بہار شریعت

چوری کی حد کے متعلق مسائل

چوری کی حد کے متعلق مسائل

اللہ عزوجل فرماتا ہے:۔

والسارق والسارقۃ فاقطعواایدیھما جزآئً م بما کسبا نکالًا من اللہ ط واللہ عزیز حکیم oفمن تاب من م بعد ظلمہٖ واصلح فان اللہ یتوب علیہ ط ان اللہ غفور رحیم

(چورانے والا مرد اور چورانے والی عورت ان دونوں کے ہاتھ کاٹ دو یہ سزا ہے ان کے فعل کی اللہ کی طرف سے سرزنش ہے۔ اور اللہ غالب حکمت والا ہے اور اگر ظلم کے بعد توبہ کرے اور اپنی حالت درست کرے تو بیشک اللہ اس کی توبہ قبول کرے گا بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے)

حدیث۱ : امام بخاری ومسلم ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضوراقدس ﷺ نے فرمایا چور پر اللہ تعالی کی لعنت کہ بیضہ (خود) چوراتا ہے جس پر اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے اور رسی چوراتا ہے اس پر ہاتھ کاٹا جاتاہے۔

حدیث۲ : ابوداؤد وترمذی ونسائی وابن ماجہ فضالہ بن عبید رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک چور لایا گیا اس کا ہاتھ کاٹا گیاپھر حضورﷺ نے حکم فرمایا وہ کٹاہوا ہاتھ اس کی گردن میں لٹکا دیا جائے۔

حدیث۳ : ابن ماجہ صفوان بن امیہ سے اور دارمی ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہم سے راوی کہ صفوان بن امیہ مدینہ میں آئے اور اپنی چادر کا تکیہ لگا کر مسجد میں سوگئے چور آیا اور ان کی چادر لے بھاگا انھوں نے اسے پکڑا اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر لائے حضورﷺ نے ہاتھ کاٹنے کا حکم فرمایا صفوان نے عرض کی میرا یہ مطلب نہ تھا۔ یہ چادر اس پر صدقہ ہے ارشاد فرمایا میرے پاس حاضر کرنے سے پہلے تم نے ایسا کیوں نہ کیا۔

حدیث۴: امام مالک نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کی کہ ایک شخص اپنے غلام کو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں حاضر لایا اور کہا اس کا ہاتھ کاٹیئے کہ اس نے میری بی بی کا آئینہ چورایا ہے امیرالمومنین رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائیگا کہ یہ تمھارا خادم ہے جس نے تمھارا مال لیا ہے

حدیث۵: ترمذی ونسائی وابن ماجہ دارمی جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خائن اور لوٹنے والے اور اچک لے جانے والے کے ہاتھ نہیں کاٹے جائیں گے۔

حدیث۶: امام مالک وترمذی وابوداؤد ونسائی وابن ماجہ ودارمی رافع بن خدیج رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ حضوراقدس ﷺ نے فرمایا پھل اور گابھے کے چورانے میں ہاتھ کاٹنا نہیں یعنی جبکہ پیڑ میں لگے ہوں اور کوئی چورائے۔

حدیث۷: امام مالک نے روایت کی کہ حضور نے فرمایا درختوں پر جو پھل لگے ہوں ان میں قطع نہیں اور نہ ان بکریوں کے چورانے میں جو پہاڑ پر ہوں ہاں جب مکان میں آجائیں اور پھل خرمن میں جمع کرلیے جائیں اور سپر کی قیمت کو پہنچیں تو قطع ہے۔

حدیث۸: عبداللہ بن عمرو دیگر صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم سے مروی کہ حضور اقدس ﷺ نے سپر کی قیمت میں ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا ہے۔ سپر کی قیمت میں روایات بہت مختلف ہیں بعض میں ربع دینار بعض میں دس درہم۔ ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے احتیاطاً دس درہم والی روایت پر عمل فرمایا۔

احکام فقہیہ

چوری یہ ہے کہ دوسرے کا مال چھپا کرنا حق لے لیا جائے اور اس کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے مگر ہاتھ کاٹنے کے لیے چند شرطیں ہیں ۔

(۱)چورانے والا مکلف ہو یعنی بچہ یا مجنون نہ ہو اب خواہ وہ مرد ہو یا عورت آزاد ہو یا غلام مسلمان ہو یا کافر اور اگر چوری کرتے وقت مجنون نہ تھا پھر مجنون ہو گیا تو ہاتھ نہ کاٹا جائے (۲)گونگا نہ ہو۔

(۳)انکھیاراہواور اگر گونگا ہے تو ہاتھ کاٹنا نہیں کہ ہو سکتا ہے اپنا مال سمجھ کر لیا ہو۔ یونہی اندھے کا ہاتھ نہ کاٹا جائے کہ شاید اس نے اپنا مال جان کر لیاہو۔

(۴)دس درہم چورائے یا اس قیمت کا سونا یا اور کوئی چیز چورائے اس سے کم میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ اور

(۵) دس درم کی قیمت چورانے کے وقت بھی ہو اور ہاتھ کاٹنے کے وقت بھی۔

(۶)اور اتنی قیمت اس جگہ ہو جہاں ہاتھ کاٹا جائے گا۔ لہذا اگر چورانے کے وقت وہ چیز دس درم قیمت کی تھی مگر ہاتھ کاٹنے کے وقت اس سے کم کی ہوگئی یا جہاں چورایا ہے وہاں تو اب بھی دس درم قیمت کی ہے مگر جہاں ہاتھ کاٹا جائے گا وہاں کم کی ہے تو ہاتھ نہ کاٹا جائے۔ ہاں اگر کسی عیب کی وجہ سے قیمت کم ہو گئی یا اس میں سے کچھ ضائع ہوگئی کہ دس درم کی نہ رہی تو دونوں صورتوں میں ہاتھ کاٹے جائیں گے۔

(۷)اور چورانے میں خود اس شے کا چورانا مقصود ہو لہذا اگر اچکن وغیرہ کوئی کپڑا چورایا اور کپڑے کی قیمت دس درم سے کم ہے مگر اس میں دینار نکلا تو جس کوبالقصدچورایا وہ دس درم کا نہیں لہذا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ہاں اگر وہ کپڑا ان درموں کے لیے ظرف ہو تو قطع ہے کہ مقصود کپڑا چورانا نہیں بلکہ اس شے کا چورانا ہے یا کپڑا چورایا اور جانتا تھا کہ اس میں روپے بھی ہیں تو دونوں کو قصدا چورانا قرار دیا جائیگا اگرچہ کہتا ہو کہ میرا مقصود صرف کپڑا چورانا تھا۔ یونہی اگر روپے کی تھیلی چورائی تو اگرچہ کہے مجھے معلوم نہ تھا کہ اس میں روپے ہیں اور نہ میں نے روپے کے قصد سے چورائی بلکہ میرا مقصود صرف تھیلی کا چورانا تھا تو ہاتھ کاٹا جائیگا اور اس کے قول کا اعتبار نہ کیا جائیگا۔

(۸)اس مال کو اس طرح لے گیا ہو کہ اس کا نکالنا ظاہر ہو لہذا اگر مکان کے اندر جہاں سے لیا وہاں اشرفی نگل لی تو قطع نہیں بلکہ تاوان لازم ہے۔

(۹)خفیہً لیا ہو یعنی اگر دن میں چوری کی تو مکان میں جانا اور وہاں سے مال لینا دونوں چھپ کر ہوں اور اگر گیا چھپ کر مگر مال کا لینا علانیہ ہو جیسا ڈاکو کرتے ہیں تو اس میں ہاتھ کاٹنا نہیں ۔ مغرب وعشا کے درمیان کاوقت دن کے حکم میں ہے۔ اور اگر رات میں چوری کی اور جانا خفیۃً ہوا اگرچہ مال لینا علانیۃً یا لڑجھگڑ کر ہو ہاتھ کاٹا جائے۔

(۱۰)جس کے یہاں سے چوری کی اس کا قبضہ صحیح ہوخواہ وہ مال کامالک ہو یا امین اور اور اگر چور کے یہاں سے چورا لیا تو قطع نہیں یعنی جبکہ پہلے چور کا ہاتھ کاٹا جاچکا ہو ورنہ اس کا کاٹا جائے۔

(۱۱)ایسی چیز نہ چورائی ہو جو جلد خراب ہو جاتی ہے جیسے گوشت اور ترکاریاں ۔

(۱۲)وہ چوری دارالحرب میں نہ ہو۔

(۱۳)مال محفوظ ہو اور حفاظت کی دوصورتیں ہیں ایک یہ کہ وہ مال ایسی جگہ ہو جو حفاظت کے لیے بنائی گئی ہو جیسے مکان۔ دوکان۔خیمہ۔ خزانہ۔ صندوق دوسری یہ کہ وہ جگہ ایسی نہیں مگر وہاں کوئی نگہبان مقرر ہو جیسے مسجد۔ راستہ۔ میدان۔

(۱۴)بقدردس (۱۰) درم کے ایک بار مکان سے باہر لے گیا ہو اور اگر چند بار لے گیا کہ سب کا مجموعہ دس (۱۰) درم یا زیادہ ہے مگر ہر بادس (۱۰) سے کم کم لے گیا تو قطع نہیں کہ یہ ایک سرقہ نہیں بلکہ متعدد ہیں ۔ اب اگر دس (۱۰) درم ایک بارلے گیااور وہ سب ایک ہی شخص کے ہوں یا کئی شخصوں کے مثلًا ایک مکان میں چند شخص رہتے ہیں اور کچھ کچھ ہر ایک کا چورایا جن کا مجموعہ دس (۱۰) درم یا زیادہ ہے اگرچہ ہر ایک کا اس سے کم ہے دونوں صورتوں میں قطع ہے ۔

(۱۵) شبہہ یا تاویل کی گنجائش نہ ہو۔ لہذا اگر باپ کا مال چورایا یا قرآن مجید کی چوری کی تو قطع نہیں کہ پہلے میں شبہہ ہے اور دوسرے میں یہ تاویل ہے کہ پڑھنے کے لیے لیا ہے (درمختار،بحر، عالمگیری وغیرہا)

مسئلہ۱: چند شخصوں نے ملکر چوری کی اگر ہر ایک کو بقدر دس درم کے حصہ ملا تو سب کے ہاتھ کاٹے جائیں خواہ سب نے مال لیا ہو یا بعضوں نے لیا اور بعض نگہبانی کرتے رہے (عالمگیری، بحر)

چوری کے ثبوت کے دوطریقے ہیں ایک یہ کہ چور خود اقرار کرے اور اس میں چند بار کی حاجت نہیں صرف ایک بار کافی ہے دوسرا یہ کہ دومرد گواہی دیں اور اگر ایک مرد اور دو عورتوں نے گواہی دی تو قطع نہیں مگر مال کا تاوان دلایا جائے اور گواہوں نے یہ گواہی دی کہ ہمارے سامنے اقرار کیا ہے تو یہ گواہی قابل اعتبار نہیں گواہ کا آزاد ہونا شرط نہیں (درمختار)

مسئلہ۲: قاضی گواہوں سے چند باتوں کا سوال کرے کس طرح چوری کی اور کہاں کی۔اور کتنے کی کی اور کس کی چیز چورائی۔ جب گواہ ان امور کا جواب دیں اور ہاتھ کا ٹنے کے تمام شرائط پائے جاہیں تو قطع کا حکم ہے (درمختار)

مسئلہ۳: پہلے اقرار کیا پھر اقرارسے پھر گیا یا چند شخصوں نے چوری کا اقرار کیا تھا ان میں سے ایک اپنے اقرار سے پھر گیا یا گواہوں نے اسکی شہادت دی کہ ہمارے سامنے اقرار کیا ہے اور چورانکار کرتا ہے کہتا ہے میں نے اقرار نہیں کیا ہے یا کچھ جواب نہیں دیتا تو ان سب صورتوں میں قطع نہیں مگر اقرار سے رجوع کی تو تاوان لازم ہے (درمختار)

اقرار کرکے بھاگ گیا تو قطع نہیں کہ بھاگنا بمنزلہ رجوع کے ہے ہاں تاوان لازم ہے۔ اور گواہوں سے ثابت ہو تو قطع ہے اگرچہ بھاگ جائے اگرچہ حکم سنانے سے پہلے بھاگا ہو البتہ اگر بہت دنوں میں گرفتار ہوا تو تمادی عارض ہوگئی مگر تاوان لازم ہے (درمختار)

مسئلہ۴: مدعی گواہ نہ پیش کرسکا چور پر حلف رکھا اس نے حلف لینے سے انکار کیا تو تاوان دلایا جائے مگر قطع نہیں (درمختار)

مسئلہ۵: چور کو مار پیٹ کر اقرار کرانا جائز ہے کہ یہ صورت نہ ہو تو گواہوں سے چوری کا ثبوت بہت مشکل ہے (درمختار)

مسئلہ۶: ہاتھ کاٹنے کا قاضی نے حکم دیدیااب وہ مدعی کہتا ہے کہ یہ مال اسی کاہے یا میں نے اس کے پاس امانۃً رکھا تھا یا کہتا ہے کہ گواہوں نے جھوٹی گواہی دی یا اس نے غلط اقرار کیا تو اب ہاتھ نہیں کاٹاجاسکتا(درمختار)

مسئلہ۷: گواہوں کے بیان میں اختلاف ہوا ایک کہتا ہے کہ فلاں قسم کاکپڑا تھا دوسرا کہتا ہے فلاں قسم کا تھا تو قطع نہیں (بحر) اقرار وشہادت کے جزئیات کثیر ہیں چونکہ یہاں حدود جاری نہیں ہیں لہذا بیان کرنے کی ضرورت نہیں ۔

مسئلہ۸: ہاتھ کاٹنے کے وقت مدعی اور گواہوں کا حاضر ہونا ضرور نہیں بلکہ اگر غائب ہوں یا مر گئے ہوں جب بھی ہاتھ کاٹ دیا جائے گا (درمختار)

کن چیزوں میں ہاتھ کاٹا جائیگا اور کس میں نہیں

مسئلہ۹: ساکھو۔ آبنوس۔ اگر کی لکڑی۔ صندل۔ نیزہ۔ مشک۔ زعفران۔عنبر۔ اورہر قسم کے تیل۔ زمرد۔ یاقوت۔ زبرجد۔ فیروزہ۔ موتی۔ اور ہر قسم کے جواہر۔ لکڑی کی ہر قسم کی قیمتی چیزیں جیسے کرسی۔ میز۔ تخت۔ دروازہ جو ابھی نصب نہ کیا گیا ہو۔ لکڑی کے برتن۔ یونہی تانبے۔ پیتل۔ لوہے۔ چمڑے وغیرہ کے برتن۔ چھری۔ چاقو۔ قینچی اور ہر قسم کے غلے گیہوں ۔ جو چاول اور ستو۔ آٹا۔ شکر۔ گھی۔ سرکہ۔ شہد۔ کھجور۔ چھوہارے۔ منقے۔ روئی۔ اون۔ کتان۔ پہننے کے کپڑے۔ بچھونا اور ہر قسم کے عمدہ اور نفیس مال میں ہاتھ کاٹا جائیگا۔

مسئلہ۱۰: حقیر چیزیں جو عادۃ محفوظ نہ رکھی جاتی ہوں اور باعتبار اصل کے مباح ہوں اور ہنوزان میں کوئی ایسی صنعت بھی نہ ہوئی ہو جس کی وجہ سے قیمتی ہو جائیں ان میں ہاتھ نہیں کاٹا جائیگا جیسے معمولی لکڑی گھاس۔ نرکل۔ مچھلی۔ پرند۔ گیرو۔ چونا۔ کوئلے۔ نمک۔ مٹی کے برتن۔ پکی اینٹیں ۔ یونہی شیشہ اگرچہ قیمتی ہو کہ جلد ٹوٹ جاتا ہے اور ٹوٹنے پر قیمتی نہیں رہتا۔ یوہیں وہ چیزیں جو جلد خراب ہو جاتی ہیں جیسے دودھ۔ گوشت۔ تربوز۔ خربزہ۔ ککڑی۔ کھیرا۔ ساگ۔ ترکاریاں اور تیار کھانے جیسے روٹی بلکہ قحط کے زمانہ میں غلہ گیہوں ۔ چاول۔ جو وغیرہ بھی۔ اور ترمیوے جیسے انگور۔ سیب۔ ناشپاتی۔ بہی۔ انار۔ اور خشک میوے میں ہاتھ کاٹا جائیگا جیسے اخروٹ بادام وغیرہ جبکہ محفوظ ہوں ۔ اگر درخت پر سے پھل توڑے یا کھیت کاٹ لے گیا تو قطع نہیں اگرچہ درخت مکان کے اندر ہو یا کھیت کی حفاظت ہوتی ہو اور پھل توڑ کریا کھیت کاٹ کر حفاظت میں رکھا اب چورائے گا تو قطع ہے۔

مسئلہ۱۱: شراب چورائی تو قطع نہیں ہاں اگر شراب قیمتی برتن میں تھی کہ اس برتن کی قیمت دس (۱۰) درم ہے اور صرف شراب نہیں بلکہ برتن چورانا بھی مقصود تھا مثلًا بظاہر دیکھنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ برتن بیش قیمت ہے تو قطع ہے (ردالمحتار)

مسئلہ۱۲: لہو ولعب کی چیزیں جیسے ڈھول طبلہ سارنگی وغیرہ ہر قسم کے باجے اگرچہ طبل جنگ چورایا ہاتھ نہیں کاٹا جائیگا۔ یونہی سونے چاندی کی صلیب یابت اور شطرنج نردچورانے میں قطع نہیں اور روپے اشرفی پر تصویر ہو جیسے آج کل ہندوستان کے روپے اشرفی تو قطع ہے (درمختار، درالمختار)

مسئلہ۱۳: گھاس اور نرکل کی کی بیش قیمت چٹائیاں کہ صنعت کی وجہ سے بیش قیمت ہوگئیں ۔ جیسے آج کل بمبئی کلکتہ سے آیا کرتی ہیں ان میں قطع ہے (ردالمحتار)

مسئلہ۱۴: مکان کا بیرونی دروازہ اور مسجد کا دروازہ بلکہ مسجدکے دیگر اسباب جھاڑ فانوس۔ ہانڈیاں ۔ قمقمے۔ گھڑی۔ جانماز وغیرہ اور نمازیوں کے جوتے چورانے میں قطع نہیں مگر جو اس قسم کی چوری کرتا ہو اسے پوری سزا دی جائے اور قید کریں ۔ یہاں تک کہ سچی توبہ کرلے بلکہ ہر ایسے چور کو جس میں کسی شبہہ کی بنا پر قطع نہ ہو تعزیر کی جائے (ردالمحتار)

مسئلہ۱۵: ہاتھی دانت یا اس کی بنی ہوئی چیز چورانے میں قطع نہیں اگرچہ صنعت کی وجہ سے بیش قیمت قرار پاتی ہو اور اونٹ کی ہڈی کی بیش قیمت چیز بنی ہو تو قطع ہے ( عالمگیری)

مسئلہ۱۶: شیر۔ چیتا وغیرہ درندہ کو ذبح کرکے ان کی کھال کو بچھونا یا نماز بنا لیاہے تو قطع ہے ورنہ نہیں اور باز شکرا کتا چیتا وغیرہ جانوروں کو چورایا تو نہیں (عالمگیری)

مسئلہ۱۷: مصحف شریف چورایا تو قطع نہیں اگرچہ سونے چاندی کا اس پر کام ہو۔ یونہی کتب تفسیر وحدیث وفقہ ونحو ولغت و اشعار میں بھی قطع نہیں (عالمگیری، ردالمحتار)

مسئلہ۱۸: حساب کی بہیاں اگر بیکار ہوچکی ہیں اور وہ کاغذات دس (۱۰) درم کی قیمت کے ہیں تو قطع ہے ورنہ نہیں (درمختار)

مسئلہ۱۹: آزاد بچہ کو چورایا اگرچہ زیور پہنے ہوئے ہے ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ یونہی اگر بڑے غلام کو جو اپنے کو بتا سکتا ہے چورایا تو قطع نہیں اگرچہ سونے یا بیہوشی یا جنون کی حالت میں اسے چورایا ہو اور اگر ناسمجھ غلام کو چرایا تو قطع ہے (عالمگیری وغیرہ)

مسئلہ۲۰: ایک شخص کے دوسرے پردس (۱۰) درم آتے تھے قرضخواہ نے قرضدار کے یہاں سے روپے یا اشرفیاں چورا لیں تو قطع نہیں اور اگر اسباب چورایا اور کہتا ہے کہ میں نے اپنے روپے کے معاوضہ میں لیا یا بطور رہن اپنے پاس رکھنے کے لیے لایا تو قطع نہیں ۔ (عالمگیری)

مسئلہ۲۱: امانت میں خیانت کی یا مال لوٹ لیا یا اچک لیا تو قطع نہیں ۔ یونہی قبر سے کفن چورانے میں قطع نہیں اگرچہ قبر مقفل مکان میں ہو بلکہ جس مکان میں قبر ہے اس میں سے اگر علاوہ کفن کے کوئی اور کپڑا وغیرہ چورایا جب بھی قطع نہیں بلکہ جس گھر میں میت ہو وہاں سے کوئی چیز چورائی تو قطع نہیں ہاں اگر اس فعل کا عادی ہے تو بطور سیاست ہاتھ کاٹ دیں گے (در مختار)

مسئلہ۲۲ : ذی رحم محرم کے یہاں سے چرایا تو قطع نہیں اگرچہ وہ مال کسی اور کا ہو اور ذی رحم محرم کا مال دوسرے کے یہاں تھا وہاں سے چورایا تو قطع ہے۔ شوہر نے عورت کے یہاں سے یا عورت نے شوہر کے یہاں سے یا غلام نے اپنے مولی یا مولی کی زوجہ کے یہاں سے یا عورت کے غلام نے اس کے شوہر کے یہاں چوری کی تو قطع نہیں ۔ یونہی تاجروں کی دوکانوں سے چورانے میں بھی قطع نہیں ہے جبکہ ایسے وقت چوری کی کہ اس وقت لوگوں کو وہاں جانے کی اجازت ہے۔ (درمختار)

مسئلہ۲۳ : مکان جب محفوظ ہے تو اب اس کی ضرورت نہیں کہ وہاں کوئی محافظ مقرر ہو اور مکان محفوظ نہ ہو تو محافظ کے بغیر حفاظت نہیں مثلاً مسجد سے کسی کی کوئی چیز چرائی تو قطع نہیں مگر جبکہ اس کا مالک وہاں موجود ہو اگرچہ سورہا ہو یعنی مالک ایسی جگہ ہو کہ مال کو وہاں سے دیکھ سکے۔ یوں ہی میدان یا راستہ میں اگر مال ہے اور محافظ وہاں پاس میں ہے تو قطع ہے ورنہ نہیں (درمختار، عالمگیری)

مسئلہ۲۴ : جو جگہ ایک شے کی حفاظت کے لئے ہے وہ دوسری چیز کی حفاظت کے لئے بھی قرار پائے گی مثلاً اصطبل سے اگر روپے چوری ہوئے تو قطع ہے اگرچہ اصطبل روپے کی حفاظت کی جگہ نہیں (عالمگیری)

مسئلہ۲۵ : اگر چند بار کسی نے چوری کی تو بادشاہ اسلام اسے سیاسۃً قتل کرسکتا ہے۔ (درمختار)

ہاتھ کاٹنے کے متعلق مسائل

مسئلہ۲۵ : چور کا دہنا ہاتھ گٹے سے کاٹ کر کھولتے تیل میں داغ دینگے اور اگر موسم سخت گرمی یا سخت سردی کا ہو تو ابھی نہ کاٹیں بلکہ اسے قید میں رکھیں ۔ گرمی یا سردی کی شدت جانے پر کاٹیں ۔ تیل کی قیمت اور کاٹنے والے اور داغنے والے کی اجرت اور تیل کھولانے کے مصارف سب چور کے ذمہ ہیں ۔ اور اس کے بعد اگر پھر چوری کرے تو اب بایاں پاؤں گٹے سے کاٹ دیں گے اس کے بعد پھر اگر چوری کرے تو اب نہیں کاٹیں گے بلکہ بطور تعزیر ماریں گے اور قید میں رکھیں گے یہاں تک کہ توبہ کرلے یعنی اس کے بشرہ سے یہ ظاہر ہونے لگے کہ سچے دل سے توبہ کی اور نیکی کے آثار نمایاں ہوں (درمختار وغیرہ)

مسئلہ۲۶ : اگر دہنا ہاتھ اس کا شل ہوگیا ہے یا اس میں کا انگوٹھا یا انگلیاں کٹی ہوں جب بھی کاٹ دیں گے اور اگر بایاں ہاتھ شل ہو یا اس کا انگوٹھا یا دوانگلیاں کٹی ہوں تو اب دہنا نہیں کاٹیں گے۔ یونہی اگر دہنا پاؤں بیکار ہو یا کٹا ہو تو بایاں پاؤں نہیں کاٹیں گے بلکہ قید کریں گے (عالمگیری، درمختار)

مسئلہ۲۷ : ہاتھ کاٹنے کی شرط یہ ہے کہ جس کا مال چوری ہوگیا ہے وہ اپنے مال کا مطالبہ کرے خواہ گواہوں سے چوری کا ثبوت ہو یا چور نے خود اقرار کیا ہو اور یہ بھی شرط ہے کہ جب گواہ گواہی دیں اس وقت وہ حاضر ہو اور جس وقت ہاٹھ کاٹا جائے اس وقت بھی موجود ہو لہذا اگر چور چوری کا اقرار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے فلاں شخص جو غائب ہے اس کی چوری کی ہے یا کہتا ہے کہ یہ روپے میں نے چورائے ہیں مگر معلوم نہیں کس کے ہیں یا میں یہ نہیں بتاؤں گا کہ کس کے ہیں تو قطع نہیں اور پہلی صورت میں جبکہ غائب حاضر ہو کر مطالبہ کرے تو اس وقت قطع کریں گے (درمختار)

مسئلہ۲۸ : جس شخص کا مال پر قبضہ ہے وہ مطالبہ کرسکتا ہے جیسے امین و غاصب و مرتہن و متولی اور باپ اور وصی اور سود خوار جس نے سودی مال پر قبضہ کرلیا ہے۔ اور سود دینے والا جس نے سود کے روپے ادا کردیئے اور یہ روپے چوری ہوگئے تو اس کے مطالبہ پر قطع نہیں (درمختار)

مسئلہ۲۹ : وہ چیز جس کے چرانے پر ہاتھ کاٹا گیا ہے اگر چور کے پاس موجود ہے تو مالک کو واپس دلائیں گے اور جاتی رہی تو تاوان نہیں اگرچہ اس نے خود ضائع کردی ہو۔ اور اگر بیچ ڈالی یا ہبہ کردی اور خریدار یا موہوب لہ نے ضائع کردی تو یہ تاوان دیں اور خریدار چور سے ثمن واپس لے۔ اور اگر ہاتھ کاٹا نہ گیا ہو تو چور سے ضمان لے گا (درمختار)

مسئلہ۳۰ : کپڑا چور ایا اور پھاڑ کر دوٹکڑے کردیئے اگر ان ٹکڑوں کی قیمت دس درم ہے تو قطع ہے اور اگر ٹکڑے کرنے کی وجہ سے قیمت گھٹ کر آدھی ہوگئی تو پوری قیمت کا ضمان لازم ہے اور قطع نہیں ۔

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button