قاضی نے اس کو مقرر کر دیا ہے اس کی کفالت بھی ہو سکتی ہے یا قاضی کے حکم سے نفقہ کے لئے عورت نے قرض لیا ہے عورت اس کا مطالبہ شوہر سے کرے گی شوہر کی طرف سے کسی نے کفالت کی یہ کفالت بھی صحیح ہے آئندہ کے نفقہ کی ضمانت بھی درست ہے ایام گذشتہ کا نفقہ باقی ہے مگر اس کا تقرر نہ تراضی سے ہوا نہ حکم قاضی سے اس کی ضمانت صحیح نہیں ۔ (درمختار ، ردالمحتار ص ۲۶۳)

مسئلہ ۴۰ : دین مہر کی کفالت صحیح ہے کہ یہ بھی دین صحیح ہے بدل کتابت کی کفالت صحیح نہیں کہ یہ دین صحیح نہیں اور اگر کسی نے ناواقفی سے ضمانت کر لی اور کچھ ادا بھی کر دیا پھرمعلوم ہوا کہ یہ کفالت صحیح نہ تھی اور مجھ پر ادا کرنا لازم نہ تھا تو جو کچھ ادا کر چکا ہے واپس لے سکتا ہے۔ (درمختار ، ردالمحتار ص ۲۶۴)

مسئلہ ۴۱ : دوسرے کی عورت سے کہا میں ہمیشہ کے لئے تیرے نفقہ کا ضامن ہوں جب تک وہ عورت اس کے نکاح میں رہے گی اس وقت تک یہ کفیل ہے مرنے کے بعد یا طلاق کے بعد صرف عدت تک ضامن ہے اس کے بعد کفالت ختم ہو گئی۔ یہ کہہ دیا کہ فلاں شخص کو ایک روپیہ روزانہ دے دیا کرو اس کا میں ضامن ہوں وہ دیتا رہا ایک کثیر رقم ہوگئی اب کفیل یہ کہتا ہے میرا مطلب یہ نہ تھا کہ تم اتنی رقم کثیر اسے دے دو گے اس کی یہ بات معتبر نہیں کل رقم دینی پڑے گی۔ یونہی دوکاندار سے یہ کہہ دیا کہ اس کے ہاتھ جو کچھ بیچو گے وہ میرے ذمہ ہے تو جو کچھ اس کے ہاتھ بیع کرے گا مطالبہ کفیل سے ہو گا یہ نہیں سنا جائے گا کہ میرا مطلب یہ تھا یہ نہ تھا مگر یہ ضرور ہے کہ مکفول لہ نے اسے قبول کر لیا ہو چاہے قبول کے الفاظ کہے ہوں یا دلالۃً قبول کیا ہو مثلاً اس کے ہاتھ کوئی چیز فی الحال بیع کر دی مگر اس بیع کے بعد دوبارہ یا سہ بارہ بیع کرے گا تو اس کے ثمن کا ضامن نہ ہو گا کہ یہ ہمیشہ کے لئے ضمانت نہیں ہے۔ (درمختار ، ردالمحتار ص ۲۶۴)

مسئلہ ۴۲ : ایک شخص دوسرے سے قرض مانگ رہا تھا اس نے قرض دینے سے انکار کر دیا تیسرے شخص نے یہ کہہ دیا کہ اس کو قرض دیدو میں ضامن ہوں اس نے فوراً قرض دے دیا یہ ضامن ہو گیا کہ اس کا قرض دے دینا ہی قبول کفالت ہے ۔ (ردالمحتار ص ۲۶۴)

مسئلہ ۴۳ : اس کے ہاتھ فلاں چیز بیع کرو اس میں جو کچھ خسارہ ہو گا میں ضامن ہوں یہ کفالت صحیح نہیں ۔ (ردالمحتار ص ۲۶۴)

مسئلہ ۴۴ : یہ کہا کہ فلاں شخص اگر تمہاری کوئی چیز غصب کر لے گا وہ مجھ پر ہے تو کفیل ہو گیا اور اگر یہ کہا کہ جو شخص تیری چیز غصب کرے میں اس کا ضامن ہوں تویہ کفالت باطل ہے یونہی اگر یہ کہا کہ اس گھر والے جو چیز تیری غصب کریں میں ضامن ہوں یہ کفالت باطل ہے جب تک کسی آدمی کا نام نہ لے۔ (درمختار ص ۲۶۴)

مسئلہ ۴۵ : یہ کہا تھا کہ جو چیز فلاں کے ہاتھ بیع کرو گے میں ضامن ہوں یہ کہہ کر اس نے اپنا کلام واپس لیا کہہ دیا میں ضامن نہیں اب اگر اس نے بیچا تو وہ ضامن نہ رہا اس سے مطالبہ نہیں ہو سکتا۔ (درمختار ص ۳۶۵)

مسئلہ ۴۶ : یہ کہتا ہے کہ میں نے ایک شخص کی کفالت کی ہے جس کا نام نہیں جانتا ہوں صورت پہچانتا ہوں یہ اقرار درست ہے اس کے بعد کسی شخص کو لا کر کہتا ہے کہ یہ وہی ہے بری الذمہ ہو جائے گا۔ (درمختار ص ۲۶۷)

مسئلہ ۴۷ : ایک شخص نے بار برداری کے لئے جانور کرایہ پر لیا یا خدمت کے لئے غلام کو اجارہ پر لیا اگر وہ جانور اور غلام معین ہیں یعنی اس جانور پر میرا سامان لادا جائے یا یہ غلام میری خدمت کرے گا اس کی کفالت صحیح نہیں کہ کفیل اس کی تسلیم سے عاجز اور اور غیر معین ہوں تو کفالت صحیح ہے۔ (درمختار ص ۲۶۷)

مسئلہ ۴۸ : مبیع کی کفالت صحیح نہیں یعنی ایک شخص نے کوئی چیز خریدی کفیل نے مشتری سے کہا یہ چیز اگر ہلاک ہو گئی تو میرے ذمہ ہے یہ کفالت صحیح نہیں کہ مبیع ہلاک ہونے کی صورت میں بیع ہی فسخ ہو گئی بائع سے کسی چیز کا مطالبہ نہ رہا پھر کفالت کس چیز کی ہوگی۔ (ردالمحتار ص ۲۶۸)

مسئلہ ۴۹ : معین شے اگر کسی کے پاس ہو اس کی دو صورتیں ہیں ۔ وہ چیز اس کے ضمان میں ہے یا نہیں اگر ضمان میں ہے تو ضمان بنفسہٖ ہے یا ضمان بغیرہ یہ کل تین صورتیں ہوئیں اگر اس کا قبضہ قبضۂ ضمان نہ ہو بلکہ قبضۂ امانت ہو کہ ہلاک ہونے کی صورت میں تاوان دینا نہ پڑے جیسے دویعت (جس کو لوگ امانت کہتے ہیں ) مال مضاربت ، مال شرکت، عاریت، کرایہ کی چیز جو کرایہ دار کے قبضہ میں ہے۔

قبضہ ٔ ضمان جبکہ ضمان بغیرہ ہو اسکی مثال مبیع ہے جبکہ بائع کے قبضہ میں ہو یا مرہون جو مرتہن کے قبضہ میں ہو کہ مبیع ہلاک ہونے سے ثمن جاتا رہتا ہے اور مرہون ہلاک ہو تو دین جاتا رہتا ہے۔

جس کا ضمان بعینہٖ ہے اس کی مثلا وہ مبیع جس کی بیع فاسد ہوئی اور وہ مشتری کے قبضہ میں ہو۔ خریداری کے طور پر نرخ کرکے چیز پر قبضہ کیا۔ مغصوب اور انکے علاوہ وہ چیزیں کہ ہلاک ہونے کی صورت میں ا ن کی قیمت دینی پڑتی ہے اس تیسری قسم میں کفالت صحیح ہے پہلی دونوں قسموں میں کفالت صحیح نہیں ۔ (ردالمحتار ص ۲۶۸) اس قاعدہ ٔ کلیہ سے یہ بات معلوم ہوئی کہ مرہون اور ودیعت اور مبیع کی کفالت صحیح نہیں ہے مگر ان چیزوں کی تسلیم کی کفالت ہو سکتی ہے یعنی بائع یا مرتہن یا امین سے لے کر اس کے قبضہ دلانے کی کفالت صحیح ہے مگر اس کفالت کا محصل یہ ہو گا کہ چیز اگر موجود ہے تو تسلیم کر دے اور ہلاک ہو گئی تو کچھ نہیں ۔ کفیل بری الذمہ ہو گیا۔ (درمختار ، ردالمحتار ص ۲۶۸)

مسئلہ ۵۰ : بیع میں ثمن کی کفالت صحیح ہے جبکہ وہ بیع صحیح ہو کفالت کے بعد یہ معلوم ہوا کہ بیع صحیح نہ تھی اور کفیل نے بائع کو ثمن ادا کر دیا ہے تو کفیل کو اختیار ہے کہ جو کچھ ادا کر چکا ہے بائع سے وصول کرے یا مشتری سے اور اگر پہلے وہ بیع صحیح تھی بعد میں شرط فاسد لگا کر بیع کو فاسد کر دیا تو کفیل نے جو کچھ دیا ہے مشتری سے وصول کرے گا اور اگر مبیع میں استحقاق ہوا جس کی وجہ سے مشتری سے لے لی گئی یا خیار شرط خیارعیب خیار رویت کی وجہ سے بائع کو واپس ہوئی تو کفیل بری ہو گیا کیونکہ ان صورتوں میں مشتری کے ذمہ ثمن دینا نہ رہا لہذا کفالت بھی ختم ہو گئی۔ (درمختار ردالمحتار ج ۴ ص ۲۶۸)

مسئلہ ۵۱ : صبی محجور (جس بچہ کو خریدوفروخت کی ممانعت ہو) نے کوئی چیز خریدی اور کسی نے اس کی طرف سے ثمن کی ضمانت کی یہ کفالت صحیح نہیں کہ جب اصیل سے مطالبہ نہیں ہو سکتا تو کفیل سے کیونکر ہو گا۔ (درمختار ج ۴ ص۲۶۸)

مسئلہ ۵۲ : ایک شخص نے اپنی کوئی چیز بیع کرنے کے لئے دوسرے کو وکیل کیا وکیل نے چیز بیچ ڈالی اور مؤکل کے لئے ثمن کا خود ہی ضامن بنا یہ کفالت صحیح نہیں کہ ثمن پر قبضہ کرنا خود اسی کا کام ہے لہذا اپنے لئے کفالت ہو گئی۔ (درمختار ص ۲۷۰)

مسئلہ ۵۳ : وصی اور ناظر مشتری کی طرف سے ثمن کے ضامن نہیں ہو سکتے کہ ثمن وصول کرنا خود انھیں کا کام ہے اورر اگر یہ مشتری کو ثمن معاف کر دیں تو مشتری سے معاف ہو گیا مگر ان کو اپنے پاس سے دینا ہو گا۔ (درمختار ص ۲۷۰)

مسئلہ ۵۴ : مضارب نے کوئی چیز بیع کی اور رب المال کے لئے مشتری کی طرف سے خود ہی ضامن ہو گیا یہ کفالت بھی صحیح نہیں ۔ (درمختار ص ۲۷۰)

مسئلہ ۵۵ : کفالت کو کسی شرط پر معلق کرنا بھی صحیح ہے مگر یہ ضروری ہے کہ وہ شرط کفالت کے مناسب ہو۔ اس کی تین صورتیں ہیں ایک یہ کہ وہ لزوم حق کے لئے شرط ہو یعنی وہ شرط نہ ہو تو حق لازم ہی نہ ہو مثلاً یہ کہ اگر مبیع میں کوئی حقدار پیدا ہو گیا یا امین نے امانت سے انکار کر دیا یا فلاں نے تمہاری کوئی چیز غصب کر لی یا اس نے تجھے یا تیرے بیٹے کو خطأً قتل کر ڈالا تو میں ضامن ہوں بدلا میں دوں گا یہ وہ شرطیں ہیں کہ اگر پائی نہ جائیں تو مکفول لہ کا حق ہی نہیں لہذا اگر یہ کہا کہ تجھ کو درندہ مار ڈالے تو میں ضامن ہوں یہ کفالت صحیح نہیں کہ درندہ کے مار ڈالنے پر حق لازم ہی نہیں ۔ یونہی اسکے یہاں کوئی مہمان آیا تھا اس کو اپنی سواری کے جانور کا اندیشہ تھا کہ کوئی درندہ نہ پھاڑ کھانے اس نے کہا اگر درندہ نے پھاڑ کھائے تومیں ضامن ہوں یہ کفالت صحیح نہیں ضمان دینا لازم نہیں ۔

دوسری یہ کہ امکان استیفا کے لئے وہ شرط ہو کہ اس کے پائے جانے سے حق کا وصول کرنا آسانی سے ممکن ہو گا مثلاً یہ کہا کہ اگر زید آجائے تو جو کچھ اس پر دین ہے وہ مجھ پر ہے یعنی میں ضامن ہوں اور زید ہی مکفول عنہ ہے یا مکفول عنہ کا مضارب یا امین یا غاصب ہے ظاہر ہے کہ زید کے آنے سے مطالبہ ادا کرنے میں سہولت ہوگی اور اگر زید اجنبی شخص ہوتو اس کے آنے پر معلق کرنا صحیح نہیں ۔

تیسری صورت یہ کہ وہ شرط ایسی ہو کہ اس کے پائے جانے سے حق کا وصول کرنا دشوار ہو جائے مثلاً یہ کہ مکفول عنہ غائب ہو گیا تو میں ضامن ہوں کہ جب وہ نہ ہو گا طالب کیونکر حق وصول کر سکتا ہے لہذا اس نے اس صورت میں اپنے کو کفیل بنایا ہے کہ اس سے وصول نہ ہو سکے۔ یونہی یہ کہا کہ اگر وہ مر جائے اور کچھ مال نہ چھوڑے یا تمہارا مال اس سے بوجہ اس کے مفلس ہو جانے کے نہ وصول ہو سکے یا وہ تمہیں نہ دے تو مجھ پر ہے ان سب صورتوں میں شرط پر معلق کرنا صحیح ہے۔ اور اگر کفیل نے یہ کہا تھا کہ مدیون اگر نہ دے تو میں دوں گا طالب نے مدیون سے مانگا اس نے دینے سے انکار کر دیا کفیل پر اسی وقت دینا واجب ہو گیا اگر یہ شرط کی کہ چھ ماہ تک وہ ادا نہ کر دے تو مجھ پر ہے یہ شرط صحیح ہے بعد اس مدت کے کفیل پر دینا لازم ہو گا۔ (درمختار ، ردالمحتار ص ۲۶۵)

مسئلہ ۵۶ : کفالت کو ایسی شرط پر معلق کیا جو مناسب نہ ہو تو شرط فاسد ہے اور کفالت صحیح ہے مثلاً یہ کہ اگر زید گھر میں گیا تو یہ شرط صحیح نہیں ۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۵۷ : یہ کہا فلاں کے ہاتھ بیع کرو جو بیچو گے اس کا میں ضامن ہوں طالب کہتا ہے میں نے اسکے ہاتھ بیچا اور اس نے قبضہ بھی کر لیا کفیل کہتا ہے کہ نہیں بیچا اور مکفول عنہ کفیل کے قول کی تصدیق کرتا ہے اگر وہ مال موجود ہے کفیل سے مطالبہ ہو گا اور ہلاک ہوگیا تو جب تک طالب گواہوں سے نہ ثابت کرلے مطالبہ نہیں کر سکتا۔ صورت مذکورہ میں اگر کفیل یہ کہے تو نے پانچ سو میں بیع کی اور طالب کہتا ہے ہزار میں بیع کی ہے اور مکفول عنہ طالب کی بات کا اقرار کرتا ہے تو کفیل سے ہزار کا مطالبہ ہو گا۔ (خانیہ)

مسئلہ ۵۸ : کفالت کی کوئی میعاد مجہول ذکر کی اس کی دو صورتیں ہیں اس میں بہت زیادہ جہالت ہے یا تھوڑی سی جہالت ہے اگر زیادہ جہالت ہے مثلاً آندھی چلنا یا مینہ برسنا یہ میعاد باطل ہے اور کفالت صحیح اور اگر تھوڑی جہالت ہے مثلاً کھیت کٹنا یا تنخواہ ملنا تو کفالت بھی صحیح ہے اور میعاد بھی صحیح۔ (فتح)

مسئلہ ۵۹ : تعلیق کی صورت میں اگر مکفول عنہ مجہول ہو کفالت صحیح نہیں اور تعلیق نہ ہومثلاً جو کچھ تمہارا فلاں یا فلاں پر ہے میں اسکا ضامن ہوں یہ کفالت صحیح ہے اور کفیل کو اختیار ہو گا کہ ان دونوں میں جس کو چاہے معین کر لے یونہی اگر یہ کہا کہ فلاں کے نفس کا یا جو کچھ اس کے ذمہ تیرا مال ہے میں اس کاکفیل ہوں یہ کفالت صحیح ہے اور کفیل کو اختیار ہو گا کہ اس کو حاضر کر دے یا مال دیدے۔ (فتح القدیر)

مسئلہ ۶۰ : کفالت بالمال کی دو صورتیں ہیں ۔ مکفول عنہ کے کہنے سے کفالت کی ہے یا بغیر کہے۔ اگر کہنے سے کفالت ہوئی تو کفیل جو کچھ دین ادا کرے گا مکفول عنہ سے لے گا اور اگر بغیر کہے اپنے آپ ہی ضامن ہو گیا تو احسان و تبرع ہے جو کچھ ادا کرے گامکفول عنہ سے نہیں لے سکتا۔ (ہدایہ)

مسئلہ ۶۱ : بعض صورتوں میں مکفول عنہ کے بغیر کہے کفالت کرنے سے بھی اگر ادا کیا ہے تو وصول کر سکتا ہے مثلاًباپ نے نابالغ لڑکے کا نکاح کیا اورمہر کا ضامن ہو گیا اس کے مرنے کے بعد عورت یا اس کے ولی نے والدزوج کے ترکہ میں سے مہر وصول کر لیا تو دیگر ورثہ اپنا حصہ پورا پورا لیں گے اور لڑکے کے حصہ میں سے بقدر مہر کے کم کردیا جائے گا کہ باپ چونکہ ولی تھا اس کا ضامن ہونا گویا لڑکے کے کہنے سے تھا اور اگر باپ مرا نہیں زندہ ہے اس نے خود مہر ادا کیا اور لوگوں کو گواہ کر لیا ہے کہ لڑکے سے وصول کر لوں گا تو وصول کر سکتا ہے ورنہ نہیں دوسری صورت یہ ہے کہ کفیل نے کفالت سے انکار کر دیا مدعی نے گواہوں سے ثابت کر دیا کہ اس نے مکفول عنہ کے حکم سے کفالت کی تھی اس نے دین ادا کیا مکفول عنہ سے واپس لے سکتا ہے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ اس نے کفالت کی اور مکفول لہ نے ابھی قبول نہیں کی تھی کہ مکفول عنہ نے اجازت دیدی یہ کفالت بھی اس کے کہنے سے قرارپائے گی۔ (ردالمحتار ص ۲۷۱)

مسئلہ ۶۲ : اجنبی شخص نے کہہ دیا کہ تم فلاں کی ضمانت کر لو اس نے کر لی اور دین ادا کر دیا مکفول عنہ سے واپس نہیں لے سکتا۔ مکفول عنہ کے کہنے سے کفالت کی ہے اس میں بھی واپس لینے کے لئے یہ شرط ہے کہ مکفول عنہ نے یہ کہہ دیا ہو کہ میری طرف سے کفالت کر لویا میری طرف سے اداکردو یا یہ کہ جو کچھ تم دو گے وہ مجھ پر ہے یا میرے ذمہ ہے اور اگر فقط اتنا ہی کہا ہے کہ ہزار روپے کی مثلاً تم ضمانت یا کفالت کر لو تو واپس نہیں لے سکتا مگر جبکہ کفیل خلیط ہو توا س صورت میں بھی واپس لے سکتا ہے ۔ خلیط سے مراد اس مقام پر وہ شخص ہے جو اس کے عیال میں ہے مثلاً باپ یا بیٹا بیٹی یا اجیر یا شریک بشرکت عنان یا وہ شخص جس سے اس کا لین دین ہو اس کے یہاں مال رکھتا ہو۔ (فتح القدیر ، ردالمحتار ص ۲۷۱)

مسئلہ ۶۳ : ایک شخص نے دوسرے سے کہا فلاں شخص کو ہزار روپے دے دو اس نے دے دیئے، کہنے والے سے واپس نہیں لے سکتامگر جس کو دیے ہیں اس سے لے سکتا ہے۔ (خانیہ)

مسئلہ ۶۴ : صبی محجور نے اس کو کفالت کے لئے کہا اس نے کفالت کر لی اور مال ادا کر دیا واپس نہیں لے سکتا یونہی غلام محجور کی طرف سے اس کے کہنے سے کفالت کی اور ادا کر دیا واپس نہیں لے سکتا جب تک وہ آزاد نہ ہو۔ اور صبی ماذون و غلام ماذون سے واپس ملے گا۔ (درمختار ، ردالمحتار ص ۲۷۱)

مسئلہ ۶۵: غلام نے آقا کی طرف سے کفالت کی اور آزاد ہونے کے بعد ادا کیا واپس نہیں لے سکتا۔ یونہی آقا نے غلام کی طرف سے کفالت کی اور غلام کے آزاد ہونے کے بعد ادا کیا واپس نہیں لے سکتا۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۶۶ : ثمن کی کفالت کی پھر بائع نے کفیل کو ثمن ہبہ کر دیا کفیل نے مشتری سے وصول کیا اس کے بعد مشتری نے مبیع میں عیب دیکھا اس کو واپس کر دیا اوربائع سے ثمن واپس لیا کفیل سے نہ بائع لے سکتاہے نہ مشتری۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۶۷ : کفیل نے جس چیز کی ضمانت کی وہی چیز ادا کی یا دوسری چیز دی مثلاً ہزار روپے کی ضمانت کی اور ہزار روپے ادا کئے یا روپے کی جگہ اشرفیاں یا کوئی دوسری چیز دی۔ پہلی صورت میں جو ادا کیا ہے واپس لے سکتا ہے اور دوسری صورت میں وہ ملے گا جس کا ضامن ہوا تھا یعنی روپے لے سکتا ہے اشرفیوں کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔ اور اگر اسی جنس کی چیزمکفول لہ کو دی مگر اس سے گھٹیا یا بڑھیا دی جب بھی وہی لے سکتا ہے جس کی ضمانت کی کہ اس صورت میں یعنی جبکہ دوسری چیز دی یا گھٹیا یا بڑھیا چیز دی تو یہ خود دین کا مالک ہو گیا اور طالب کے قائم مقام ہوگیا۔ (درمختار وغیرہ)

مسئلہ ۶۸ : ایک شخص نے دوسرے سے کہا تم میرا قرضہ ادا کر دو میں تم کو دے دوں گا اس نے قرضہ میں دوسری چیز دی تو جو چیز دی ہے وہی واپس لے گا جو اس کے ذمہ تھا وہ نہیں لے سکتا کہ یہ دین کا مالک نہیں ۔ (فتح القدیر)

مسئلہ ۶۹ : اصیل پر ہزار روپے تھے کفیل نے طالب سے پانچ سو روپے میں مصالحت کر لی اور دے دیئے، مکفول عنہ سے پانچ سو ہی لے سکتاہے کہ یہ اسقاط یا ابرا ہے لہذا اصیل سے بھی پانچ سو جاتے رہے۔ (ردالمحتار)

مسئلہ ۷۰ : واپسی کے لئے یہ بھی شرط ہے کہ کفیل نے اس وقت دیا ہو کہ اصیل پر واجب الادا ہواور اگر اصیل پر ابھی دینا واجب بھی نہیں ہوا ہے کہ کفیل نے دے دیا تو واپس نہیں لے سکتا مثلاً مستاجر کی طرف سے کسی نے اجرت کی ضمانت کی تھی اور ابھی اجیر نے کام کیا ہی نہیں ہے کہ اجرت واجب ہوتی کفیل نے اسے دیدی واپس نہیں لے سکتا ۔ یونہی اگر کفیل کے دینے سے پہلے خود اصیل نے دین ادا کر دیا اور کفیل کو اس کی اطلاع نہیں ہوئی اس نے بھی دے دیا اصیل سے واپس نہیں لے سکتا کہ جس وقت اس نے دیا ہے اصیل پر دینا واجب ہی نہ تھا بلکہ اس صورت میں دائن سے واپس لے گا۔ (ردالمحتار)

مسئلہ ۷۱ : کفیل نے جس کے لئے کفالت کی تھی (یعنی طالب) وہ مر گیا اور خود کفیل اس کا وارث ہے تو کفیل دین کا مالک ہو گیا مکفول عنہ یعنی مدیون سے مطالبہ کرے گا۔یونہی اگر طالب نے کفیل کو دین ہبہ کر دیا یہ مالک ہو گیا۔ (درمختار)

مسئلہ ۷۲ : ایک شخص نے ہزارو پے میں گھوڑا خریدا مشتری کی طرف سے ثمن کی کسی نے ضمانت کی کفیل نے اپنے پاس سے روپے دے دیئے اور مشتری سے ابھی وصول نہیں کئے تھے بغیر وصول کئے کفیل غائب ہو گیا اور گھوڑے کے متعلق کسی نے اپنا حق ثابت کیا اور لے لیا مشتری چاہتا ہے کہ بائع سے ثمن واپس لے تو جب تک کفیل حاضر نہ ہو جائے بائع سے ثمن نہیں لے سکتا اب کفیل آگیا تو اسے اختیار ہے بائع سے ثمن واپس لے یا مشتری سے۔ اگر بائع سے لے گا توبائع مشتری سے نہیں لے سکتا اور مشتری سے لے گا تو مشتری بائع سے واپس لے گا اور اگر کفیل بائع کو دینے کے بعد مشتری سے وصول کر کے غائب ہوا ہے اس کے بعد حق ثابت ہوا تو مشتری بائع سے ثمن واپس لے گا کفیل کے آنے کا انتظار نہ کرے گا۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۷۳ : مسلمان دارالحرب میں مقید تھا روپیہ دے کر کسی نے اس کو خریدا اگر اس کے بغیر حکم ایسا کیا تو احسان ہے واپس نہیں لے سکتا اور اس کے کہنے سے ایسا کیا تو واپس لے سکتا ہے چاہے اس نے واپس دینے کو کہا ہو یا نہ کہا ہو۔ یونہی اگر کسی نے یہ کہہ دیا کہ میرے بال بچوں پر اپنے پاس سے خرچ کرو یا میرے مکان کی تعمیر میں اپنا رویپہ خرچ کرو اس نے خرچ کیا تو وصول کر سکتاہے۔ (خانیہ)

مسئلہ ۷۴ : ایک شخص نے دوسرے سے کہا فلاں شخص کو میری طرف سے ہزار روپے دے دو اس نے دے دئیے یہ ہبہ حکم دینے والے کی طرف سے ہوا مگر جس نے دئیے وہ نہ کہنے والے سے لے سکتا ہے نہ اس سے جس کو دئیے اور اگر یہ کہا تھا کہ اس کو ہزار روپے دے دو میں ضامن ہوں تو کہنے والے سے وصول کر سکتا ہے۔ (خانیہ)

مسئلہ ۷۵ : ایک شخص نے دوسرے سے کہا فلاں کو میری طرف سے ہزار روپے قرض دے دو اس نے دے دیئے واپس لے سکتا ہے اور اگر صرف اتنا ہی کہا کہ فلاں کو ہزار روپے قرض دے دو تو واپس نہیں لے سکتا اگرچہ وہ اسکا خلیط ہو۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۷۶ : ایک شخص نے دوسرے سے کہا میری قسم کا کفارہ ادا کردو یا میری زکوۃ اپنے مال سے ادا کر دو یا میرا حج بدل کرا دو اس نے یہ سب کر دیا تو کہنے والے سے وصول نہیں کر سکتا۔ (خانیہ)

مسئلہ ۷۷ : ایک نے دوسرے سے کہا مجھ کو ہزار روپے ہبہ کر دو فلاں شخص اس کا ضامن ہے اور وہ شخص بھی یہاں موجود ہے اس نے کہا ہاں اس کے ہاں کہنے پر اس نے دے دیئے یہ ہبہ اس ضامن کی طرف سے ہو گا اور دینے والے کے ہزار روپے اس کے ذمہ قرض ہیں ۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۷۸ : ایک شخص کے دوسرے کے ذمہ ہزار روپے ہیں مدیون نے کسی سے کہا اس کے ہزار روپے ادا کر دو یہ کہتا ہے میں نے ادا کر دیئے مگر دائن انکار کرتا ہے تو قسم کے ساتھ دائن کا قول معتبر ہے اور وہ شخص مدیون سے واپس نہیں لے سکتا اگرچہ مدیون نے اس کی تصدیق کی ہو۔ یونہی مکفول عنہ کے کہنے سے کسی نے کفالت کی کفیل کہتا ہے میں نے مال ادا کر دیا اور مکفول عنہ بھی اسکی تصدیق کرتا ہے مگر طالب انکار کرتا ہے طالب کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہے اس نے قسم کھا کر مکفول عنہ سے مال وصول کر لیا اب کفیل مکفول سے واپس نہیں لے سکتا اور اگر مکفول عنہ بھی انکار کرتا ہے کفیل نے گواہوں سے اپنا دینا ثابت کر دیا تو کفیل واپس لے سکتا ہے اور طالب کے مقابل میں یہی گواہ معتبر ہیں اگرچہ طالب موجود نہ ہو۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۷۹ : ایک شخص نے دوسرے سے کہا فلاں شخص کے میرے ذمہ ہزار روپے ہیں تم اپنی فلاں چیز اس کے ہاتھ ان ہزارروپوں میں بیع کر دو اس نے بیچ دی یہ جائز ہے پھر اگر بیع کے بعد طالب کہتا ہے اس نے میرے ہاتھ بیع کی مگر قبضہ سے پہلے اسی کے پاس چیز ہلاک ہو گئی اور وہ دونوں کہتے ہیں تو نے قبضہ کر لیا تھا اس میں بھی طالب کا قول معتبر ہے اس نے قسم کھا لی تو بیع فسخ مانی جائے گی اور طالب اپنے روپے مدیون سے وصول کرے گا اور جس نے بیع کی تھی وہ مدیون سے کچھ نہیں لے سکتا اور اگر بائع نے گواہوں سے طالب کا قبضہ ثابت کر دیا تو بیع فسخ نہیں مانی جائے گی اور ہزار روپے مدیون سے وصول کرے گا اور طالب مدیون سے کچھ نہیں لے سکتا اگرچہ بائع نے طالب کی عدم موجودگی میں گواہ پیش کئے ہوں جبکہ مدیون بھی منکر ہو۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۸۰ : کفیل جب تک طالب کو ادا نہ کر دے مکفول عنہ سے دین کا مطالبہ نہیں کر سکتا اور اگر مکفول عنہ نے کفیل کے پاس ادا کرنے سے پہلے کوئی چیز رہن رکھ دی یہ رہن رکھنا درست ہے۔ (درمختار ، ردالمحتار)

مسئلہ ۸۱ : طالب یعنی دائن کو اختیار ہے کہ کفیل سے مطالبہ کرے یا اصیل سے یا دونوں سے اگر مکفول لہ نے کفیل کا ملازمہ کیا (یعنی جہاں جاتا ہے طالب بھی اس کے ساتھ جاتا ہے پیچھا نہیں چھوڑتا) تو کفیل اصیل کے ساتھ ایسا ہی کر سکتا ہے اوراگر طالب نے کفیل کو حبس کرا دیا تو کفیل اصیل کو حبس کرا سکتا ہے کہ کفیل کا ملازمہ یا حبس اصیل کی وجہ سے ہے ۔ یہ حکم اس وقت ہے کہ اصیل کے کہنے سے اس نے کفالت کی ہو اور اصیل کا خود کفیل کے ذمہ دین نہ ہو اور اگر کفیل کے ذمہ مطلوب کا دین ہو تو کفیل نہ ملازمہ کر سکتا ہے نہ حبس کرا سکتا ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ اصیل کفیل کے اصول میں نہ ہو اور اگر اصیل اصول میں ہے تو کفیل اس کے ساتھ یہ فعل نہیں کر سکتا۔ کفیل کا ملازمہ یا حبس اس وقت ہو سکتا ہے کہ اصیل طالب کے اصول میں سے نہ ہو ورنہ اصول کے ملازمہ و حبس کا سبب خود یہی طالب ہوا اور کوئی شخص اپنے باپ ماں دادا دادی وغیرہ اصول کے ساتھ یہ حرکت کرنے کا مجاز نہیں ۔ (درمختار ، ردالمحتار)

مسئلہ ۸۲ : کفیل کا دین ادا کر دینا کفیل و اصیل دونوں کی برأت کا سبب ہے یعنی اب طالب کا کسی سے تقاضا نہ رہا اصیل سے نہ کفیل سے مگر جبکہ کفیل نے اپنے مدیون پر حوالہ کر دیا اور یہ شرط کر دی کہ فقط میں بری ہوں تو اصیل بری نہ ہوا اور اگر شرط نہ کی تو اس صورت میں سبھی دونوں دین سے بری ہو گئے۔ (درمختار)

مسئلہ ۸۳ : اصیل نے دین ادا کر دیا تو کفیل بھی بریٔ الذمہ ہو گیا اب کفیل سے بھی مطالبہ نہیں ہو سکتا۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۸۴ : طالب نے اصیل سے دین معاف کر دیا کفیل بھی بری ہو گیا مگر یہ ضرور ہے کہ مکفول عنہ نے قبول بھی کر لیا ہو اور اگر اصیل نے اس کے معاف کرنے پر نہ رد کیا نہ قبول کیا اور مر گیا تو اس کامرنا قبول کے قائم ہو گیا یعنی دین معاف ہو گیا اور کفیل بری ہو گیا اور اگر طالب نے معاف کر دیا مگر اصیل نے انکار کر دیا معافی کو منظور نہیں کیا تو معافی رد ہو گئی اور دین بدستور قائم رہا۔ یونہی اگر طالب نے اصیل کو دین ہبہ کر دیا اور قبول سے پہلے اصیل مر گیا بری ہو گیا اور اصیل نے ہبہ کو رد کر دیا تو رد ہو گیا اور دین بدستور باقی رہا کوئی بری نہ ہوا۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۸۵ : اصیل کے مرنے کے بعد طالب نے دین معاف کر دیا یا ہبہ کر دیا اور ورثہ نے قبول کر لیا تو معافی اور ہبہ صحیح ہیں اور رد کر دیا تو رد ہو گیا۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۸۶ : طالب نے اصیل کو مہلت دے دی کفیل کے لئے بھی مہلت ہو گئی اس سے بھی اندرون میعاد مطالبہ نہیں ہو سکتا۔ (درمختار)

مسئلہ ۸۷ : طالب نے کفیل کو بری کر دیا یعنی اس سے مطالبہ معاف کر دیا یا اس کو مہلت دے دی تو اصیل نہ بری ہو گا نہ اس کے لئے مہلت ہو گی اور اصیل اگرچہ بری نہ ہوا مگر کفیل کو یہ حق نہیں کہ اصیل سے کچھ مطالبہ کر سکے بخلاف اس صورت کے کہ طالب نے کفیل کو ہبہ یاصدقہ کر دیا ہو تو چونکہ طالب کا مطالبہ ساقط ہو گیا کفیل اصیل سے بقدر دین وصول کرے گا۔ (درمختار ،ردالمحتار)

مسئلہ ۸۸ : کفیل کو معاف کر دیا تو چاہے کفیل اس کو قبول کرے یا نہ کرے بہرحال معافی ہو گئی البتہ اگر اس کو ہبہ یا صدقہ کر دیا ہے تو قبول کرنا ضروری ہے۔ کفیل کو مہلت دی مگر ا س نے منظور نہیں کی تو مہلت کفیل کے لئے بھی نہ ہوئی۔ (درمختار ، ردالمحتار)

مسئلہ ۸۹ : ایک شخص پر دین واجب الادا ہے یعنی فوری دینا ہے میعاد نہیں ہے اس کی کفالت کسی نے یوں کی کہ اتنے دنوں کے بعد دینے کا میں ضامن ہوں تو یہ میعاد اصیل کے لئے بھی ہو گئی یعنی اس سے بھی مطالبہ اتنے دنوں کے لئے مؤخر ہو گیا (ہدایہ) اور اگر کفیل نے میعاد کو اپنے ہی لئے رکھا مثلاً یہ کہا کہ مجھ کو اتنے دنوں کی مہلت دو یا طالب نے وقت کفالت خصوصیت کے ساتھ کفیل کو مہلت دی ہے تو اصیل کے لئے مہلت نہیں ۔ یونہی قرض کی کفالت میعاد کے ساتھ کی تو کفیل لئے میعاد ہو گئی مگر اصیل کے لئے نہیں ہوئی کہ اگرچہ کفالت میں میعاد ہے مگر جس پر قرض ہے اس کے لئے میعاد ہو نہیں سکتی۔ (ردالمحتار)

مسئلہ ۹۰ : کفیل سے دین کا مطالبہ کیا اس نے کہا صبر کرو اصیل کو آجانے دو طالب نے کہا مجھے تم سے تعلق ہے اس سے کوئی تعلق نہیں اس کہنے سے اصیل بری نہ ہوا۔ (درمختار)

مسئلہ ۹۱ : دین میعادی تھا اس کی کفالت کی تھی کفیل مر گیا توکفیل کے حق میں میعاد باقی نہ رہی اور اصیل کے حق میں میعاد بدستور ہے یعنی مکفول لہ کفیل کے ورثہ سے ابھی مطالبہ کر سکتا ہے اور اس کے ورثہ نے دین ادا کر دیا تو اصیل سے اس وقت واپس لینے کے حقدار ہوں گے جب میعاد پوری ہو جائے۔ یونہی اگر اصیل مر گیا تو اس کے حق میں میعاد ساقط ہو گئی کہ اس کے ترکہ سے مرنے کے بعد ہی وصول کر سکتا ہے اور کفیل کے حق میں میعاد بدستور باقی ہے کہ اندرون میعاد اس سے مطالبہ نہیں ہو سکتا اور اصیل و کفیل دونوں مر گئے تو طالب کو اختیار ہے جس کے ترکہ سے چاہے دین وصول کر لے میعاد تک انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ۔ (درمختار)

مسئلہ ۹۲ : میعادی دین کو کفیل نے میعاد پوری ہونے سے پہلے ادا کر دیا تو اصیل کے حق میں میعاد بدستور ہے یعنی اس سے اندرون میعاد واپس نہیں لے سکتا۔ (ردالمحتار)

مسئلہ ۹۳ : جس دین کی کفالت کی وہ ہزار روپے تھا اورپانچ سو میں مصالحت ہوئی اس کی چار صورتیں ہیں ۔ (۱) یہ شرط ہوئی کہ اصیل و کفیل دونوں پانچ سو سے بریٔ الذمہ ہیں یا (۲) یہ کہ اصیل بری یا (۳) سکوت رہا اس کا ذکر ہی نہیں کہ کون بری ان تینوں صورتوں میں باقی پانچ سو سے دونوں بری ہو گئے اور (۴) اگر فقط کفیل کا بری ہونا شرط کیا یعنی کفیل سے پانچ سو ہی کا مطالبہ ہو گا تو تنہا کفیل پانچ سو سے بری ٔ الذمہ ہو گا اصیل پر پورے ہزار کا مطالبہ رہے گا لہذا کفیل نے پانچ سو روپے دے دیئے تو باقی کا مطالبہ اصیل سے کرے گا اور کفیل نے اس کے کہنے سے کفالت کی ہے تو پانچ سو اصیل سے واپس لے۔ (درمختار ، ردالمحتار)

مسئلہ ۹۴ : طالب نے کفیل سے یہ مصالحت کی کہ اگر تم مجھ کو اتنا دو تو میں تم کو کفالت سے بری کر دں گا یعنی کفالت سے بری کرنے کا معاوضہ لینا چاہتا ہے یہ صلح صحیح نہیں اور کفیل پر اس مال کا دینا لازم نہیں پھر اگر وہ کفالت بالنفس تھی تو کفالت باقی ہے کفیل بری نہیں اور اگر کفالت بالمال تھی تو کفالت جاتی رہی۔ (ردالمحتار)

مسئلہ ۹۵ : ایک شخص نے دوسرے کی کفالت بالنفس کی طالب کہتا ہے کہ اس پر میرا کوئی حق نہیں اس کہنے سے کفیل بری نہیں ہے بلکہ اس شخص کو حاضر لانا ہو گا اور اگر طالب نے یہ کہا کہ اس پرکوئی میرا حق نہیں نہ میری جانب سے نہ دوسرے کی جانب سے ولایت ، وصایہ، وکالت کسی اعتبار سے میرا حق نہیں کفیل بری ہو گیا۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۹۶ : یہ کہا کہ فلاں شخص پر جو ہزار روپے ہیں ان کا میں ضامن ہوں پھر اس شخص مکفول عنہ نے گواہوں سے ثابت کر دیا کہ کفالت سے پہلے ہی ادا کر چکا ہے اصیل بری ہو گیا مگر کفیل بری نہ ہوا اس کو دینا پڑے گا۔ اور گواہوں سے یہ ثابت کیا ہے کہ کفالت کے بعد ادا کر دیا تو دونوں بری ہو گئے۔ (بحر)

مسئلہ ۹۷ : کفیل نے دین ادا کرنے سے پہلے اصیل کو دین سے بری کر دیا یہ صحیح ہے یعنی اس کے بعد دین ادا کر کے اصیل سے واپس نہیں لے سکتا۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۹۸ : طالب نے کفیل سے یہ کہا کہ میں نے تم کو بری کر دیا وہ بری ہو گیا اس سے یہ ثابت نہیں ہو گا کہ کفیل نے طالب کو دین ادا کر کے برأت حاصل کی ہے لہذا کفیل کو اصیل سے واپس لینے کا حق نہ ہو گا اور طالب کو اصیل سے دین وصول کرنے کا حق رہے گا۔ اور اگر طالب نے یہ کہا کہ تو بری ہو گیااس کا مطلب یہ ہو گا کہ دین ادا کر کے بری ہوا ہے یعنی میں نے دین وصول پا لیا اس صورت میں کفیل اصیل سے لے سکتاہے اور طالب اصیل سے نہیں لے سکتا۔ (ہدایہ وغیرہ) یہ اس وقت ہے جب طالب موجود نہ ہو غائب ہو اور اگر موجود ہو تو اس سے دریافت کیا جائے کہ اس کلام کا کیا مطلب ہے وہ کہے میں نے دین وصول پا لیا تو دونوں صورتوں میں کفیل رجوع کر سکتا ہے اور یہ کہے کہ کفیل کو میں نے معاف کر دیا تو دونوں صورتوں میں رجوع نہیں کر سکتا۔ (درمختار)

مسئلہ ۹۹ : طالب نے دستاویز اس مضمون کی لکھی کہ کفیل نے جن روپوں کی کفالت کی تھی اس سے بری ہو گیا تو یہ دین وصول پا لینے کا اقرار ہے۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۱۰۰ : ایک شخص نے مہر کی کفالت کی اگر دخول سے پہلے عورت کی طرف سے کوئی ایسی بات ہوئی جس کی وجہ سے جدائی ہو گئی تو کل مہر ساقط اورکفیل بالکل بری اور اگر شوہر نے قبل دخول طلاق دے دی تو آدھا مہر ساقط اور کفیل بھی آدھے سے بری ۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۱۰۱ : عورت نے مہر کے بدلے شوہر سے خلع کیا اور اس عورت کا شوہر کے ذمہ دین ہے کسی نے اس دین کی کفالت کر لی اس کے بعد ان دونوں نے پھر آپس میں نکاح کر لیا تو کفیل بری نہ ہوا عورت اس سے مطالبہ کر سکتی ہے۔ (درمختار)

مسئلہ ۱۰۲ : کفیل کی برأت کو شرط پر معلق کیا اگر وہ شرط ایسی ہے جس میں طالب کا فائدہ ہے مثلاً اگر تم اتنا دے دو بریٔ الذمہ ہو جائو گے یہ تعلیق صحیح ہے اور اگر وہ شرط ایسی نہیں ہے مثلاً جب کل کا دن آئے گا تم بری ہو جائو گے یہ تعلیق باطل ہے یعنی بری نہ ہو گا بدستور کفیل رہے گا۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۱۰۳ : اصیل کی برأت کو شرط پر معلق کرنا صحیح نہیں یعنی وہ بری نہیں ہو گا۔ طالب نے مدیون سے کہا جو کچھ میرا مال تمہارے ذمہ ہے اگر مجھے وصول نہ ہوا اور تم مر گئے تو معاف ہے اور وہ مر گیا معاف نہ ہوا اور اگر یہ کہا کہ میں مر جائوں تو معاف ہے اور طالب مر گیا معاف ہو گیا کہ یہ وصیت ہے۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۱۰۴ : کفیل بالنفس کی برأت کو شرط پر معلق کیا اس کی تین صورتیں ہیں ۔

(۱) یہ شرط ہے کہ تم دس روپے دے دو بری ہو اس صورت میں برأت ہو گئی اور شرط باطل اور (۲) اگر وہ مال کا بھی کفیل ہے طالب نے یہ کہا کہ مال اگر دے دو تو کفالت بالنفس سے بری ہو اس میں برأت اور شرط دونوں جائز کہ مال دیدے گا بری ہو جائے گا۔ (۳) کفیل بالنفس سے یہ شرط کی کہ مال دے دو اور اصیل سے وصول کر لو اس صورت میں برأت بھی نہ ہوئی اور شرط بھی باطل۔ (خانیہ)

مسئلہ ۱۰۵ : اصیل نے کفیل کو مال دے دیا کہ طالب کو ادا کر دے او ر وہ کفیل طالب کے کہنے سے ضامن ہوا تھااب اصیل وہ مال کفیل سے واپس نہیں لے سکتا اگرچہ کفیل نے طالب کو ادا نہ کیا ہو۔ یونہی اصیل کو یہ حق بھی نہیں کہ کفیل کو ادا کرنے سے منع کر دے یہ اس صورت میں ہے جب اصیل نے کفیل کو بروجہ قضا دین کا روپیہ دیا ہو یعنی یہ کہہ کر کہ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں طالب اپنا حق تم سے نہ وصول کرے لہذا قبل اس کے کہ تم اسے دو میں تم کو دیتا ہوں اور اگر کفیل کو بروجہ رسالت دیا ہو یعنی اس کے ہاتھ طالب کے پاس بھیجا ہے تو واپس بھی لے سکتا ہے اور منع بھی کر سکتا ہے اور اگر وہ شخص اس کے بغیر کہے کفیل ہو گیا ہے اس نے طالب کو دینے کے لئے اسے روپے دے دیئے تو جب تک ادا نہیں کیا ہے واپس بھی لے سکتا ہے اور اسے دینے سے منع بھی کر سکتا ہے۔ (درمختار ، ردالمحتار)

مسئلہ ۱۰۶ : اصیل نے کفیل کو دیا تھا مگر اس نے طالب کو نہیں دیا اور اصیل نے خود طالب کودیا تو کفیل سے واپس لے سکتا ہے کہ اب اس کو روکنے کا کوئی حق نہ رہا۔ (ردالمحتار)

مسئلہ ۱۰۷ : کفیل نے اصیل سے روپیہ وصول کیااور طالب کو نہیں دیا اس روپے سے کچھ منفعت حاصل کی یہ نفع اس کے لئے حلال ہے کہ بروجہ قضا جو کچھ کفیل وصول کرے گا اس کا مالک ہو جائے گا اور اگر اصیل نے اس کے ہاتھ طالب کے یہاں بھیجے ہیں اور اس نے نہیں دیئے بلکہ تصرف کر کے نفع اٹھایا تو یہ نفع خبیث ہے کہ اس تقدیرپر وہ روپیہ اس کے پاس امانت تھا اس کو تصرف کرنا حرام تھا اس نفع کو صدقہ کر دینا واجب ہے۔ (درمختار)

مسئلہ ۱۰۸ : اس صورت میں کہ کفیل نے اصیل سے چیز لی اور طالب کو نہیں دی اور اس سے نفع اٹھایا اگر وہ چیز ایسی ہو جو متعین کرنے سے معین ہو جاتی ہے مثلاً اصیل پر گیہوں واجب تھے اس نے کفیل کو دیئے کفیل نے ان میں نفع حاصل کیا تو بہتر یہ ہے کہ نفع اصیل کو واپس کر دے اور اصیل کے لئے وہ نفع حلال ہے اگرچہ مالدار ہو اور اگر وہ چیز نقد کی قسم سے ہو مثلاً روپیہ اشرفی تو نفع واپس کرنا مندوب بھی نہیں ۔ (درمختار)

مسئلہ ۱۰۹ : اصیل نے کفیل سے کہا تم بیع عینہ کرو اور جو کچھ خسارہ ہو گا وہ میرے ذمہ ہے (یعنی دس روپے کی مثلاً ضرورت ہے کفیل نے کسی تاجر سے مانگے وہ اپنے یہاں سے کوئی چیز جس کی واجبی قیمت دس روپے ہے کفیل کے ہاتھ پندرہ روپے میں بیع کر دی کفیل اس کو بازار میں دس روپے میں فروخت کردیتا ہے اس صورت میں تاجر کو پانچ روپے کا نفع ہو جاتا ہے اور کفیل کو پانچ روپے کا خسارہ ہوتا ہے اس کو اصیل کہتا ہے کہ میرے ذمہ ہے) کفیل نے اس کے کہنے سے بیع عینہ کی تو تاجر سے جو چیز نقصان کے ساتھ خریدی ہے اس کا مالک کفیل ہے اور نقصان بھی کفیل ہی کے سر رہے گا اصیل سے اس کا مطالبہ نہیں کر سکتا کیوں کہ اصیل کے لفظ سے اگر خسارہ کی ضمانت مراد ہے تو یہ باطل اس کی ضمانت نہیں ہو سکتی اور اگر توکیل قرار دی جائے تو یہ بھی صحیح نہیں کہ مجہول کی توکیل نہیں ہوتی۔ (درمختار)

مسئلہ ۱۱۰ : یوں کفالت کی کہ جو کچھ اس کے ذمہ لازم ہو گا یا ثابت ہو گا یا قاضی جو کچھ اس پر لازم کر دے گا میں اس کی کفالت کرتا ہوں اور اصیل غائب ہو گیا مدعی نے قاضی کے سامنے کفیل کے مقابلے میں گواہ پیش کئے کہ اس کے ذمہ میرا اتنا ہے تو جب تک اصیل حاضر نہ ہو گواہ مقبول نہیں جب اصیل حاضر ہو گا اس کے مقابلے میں گواہ سنے جائیں گے اور فیصلہ ہو گا اس کے بعد کفیل سے مطالبہ ہو گا۔ (درمختار)

مسئلہ ۱۱۱ : مدعی نے یہ دعوی کیا کہ فلاں شخص جو غائب ہے اس کے ذمہ میرا اتنا روپیہ ہے اور یہ شخص اس کاکفیل ہے اور اس کو گواہوں سے ثابت کر دیا اس صورت میں صرف کفیل کے مقابلے میں فیصلہ ہو گا اور اگر مدعی نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ یہ اس کے حکم سے ضامن ہوا تھا تو کفیل و اصیل دونوں کے مقابلہ میں فیصلہ ہو گا اور کفیل کو اصیل سے واپس لینے کا حق ہو گا۔ (درمختار)

مسئلہ ۱۱۲ : کفالت بالدرک (یعنی بائع کی طرف سے اس بات کی کفالت کہ اگر مبیع کا کوئی دوسرا حقدار ثابت ہوا تو ثمن کامیں ذمہ دار ہوں ) یہ کفیل کی جانب سے تسلیم ہے کہ مبیع بائع کی ملک ہے لہذا جس نے کفالت کی وہ خود اس کا دعوی نہیں کر سکتا کہ مبیع میری ملک ہے جس طرح کفیل کو شفعہ کرنے کا حق نہیں کہ ا س کاکفیل ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ مشتری کے خریدنے پر راضی ہے۔یونہی جس دستاویز میں یہ تحریر ہے کہ میں نے اپنی ملک فلاں کے ہاتھ بیع کی یا میں نے بیع بات نافذ فلاں کے ہاتھ کی اس دستاویز پر کسی نے اپنی گواہی لکھی یا قاضی کے یہاں بیع کی شہادت دی ان سب صورتوں میں بائع کی ملک کا اقرار ہے کہ یہ شخص اب اپنی ملک کا دعوی نہیں کر سکتا اور اگر دستاویز میں فقط اتنی بات لکھی ہے کہ فلاں شخص نے یہ چیز بیع کی بائع نے اس میں اپنی ملک کا ذکر نہیں کیا ہے نہ یہ کہ بیع بات نافذ ہے ایسی دستاویز پر گواہی ثبت کرنا بائع کی ملک کا اقرار نہیں یا اس نے اپنی گواہی کے الفاظ یہ تحریر کئے کہ عاقدین نے بیع کااقرار کیا میں اس کا شاہدہوں یہ بھی ملک بائع کا اقرار نہیں یعنی ایسی شہادت تحریر کرنے کے بعد بھی اپنی ملک کادعوی کر سکتا ہے۔ (درمختار)

مسئلہ ۱۱۳ : کفالت بالدرک میں محض استحقاق سے ضامن سے مؤاخذہ نہیں ہو گا جب تک قاضی یہ فیصلہ نہ کر دے کہ مبیع مستحق کی ہے اور بیع کو فسخ نہ کر دے بیع فسخ ہونے کے بعد بیشک کفیل سے ثمن کا مطالبہ ہو سکتا ہے۔ (درمختار)

مسئلہ ۱۱۴ : استحقاق مبطل (جس کا ذکر باب الاستحقاق میں ہو چکا ہے) مثلاً دعویٔ نسب یا یہ دعوی کہ جو زمین خریدی ہے یہ وقف ہے یا یہ پہلے مسجد تھی ان میں اگرچہ قاضی یہ فیصلہ نہ دیا ہو کہ ثمن مکفول عنہ (بائع) سے واپس لیا جائے مشتری کفیل سے وصول کر سکتا ہے۔ (ردالمحتار)

مسئلہ ۱۱۵ : ایک نے دوسرے سے کہا تم اپنی فلاں چیز اس کے ہاتھ ایک ہزار میں بیع کر دو میں اس ہزار کا ضامن ہوں اس نے دو ہزار میں بیع کی کفیل ایک ہی ہزار کا ضامن ہے اور پانچ سو بیع کی تو کفیل پانچ سو کا ضامن ہے۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۱۱۶ : یہ کہا کہ جو کچھ تیرا فلاں کے ذمہ ہے میں اس کا ضامن ہوں اور اگر گواہوں سے ثابت ہوا کہ اس کے ذمہ ہزار روپے ہیں تو کفیل سے ہزار کا مطالبہ ہو گا اور اگر گواہوں سے ثابت نہ ہوا تو کفیل قسم کے ساتھ جتنے کا اقرار کرے اسی کا مطالبہ ہو گا اور اگر مکفول عنہ سے زیادہ کا اقرار کرتا ہے تو یہ زائد کفیل سے نہیں لیا جا سکتا مکفول عنہ سے لیا جائے گا۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۱۱۷ : کفیل نے حالت صحت میں یہ کہا جو کچھ فلاں شخص اپنے ذمہ فلاں کے لئے اقرار کر لے اس کا میں ضامن ہوں اس کے بعد کفیل بیمار ہو گیا یعنی مرض الموت میں مبتلا ہو گیا اور اس کے پاس جو کچھ ہے وہ سب دین میں مستغرق ہے مکفول عنہ نے طالب کے لئے ایک ہزار کا اقرار کیا کفیل کے ذمہ ایک ہزار لازم ہو گئے ہیں ۔ یونہی اگر کفیل کے مرنے کے بعد ایک ہزار کا اقرار کیا تو یہ کفیل کے ذمہ لازم ہو گئے مگر چونکہ کفیل کے پاس جو کچھ مال تھا وہ دین میں مستغفرق تھا لہذا مکفول لہ دیگر قرض خواہوں کی طرح کفیل کے ترکہ سے اپنے حصہ کی قدر وصول کرے گا یہ نہیں ہو سکتا کہ یہ کہہ دیا جائے کہ دین سے بچی ہوئی کوئی جائداد نہیں ہے لہذا مکفول لہ کو نہیں ملے گا صرف قرض خواہ لیں گے۔ (خانیہ)

مسئلہ ۱۱۸ : ایک شخص نے دوسرے کی طرف سے کفالت کی اور یہ شرط کہ کہ تم اپنی فلاں چیز میرے پاس رہن رکھ دو مگر طالب سے یہ نہیں کہا کہ میں نے اس شرط پر کفالت کی ہے۔ اب مکفول عنہ اپنی چیز رہن رکھنا نہیں چاہتا تو کفیل کو کفالت فسخ کرنے کا اختیار نہیں طالب کا مطالبہ دینا پڑے گا کیوں کہ رہن کی شرط اگر تھی تو مکفول عنہ سے تھی طالب کو اس شرط سے تعلق نہیں ہاں اگر طالب سے کہہ دیا تھا کہ تیرے لئے اس شرط پر کفالت کرتا ہوں کہ مکفول عنہ اپنی فلاں چیز میرے پاس رہن رکھے تو بیشک رہن نہ رکھنے کی صورت میں کفالت کو فسخ کرسکتا ہے اور اب طالب اس سے مطالبہ نہیں کر سکتا۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۱۱۹ : کفیل نے یوں کفالت کی کہ مکفول عنہ کی جو امانت میرے پاس ہے میں اس سے تمہارا دین ادا کر دوں گا یہ کفالت صحیح ہے اور امانت سے اس کو دین ادا کرنا ہو گا اور امانت اس کے پاس سے ہلاک ہو گئی تو کفالت بھی ختم ہو گئی کفیل سے مطالبہ نہیں ہو سکتا۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۱۲۰ : یوں ضمانت کی تھی کہ اس چیز کے ثمن سے دین ادا کرے گا اور وہ چیز کفیل ہی کی ہے مگر بیع کرنے سے پہلے ہی وہ چیز ہلاک ہو گئی توکفالت باطل ہو گئی اور اگر وہ چیز سو روپے میں بیچی اور اس کی واجبی قیمت بھی سو ہی ہے اور دین ہزار روپے ہے تو کفیل کو سوہی دینے ہوں گے۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۱۲۱ : سو روپے کی ضمانت کی او ریہ کہہ دیا کہ پچاس یہاں دے گا اور پچاس دوسرے شہر میں مگر میعاد نہیں مقرر کی ہے طالب کو اختیار ہے جہاں چاہے وصول کر سکتا ہے اوراگر وہ چیز جو ضامن دے گا ایسی ہے جس میں بار برداری صرف ہو گی تو جس مقام میں دینا قرار پایا ہے وہیں مطالبہ ہو سکتا ہے۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۱۲۲ : ایک شخص نے کپڑا غصب کیا تھا مالک نے اسے پکڑا دوسرا شخص ضامن ہوا کہ اس کو کل میں حاضر کر دوں گا مدعی نے کہا اگر تم اس کو نہ لائے تو کپڑے کی قیمت دس روپے ہے وہ تم کو دینے ہوں گے کفیل نے کہا دس نہیں بیس میں دوں گا اورمکفول لہ خاموش رہا تو کفیل سے دس ہی وصول کئے جا سکتے ہیں ۔ (خانیہ)

مسئلہ ۱۲۳ : ایک شخص نے دوسرے سے کہا تم اس راستہ سے جائو اگر تمہارا مال چھین لیا جائے میں ضامن ہوں یہ کفالت صحیح ہے کفیل کو مال دینا ہو گا اور اگر یہ کہا کہ اس راستہ سے جائو اگر درندہ نے تمہارا مال ہلاک کر دیا یا تمہارے بیٹے کو مار ڈالا تو میں ضامن ہوں یہ کفالت صحیح نہیں ۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۱۲۴ : دوسرے کے دین کی کفالت کی اس شرط پر کہ فلاں اور فلاں بھی اتنے کی کفالت کریں اور ان دونوں نے انکار کر دیا تو پہلی کفالت لازم رہے گی اس کو فسخ کرنے کا اختیار نہ ہو گا۔ (خانیہ)

مسئلہ ۱۲۵ : ایک شخص نے دوسرے کی طرف سے ہزار روپے کی ضمانت کی تھی اب کفیل یہ کہتا ہے وہ روپے جوئے کے تھے یا شراب کے دام تھے یا اسی قسم کی کسی دوسری چیز کا نام لیا یعنی وہ روپے مکفول عنہ پر واجب نہیں تھے لہذا کفالت صحیح نہیں ہوئی اور مجھ سے مطالبہ نہیں ہو سکتا کفیل کی یہ بات قابل سماعت نہیں بلکہ مکفول لہ کے مقابل میں اگر گواہ بھی اس بات پر پیش کرے اور مکفول لہ انکار کرتا ہو تو کفیل کے گواہ بھی نہیں لئے جائیں گے اور اگر مکفول لہ پر حلف رکھنا چاہے تو حلف نہیں دیا جائے گا اور اگر اس بات کے گواہ پیش کرنا چاہتا ہے کہ خود مکفول لہ نے ایسا اقرار کیا تھا جب بھی گواہ مسموع نہ ہوں گے۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۱۲۶ : کفیل نے طالب کا مطالبہ ادا کر دیا اور مکفول عنہ سے واپس لینا چاہتا ہے مکفول عنہ اسی قسم کا عذر پیش کرتا ہے کہ وہ روپیہ جس کا مجھ پر مطالبہ تھا وہ جوئے کا تھا یعنی جوئے میں ہار گیا تھا اس کا مطالبہ تھا یا شراب کا ثمن تھا اور مکفول لہ موجود نہیں ہے کہ اس سے دریافت کیا جائے یہ گواہ پیش کرنا چاہتا ہے گواہ نہیں لئے جائیں گے بلکہ یہ حکم دیا جائے گا کہ کفیل کا روپیہ ادا کر دے اور اس سے یہ کہا جائے گا کہ تجھ کو یہ دعوی کرنا ہو تو طالب کے مقابل میں کر۔ اور اگر طالب نے اب تک کفیل سے وصول نہیں کیا ہے اس نے قاضی کے سامنے اقرار کر لیا کہ یہ مطالبہ شراب کے ثمن کا ہے تو اصیل و کفیل دونوں بری کر دیے جائیں اور اگر قاضی نے کفیل کو بری کر دیا مگر مکفول عنہ نے حاضر ہو کر یہ اقرار کیا کہ وہ روپیہ قرض تھا یا مبیع کا ثمن تھا اور طالب بھی اس کی تصدیق کرتا ہے تو اصیل پر اس مال کا دینا لازم ہے اور کفیل کے مقابل میں ان دونوں کی بات قابل اعتبار نہ رہی۔ (خانیہ)

مسئلہ ۱۲۷ : تین شخصوں کے ہزار ہزار روپے ایک شخص کے ذمہ ہیں مگر سب کا دین الگ الگ ہے یہ نہیں کہ وہ روپے سب کے مشترک ہوں تو ان میں دو تیسرے کے لئے یہ گواہی دے سکتے ہیں کہ اس کے روپے کی فلاں شخص نے ضمانت کی تھی اور اگر روپے میں شرکت ہو تو گواہی مقبول نہیں ۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۱۲۸ : خراج موظف میں (جس کی مقدار معین ہوتی ہے کہ سالانہ اتنا دینا ہوتا ہے جس کا ذکر کتاب الزکوۃ میں گزرا) کفالت صحیح ہے اور اس کے مقابل میں رہن رکھنا بھی صحیح ہے اور خراج مقاسمہ کی نہ کفالت صحیح ہو سکتی ہے نہ اس کے مقابلہ میں رہن رکھنا صحیح ہے۔ (درمختار)

مسئلہ ۱۲۹ : سلطنت کی جانب سے جو مطالبات لازم ہوتے ہیں ان کی کفالت بھی صحیح ہے خواہ وہ مطالبہ جائز ہو یا ناجائز کیوں کہ یہ مطالبہ دین کے مطالبہ سے بھی سخت ہوتا ہے مثلاً آج کل گورنمنٹ زمینداروں سے مال گزاری اور ابواب لیتی ہے اگر اس کے دینے میں تاخیر کرے فوراًً حراست میں لے لیا جاتا ہے جائداد نیلام کر دی جاتی ہے۔ اسی طرح مکان کا ٹیکس، انکم ٹیکس، چونگی کہ ان تمام مطالبات کے ادا کرنے پر آدمی مجبور ہے لہذا ان سب کی کفالت صحیح ہے اور جس پر مطالبہ ہے اس کے حکم سے کفالت کی ہے تو کفیل اس سے واپس لے گا۔ (درمختار)

مسئلہ ۱۳۰ : دلال کے پاس سے چیز جاتی رہی اس پر تاوان واجب نہیں اورا گر دلال یہ کہتا ہے کہ میں نے کسی دوکان میں رکھ دی تھی یا دنہیں کس دوکان میں رکھی تھی تو تاوان دینا پڑے گا اور اگر دلال نے دوکاندار کو دکھائی اور دام طے ہو گئے اور اس کے پاس رکھ کر چلا گیا دوکاندار کے پاس سے جاتی رہی یا دلال نے بازار میں وہ چیز دکھائی پھر کسی دوکان پر رکھ دی یہاں سے جاتی رہی تو تاوان دینا ہو گا اور وہ دوکاندار سے تاوان نہیں لیا جا سکتا۔ (درمختار ، ردالمحتار)

مسئلہ ۱۳۱ : کسی نے دلال کو چیز دی اور دلال کو معلوم ہو گیا کہ یہ چیز چوری کی ہے اور اس کا مالک فلاں شخص ہے اس نے مالک کو چیز دے دی دلال سے مطالبہ نہیں ہو سکتا۔ (درمختار)

مسئلہ ۱۳۲ : دلال نے بائع کے لئے ثمن کی ضمانت کی یہ کفالت صحیح نہیں ۔ (درمختار)

مسئلہ ۱۳۳ : ایک شخص نے کہا فلاں شخص پرمیرے اتنے روپے ہیں اگر تم وصول کر لائو تو دس روپے تم کو دوں گا اس وصول کرنے والے کو اجرت مثل ملے گی جو دس روپے سے زیادہ نہیں ہو گی۔ (درمختار)

مسئلہ ۱۳۴: دو شخصوں پر دین ہے مثلاً دونوں نے کوئی چیز سو روپے میں خریدی تھی اور ان میں ہر ایک نے دوسرے کی طرف سے اس کے کہنے سے کفالت کی یہ کفالت صحیح ہے اور اس صورت میں چونکہ ہر ایک نصف دین میں اصیل ہے اور نصف میں کفیل ہے لہذا جو کچھ ادا کرے گا جب تک نصف سے زیادہ نہ ہو وہ اصالۃً قرار پائے گا یعنی وہ روپیہ ادا کیا جو اس پر صراحۃً تھا شریک سے وصول نہیں کر سکتا اور جب نصف سے زیادہ ادا کیا تو جو کچھ زیادہ دیا ہے کفالت میں شمار ہو گا شریک سے وصول کر سکتا ہے۔ (ہدایہ)

مسئلہ ۱۳۵: صورت مذکورہ میں صرف ایک نے دوسرے کی طرف سے کفالت کی ہے اور کفیل نے کچھ ادا کیا اور کہتا ہے کہ میں نے جو کچھ ادا کیا ہے بطور کفالت ہے اس کی بات مقبول ہے یعنی دوسرے مدیون مکفول عنہ سے واپس لے سکتا ہے۔ (ردالمحتار)

مسئلہ ۱۳۶: دو شخصوں پر دین ہے اور ہر ایک نے دوسرے کی طرف سے کفالت کی مگر دوونوں پر دو قسم کے دین ہیں ایک پر میعادی دین ہے اور دوسرے پر فوراً واجب الادا ہے اور جس پر میعادی دین ہے اس نے قبل میعاد ایک رقم ادا کی اور یہ کہتا ہے میں نے دوسرے کی طرف سے یعنی کفالت کے روپے ادا کئے اس کی بات قابل تسلیم ہے جو کچھ اس نے دیا ہے دوسرے سے وصول کر سکتا ہے اور جس کے ذمہ فوراً واجب الادا ہے اس نے دیا اور کہتا یہ ہے کہ کفالت کے روپے ادا کئے ہیں تو جب تک میعاد پوری نہ ہو جائے دوسرے سے وصول نہیں کر سکتا۔ اور اگر ایک پر قرض ہے دوسرے کے ذمہ مبیع کا ثمن ہے اور ہر ایک نے دوسرے کی کفالت کی تو جو ادا کرے یہ نیت کر سکتا ہے کہ اپنے ساتھی کی طرف سے ادا کرتا ہوں یعنی اس سے وصول کر سکتا ہے۔ (ردالمحتار)

مسئلہ ۱۳۷: ایک شخص پر دین ہے دو شخصوں نے اس کی کفالت کی یعنی ہر ایک نے پورے دین کی ضمانت کی پھر ہر ایک کفیل نے دوسرے کفیل کی طرف سے بھی کفالت کی اس صورت مفروضہ میں ایک کفیل جو کچھ ادا کرے گا اس کا نصف دوسرے سے وصول کر سکتا ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کل روپیہ اصیل سے وصول کرے گا اور اگر طالب نے ایک کو بری کر دیا تو دوسرا بری نہ ہو گا کیوں کہ یہاں ہر ایک کفیل ہے اور اصیل بھی ہے اور کفیل کے بری کرنے سے اصیل بری نہیں ہوتا۔ (ہدایہ)

مسئلہ ۱۳۸: دو شخصوں کے مابین شرکت مفاوضہ تھی اور دونوں علیحدہ ہو گئے قرض خواہ کو اختیار ہے کہ ان میں جس سے چاہے پورا دین وصول کر سکتا ہے کیوں کہ شرکت مفاوضہ میں ہر ایک دوسرے کا کفیل ہوتا ہے اور ایک نے جو دین ادا کیا ہے اگر وہ نصف تک ہے تو دوسرے سے وصول نہیں کر سکتا اور نصف سے زیاہ دے چکا تو یہ رقم اپنے ساتھی سے وصول کر سکتا ہے۔ (ہدایہ)

مسئلہ ۱۳۹: اپنے دو غلاموں سے عقد کتابت کیا ان میں ہر ایک نے دوسرے کی کفالت کی تو جو کچھ بدل کتابت ایک ادا کرے گا اس کا نصف دوسرے سے وصول کر سکتا ہے اگر مولی نے ان میں سے بعد عقد کتابت ایک کو آزاد کر دیا یہ آزاد ہو گیا اورا س کے مقابلہ میں جو کچھ بدل کتابت تھا ساقط ہو گیا اور دوسرے کا بدل کتابی باقی ہے اور اختیار ہے جس سے چاہے وصول کرے کیوں کہ ایک اصیل ہے دوسرا کفیل ہے اگر کفیل سے لیا تو یہ اصیل سے وصول کر سکتا ہے۔ (ہدایہ)

مسئلہ ۱۴۰: کسی نے غلام کی طرف سے مال کی کفالت کی اس کفالت کا اثر مولی کے حق میں بالکل نہ ہو گا یعنی کفیل مولی سے روپیہ وصو ل نہیں کر سکتا اس کفالت کا اثر یہ ہو گاکہ غلام جب آزاد ہو جائے اس سے وصول کیا جائے اور کفیل کو یہ روپیہ فی الحال ادا کرنا ہو گا اگرچہ اس کی شرط نہ ہو ہاں اگر کفالت کے وقت ہی میعاد کی شرط ہو تو جب تک میعاد پوری نہ ہو دین ادا کرنا واجب نہیں ۔ (ہدایہ ، فتح القدیر)

مسئلہ ۱۴۱: ایک شخص نے یہ دعوی کیا کہ یہ غلام میرا ہے کسی نے اس کی کفالت کی اس کے بعد غلام مر گیا اور مدعی نے گواہوں سے اپنی ملک ثابت کر دی کفیل کو اس کی قیمت دینی پڑے گی اور اگر غلام پر مال کا دعوی ہوتا اور کفالت بالنفس کرتا پھر وہ مر جاتا تو کفیل بری ہوجاتا۔ (ہدایہ)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button