شرعی سوالات

کسی کے لیبل میں کچھ تبدیلی کی تو بھی دھوکہ دہی کی وجہ سے ناجائز اس کا استعمال ناجائز ہی رہے گا

سوال:

ایک ڈاکٹر نے ایک دوا ایجاد کی پھر گورنمنٹ سے اس کا رجسٹریشن بھی اپنے نام سے کرا لیا کچھ دنوں کے بعد جب وہ دوا پبلک میں مشہور و معروف ہو گئی تو دوسری کمپنی یا دوسرے شخص نے اسی دو کو اپنے لیبل کے ساتھ نام میں قدرے تغیر کے ساتھ بازار میں فروخت کرنا شروع کیا۔ کیا اسلامی شرع میں ایسا کرنا جائز و درست ہے؟

جواب:

اسلام میں دھوکا دہی اور حق تلفی دونوں حرام ہیں صورت مسئولہ میں جس کمپنی نے دوسرے کی ایجاد کردہ دوا کو بغیر اس کی اجازت کے بنایا یا اسی دوا پر اپنا لیبل لگا کر خریداروں کو بازار میں سپلائی کیا وہ حرام کا مرتکب ہوئی کیونکہ یہ حاجت مندوں کو دھوکہ دینا ہے اور اصل دوا کے موجد کی حق تلفی ہے۔ اس پر واجب ہے کہ وہ اپنے اس کرتوت سے باز آئے اور دوا کے اصل  موجد سے معافی طلب کرے بلکہ اس کے خسارے کو پورا کرے۔

(فتاوی یورپ، صفحۃ447،شبیر برادرز، لاہور)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button