شرعی سوالات

کسی کام کی وجہ سے نماز ٹوڑنا

 کیا فرماتے ہیں علماےدین و مفتیان شرع متین اس بارےمیں کہ فرض نماز پڑھ رہے ہوں اور اس دوران ہم کسی کام کی وجہ سے نماز ٹوڑ دیں تو اس کا کیا کفارہ ہوگا،یہ گناہ ہے یا نہیں ؟اس طرح نماز توڑسکتے ہیں یا نہیں؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الوہاب اللہم ہدایۃالحق والصواب

نماز توڑنا بغیر عذر شرعی ہو تو حرام اور کبیرہ گناہ ، مال کے تلف کا اندیشہ ہو تو مباح ، نماز کامل کرنے کے لیے ہو تو مستحب اور جان بچانے کے لیے ہو تو واجب ہے ۔ اب اس پر فرض ہے کہ اس نماز کو دوبارہ پڑھے اور بغیر عذر شرعی توڑی تو سچے دل سے توبہ کرے۔

 فتاوی شامی میں ہے” فالحرام لغیر عذر والمباح إذا خاف فوت مال، والمستحب القطع للإکمال، والواجب لإحیاء نفس.”

ترجمہ:(نماز توڑنا )بغیر عذر ہو تو حرام، مال کے تلف کا اندیشہ ہو تو مباح ، نماز کامل کرنے کے لیے ہو تو مستحب اور جان بچانے کے لیے ہو تو واجب ہے ۔

     (رد المحتارمع الدر المختار ۔جلد2 ،صفحہ610،مکتبۃ رحمانیہ ،لاہور)

اسی طرح در مختار میں ہے”إذ التأخیر بلا عذر کبیرۃ لا تزول بالقضاء بل بالتوبۃ”

ترجمہ:(نماز میں )بلا عذر تاخیر کبیرہ گناہ ہے جو فقط قضاء سے زائل نہیں ہو گا بلکہ توبہ بھی ضروری ہے۔

(رد المحتارمع الدر المختار ۔جلد 2 ،صفحہ626،مکتبۃ رحمانیہ ،لاہور)

                        واللہ اعلم ورسولہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button