بہار شریعت

کان اور دفینہ کے متعلق مسائل

کان اور دفینہ کے متعلق مسائل

صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی حضور اقدس ﷺ فرماتے ہیں رکاز (کان) میں خمس ہے۔

مسئلہ ۱: کان سے لوہا، سیسہ ، تانبا، پیتل، سونا چاندی نکلے اس میں خمس (پانچواں حصہ) لیا جائے گا اور باقی پانے والے کا ہے۔ خواہ وہ پانے والا آزاد ہو یا غلام، مسلمان ہو یا ذمی، مرد ہو یا عورت، بالغ ہو یا نابالغ، وہ زمین جس سے یہ چیزیں نکلیں عشری ہو یا خراجی۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۸۴) یہ اس صورت میں ہے کہ زمین کسی شخص کی مملوک نہ ہو مثلاً جنگل ہو یا پہاڑ اور اگر مملوک ہے تو کل مالک زمین کو دیا جائے خمس بھی نہ لیا جائے ۔(درمختار ج ۲ ص ۶۲)

مسئلہ ۲: فیروزہ و یاقوت و زمرد و دیگر جواہر اور سرمہ، پھٹکری، چونا موتی میں اور نمک وغیرہ بہنے والی چیزوں میں خمس نہیں ۔ (درمختار، ردالمحتار ج ۲ ص ۶۲،۶۳)

مسئلہ ۳: مکان یا دکان میں کان نکلی تو خمس نہ لیا جائے بلکہ کل مالک کو دیا جائے۔ (درمختار ج ۲ ص ۶۲)

مسئلہ ۴: فیروزہ، یاقوت، زمرد وغیرہ جواہر سلطنت اسلام سے پیشتر کے دفن تھے اور اب نکلے تو خمس لیا جائے گا یہ مال غنیمت ہے۔ (درمختار ج ۲ ص ۶۳)

مسئلہ ۵: موتی اور اس کے علاوہ جو کچھ دریا سے نکلے اگرچہ سونا کہ پانی کی تہ میں تھا سب پانے والے کا ہے بشرطیکہ اس میں کوئی اسلامی نشانی نہ ہو۔ (درمختار ج ۲ ص ۶۳)

مسئلہ ۶: جس دفینہ میں اسلامی نشائی پائی جائے خواہ وہ نقد ہو یا ہتھیار یا خانہ داری کے سامان وغیرہ وہ پڑے مال کے حکم میں ہے یعنی مسجدوں بازاروں میں اس کا اعلان اتنے دنوں تک کرے کہ ظن غالب ہو جائے اب اس کا تلاش کرنے والا نہ ملے گا پھرمساکین کو دے دے اور خود فقیر ہو تو اپنے صرف میں لائے اور اگر اس میں کفر کی علامت ہو مثلاً بت کی تصویر ہو یا کافر بادشاہ کا نام اس پر لکھا ہو اس میں سے خمس لیا جائے باقی پانے والے کو دیا جائے خواہ اپنی زمین میں پائے یا دوسرے کی زمین میں یا مباح زمین میں ۔ (درمختار،ردالمحتار ج ۲ ص ۶۳)

مسئلہ ۷: حربی کافر نے دفینہ نکالا تو اسے کچھ نہ دیا جائے اور جو اس نے لیا ہے واپس لیا جائے ہاں اگر بادشاہ اسلام کے حکم سے کھو د کر نکالا تو جو ٹھہرا ہے وہ دیں گے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۸۵)

مسئلہ ۸: دفینہ نکالنے میں دو شخصوں نے کام کیا تو خمس کے بعد باقی اسے دیں گے جس نے پایا اگرچہ دونوں نے شرکت کے ساتھ کام کیا ہے کہ یہ شر کت فاسدہ ہے اور اگر شرکت کی صورت میں دونوں نے پایا اور یہ نہیں معلوم کہ کتنا کس نے پایا تو نصف نصف کے شریک ہیں اور اسی صورت میں اگر ایک نے پایا اور دوسرے نے مدد کی تو وہ پانے والے کا ہے اور مددگار کو کام کی مزدوری دیجائے گی اور اگر دفینہ نکالنے پر مزدور رکھا تو جو برآمد ہو گا مزدور کو ملے گا۔ مستاجر کو کچھ نہیں کہ اجارہ ٔفاسدہ ہے۔ (ردالمحتار ج ۲ ص ۶۴)

مسئلہ ۹: دفینہ میں نہ اسلامی علامت ہے نہ کفر کی تو زمانۂ کفر کا قرار دیا جائے گا۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۸۵)

مسئلہ ۱۰: صحرائے دارالحرب میں سے جوکچھ نکلا معدنی ہو یا دفینہ اس میں خمس نہیں بلکہ کل پانے والے کو ملے گا اور اگربہت سے لوگ بطور غلبہ کے نکال لائے تو اس میں خمس لیا جائے گاکہ یہ غنیمت ہے۔ (درمختار ج ۲ ص ۶۴)

مسئلہ ۱۱: مسلمان دارالحرب میں امان لے کر گیا اور وہاں کسی کی مملوک زمین سے خزانہ یا کان نکالی تو مالک زمین کوواپس دے اور اگر واپس نہ کیا بلکہ دارالاسلام میں لے آیا تو یہی مالک ہے مگر ملک خبیث ہے لہذا تصدق کرے اور بیچ ڈالا تو بیع صحیح ہے مگر خریدار کے لئے بھی خبیث ہے اور اگر امان لے کر نہیں گیا تھا تو یہ مال اس کے لئے حلال ہے نہ واپس کرے نہ اس میں خمس لیا جائے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۸۵، درمختار ج ۲ ص ۶۵)

مسئلہ ۱۲: خمس مساکین کا حق ہے کہ بادشاہ اسلام ان پر صرف کرے اور اگر اس نے بطور خود مساکین کو دے دیا جب بھی جائز ہے بادشاہ کو خبر پہنچے تو اسے برقرار رکھے اور اس کے تصرف کو نافذ کر دے اور اگر یہ خود مسکین ہے تو بقدر حاجت اپنے صرف میں لا سکتا ہے اور اگر خمس نکالنے کے بعد باقی دو سو درہم کی قدر ہے تو خمس اپنے صرف میں نہیں لا سکتا کہ اب یہ فقیرنہیں ہاں مدیون ہو کہ دین نکالنے کے بعد دو سو درہم کی قدر باقی نہیں رہتا تو خمس اپنے صرف میں لا سکتا ہے اور اگر ماں باپ یا اولاد جو مساکین ہیں ان کو خمس دے دے تو یہ بھی جائز ہے۔ (درمختار، ردالمحتار ج ۲ ص ۶۵)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button