شرعی سوالات

کافر بینکوں سے نفع لیناسود نہیں ہے ۔

کافر بینکوں سے نفع لیناسود نہیں ہے ۔

مسلمانوں اورکافروں کے مشترکہ بینکوں سے قرض پر نفع لیناسود ہے ۔

سوال:

 بینک سے فائدہ لینا کیسا؟ حرام پیسہ فقیر کو دینا کیسا؟ ملخصا

جواب:

 اگر بینک یہاں کے کافروں کا ہے تو اس کا نفع جائز و حلال ہے اس لیے کہ یہاں کے کفار حربی ہیں ۔ اور مسلمان و کافر حربی کے درمیان سود نہیں۔ اگر بینک مسلمانوں کا ہے یا مسلمان و کافر کا مشترکہ ہے تو اس بینک کا نفع بیشک سود ہے اور اس کو اپنے خرچ میں لانا بھی حرام ہے۔ اور فقیر کو دے کر ثواب کی امید رکھنا کفر ہے۔

(فتاوی فیض الرسول،کتاب الربا،جلد2،صفحہ 405،شبیر برادرز لاہور)

سوال:

ہندو بینک یا ڈاکخانے سے ملنے والے نفع کو اپنے استعمال میں لانا جائز ہے یا نہیں؟ ملخصا

جواب:

جو بینک کہ مسلمانوں کا ہو یا ہندو اور مسلم کا مشترکہ ہو ایسے بینک کا نفع سود ہے ، حرام ہے۔ اس کا لینا ہرگز جائز نہیں۔ اور جو بینک کہ صرف یہاں کے کافروں کا ہو اس کا نفع لینا اور ہر مباح کام میں صرف کرنا جائز ہے اس لیے کہ یہاں کے کافر حربی ہیں۔ اور کافر حربی و مسلمانوں کے درمیان سود نہیں۔ لیکن یہاں کے کافروں سے نفع لینا جائز ہے دینا منع ہے۔

                                                                                                (فتاوی فیض الرسول،کتاب الربا،جلد2،صفحہ 405،شبیر برادرز لاہور)

سوال:

بینک سے ملنے والے بیاج کا لینا کیسا؟ ملخصا

جواب :

بینک اگر یہاں کے کافروں کا ہے تو اس کا نفع شرعا سود نہیں اس کو لے کر اپنی ضروریات میں صرف کرنا جائز ہے اس لیے کہ یہاں کے کافر حربی ہیں اور مسلمان و حربی کے درمیان سود نہیں۔ اور اگر مسلمان کا ہے یا مسلمان و کافر کا مشترکہ ہے تو ضرور اس کا نفع سود ہے، حرام ہے ۔ اسے لینا ہرگز ہرگز جائز نہیں۔

(فتاوی فیض الرسول،کتاب الربا،جلد2،صفحہ 406،شبیر برادرز لاہور)

سوال:

بینک میں روپیہ جمع کرنے کے بعد جو نفع ملتا ہے اس کا لینا کیسا ہے؟اوریہ کس بینک سے لینا جائز ہے۔اگر بینک گورنمنٹ کا ہوتو اس کا نفع ہمارے لیے جائزہے یا نہیں؟اور اگر بینک ہندو مسلم شرکت کا ہو تو کس صورت میں نفع جائز ہے اور اگر مسلم کا بینک ہوتو نفع لینے کا کیا حکم ہے؟

جواب:

بینک اگر صرف کفار کا ہو اور بینک والے کچھ زائد رقم دیں تو اس قصد سے لینا جائز ہے کہ کافر اپنی رضا وخوشی سے یہ چیز ہم کو دے رہا ہے ۔سود کی نیت ہرگز نہ کرے۔یہ حقیقتاً سود نہیں اور اگر مسلمانوں کا بینک ہو یا اس بینک میں مسلمان بھی شریک ہوں تو اس زائد رقم کا لینا حرام ہے۔

                                                                          (فتاوی امجدیہ، کتاب الرباء ،جلد3،صفحہ 231،مطبوعہ  مکتبہ رضویہ،کراچی)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button