ARTICLES

وہ اوقات جن میں نمازِ طواف پڑھنا ممنوع ہے

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اِس مسئلہ میں کہ وہ کونسے اوقات ہیں جن میں طواف کرنے والا طواف تو کرے مگر نمازِ طواف نہ پڑھے ؟

(السائل : سلیم گھانچی، مکہ مکرمہ)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : نمازِ طواف واجب ہے چاہے طواف فرض ہو یا واجب، سنّت ہو یا نفل۔ اور نمازِ طواف نہ پڑھنے کا مطلب ہے کہ مندرجہ ذیل مذکور مخصوص اوقات میں نہ پڑھے ، جب وہ وقت ختم ہو جائے تو جتنے طواف اُس وقت میں کئے تھے ان کے نوافل ذمہ میں بدستور واجب رہیں گے ، اور وہ اوقات جن میں طواف کرنے والا نمازِ طواف نہیں پڑھے گا مندرجہ ذیل ہیں : 1۔ سورج نکلنے سے بقدر نیزہ اونچا ہونے تک۔ (یعنی فجر کا وقت ختم ہونے کے بعد سے 20 منٹ) 2۔ عین دوپہر کے وقت جب سورج سر پر ہو۔ (یعنی ظہر کا وقت شروع ہونے سے پہلے ضحویٰ کبریٰ) 3۔سورج زرد پڑ جانے کے بعد غروب ہونے تک۔ (یعنی مغرب کا وقت شروع ہونے سے پہلے آخری بیس منٹ) 4۔ صبح صادق کے بعد سورج نکلنے تک۔ (فجر کا وقت شروع ہونے سے اختتام تک) 5۔ عصر کے فرض حنفی وقت میں پڑھنے کے بعد سورج کے زرد پڑنے تک۔ (یعنی عصر پڑھ لی اب مغرب کے وقت تک) 6۔ سورج غروب ہونے کے بعد مغرب کی نماز سے پہلے ۔ (یعنی مغرب کے ابتدائی وقت سے نمازِ مغرب پڑھ لینے تک) 7۔ ہر خطبہ کے وقت عموماً اور خطبۂ جمعہ کے وقت خصوصاً۔ 8۔ امام کے فرض میں ہونے کے وقت۔ نمازِ طواف کا پہلے تین اوقات میں پڑھنا بالاتفاق مکروہ تحریمی ہے ، او رباقی پانچ وقتوں میں سیّد احمد حموی کے ’’شرح کنز‘‘میں قول کے مطابق مکروہ تحریمی ہے اور ملا علی القاری کے ’’شرح المناسک‘‘ میں قول سے مستفاد یہ ہے کہ ان میں کراہت تنزیہی ہے ۔ اِسی طرح ’’حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب‘‘ (342)میں ہے ۔(343)

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم السبت، 17ذوالحجۃ 1427ھ، 6ینایر 2007 م (350-F)

حوالہ جات

342۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب سیوم ، دربیان طواف وانواع آن، فصل ہشتم در بیان مسائل متفرقہ متعلقہ بطواف ورکعتین طواف، ص155

343۔ نمازِ طواف اگر مکروہ وقت میں پڑھی تو کراہت کے ساتھ درست ہوجائے گی اور اُس پر نماز توڑ دینا واجب ہوگا ۔ اگر پڑھ لی تواحسن یہ ہے کہ اس کا اعادہ کرے کیونکہ ہر نماز جو کراہت کے ساتھ ادا کی جائے توغیرمکروہ وجہ پراس کا اعادہ کیاجائے ۔(حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب سیوم ، دربیان طواف وانواع آن، فصل ہشتم در بیان مسائل متفرقہ متعلقہ بطواف ورکعتین طواف، ص155)

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button