شرعی سوالات

پگڑی بیچنا

سوال:

ہمارے ملک کے بڑے شہروں اور تجارتی مراکز میں یہ طریقہ کا ر عام ہے کہ فلیٹ اور دکانیں کرائے پر دی جاتی ہیں ، کرا یہ اگر چہ معمولی ہوتا ہے لیکن بھاری رقم بطور پگڑی وصول کی جاتی ہے اور ہر ایک کرایہ دار جب فلیٹ یا دکان دوسرے کرایہ دار کو منتقل کرتا ہے اور قبضہ دیتا ہے تو پگڑی وصول کرتا ہے ۔ موقع محل کے اعتبار سے پگڑی کی شرح مقر ر ہوتی ہے۔ کیا یہ پگڑی کا لین دین شرعاً جائز ہے؟

جواب:

 چونکہ قبضہ کوئی حسی یا عینی چیز نہیں ہے ، اس لئے یہ بیع باطل ہے بعض لوگوں نے اس کے جواز کا یہ حیلہ تجویز کیا ہے کہ دکان اور فلیٹ میں کچھ چیزیں از قسم فر نیچر و سامان وغیرہ رکھ دی جائیں اور پگڑی کی مالیت کے برابر ان کی قیمت مقرر کر کے لی جائے ۔گو یا یہ ”اونٹ کے گلے میں بلی‘‘ والی بات ہے ۔لیکن ظاہر ہے کہ فقہی یا قانونی حیلہ اور بات ہے اور خداوند علیم و خبیر کے سامنے سرخرو ہونا اور بات ہے ، وہ ظاہر و باطن اور نیتوں کا حال جانتا ہے ۔

(تفہیم المسائل، جلد1،صفحہ 333،ضیا القرآن پبلی کیشنز، لاہور)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button