ARTICLES

کراچی سے جانے والی عورت احرام کی نیت کہاں سے کرے ؟

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام کہ حج و عمرہ میں احرام کی صورت میں شرعی پردہ عورت نہیں کر سکتی تو حج و عمرہ میں احرام کراچی ہی سے پہن لینا چاہئے یا عمرہ کے وقت وہاں پر۔ اگر احرام پہن کر نیت جہاز میں بھی کریں تو بھی جہاز کے سفر اور ائیر پورٹ پر جگہ جگہ بے پردگی ہو سکتی ہے اُس کا کیا حل ہونا چاہئے اور بالخصوص اِس صورت میں جب عورت شرعی پردہ کرتی ہو اور مدنی برقعہ پہنتی ہو؟

(السائل : بنت سلیمان، کھارادر، کراچی )

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں احرام کی نیت میقات سے قبل ہی کرنی ہو گی، چاہے وہ اپنے گھر سے کرے یا کراچی ائیر پورٹ سے کرے ، یا جہاز میں سوار ہو کر کرے ، یا جہاز اڑنے کے بعد کرے ، مگر دورانِ سفر ہی چونکہ ہوائی جہاز میقات سے گزرتا ہے اور میقات کے گزرنے کا صحیح پتہ نہیں چلے گا(160) لہٰذا اُسے جہاز کے پرواز کرنے سے پہلے یا پرواز کرنے کے تھوڑی دیر بعد احرام کی نیت کر لینی چاہئے کیونکہ میقات سے بغیر احرام کے گزرنا جائز نہیں جیسا کہ حدیث شریف میں ہے :

’’لاَ یُجَاوِزُأَحَدُ الْمِیْقَاتَ إِلاَّ مُحْرِمًا الحدیث ‘‘ (161)

یعنی، کوئی میقات سے بغیر احرام کے نہ گزرے ۔ میقات سے احرام باندھنا حج کے واجبات میں سے ہے جیسا کہ علامہ حسن بن عمار شرنبلالی حنفی متوفی 1069ھ لکھتے ہیں :

وواجبات الحج إنشاء الإحرام من المیقات (162)

یعنی، میقات سے احرام کی ابتداء حج کے واجبات سے ہے ۔ اسی طرح علامہ محمد بن عبداللہ بن احمد غزّی تمرتاشی حنفی متوفی 1004ھلکھتے ہیں :

و إنشاء الإحرام من المیقات(163)

یعنی، واجبات (حج و عمرہ) سے ہے میقات سے احرام کی ابتداء۔ اور میقات وہ مقام ہے جہاں سے حرم مکہ کو جانے والا بغیر احرام کے نہیں گزر سکتا خواہ وہ حج و عمرہ کا ارادہ رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو، چنانچہ امام ابو الحسن احمد بن محمد قدوری حنفی متوفی 428ھ لکھتے ہیں :

و المواقیت التی لا یجوز أن یتجاوزہا الإنسان إلا محرماً (164)

اور اس کے تحت امام ابو بکر بن علی حدادی حنفی متوفی 800ھ لکھتے ہیں :

یعنی : لا یتجاوزہا إلی مکۃ (165)

یعنی، مواقیت وہ ہیں جن سے انسان بغیر احرام کے نہیں گزرے گا یعنی مکہ کی طرف (بغیر احرام کے ) نہیں گزرے گا۔ اور علامہ عبدالغنی المیدانی تلمیذ علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں :

و المواقیت أی : الواضع التی لا یجوز أن یتجاوزہا الإنسان مُریداً مکۃ إلا محرماً بأحد النسکین (166)

یعنی، مواقیت وہ جگہیں ہیں جہاں سے مکہ مکرمہ جانے کاارادہ رکھنے والے انسان کو حج و عمرہ میں سے کسی ایک کے احرام کے بغیر گزرنا جائز نہیں ۔ کیونکہ نبی ا کا فرمان ہے :

’’لاَ یُجَاوِزُأَحَدُ الوقت إِلاَّ مُحْرِم‘‘(167)

یعنی، کوئی شخص میقات سے بغیر احرام کے نہ گزرے ۔ امام محمد بن عبداللہ غزی حنفی تمرتاشی متوفی1004ھ اور علامہ علاؤ الدین حصکفی لکھتے ہیں :

و المواقیت أی : المواضع التی لا یجاوزہا مرید مکہ إِلا مُحرمًا (168)

یعنی، مواقیت وہ جگہیں ہیں جہاں سے مکہ مکرمہ کا ارادہ رکھنے والا حج یا عمرہ کے احرام کے بغیر نہیں گزرے گا۔ علامہ ابو الحسن علی بن ابی بکر مرغینانی حنفی متوفی 593ھ لکھتے ہیں :

ثم الآفاقی إذا أنتہی إلیہا علی قصد دخول مکۃ علیہ أن یحرم قصد الحج أو العمرۃ أو لم یقصد عندنا (169)

یعنی، آفاقی جب مکہ مکرمہ جانے کے ارادے سے میقات پر پہنچے گا تو ہمارے نزدیک اُس پر لازم ہے کہ احرام باندھے حج کا ارادہ ہو یا عمرہ کا یا دونوں میں سے کسی کا ارادہ نہ ہو۔ او راحرام کو میقات سے مؤخر کرنا حرام ہے جیسا کہ علامہ حصکفی لکھتے ہیں :

و حرم تأخیر الإحرام عنہا کلّہا لمن أی : لآفاقی قصد دخول مکۃ یعنی : الحرم (170)

یعنی، وہ آفاقی جو حرمِ مکہ مکرمہ کا قصد رکھتا ہو اُسے احرام کو تمام مواقیت سے مؤخر کرنا حرام ہے ۔ میقات سے باہر سے جو شخص آئے اور بغیر احرام مکہ مکرمہ چلا جائے اگرچہ وہ حج یا عمرہ کا ارادہ نہ رکھتا ہو مگر حج یا عمرہ واجب ہو جائے گا پھر اگر واپس میقات کو نہ جائے وہیں احرام باندھ لے تو دَم واجب ہے ۔ امام ابو یوسف اور امام محمد فرماتے ہیں دونوں صورتوں میں دَم ساقط ہو جائے گا جیسا کہ علامہ نظام الدین حنفی متوفی 1161ھ اور علماء ہند کی ایک جماعت نے لکھا :

و من جاوز المیقات و ہو یرید الحج و العمرۃ غیر محرم فلا یخلوا أما أن یکون أحرم داخل المیقات أو عاد الی المیقات ثم أحرم، فإن أحرم داخل المیقات ینظر إن خاف فوت الحج متی عاد فانہ لا یعود و یمضی فی إحرامہ و لزمہ دم و إن کان لا یخاف فوت الحج فانہ یعود إلی الوقت و إذا عاد إلی الوقت فلا یخلوا أما أن یکون حلالاً أو محرماً فإن عاد حلالاً ثم أحرم سقط عنہ الدم و إن عاد إلی الوقت محرماً قال أبو حنیفۃ إن لبّی سقط عنہ الدم و إن لم یلت لا یسقط، و عندہما یسقط فی الوجہین (171)

یعنی، اگر کوئی شخص حج اور عمرہ کے ارادے سے جا رہا تھا اور وہ میقات سے بغیر احرام گزر گیا تو دو صورتیں ہیں یا تو اُس نے میقات کے اندر سے احرام باندھا اور یا میقات پر واپس آیا اور وہاں سے احرام باندھا اگر اُس نے میقات کے اندر سے احرام باندھا ہے تو دیکھا جائے گا اگر میقات پر آنے میں حج فوت ہو جانے کا اندیشہ تھا یا کسی او روجہ سے وہ میقات پر نہیں آ سکتا تو اس صورت میں وہ میقات پر نہ جائے بلکہ اُ س احرام سے جو میقات سے اندر باندھا ہے سب ارکان ادا کرے اور اُس پر دَم لازم ہو گا اگر حج فوت ہونے کا اندیشہ نہیں او رکوئی عذر بھی نہیں تو اُسے میقات پر واپس آنا چاہئے اور اُس کی بھی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ احرام کے بغیر آئے اور دوسرا یہ کہ احرام باندھ کر آئے ، پھر اگر بغیر احرام آیا اور میقات سے احرام باندھا تو اُس کادَم ساقط ہو گیا اگر میقات پر احرام باندھ کر آیا تو امام اعظم علیہ الرحمہ نے فرمایا اگر اس نے تلبیہ پڑھ لیا تو دَم ساقط ہو جائے گا اگر نہ پڑھا تو ساقط نہ ہو گااور صاحبین کے نزدیک دونوں صورتوں میں دم ساقط ہوجائے گا۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ احرام کراچی سے ہی باندھ لینا چاہئے ورنہ دم لازم ہونے کا خوف ہوگا اور دَم سے بچنے کے لئے بغیر احرام کے میقات پر آ کر احرام باندھنا ہو گا یا احرام باندھ کر آئے تو میقات پر تلبیہ پڑھنا ہو گا اور اُس میں بڑا حرج اور تکلیف ہو گی۔البتہ مرد و عورت جو براہِ راست مکہ معظّمہ جانے کا ارادہ نہ رکھتے ہوں ، بلکہ کراچی سے مدینہ منورہ ائیرپورٹ جا رہے ہوں وہ کراچی ائیر پورٹ پر احرام نہیں باندھیں گے کیونکہ مدینہ منورہ میقات سے باہر ہے ، بلکہ بغیر احرام مدینہ طیبہ کی حاضری سے فراغت کے بعد مکہ مکرمہ مدینے پاک سے تقریباً12کلو میٹر کے فاصلے پر مدینے کی میقات ذوالحلیفہ (جہا ں آج کل ایک بہت بڑی مسجد بئر علی یا مسجد میقات کے نام سے موجود ہے ) سے گزرنے سے قبل احرام کی نیت کے ساتھ تلبیہ کہنا ہو گا۔ جب کہ سفرِ حج کے علاوہ (کیونکہ سفرِ حج میں زائر کو جدّہ ائیر پورٹ سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہوتی) صرف عمرہ پر جانے والوں کے لئے یہ رعایت ہے کہ اگر وہ کراچی سے جدّہ ائیر پورٹ پر اُتر کر براہِ راست مکہ معظمہ جا کر عمرہ کا ارادہ نہ رکھتے ہوں بلکہ تجارت یا کسی اور حقیقی غرض سے جدہ میں ٹھہر کر پھر مکۂ معظمہ جانا چاہتے ہوں تو وہ بغیر احرام جا سکتے ہیں ، انہیں بھی کراچی سے احرام باندھنا اور نیتِ احرام ضروری نہیں ، اور اب اگر وہ چاہیں تو حرمِ مکہ میں داخل ہونے سے قبل احرام باندھ کر عمرہ کر لیں اور اگر چاہیں تو اب بغیر احرام ہی مکہ معظمہ جا سکتے ہیں ۔ چنانچہ صدر الشریعہ محمدامجد علی اعظمی حنفی ’’درمختار‘‘(172) اور ’’رد المحتار‘‘ (173)کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ : مکہ معظمہ جانے کا ارادہ نہ ہو بلکہ میقات کے اندر کسی اور جگہ مثلاً جدّہ جانا چاہتا ہے تو اسے احرام کی ضرورت نہیں ، پھر وہاں سے اگر مکہ معظمہ جانا چاہے تو بغیر احرام کے جا سکتا ہے ، لہٰذا جو شخص حرم میں بغیر احرام جانا چاہتا ہے وہ حیلہ کر سکتا ہے ، بشرطیکہ واقعی اس کا ارادہ پہلے مثلاً جدّہ جانے کا ہو، نیز مکہ معظمہ حج اور عمرے کی نیت سے نہ جاتا ہو مثلاً تجارت کے لئے جدّہ جاتا ہو اور وہاں سے فارغ ہو کر مکہ مکرمہ جانے کاارادہ ہے ، اور اگر پہلے ہی سے مکہ معظمہ جانے کا ارادہ ہے تو اب بغیر احرام نہیں جا سکتا۔ (174) اب اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ کوئی احرام کی پابندیوں سے بچنے کی غرض سے یہ حیلے خواہ مخواہ کرے ، کیونکہ احادیث کے مطابق احرام کی نیت کر لینے پر ہر قدم پر نیکیاں لکھی جانی شروع ہو جاتی ہیں ، خطائیں مٹتی ہیں اور درجات بلند ہوتے ہیں ۔(176) پس جتنا جلدی احرام کی نیت کریں گے اتنا کثرت سے ثواب ہو گا، جب کہ دوسری صورت میں محروم۔ نیز حج و عمرہ کی نیت کر لی اور اِس حال میں موت آ گئی تو قیامت تک اس کے لئے حج اور عمرے کرنے والے کا ثواب لکھا جاتا رہے گا۔ عورت حالتِ احرام میں اپنا چہرہ کھلا رکھے گی کیونکہ نبی کریم انے مُحرِمَہ کو نقاب کرنے سے منع فرمایا ہے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے :

عن ابن عمر أنَّہٗ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ ’’ نَہَی النِّسَائَ فِیْ إِحْرَامِہِنَّ عَنِ النِّقَابِ الحدیث‘‘ملخصاً (175)

دوسری حدیث میں ہے کہ

عن ابن عمر عن النبی ﷺ ’’ الْمُحْرِمَۃُ لاَ تَنْتَقِبُ‘‘ الحدیث(176)

یعنی، نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ’’عورت احرام میں نہ نقاب ڈالے ‘‘ الخ۔ او ر’’انتقاب‘‘ کہتے ہیں اس پردے کو جو چہرے پر ڈالا جاتا ہے یا اس سے کسی نفیس چیز کو چھپایا جائے ۔ بخاری شریف میں ہے کہ اُمُّ المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :

لاَ تَلَثَّمْ وَ لَا تَتَبَرْقَعْ (177)

یعنی، عورت بحالتِ احرام اپنے ہونٹ نہ چھپائے اور نہ برقع ڈالے ۔ امام ابو بکر بن علی حدادی حنفی متوفی 800ھ لکھتے ہیں :

أما المرأۃ فلہا أن تلبس ما شاء ت من المخیط و الخفین إلا أنہا لا تغطی و جہہا لقولہ علیہ السلام : ’’إِحْرَامُ الْمَرْأَۃِ فِیْ وَجْہِہَا‘‘ (178)

یعنی، عورت حالت احرام میں سِلے ہوئے کپڑوں او رموزوں سے جو چاہے پہنے مگر وہ اپنا چہرہ نہیں ڈھکے گی کیونکہ نبی کریم ا کا فرمان ہے : ’’عورت کا احرام اس کے چہرے میں ہے ‘‘۔(179) اور علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی متوفی 1252ھ لکھتے ہیں :

و اطلقہ فشمل المرأۃ لما فی ’’البحر‘‘ عن ’’غایۃ البیان‘‘ من أنہا لا تغطی و جہہا إجماعاً (180)

یعنی، مصنّف نے اُسے مطلق ذکر کیا تو یہ عورت کو شامل ہے جیسا کہ ’’بحر الرائق‘‘(181) میں ’’غایۃ البیان‘‘(182) (شرح الہدایۃ)کے حوالے سے ہے کہ عورت بالاجماع اپنے چہرے کو نہیں ڈھکے گی۔ اسی طرح علامہ عبدالحی لکھنوی لکھتے ہیں :

أما المرأۃ فتستر الرأس لکن لا تلقی الثوب علی الوجہ قال رسول اللہ ﷺ’’ لَا تَنْقِبُ الْمَرْأَۃُ ‘‘ أخرجہ أبو داؤد و غیرہ ملخصاً (183)

لہٰذا بحالت احرام عورت کو منہ چُھپانا جائز نہیں ، سر چُھپانا جائز ہے بلکہ نامَحرم کے سامنے اور نماز میں فرض ہے ۔ (184) اسی طرح امام اہلسنّت امام احمد رضا متوفی 1340ھ لکھتے ہیں : ’’مگر عورت کو چند باتیں جائز ہیں ’’سرچھپانا بلکہ نامحرم کے سامنے او رنماز میں فرض ہے ‘‘۔ (185) جب یہ ثابت ہو گیا کہ بحالتِ احرام عورت کے منہ چُھپانا حرام و ناجائز ہے تو ایک قاعدہ ہے وہ یہ کہ ’’جو باتیں احرام میں ناجائز ہیں وہ اگر کسی عذر سے یا بھول کر ہوں تو گناہ نہیں مگر ان پر جو شرعی جرمانہ مقرر ہے ہر طرح دینا ہو گا اگرچہ بے قصد ہوں یا سہواً یا جبراً یا سوتے میں ہوں ‘‘(186) اس سے معلوم ہوا کہ اگر قصداً ہوں تو گناہ بھی ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عورت کتنا منہ چُھپائے اور کتنا عرصہ چُھپائے تو شرعی جرمانہ ہو گا چنانچہ امام اہلسنّت امام احمد رضا لکھتے ہیں : مرد سارا سر یا چہارم سر یا مرد خواہ عورت منہ کی ٹکلی ساری یا چہارم، چار پہر یا زیادہ لگاتار چُھپائیں تو دَم ہے اور چہارم سے کم، چار پہر تک یا چار (پہر)سے کم اگرچہ سارا سر یا منہ تو صدقہ ہے اور چہارم سے کم کو چار پہر سے کم تک چُھپائیں تو گناہ ہے کفارہ نہیں ۔ (187) یہ امر تو ثابت شدہ ہے کہ عورت بحالتِ احرام اپنا منہ نہیں چُھپائے گی اگر چہ مُنہ کُھلا رکھنے میں فتنہ کااندیشہ ہے جیسا کہ امام ابو الحسن علی بن ابی بکر مرغینانی حنفی متوفی 593ھ لکھتے ہیں :

لأن المرأۃ لا تغطی و جہہا مع أن فی الکشف فتنۃ (188)

یعنی، کیونکہ عورت اپنے چہرے کو نہیں ڈھکے گی اگرچہ کھولنے میں فتنہ ہے ۔ اور عورت کو برقع پہننا ممنوع نہیں بلکہ منہ چھپانا منع ہے لہٰذا جہاں بھی برقع سے منع مذکور ہو وہاں مراد منہ کا چُھپانا ہے ، جیسا کہ ’’فیوض الباری‘‘ میں ہے کہ عورت کو بحالتِ احرام برقع پہننا جائز ہے جب کہ اُس کے چہرے پر نہ آئے صرف سر پر رہے ۔ (189) معلوم ہوا کہ شریعت مطہرہ کا مقصود یہی ہے کہ مُحرِمَہ کا چہرہ کُھلا رہے جیسا کہ نبی کریم ا نے ارشاد فرمایا کہ ’’ عورت کا احرام ا س کے چہرے میں ہے ‘‘(190)۔ اسی طرح دوسری احادیث اور عبارات فقہاء بھی اس کی تائید کرتی ہیں ۔ باقی رہا بے پردگی سے بچنا تو حدیث شریف میں ہے کہ اُمّ المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ

’’کَانَ الرُّکْبَانِ یَمُرُّوْنَ بِنَا وَ نَحْنُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ مُحْرِمَاتٌ فَإِذَا حازُوْا بِنَا سَدَلَتْ إِحْدَانَا جِلْبَابَہَا مِنْ رَأْسِہَا عَلٰی وَجْہِہَا فَإِذَا جَاوَزُوْنَا کَشَفْنَاہُ‘‘ (191)

یعنی، جب سوار ہمارے پاس سے گزرتے اور ہم ازواج مطہرات رسول اللہ ا کے ساتھ احرام کی حالت میں تھیں جب وہ گزرتے تو ہم میں سے ہر ایک پردے کو اپنے سر سے چہرے پر لٹکا لیتی جب وہ گزر جاتا تو ہم کھول دیتی تھیں ۔ اِس سے بوقت ضرورت چہرے کا پردہ کرنے کا جواز ثابت ہوتا ہے لیکن یہ بات ذہن میں رہے کہ ازواج مطہرات بحالتِ احرام نبی کریم اکے ساتھ موجود تھیں جب کوئی اجنبی گزرتا وہ پردہ سر سے لٹکاتی تھیں ۔جب وہ گزر جاتا ہٹا دیتیں ظاہر ہے کہ حج میں یہ فعل بار بار ادا کرتی ہوں گی اِس میں حرج تھا تکلیف تھی باوجود اس کے نبی کریم ا نے انہیں مستقل پردہ کرنے کی اجازت نہ دی اور نہ ہی اِس سے منع فرمایا تو اِس سے ثابت ہوا کہ مُحرِمَہ منہ کُھلا رکھے بوقت ضرورت کسی چیز سے پردہ کر لے پھر ہٹا دے ، اور وہ چیز چہرے سے دُور رہے ، بہتر ہے کہ وہ کپڑا وغیرہ نہ ہو کیونکہ کپڑے میں چہرے کے ساتھ مس کرنے کا احتمال زیادہ ہوتا ہے بلکہ کوئی سخت چیز ہو جیسا کہ امام اہلسنّت امام احمد رضا فرماتے ہیں : تنبیہ : احرام میں مُنہ چُھپانا عورت کو بھی حرام ہے نامَحرم کے آگے کوئی پنکھا وغیرہ منہ سے بچا ہوا سامنے رکھے ۔ (192) اسی طرح صدر الشریعہ محمد امجد علی حنفی متوفی 1367ھ نے بھی لکھا : احرام میں منہ چُھپانا عورت کو بھی حرام ہے نامَحرم کے آگے کوئی پنکھا وغیرہ منہ سے بچا ہوا سامنے رکھے ۔ (193) علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی متوفی 1252ھ لکھتے ہیں :

و إنما تستر وجہہا عن الأجانب بإسدال شیٍٔ متجافٍ لا یمسّ الوجہ کما سیأتی آخر ھذا الباب…. و المحفوظ عن علمائنا خلافہ و ہو وجوب عدم مماسۃ شیٍٔ لوجہہا اھ ثم رأیت نحو ذلک نقلا عن ’’منسک القطبی‘‘(194)

یعنی، عورت اپنے چہرے کواجنبیوں سے کسی ایسی شئے کے لٹکانے سے چُھپا سکتی ہے جو اِس طرح جُدا رہے کہ چہرے سے مَس نہ کر سکے ،جیسا کہ اس باب کے آخر میں آئے گا(197) اور(پھر بحث کے آخر میں بطورِ نتیجہ لکھتے ہیں کہ) ہمارے علماء سے اِس کا خلاف محفوظ ہے اور وہ کسی شئے کا اُس کے چہرے کو نہ چُھونے کا وُجوب ہے اور پھر میں نے اس کی مثل ’’منسک القطبی‘‘سے منقول دیکھا۔ ہاں عورتوں کو دستانے اور موزے پہننے کی رعایت ہے ، چنانچہ صدر الشریعہمحمدامجد علی اعظمی فرماتے ہیں کہ : عورت کو (حالتِ احرام میں ) چند باتیں جائز ہیں (جو مردوں کو جائز نہیں ) دستانے ، موزے اور کپڑے پہننا، الخ۔ (195)

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

(2000-Fatwa)

حوالہ جات

160۔ اگرچہ حج پروازوں میں میقات سے قبل اعلان کردیاجاتاہے ۔ ہوتایہ ہے کہ نیند آجاتی ہے اور وہ اعلان سنائی نہیں دیتا اس طرح میقات گزرجاتی ہے اور احرام رہ جاتاہے پھر احرام کے لئے میقات کو لوٹنا یا میقات کے بعد احرام باندھ کر دم دینا لازم آجاتاہے ۔اس لئے افضل تویہ ہے کہ جیسے ہی احرام کے نفل پڑھے تو نیت کرکے تلبیہ کہہ لے ورنہ جہازروانہ ہوجائے تونیت کرکے تلبیہ کہہ لے تاکہ میقات سے بلا احرام گزرنے کا خوف نہ ہو۔

161۔ الدّرایۃ فی تخریج أحادیث الھدایۃ، کتاب الحج، فصل فی المواقیت، برقم : 95، 2/13

162۔ مراقی الفلاح شرح نور الایضاح، کتاب الحج، واجبا الحج، ص265

163۔ تنویر الأبصار مع شرحہ للحصکفی، کتاب الحج ، ص156

164۔ مختصر القدوری، کتاب الحج، ص66

165۔ الجوھرۃ النیرۃ شرح مختصر القدوری، کتاب الحج، مطلب : فی مواقیت الاحرام ، 1/364

166۔ اللباب فی شرح الکتاب، کتاب الحج، 1/165

167۔ المصنّف لابن أبی شیبۃ، کتاب الحج، باب من قال لایجاوز الخ، برقم : 15702، 8/702

أیضاً المعجم الکبیر للطبرانی، برقم : 12236، 11/435، بلفظ اخر

أیضاً کتاب الأم، للشافعی، کتاب الھج، باب تفریع الموقیت، 2/201

ایضاً معرفۃ السنن والاثار، کتاب المناسک، باب من مر بالمیقات الخ، برقم : 2763، 3/536

168۔ تنویر الأبصار وشرحہ الدّرّالمختار، کتاب الحج، مع قولہ : والمواقیت، ص157

169۔ بدایۃ المبتدی مع شرحہ، کتاب الحج، فصل : والمواقیت التی الخ، 1۔2/163

170۔ الدّرّ المختار، کتاب الحج، مع قول التنویر : حرم فاخبر الاحرام الخ، ص158

171۔ الفتاوی الھندیۃ، کتاب المناسک، الباب العاشر فی مجاوزۃ المیقات بغیر احرام، 1/253

172۔ الدّرُّ المختار، کتاب الحج، تحت قولہ : ولو لحاجۃ، ص158

173۔ ردُّ المحتار، کتاب الحج، مطلب : فی المواقیت، تحت قولہ : أما لرفصد موضعاً الخ، 3/552

174۔ بہار شریعت، حج کابیان، میقات کا بیان،1/1068

175۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : جو خانہ کعبہ کے ارادے سے آیا اوراُونٹ پر سوار ہوا تواُونٹ جو قدم اُٹھاتا ہے اور رکھتا ہے ، اللہ عزّوجل اُس کے لئے ایک نیکی لکھتا ہے اور اُس سے ایک خطا کو مٹا تا ہے اور اس کے سبب اُس کے لئے ایک درجہ بلند فرماتا ہے یہاں تک کہ جب وہ کعبہ معظمہ کے پاس پہنچا اور اس کا طواف کیا اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کی ، پھر سر منڈایا یا بال کتروائے تووہ اپنے گناہوں سے ایسے نکل گیا جیسے اُس دن کہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا۔

(الجامع لشعب الایمان، باب فی المناسک، باب فضل الحج والعمرۃ، برقم : 3825، 6/23)

سنن أبی داؤد، کتاب المناسک، باب ما یلبس المحرم، برقم : 1827، 2/283

176۔ سنن أبی داؤد، کتاب المناسک، باب ما یلبس المحرم، برقم : 1825۔1826، 2/283

177۔ صحیح البخاری، کتاب الحج، باب ما یلبس المحرم من الثیاب الخ، 1/381

178۔ الجوھرۃ النیرۃ شرح مختصر القدوری، کتاب الحج، مطلب فی الاحرام : تحت قولہ : ولا یلبس قمیصاً الخ ،1/367

179۔ السنن الکبری للبیھقی، کتاب الحج، باب المرأۃ لا تنقب فی احرامھا الخ، برقم : 9048، 5/74

180۔ ردّ المختار، کتاب الحج، مطلب : فیما یحرم بالاحرام وما لا یحرم، تحت قولہ : کلہ أو بعضہ، 3/568

أیضاً سنن الدارقطنی، کتاب الحج، باب المواقیت، برقم : 2735، 1/2/258

181۔ البحرالرائق، کتاب الحج، باب الاحرام، تحت قولہ : سترالوجہ والرأس، 2/569

182۔ غایۃ البیان، کتاب الحج، ق200/أ بلفظ آخر

183۔ عمدۃ الرعایۃ، کتاب الحج، باب الاحرام، تحت قول الوقایۃ : و سترالوجہ والرّاٌس، 2/560

184۔ فیوض الباری شرح صحیح البخاری : 3/6/6،131

185۔ فتاویٰ رضویہ مع التخریج، کتاب الحج، باب الجنایات فی الحج، فصل دوم : احرام اور اس کے احکام، 10/735

186۔ بہارِ شریعت، حج کابیان، احرام کابیان، احرام کے احکام، احرام میں مردوعورت کافرق، 1/1083

187۔ فتاویٰ رضویہ مع التخریج، کتاب الحج، باب الجنایات فی الحج، فصل ششم : جرم اور ان کے کفارے ، 10/758

188۔ الھدایۃ، کتاب الحج، باب الاحرام، تحت قولہ : ولا یغطی وجہہ ولا رأستہ، 1۔2/167

189۔ فیوض الباری شرح صحیح البخاری : 3/131

190۔ فیوض الباری شرح صحیح البخاری : 3/131

191۔ سنن أبی داؤد، کتاب المناسک، باب فی المحرمۃ تغطی وجھھا، برقم : 1833، 2/285۔276

أیضاً سنن ابن ماجۃ، کتاب المناسک، باب المحرمۃ سدل الثوب علی وجھھا، برقم : 2935، 3/433

192۔ فتاویٰ رضویہ مع التخریج، کتاب الحج، باب الجنایات فی الحج، فصل دوم احرام اور اس کے احکام، 10/735

193۔ بہارِ شریعت، حج کابیان، احرام کا بیان، احرام کے احکام، احرام میں مردوعورت کافرق، 1/1083

194۔ ردالمختار، کتاب الحج، فصل : فی الاحرام، مطلب فیما یحرم بالاحرام وما لا یحرم، تحت قولہ : کلہ أو بعضہ، 3/568

195۔ اسی باب کے آخر میں عنوان ’’مطلب : فی مضاعفۃ الصلاۃ بمکۃ‘‘ میں زیر عبارت ’’لکنھا تکشف وجھھا لا رأسھا‘‘(3/629) ہے ’’والمراد بکشف الوجہ عدم مماسۃ شئی لہ ،فذلک یکرہ لھاأن تلبس البرقع لأن ذلک یماس وجھھا کذا فی المبسوط‘‘یعنی چہرہ کھولنے سے مرادہ چہرہ کو کسی شئے کا نہ چھونا ہے اسی لئے عورت کے لئے (حالتِ احرام میں ) برقع پہننا مکروہ ہے کیونکہ وہ عورت کے چہرے کو چُھونا ہے اسی طرح ’’المبسوط‘‘(کتاب المناسک، باب ما یلبس المحرم من الثیاب، 2/ میں ہے )

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button