شرعی سوالات

کافر کی مرہونہ زمین سے نفع اٹھانا جائز ہے

سوال :

ایک صاحب ایسے ہیں کہ چار بیگھا کھیت کسی آدمی کا رہن اٹھایا چار سو روپیہ پر اور کہا کہ جب آپ روپیہ دے دیں  گے تب آپ کا کھیت ہم آپ کے حوالہ کر دیں گے نہیں تو غلہ ہم اس کھیت کا کھاتے رہیں گے اس طرح کبھی کبھی پانچ چھ سال گزر جاتا ہے وہ روپیہ چار سو پورا پورا بنا رہتا ہے اور جناب جو روپیہ دینے والے ہیں غلہ کھایا کرتے ہیں بعد میں جب چھڑانا ہو تو کھیت کے مالک کو پانچ سال یا چھ سال کے بعد بھی چار سو روپیہ دینا پڑتا ہے۔

جواب :

یہ صورت ناجائز ہے اس لئے کہ قرض دے کر نفع حاصل کرنا سود ہے حرام ہے۔ البتہ یہاں کے کافروں سے اس قسم کا معاملہ کرنا جائز ہے اس لئے کہ یہاں کے کفار حربی ہیں اور مسلمان و کافر حربی کے درمیان سود نہیں بشرطیکہ مسلمان و کافر حربی کے درمیان جو عقد ہو وہ مسلم کے لئے مفید ہو یعنی کافر کا کھیت اس طرح لینا جائز ہے۔ اور مثلا کافر سے ایک روپیہ کے بدلے میں دو روپیہ خریدے یا اس کے ہاتھ مردار کو بیچ ڈالے کہ اس طریقہ پر مسلمان سے روپیہ حاصل کرنا شرع کے خلاف اور حرام ہے اور کافر سے حاصل کرنا جائز ہے۔ شخص مذکور نے اگر مسلمان کا کھیت اس طرح سے رہن لیا ہے تو جس طرح بھی ہو سکے فورا اس معاملہ کو ختم کرے سود سے بچے اور اللہ واحد قہار کے عذاب سے ڈرے ہاں بعض لوگ کھیت کو جو اس طرح رہن رکھتے ہیں کہ جس کے پاس رہن رکھا گیا وہ کھیت کو جوتے بوئے فائدہ حاصل کرے اور کھیت کا دس پانچ روپیہ سال کرایہ مقرر کر دیتے ہیں اور طے یہ پاتا ہے کہ وہ رقم زر قرض سے مجرا ہوتی رہے گی جب کل رقم ادا ہو جائے گی تو کھیت واپس ہو جائے گا اس صورت میں بظاہر مسلمان کے ساتھ بھی کوئی قباحت نہیں معلوم ہوتی اگرچہ کرایہ واجبی اجرت سے کم طے پایا ہو اس لئے کہ یہ صورت اجارہ میں داخل ہے یعنی اتنے زمانہ کے لیے کھیت کرایہ پر دیا اور کرایہ پیشگی لے لیا۔

(فتاوی فیض الرسول،کتاب الربا،جلد2،صفحہ 401 ،402،شبیر برادرز لاہور)

سوال:

 ہمارے یہاں عام طور سے ایک بیگھہ زمین بیس روپے پچیس روپے سالانہ کرایہ پر دیتے ہیں میں نے ایک شخص کو سو روپیہ قرض دیا اس شرط پر کہ وہ اپنا ایک بیگھہ کھیت ہمیں دیدے جس سے ہم فائدہ اٹھائیں اور گورنمنٹی لگان ایک یا دو روپیہ سالانہ وصول کرتا رہے اور جب کبھی وہ سو روپیہ قرض ادا کرے تو ہم کھیت اسے واپس کردیں تو یہ جائز ہے یا نہیں ؟

جواب:

جائز نہیں اس لئے کہ قرض دے کر نفع حاصل کرنا ہے سود ہے حرام ہے ۔البتہ غیر مسلم حربی کافر کا کھیت اس طرح سکتا ہے اس لیے کہ عقود فاسدہ کے ذریعہ ان کا مال لینا جائز ہے ۔

                                                                                                (فتاوی فیض الرسول،کتاب الربا،جلد2،صفحہ 422،شبیر برادرز لاہور)

سوال:

کسی ہندو یا عیسائی کا مکان رہن رکھ کر مرتہن کو اس سے انتفاع جائز ہے یا نہیں؟

جواب:

جائز ہے جبکہ انھیں تک محدود رکھے اگر خدانخواستہ اس کی عادت پڑجائے کہ مسلمانوں سے بھی اسی طرح کے معاملے کرنے لگے تو ناجائز حرام ہے۔

         (فتاوی امجدیہ،کتاب الرہن،جلد3،صفحہ 344،مطبوعہ  مکتبہ رضویہ،کراچی)

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button