بہار شریعت

کافر سے نکاح کے متعلق مسائل

کافر سے نکاح کے متعلق مسائل

زہری نے مرسلاً روایت کی کہ حضور ﷺ کے زمانہ میں کچھ عورتیں اسلام لائیں اور ان کے شوہر کافر تھے پھر جب شوہر بھی مسلمان ہو گئے تو اسی پہلے نکاح کے ساتھ یہ عورتیں ان کو واپس کی گئیں یعنی جدید نکاح نہ کیا گیا۔

مسئلہ ۱: جس قسم کا نکاح مسلمانوں میں جائز ہے اگر اس طرح کافر نکاح کریں تو ان کا نکاح بھی صحیح ہے مگر بعض اس قسم کے نکاح ہیں جو مسلمان کے لئے ناجائز اور کافر کرے تو ہو جائے گا۔ اس کی صورت یہ ہے کہ نکاح کی کوئی شرط مفقود ہو مثلاً بغیر گواہ نکاح ہوا یا عورت کافر کی عدت میں تھی اس سے نکاح کیا مگر شرط یہ ہے کہ کفار ایسے نکاح کے جائز ہونے کے معتقد ہوں ۔ پھر ایسے نکاح کے بعد اگر دونوں مسلمان ہو گئے تو اسی نکاح سابق پر باقی رکھے جائیں جدید نکاح کی حاجت نہیں ۔ یونہی اگر قاضی کے پاس مقدمہ دائر کیا تو قاضی تفریق نہ کرے گا۔ (درمختار وغیرہ)

مسئلہ ۲: کافر نے محارم سے نکاح کیا ، اگر ایسا نکاح ان لوگوں میں جائز ہو تو نکاح کے لوازم نفقہ وغیرہ ثابت ہو جائیں گے مگر ایک دوسرے کا وارث نہ ہو گا۔ اور اگر دونوں اسلام لائے یا ایک تو تفریق کر دی جائے گی۔ یونہی اگر قاضی یا کسی مسلمان کے پاس دونوں نے اس کا مقدمہ پیش کیا تو تفریق کر دے گا اور ایک نے کیا تو نہیں ۔ (عالمگیری وغیرہ)

مسئلہ ۳: دو بہنوں کے ساتھ ایک عقد میں نکاح کیا پھر ایک کو جدا کر دیا پھر مسلمان ہوا تو جو باقی ہے اس کا نکاح صحیح ہے اسی نکاح پر برقرار رکھے جائیں اور جدا نہ کیا ہو تو دونوں باطل۔ اور اگر دو عقد کے ساتھ نکاح ہوا تو پہلی کا صحیح ہے دوسری کا باطل۔ (عالمگیری وغیرہ)

مسئلہ ۴: کافر نے عورت کو تین طلاقیں دے دیں پھر اس کے ساتھ بدستور رہتا رہا۔ نہ اس سے دوسرے نے نکاح کیا نہ اس نے دوبارہ نکاح کیا یا عورت نے خلع کرایا اور بعد خلع بغیر تجدید نکاح بدستور رہا کیا تو ان دونوں صورتوں میں قاضی تفریق کر دے گا اگرچہ نہ مسلمان ہوا نہ قاضی کے پا س مقدمہ آیا اور اگر تین طلاقیں دینے کے بعد عورت کا دوسرے سے نکاح نہ ہوا مگر اس شوہر نے تجدید نکاح کی تو تفریق نہ کی جائے۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۵: کتابیہ سے مسلمان نے نکاح کیا تھا اور طلاق دیدی ہنوز عدت ختم نہ ہوئی تھی کہ اس سے کسی کافر نے نکاح کیا تو تفریق کر دی جائے۔ (درمختار)

مسئلہ ۶: زوج و زوجہ دونوں کافر غیر کتابی تھے ان میں سے ایک مسلمان ہوا تو قاضی دوسرے پر اسلام پیش کرے اگر مسلمان ہو گیا فبہا اور انکار یا سکوت کیا تو تفریق کر دے ، سکوت کی صورت میں احتیاط یہ ہے کہ تین بار پیش کرے۔ یونہی اگر کتابی کی عورت مسلمان ہو گئی تو مرد پر اسلام پیش کیا جائے اسلام قبول نہ کیا تو تفریق کر دی جائے اور اگر دونوں کتابی ہیں ۔ اور مرد مسلمان ہوا تو عورت بدستور اس کی زوجہ ہے۔ (عامہ کتب)

مسئلہ ۷: نابالغ لڑکا یا لڑکی سمجھ دار ہوں تو ان کا بھی وہی حکم ہے ، اور نا سمجھ ہوں تو انتظار کیا جائے ، جب تمیز آجائے تو اسلام پیش کیا جائے اور اگر شوہر مجنون ہے تو اس کا انتظار نہ کیا جائے کہ ہوش میں آئے تو اس پر اسلام پیش کریں ۔ بلکہ اس کے باپ ماں پر اسلام پیش کریں ان میں جو کوئی مسلمان ہو جائے وہ مجنون اس کا تابع ہے اور مسلمان قرار دیا جائے گا۔ اور اگر کوئی مسلمان نہ ہوا تو تفریق کر دیں ۔ اور اگر اس کے والدین نہ ہوں تو قاضی کسی کو ا س کے باپ کا وصی قرار دے کر تفریق کر دے۔ یہ سب تفصیل جنون اصلی میں ہے۔ اوراگر وہ پہلے مسلمان تھا تو وہ مسلمان ہی ہے اگرچہ اس کے ماں باپ کافر ہوں ۔ (درمختار)

مسئلہ ۸: شوہر مسلمان ہو گیا اور عورت مجوسیہ تھی اور یہودیہ یا نصرانیہ ہو گئی تو تفریق نہیں ۔ یونہی اگر یہودیہ تھی اب نصرانیہ ہو گئی یا بالعکس تو بدستور زوجہ ہے۔ یونہی اگر مسلمان کی عورت نصرانیہ تھی یہودیہ ہو گئی یا یہودیہ تھی نصرانیہ ہو گئی تو بدستور اس کی عورت ہے۔ یونہی اگر نصرانی کی عورت مجوسیہ ہو گئی تو وہ اس کی عورت ہے۔ (ردالمحتار)

مسئلہ ۹: یہ تمام صورتیں اس وقت ہیں کہ دارالاسلام میں اسلام قبول کیا ہو ۔ اور اگر دارالحرب میں مسلمان ہوا تو عورت تین حیض گزرنے پر نکاح سے خارج ہو گئی اور حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے گزرنے پر۔ کم عمر ہونے کی وجہ سے حیض نہ آتا ہو یا بڑھیا ہو گئی کہ حیض بند ہو گیا اور حاملہ ہو تو وضع حمل سے نکاح جاتا رہا۔ اور یہ تین حیض یا تین مہینے عدت کے نہیں ۔ (درمختار ، ردالمحتار)

مسئلہ ۱۰: جو جگہ ایسی ہو کہ نہ دارالاسلام ہو نہ دارالحرب۔ وہ دارالحرب کے حکم میں ہے ۔ (درمختار) اور اگر وہ جگہ دارالاسلام ہو مگر کافر کا تسلط ہو جیسے آج کل ہندوستان تو اس معاملہ میں یہ بھی دارالحرب کے حکم میں ہے یعنی تین حیض یا تین مہینے گزرنے پر نکاح سے باہر ہو گی۔

مسئلہ ۱۱: ایک دارالاسلام میں آکر رہنے لگا دوسرا دارالحرب میں رہا جب بھی عورت نکاح سے باہر ہو جائے گی۔ مثلاً مسلمان ہو کر یا ذمی بن کر دارالاسلام میں آیا یا یہاں آکر مسلمان یا ذمی ہوا یا قید کرکے دارالحرب سے دارالاسلام لایا گیا تو نکاح سے باہر ہو گئی اور اگر دونوں ایک ساتھ مسلمان یا ذمی بن کر وہاں سے آئے یا یہاں آکر مسلمان ہوئے یا ذمہ قبول کیا تو نکاح سے باہر نہ ہوئی یا حربی امن لے کر دارالاسلام میں آیا یا مسلمان یا ذمی دارالحرب کو امان لے کر گیا تو عورت نکاح سے باہر نہ ہو گی۔ (درمختار)

مسئلہ ۱۲: باغی کی حکومت سے نکل کر امام برحق کی حکومت میں آیا یا بالعکس تو نکاح پر کوئی اثر نہیں ۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۱۳: مسلمان یا ذمی نے دارالحرب میں حربیہ کتابیہ سے نکاح کیا تھا۔ وہ وہاں سے قید کر کے لائی گئی تو نکاح سے خارج نہ ہوئی۔ یونہی اگر وہ شوہر سے پہلے خود آئی جب بھی نکاح باقی ہے اور اگر شوہر پہلے آیا اور عورت بعد میں تو نکاح جاتا رہا۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۱۴: ہجرت کر کے دارالاسلام میں آئی ، مسلمان ہو کر یا ذمی بن کر یا یہاں آکر مسلمان یا ذمیہ ہوئی تو اگر حاملہ نہ ہو فوراً نکاح کر سکتی ہے۔ اور حاملہ ہو تو بعد وضع حمل مگر یہ وضع حمل اس کے لئے عدت نہیں ۔ (درمختار)

مسئلہ ۱۵: کافر نے عورت اور اس کی لڑکی دونوں سے نکاح کیا۔ اب مسلمان ہوا۔ اگر ایک عقد میں نکاح ہوا تو دونوں کا باطل اور علیحدہ علیحدہ نکاح کیا اور دخول کسی سے نہ ہوا تو پہلا نکاح صحیح ہے دوسرا باطل اور دونوں سے وطی کر لی ہے تو دونوں باطل۔ اور اگر پہلے ایک سے نکاح ہوا اور دخول بھی ہو گیا۔ اس کے بعد دوسری سے نکاح کیا تو پہلا جائز ، دوسرا باطل ، اور اگر پہلی سے صحبت نہ کی مگر دوسری سے کی تو دونوں باطل مگر جب کہ پہلی عورت ماں ہو اور دوسری اسکی بیٹی اور فقط اس دوسری سے وطی کی تو اس لڑکی سے پھر نکاح کر سکتا ہے اور اس کی ماں سے نہیں ۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۱۶: عورت مسلمان ہوئی اور شوہر پر اسلام پیش کیا گیا اس نے اسلام لانے سے انکار یا سکوت کیا تو تفریق کی جائے گی اور یہ تفریق طلاق قرار دی جائے یعنی اگر بعد میں مسلمان ہوا اور اسی عورت سے نکاح کیا تو اب دو ہی طلاق کامالک رہے گا کہ منجملہ تین طلاقوں کے ایک پہلے ہو چکی ہے۔ اور یہ طلاق بائن ہے اگرچہ دخول ہو چکا ہو یعنی اگر مسلمان ہو کر رجعت کرنا چاہے تو نہیں کر سکتا۔ بلکہ جدید نکاح کرنا ہو گا اور دخول ہو چکا ہو تو عورت پر عدت واجب ہے اور عدت کا نفقہ شوہر سے لے گی اور پورا مہر شوہر سے لے سکتی ہے۔ قبل دخول ہو تو نصف مہر واجب ہوا اور عدت نہیں اور اگر شوہر مسلمان ہوا اور عورت نے انکار کیا تو تفریق فسخ نکاح ہے کہ عورت کی جانب سے طلاق نہیں ہو سکتی ہے پھر اگر وطی ہو چکی ہے تو پورا مہر لے سکتی ہے ورنہ کچھ نہیں ۔ (درمختار ، بحر)

مسئلہ ۱۷: زن و شوہر میں سے کوئی معاذ اللہ مرتد ہو گیا تو نکاح ٹوٹ گیا۔ اور یہ فسخ ہے طلاق نہیں عورت موطؤہ ہے تو مہر بہرحال پورا لے سکتی ہے اور غیر موطؤہ ہے تو اگر عورت مرتد ہوئی کچھ نہ پائے گی اور شوہر مرتد ہوا تو نصف مہر لے سکتی ہے اور عورت مرتدہ ہوئی اور زمانۂ عدت میں مر گئی اور شوہر مسلمان ہے تو ترکہ پائے گی۔ (درمختار)

مسئلہ ۱۸: دونوں ایک ساتھ مرتد ہو گئے پھر مسلمان ہوئے تو پہلا نکاح باقی رہا اور اگر دونوں میں سے ایک پہلے مسلمان ہوا پھر دوسرا تو نکاح جاتا رہا۔ اور اگر یہ معلوم نہ ہو کہ پہلے کون مرتد ہوا تو دونوں کا مرتد ہونا ایک ساتھ قرار دیا جائے۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۱۹: عورت مرتدہ ہو گئی تو اسلام لانے پر مجبور کی جائے یعنی اسے قید میں رکھیں یہاں تک کہ مر جائے یا اسلام لائے اور جدید نکاح ہو تو مہر بہت تھوڑا رکھا جائے۔ (درمختار)

مسئلہ ۲۰: عورت نے زبان سے کلمۂ کفر جاری کیا تاکہ شوہر سے پیچھا چھوٹے یا اس لئے کہ دوسرا نکاح ہو گا تو اس کا مہر بھی وصول کرے گی تو ہر قاضی کو اختیار ہے کہ کم سے کم مہر پر اسی شوہر کے ساتھ نکاح کر دے۔ عورت راضی ہو یا ناراض اور عورت کو یہ اختیار نہ ہو گا کہ دوسرے سے نکاح کرلے۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۲۱: مسلمان کے نکاح میں کتابیہ عورت تھی اور مرتد ہو گیا یہ عورت بھی اس کے نکاح سے باہر ہو گئی۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۲۲: بچہ اپنے باپ ماں میں اس کا تابع ہو گا جس کا دین بہتر ہو مثلاً اگر کوئی مسلمان ہوا تو اولاد مسلمان ہے ہاں اگر بچہ دارالحرب میں ہے اور اس کا باپ دارالاسلام میں مسلمان ہوا تو اس صورت میں اس کا تابع نہ ہو گا۔ اور اگر ایک کتابی ہے دوسرا مجوسی یا بت پرست تو بچہ کتابی قرار دیا جائے ۔ (عامہ کتب)

مسئلہ ۲۳: مسلمان کا کسی لڑکی سے نکاح ہوا اور اس لڑکی کے والدین مسلمان تھے پھر مرتد ہو گئے تو وہ لڑکی نکاح سے باہر نہ ہوئی اور اگر لڑکی کے والدین مرتد ہو کر لڑکی کو لے کر دارالحرب کو چلے گئے تو اب باہر ہو گئی۔ اور اگر اس کے والدین سے کوئی حالت اسلام میں مر چکا ہے یا مرتد ہونے کی حالت میں مرا پھر دوسرا مرتد ہو کر لڑکی کو دارالحرب میں لے گیا تو باہر نہ ہوئی۔ خلاصہ یہ کہ والدین کے مرتد ہونے سے چھوٹے بچے مرتد نہ ہوں گے جب تک دونوں مرتد ہو کر اسے دارالحرب کو نہ جائیں ۔ نیز یہ کہ ایک مر گیا تو دوسرے کے تابع نہ ہوں گے اگرچہ یہ مرتد ہو کر دارالحرب کو لے جائے اور تابع ہونے میں یہ شرط ہے کہ خود وہ بچہ اس قابل نہ ہو کہ اسلام و کفر میں تمیز کر سکے اور سمجھدار ہے تو اسلام اور کفر میں کسی کا تابع نہیں ۔ مجنون بھی بچہ ہی کے حکم میں ہے کہ وہ تابع قرار دیا جائے گا۔ جب کہ جنون اصلی ہو۔ اور بلوغ سے پہلے یا بعد بلوغ مسلمان تھا پھر مجنون ہو گیا تو کسی کا تابع نہیں بلکہ یہ مسلمان ہے۔ بوہرے کا بھی یہی حکم ہے کہ اصلی ہے تو تابع اور عارضی ہے تو نہیں ۔ (عالمگیری ، درمختار وغیرہما)

مسئلہ ۲۴: بالغ ہو اور سمجھ بھی رکھتا ہو مگر اسلام سے واقف نہیں تو مسلمان نہیں یعنی جب کہ ایمان اجمالی بھی نہ ہو۔

مسئلہ ۲۵: مرتد و مرتدہ کا نکاح کسی سے نہیں ہو سکتا۔ نہ مسلمان سے نہ کافر سے نہ مرتدہ و مرتد سے۔ (درمختار)

مسئلہ ۲۶: زبان سے کلمۂ کفر نکلا۔ اس نے تجدید اسلام و تجدید نکاح کی اگر معاذ اللہ کئی بار یوہیں ہوا جب بھی اسے حلالہ کی اجازت نہیں ۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۲۷: نشہ والا جس کی عقل جاتی رہی اور زبان سے کلمۂ کفر نکلا تو عورت نکاح سے باہر نہ ہوئی۔ (عالمگیری) مگر تجدید نکاح کی جائے۔

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button