شرعی سوالات

کتے کی خرید و فروخت کی شرعی حیثیت

سوال:

کتوں کا بزنس کرنا اسلامی لحاظ سے جائز ہے یا نہیں؟ ملخصا

جواب:

احادیث مبارکہ اور ائمہ کرام کے اقوال سے معلوم ہوا کہ اسلام میں ابتداءً کتے رکھنے کی ممانعت کا حکم آیا، پھر ضرورت کی بنا پر بتدریج اس کی رخصت دی گئی اور اب کسی اختلاف کے بغیر فتوی اسی پر ہے کہ کتا رکھنا جائز ہے۔

تفصیلی دلائل کی روشنی میں ان کتوں کی خرید و فروخت اور کاروبار مباح ہے، جو گھر یا مویشیوں کی چوکیداری یا شکار کے لیے رکھے جاتے ہیں، البتہ جو لوگ شوقیہ کتے پالتے ہیں اور ان سے پیار کرتے ہیں ، وہ ان کے لباس اور برتنوں میں منہ ڈالتے ہیں، ان کا پالنا اور رکھنا بدستور منع ہے، کیونکہ ان کے ساتھ کوئی انسانی ضرورت یا حاجت یا نفع وابستہ نہیں ہے۔ لیکن کوئی شخص کتا کس مقصد کیلئے خریدرہا ہے یہ اس کی نیت پر موقوف ہے اور اس کے لئے وہ اللہ تعالی کے حضور جوابدہ ہے۔ آج کل چوری کی نشاندہی کے لئے جو سدھائے ہوئے کتے استعمال کیے جاتے ہیں، یہ بھی ضرورت کی بنا پر جائز ہیں۔ اس لیے سدھائے ہوئے کتے کی نشاندہی پر کسی کا مال برآمد ہو جائے اور ثابت ہو جائے کہ یہ اس کا مال ہے، تو اس مال کو مالک کے سپرد کیا جا سکتا ہے۔ البتہ جب تک مجرم کے اعتراف جرم یا شہادتوں سے چوری کا جرم ثابت نہ ہو جائے ، اس پر قطع ید کی سزا نافذ نہیں کی جا سکتی۔ ثقہ قرائن کی صورت میں قاضی تعزیری سزا دے سکتا ہے۔

                                    (تفہیم المسائل، جلد 9، صفحہ 250، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور)

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button