بہار شریعت

چاند دیکھنے کے متعلق مسائل

چاند دیکھنے کے متعلق مسائل

اللہ عزوجل فرماتا ہے:۔

یسئلونک عن الاھلۃ ط قل ھی مواقیت للناس والحج ط

(اے محبوب تم سے ہلال کے بارے میں لوگ سوال کرتے ہیں تم فرما دو وہ لوگوں کے کاموں اور حج کے لئے اوقات ہیں )

حدیث ۱ـ: صحیح بخاری و مسلم میں ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں روزہ نہ رکھو جب تک چاند نہ دیکھ لو اور افطار نہ کرو جب تک چاند نہ دیکھ لو اوراگر ابر ہو تو مقدار پوری کرلو۔

حدیث ۲ـ: نیز صحیحین میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی حضوراقدس ﷺ فرماتے ہیں چاند کو دیکھ کر روزہ رکھنا شروع کرو اور چاند کو دیکھ کر افطار کرو اور اگر ابر ہو تو شعبان کی گنتی تیس پوری کر لو۔

حدیث ۳ـ: ابودائودو ترمذی و نسائی و ابن ماجہ و دارمی ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے راوی ایک اعرابی نے حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی ، میں نے رمضان کا چاند دیکھا ہے فرمایا تو گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں عرض کی ہاں ۔ فرمایا تو گواہی دیتا ہے کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ، اس نے کہا ہاں ارشاد فرمایا اے بلال لوگوں میں اعلان کر دو کہ کل روزہ رکھیں ۔

حدیث ۴ـ: ابودائود و دارمی ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے راوی کہ لوگوں نے چاند دیکھنا شروع کیا میں نے حضور کو خبر دی کہ میں نے چاند دیکھا ہے حضور نے بھی روزہ رکھا اور لوگوں کو روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔

حدیث ۵: ابودائود ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روای کہ رسول اللہ ﷺ شعبان کا اس قدر تحفظ کرتے کہ اتنا اور کسی کا نہ کرتے پھر رمضان کا چاند دیکھ کر روزہ رکھتے اور اگر ابر ہوتا توتیس دن پورے کر کے روزہ رکھتے۔

حدیث ۶ـ: مسلم میں ابی البحتری سے مروی کہتے ہیں ہم عمرہ کے لئے گئے جب بطن نخلہ میں پہنچے توچاند دیکھ کر کسی نے کہا دو رات کا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہا سے ہم ملے اور ان سے واقعہ بیان کیا۔ فرمایا تم نے دیکھا کس رات میں کہا ہم نے کہا فلاں رات میں فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کی مدت دیکھنے سے مقرر فرمائی لہذا اس رات کا اقرار دیا جائے گا جس رات کو تم نے دیکھا۔

مسائل فقہیہ

مسئلہ ۱: پانچ مہینوں کا چاند دیکھنا واجب کفایہ ہے۔ شعبان، رمضان، شوال ، ذیقعدہ، ذی الحجہ۔

شعبان کا اس لئے کہ اگر رمضان کا چاند دیکھتے وقت ابر یا غبار ہو تو یہ تیس پورے کر کے رمضان شروع کریں اور رمضان کاروزہ رکھنے کے لئے شوال کا روزہ ختم کرنے کے لئے اورذیقعدہ کا ذی الحجہ کے لئے ذی الحجہ کا بقرعید کے لئے۔ (فتاوی رضویہ)

مسئلہ ۲: شعبان کی انتیس کو شام کے وقت چاند دیکھیں دکھائی دئے تو کل روزہ رکھیں ورنہ شعبان کے تیس دن پورے کر کے رمضان کا مہینہ شروع کریں ۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۹۷)

مسئلہ ۳: کسی نے رمضان یا عید کا چاند دیکھا مگر اس کی گواہی کسی وجہ شرعی سے ردکر دی گئی مثلاً فاسق ہے یا عید کا چاند اس نے تنہا دیکھا تو اسے حکم ہے کہ روزہ رکھے اگرچہ اپنے آپ عید کا چاند دیکھ لیا ہے اور اس روزہ کا توڑنا جائز نہیں مگر توڑے گا تو کفارہ لازم نہیں اور اس صورت میں اگر رمضان کا چاند تھا اور اس نے اپنے حسابوں تیس روزے پورے کئے مگر عید کے چاند کے وقت پھر ابر یا غبار ہے تو اسے بھی ایک دن اوررکھنے کا حکم ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۹۸، درمختار ج ۲ ص ۱۲۲،۱۲۳)

مسئلہ ۴: اس نے چاند دیکھ کر روزہ رکھا پھر روزہ توڑ دیا یا قاضی کے یہاں گواہی بھی دی تھی اور ابھی اس نے اس گواہی پر حکم نہ دیا تھا کہ اس نے روزہ توڑ دیا تو بھی کفارہ لازم نہیں صرف اس روزہ کی قضا دے اور اگر قاضی نے اس کی گواہی قبول کر لی۔ اس کے بعد اس نے روزہ توڑ دیا تو کفارہ لازم ہے اگرچہ یہ فاسق ہو۔ (درمختار ج ۱ ص ۱۲۳)

مسئلہ۵: جوشخص علم ہیأت جانتا ہے اس کا اپنے علم ہیٔات کے ذریعہ سے کہہ دینا کہ آج چاند ہوا یا نہیں ہوا کوئی چیز نہیں اگرچہ وہ عادل ہو اگرچہ کئی شخص ایسا کہہ سکتے ہوں کہ شرع میں چاند دیکھنے یا گواہی سے ثبوت کا اعتبار ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۹۷)

مسئلہ ۶: ہر گواہی میں یہ کہنا ضروری ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ بغیر اس کے شہادت نہیں مگر ابر میں رمضان کے چاند کی گواہی میں اس کہنے کی ضرورت نہیں اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ میں نے اپنی آنکھ سے اس رمضان کا چاند آج یا کل فلاں دن دیکھا ہے یونہی اس کی گواہی میں دعوی اورر مجلس قضا اور حاکم کا حکم بھی شرط نہیں یہاں تک کہ اگر کسی حاکم کے یہاں گواہی دی تو جس نے اس کی گواہی سنی اور اس کو بظاہر معلوم ہو کہ یہ عادل ہے اس پر روزہ رکھنا ضروری ہے ا گرچہ حاکم کا حکم اس نے نہ سنا ہو مثلاً حکم دینے سے پہلے ہی چلا گیا۔ (درمختار ج ۲ ص ۱۲۳، عالمگیری ج ۱ ص ۱۹۷)

مسئلہ ۷: ابر اور غبار میں رمضان کا ثبوت ایک مسلمان عاقل بالغ مستور یا عادل شخص سے ہو جاتا ہے وہ مرد ہو خواہ عورت ، آزاد ہو یا باندی غلام یا اس پر تمہت زنا کی حد ماری گئی ہو جب کہ توبہ کر چکا ہے۔ عادل ہونے کے معنے یہ ہیں کہ کم سے کم متقی ہو یعنی کبائر گناہ سے بچتا ہو اور صغیرہ پر اصرار نہ کرتا ہو اور ایسا کام نہ کرتا ہو جو مروت کے خلاف ہو مثلاً بازار میں کھانا۔ (درمختار، ردالمحتار ج ۲ ص ۱۲۴،۱۲۳)

مسئلہ ۸: فاسق اگرچہ رمضان کے چاند کی شہادت دے اس کی گواہی قبول نہیں رہا یہ کہ اس کے ذمہ گواہی دینا لازم ہے یا نہیں ۔ اگر امید ہے کہ اگر اس کی گواہی قاضی قبول کر لے گا تو اسے لازم ہے کہ گواہی دے۔ مستور یعنی جس کا ظاہر حال مطابق شرع ہے مگر باطن کا حال معلوم نہیں اس کی گواہی بھی غیر رمضان میں قابل قبول نہیں ۔ (درمختار ج ۲ ص ۱۲۳،۱۲۴)

مسئلہ ۹: جس عادل شخص نے رمضان کا چاند دیکھا اس پر واجب ہے کہ اسی رات میں شہادت ادا کرے یہاں تک کہ اگر لونڈی یا پردہ نشین عورت نے چاند دیکھا تو اس پر گواہی دینے کے لئے اسی رات جانا واجب ہے۔ لونڈی کو اس کی کچھ ضرورت نہیں کہ اپنے آقا سے اجازت لے۔ یونہی آزاد عورت کو گواہی کے لئے جاناواجب ہے اس کے لئے شوہر سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں مگر یہ حکم ا س وقت ہے جب اس کی گواہی پر ثبوت موقوف ہو کہ بے اس کے گواہی کے کام نہ چلے ورنہ کیا ضرورت۔ (درمختار، ردالمحتار ج ۲ ص ۱۲۴)

مسئلہ ۱۰: جس کے پاس رمضان کے چاند کی شہادت گزری اسے یہ ضرور نہیں کہ گواہ سے دریافت کرے تم نے کہاں سے دیکھا اور وہ کس طرف تھا اور کتنے اونچے پر تھا وغیرہ وغیرہ۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۹۷ وغیرہ) مگر جب کہ اس کے متعلق مسائل مشتبہ ہو تو سوالات کرے خصوصاً عید میں کہ لوگ خواہ مخواہ اس کا چاند دیکھ لیتے ہیں ۔

مسئلہ ۱۱: تنہا امام (بادشاہ اسلام) یا قاضی نے چاند دیکھا تو اسے اخیتار ہے خواہ خود ہی روزہ رکھنے کا حکم دے یا کسی کو شہادت لینے کے لئے مقرر کرے اور اس کے پاس شہادت ادا کرے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۹۷)

مسئلہ ۱۲: گائوں میں چاند دیکھا اوروہاں کوئی ایسا نہیں جس کے پاس گواہی دے تو گائوں والوں کو جمع کر کے شہادت ادا کرے اور اگر یہ عادل ہے تو لوگوں پر روزہ رکھنا لازم ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۹۷)

مسئلہ ۱۳: کسی نے چاند نہیں دیکھا مگر دیکھنے والے نے اسے اپنی شہادت کا گواہ بنایا تو اس کی شہادت کا وہی حکم ہے جو چاند دیکھنے والے کی گواہی کا ہے جب شہادت علی الشہادت کے تمام شرائط پائے جائیں ۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۹۷ وغیرہ)

مسئلہ ۱۴: اگر مطلع صاف ہو تو جب تک بہت سے لوگ شہادت نہ دیں چاند کا ثبوت نہیں ہو سکتا رہا یہ اس کے لئے کتنے لوگ چاہیئں یہ قاضی کے متعلق ہے جتنے گواہوں سے اسے غالب گمان ہو جائے حکم دے دے گا مگر جب کہ بیرون شہر یا بلند جگہ سے چاند دیکھنا بیان کرتا ہے تو ایک مستورہ کا قول بھی رمضان کے چاند میں قبول کر لیا جائے گا۔ (درمختار ج ۲ ص ۱۲۶،۱۲۷ وغیرہ)

مسئلہ ۱۵: جماعت کثیرہ کی شرط اس وقت ہے جب روزہ رکھنے یا عید کرنے کے لئے شہادت گزرے اور اگر کسی اور معاملے کے لئے مرد یا ایک مرد اوردو عورتوں ثقہ کی شہادت گزری اورقاضی نے شہادت کی بنا پر حکم دے دیا تو اب شہادت کافی ہے۔ روزہ رکھنے یا عیدکرنے کے لئے بھی ثبوت ہو گیا۔ مثلاً ایک شخص نے دوسرے پر دعوی کیا کہ میرا اس کے ذمہ اتنا ہے اور اس کی میعادیہ ٹھہری تھی کہ جب رمضان آجائے تو دین ادا کر دے گا اور رمضان آگیا مگر یہ نہیں دیتا مدعی علیہ نے کہا بیشک اس کا دین میرے ذمہ ہے اور میعاد بھی یہی ٹھہری تھی مگر ابھی رمضان نہیں آیا اس پر مدعی نے دو گواہ گزارے جنہوں نے چاند دیکھنے کی شہادت دی قاضی نے حکم دے دیا کہ دین ادا کر۔ تو اگرچہ مطلع صاف تھا اور دو گواہیاں ہوئیں مگراب روزہ رکھنے اور عید کرنے کے حق میں یھی یہی دوگواہیاں کافی ہیں ۔ (درمختار، ردالمحتار ج ۱ ص ۱۲۸، ۱۲۷)

مسئلہ ۱۶: یہاں مطلع صاف مگر دوسری جگہ ناصاف تھا وہاں قاضی کے سامنے شہادت گزری قاضی نے چاند ہونے کا حکم دیا اب دو یا چند آدمیوں نے یہاں آکر جہاں مطلع صاف تھا اس بات کی گواہی دی کہ فلاں قاضی کے یہاں دو شخصوں نے فلاں رات چاند دیکھنے کی گواہی دی اور اس قاضی نے ہمارے سامنے حکم دے دیا اور دعوی کے شرائط بھی پائے جاتے ہیں تویہاں کا قاضی بھی ان شہادتوں کی بنا پر حکم دے دے گا۔ (درمختار ج ۲ ص ۱۲۸)

مسئلہ ۱۷: اگر کچھ لوگ آکر یہ کہیں کہ فلاں جگہ چاند ہوا بلکہ اگر شہادت بھی دیں کہ فلاں جگہ چاند ہوا بلکہ اگر یہ شہادت بھی دیں کہ فلاں فلاں نے دیکھا بلکہ اگر یہ شہادت بھی دیں کہ فلاں جگہ کے قاضی نے روزہ یا افطار کے لئے لوگوں سے کہا یہ سب طریقے ناکافی ہیں ۔ (درمختار، ردالمحتار ج ۲ ص ۱۲۸)

مسئلہ ۱۸: کسی شہر میں چاند ہوا اور تمام شہر میں یہ بات مشہور ہے اور وہاں سے متعدد جماعتیں دوسرے شہر میں آئیں اورسب نے اس کی خبر دی کہ وہاں فلاں دن چاند ہوا اور وہاں کے لوگوں نے رویت کی بنا پر فلاں دن سے روزے شروع کئے تو یہاں والوں کے لئے بھی ثبوت ہوگیا۔ (ردالمحتار ج ۲ ص ۱۲۸)

مسئلہ ۱۹: رمضان کی چاند کی رات کو ابر تھا ایک شخص نے شہادت دی اور اس کی بنا پر روزے کا حکم بھی دے دیا گیا اب عید کا چاند اگر بوجہ ابر کے نہیں دیکھا تو تیس روزے پورے کر کے عید کر لیں اور اگر مطلع صاف ہے تو عید نہ کریں مگر جب کہ دو عادلوں کی گواہی سے رمضان ثابت ہوا ہو۔ (درمختار، ردالمحتار ج ۲ ص ۱۲۹)

مسئلہ ۲۰: مطلع ناصاف ہے تو علاوہ رمضان کے شوال و ذی الحجہ تمام مہینوں کے لئے دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں گواہی دیں اور سب عادل ہوں اور آزاد ہوں اور ان میں کسی پر تہمت زنا کی حد نہ قائم کی گئی ہو اگرچہ توبہ کر چکا ہو اوریہ بھی شرط ہے کہ گواہ گواہی دیتے وقت یہ لفظ کہے میں گواہی دیتا ہوں ۔ (عامہ کتب، شامی ج ۲ ص ۱۳۰)

مسئلہ ۲۱: گائوں میں دو شخصوں نے عید کا چاند دیکھا اور مطلع صاف ہے اور وہاں ایسا نہیں جس کے پاس شہادت دیں تو گائوں والوں سے کہیں اگر یہ عادل ہوں تو عید کر لیں ۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۹۸)

مسئلہ ۲۲: تنہا امام یا قاضی نے عید کا چاند دیکھا تو انہیں عید کرنا یا عیدکا حکم دینا جائز نہیں ۔ (درمختار ج ۲ ص ۱۲۵ وغیرہ)

مسئلہ ۲۳: انتیسویں رمضان کو کچھ لوگوں نے یہ شہادت دی کہ ہم نے لوگوں سے ایک دن پہلے چاند دیکھا جس کے حساب سے آج تیس ہے تو اگر یہ لوگ یہیں تھے تو اب کی گواہی مقبول نہیں کہ وقت پر گواہی کیوں نہ دی اور اگر یہاں نہ تھے اور عادل ہوں تو قبول کر لی جائے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۹۸)

مسئلہ ۲۴: رمضان کا چاند دکھائی نہ دیا شعبان کے تیس دن پورے کر کے روزے شروع کر دیئے اٹھائیس ہی روزے رکھے تھے کہ عید کا چاند ہو گیا تو اگرشعبان کا چاند دیکھ کر تیس دن کا مہینہ قرار دیا تھا تو ایک روزہ رکھیں اور اگر شعبان کا بھی چاند دکھائی نہ دیا تھا بلکہ رجب کی تیس تاریخیں پوری کر کے شعبان کا مہینہ شروع کیا تو دو روزے قضا کے رکھیں ۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۹۹)

مسئلہ ۲۵: دن میں ہلال دکھائی دیازوا ل سے پہلے یا بعد بہرحال وہ آئندہ رات کاقرار دیا جائے گا یعنی جو رات آئے گی اس سے مہینہ شروع ہو گا تو اگر تیسویں رمضان کے دن میں دیکھا تو یہ دن رمضان ہی کا ہے شوال کا نہیں اور روزہ پورا کرنا فرض ہے اور اگر شعبان کی تیسویں تاریخ کے دن میں دیکھا تو دن شعبان کا ہے رمضان کا نہیں لہذا آج کا روزہ فرض نہیں ۔ (درمختار، ردالمحتار ج ۲ ص ۱۳۱)

مسئلہ ۲۶: ایک جگہ چاند ہوا تو وہ صرف وہیں کے لئے نہیں بلکہ تمام جہان کے لئے ہے مگر دوسری جگہ کے لئے اس کا حکم اس وقت ہے کہ ان کے نزدیک اس دن تاریخ میں چاند ہونا شرعی ثبوت سے ثابت ہو جائے یعنی دیکھنے کی گواہی یا قاضی کے حکم کی شہادت گزرے یا متعدد جماعتیں وہاں سے آکر خبر دیں کہ فلاں جگہ چاند ہوا اور وہاں لوگوں نے روزہ رکھا یا عیدکی ہے۔ (درمختار ج ۲ ص ۱۳۲)

مسئلہ ۲۷: تار یا ٹیلیفون سے رویت ہلال ثابت نہیں ہو سکتی نہ بازاری افواہ اور جنتریوں اور اخباروں میں چھپا ہونا کوئی ثبوت نہیں ہے آج کل عموماً دیکھا جاتا ہے کہ انتیس رمضان کو بکثرت ایک جگہ سے دوسری جگہ تار بھیجے جاتے ہیں کہ چاند ہوا یا نہیں اگر کہیں سے تار آگیا بس تو عید آگئی یہ محض ناجائز و حرام ہے تار کیا چیز ہے اولاً تو یہی معلوم نہیں کہ جس کا نام لکھا ہے واقعی اسی کا بھیجا ہوا ہے اور فرض کرو اسی کا ہو تمہارے پاس کیا ثبوت اور یہ بھی سہی تو تار میں اکثر غلطیاں ہوتی ہیں ۔ ہاں کا نہیں ، نہیں کا ہاں معمولی بات ہے اور مانا کہ بالکل صحیح پہنچا تو یہ محض ایک خبر ہے شہادت نہیں اور وہ بھی بیسوں واسطہ سے اگر تار دینے والا انگریزی پڑھا ہوا نہیں تو کسی اور سے لکھوائے گا معلوم نہیں کہ اس نے کیا لکھوایا اس نے کیا لکھا آدمی کو دیا اس نے تار والے کے حوالے کیا اب یہاں کے تار گھر میں پہنچا تو اس نے تقسیم کرنے والے کو دیا اس نے اگر کسی اور کے حوالے کر دیا تو معلوم نہیں کتنے وسائط سے اس کوملے اور اگر اسی کو دیا جب بھی کتنے واسطے ہیں پھر یہ دیکھئے کہ مسلمان مستور جس کا عادل و فاسق ہونا معلوم نہ ہو اس تک کی گواہی معتبر نہیں اور یہاں جن جن ذریعوں سے تار پہنچا ان میں سب کے سب مسلمان ہی ہوں یہ ایک عقلی احتمال ہے جس کا وجود معلوم نہیں ہوتا اور اگر یہ مکتوب الیہ صاحب بھی انگریزی پڑھے نہ ہوں تو کس سے پڑھوائیں گے اگر کسی کافر نے پڑھاتو کیا اعتبار اور مسلمان نے پڑھا تو کیا اعتماد کہ صحیح پڑزھا غرض شمار کیجئے تو بکثرت ایسی وجہیں ہیں جو تار کے اعتبار کو کھوتی ہیں فقہا نے خط کا تو اعتبار ہی نہ کیا اگرچہ کاتب کے دستخط و تحریر پہچانتا اور اس پر اس کی مہر بھی ہو کہ الخط یشبہ الخط والخاتم یشبہ الخاتم خط خط کے مشابہ ہوتا ہے اور مہر مہر کے تو کجاتار۔ واللہ تعالی اعلم۔

مسئلہ ۲۸: ہلال دیکھ کر اس کی طرف انگلی سے اشارہ کرنا مکروہ ہے اگرچہ دوسرے کے بتانے کے لئے ہو۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۹۷، درمختار ج ۲ ص ۱۳۲)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button