شرعی سوالات

کریڈٹ کارڈ کے ذریعہ سودی قرض لینا ناجائز ہے ۔

سوال:

اگر کسی شخص نے بینک سے کریڈٹ کارڈ لیا یعنی اس طرح قرض لیا کہ اگر یہ قرض فلاں تاریخ تک ادا کر دوں تو ٹھیک ورنہ سود کے ساتھ ادا کرنا ہو گا ۔ یہ صورت شرعا جائز ہے یا نہیں؟

جواب:

            سوال میں مذکور صورت شرعاً جائز نہیں ہے اس لیے کہ کوئی بھی ایسا قرض جس میں مقررہ مدت پر یا اس کے بعد اضافہ کی شرط عائد کر دی جائے وہ سود ہے اور سود حرام قطعی ہے۔ اس کی بنیاد یہ ہے کہ ایک حدیث موقوف کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کے ایک صحابی نے ہر ایسے قرض کو سود قرار د یا جس پر نفع حاصل کیا جائے ۔ یعنی کسی کو قرض دے کر زیادہ وصول کیا جائے وہ سود ہے ۔

اس مقام پر تحقیق یہ ہے کہ سود کی دو قسمیں ہیں :ر با الفضل اور ربا النسیئہ ۔ ربا الفضل یہ ہے کہ ایک ہی جنس کی دو چیزوں کو دست بدست اضافہ کے ساتھ آپس میں بیچا جائے ۔ مثلاً ایک کلو گندم کے بدلہ میں دو کلو گندم خریدنا یا بیچنا۔اس کور با الحدیث بھی کہتے ہیں کیونکہ اس کا حرام ہونا حدیث شریف سے ثابت ہے ۔دوسری قسم ر با النسیئہ ہے اس سے مراد یہ ہے کہ قرض میں ایک معین مدت پر یا اس کے بعد اصل رقم سے زائد وصول کر نے کی شرط رکھی جائے ۔اس کو ربا القرآن بھی کہتے ہیں کیونکہ اس کا حرام ہونا قرآن کریم سے ثابت ہے ۔ امام فخر الدین رازی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں کفار و مشرکین کے درمیان یہی سود رائج اور متعارف تھا۔ ( تفسیر کبیر ج ۳ ص ۷۲ البقرۃ: ۲۷۵ ) یہی وجہ ہے کہ سود کی اس قسم کو ربا الجاہلیہ بھی کہتے ہیں ۔

 علامہ ابو بکر جصاص علیہ الرحمہ ربا الجاہلیہ کے متعلق لکھتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں جب قرض کی مدت پوری ہو جاتی تو قرض یا تو ادا کرد یا جا تا یا اس پر سود لگا د یا جاتا قرض خواہ مدت میں اضافہ کرتا تو مقروض اصل رقم میں اضافہ کرتا۔  اس کی مزید وضاحت کرنے ہوئے علامہ ابو الولید سلیمان مالکی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ ربا الجاہلیہ یہ ہے کہ مدت پوری ہونے کے بعد قرض خواہ مقروض سے کہے کہ تم قرض ادا کر رہے ہو یا میں سود کے عوض مدت میں اضافہ کر دوں؟ اگر مقروض سود کو مان لیتا تو قرض خواہ مدت میں اضافہ کر دیتا۔ ( آخر میں فرماتے ہیں:) اس کے حرام ہونے میں مسلمانوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے ۔ ڈاکٹر وھبہ الزحیلی نے ’’ الفقہ الاسلامی و ادلتہ میں خاص طور پر دور حاضر کے سودی لین دین اور بینک کے قرضوں پر بحث کی ہے اور ایسے قرض جو اضافہ اور سود کی شرط کے ساتھ لیے جائیں ان کا حرام ہونا ثابت کیا ہے ۔ ( تفصیلی بحث کے لیے ان کی مذکور الصدر کتاب کی جلد5، ص3741 تا 3754کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے )

خلاصہ یہ ہے کہ ایسا قرض جس میں ایک معین مدت پر یا اس معین مدت کے بعد اصل رقم سے زائد رقم وصول کر نے کی شرط رکھی جائے وہ سود (ربا النسیئہ )ہے اور حرام ہے ۔ سائل نے سوال میں جو صورت ذکر کی ہے اس میں بھی چونکہ مشروط طور پر قرض کا لین دین ہے اس لیے شرعا اس کی اجازت نہیں ہے ۔

(انوار الفتاوی، صفحہ432،فرید بک سٹال لاہور)

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button