شرعی سوالات

کسٹم ڈیوٹی سے بچنے کے لئے کاغذات میں کم قیمت ظاہر کرنا

کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ایک شخص ایسی کمپنی میں اجیر ہے جو کہ دوسرے ممالک سے اشیاء منگوا کر فروخت کرتی ہے ،اس شخص کے ذمہ یہ کام ہے کہ جو بھی مالِ تجارت آئے اس کا رجسٹر میں اندراج کرنا ہے اور کمپنی کی طرف سے اس شخص کو یہ حکم ہے کہ اگر مال ایک لاکھ مالیت کا ہو تو کسٹم ڈیوٹی سے بچنے کے لئے کاغذات میں بیس ہزار روپے قیمت ظاہر کرنی ہے تاکہ زیادہ ٹیکس کی ادائیگی سے بچا جاسکے ،کمپنی اس شخص کو اسی کام کی تنخواہ دیتی ہے ،کیا ایسی صورت حال میں اس شخص کا وہاں کام کرنا درست ہے؟        سائل:اکرام بشیر(چکوال)

بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الوہاب اللہم ہدایۃالحق والصواب

اس شخص کا وہاں کام کرنا جائز نہیں کیونکہ یہ کام دھوکا دہی ،جھوٹ اور خلاف قانون کام کرنے پر مشتمل ہے ،جو کہ گناہ ہیں اور گناہ کے کام پر اجارہ ناجائز ہے۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”من غشنا فلیس منا”ترجمہ:جس نے ہمیں دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں۔

  (الصحیح المسلم ،کتاب الایمان،باب قول النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم من غشنا فلیس منا،جلد 1،صفحہ 70،قدیمی کتب خانہ ،کراچی )

 نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ‘‘إیاکم والکذب، فإن الکذب یہدی إلی الفجور، وإن الفجور یہدی إلی النار”

ترجمہ :جھوٹ سے بچوکیونکہ جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ دوزخ کی طرف لے جاتا ہے ۔

                         (سنن ابی داود، باب فی التشدید فی الکذب،جلد2،صفحہ681،مکتبہ المیزان،لاہور)

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”من اعطی الذل من نفسہ طائعا غیرمکرہ فلیس منا”

ترجمہ:یعنی جو شخص بلا اکراہ اپنے آپ کو ذلت پر پیش کرے وہ ہم سے نہیں ۔

 (المعجم الاوسط،جلد 1،صفحہ151،حدیث471،دار الحرمیں ،لاہور)

علامہ علاء الدین حصکفی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :”لا تصح الاجارۃ ۔۔۔لاجل المعاصی”

ترجمہ:معصیت کے کاموں پر اجارہ درست نہیں۔

              (الدر المختارمع رد المحتار،کتاب الاجارہ،باب الاجارۃ الفاسدہ،جلد9،صفحہ35،مکتبہ رحمانیہ،لاہور)

 بہار شریعت میں ہے ”گناہ کے کام پر اجارہ ناجائز ہے۔”

             (بہار شریعت،جلد3،صفحہ144،مکتبۃ المدینہ ،کراچی)

                                واللہ اعلم ورسولہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button