بہار شریعت

ولی کے متعلق مسائل

ولی کے متعلق مسائل

امام احمد و مسلم ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی ر سول اللہ ﷺ نے فرمایا، ثیب ولی سے زیادہ اپنے نفس کی حقدا ر ہے۔ اور بکر (کنواری) سے اجازت لی جائے اور چپ رہنا بھی اس کا اذن ہے۔ ابودائود انہیں سے راوی کہ ایک جوان لڑکی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی او عرض کی کہ اس کے باپ نے نکاح کر دیا اور وہ اس نکاح کو ناپسند کرتی ہے۔ حضور ﷺ نے اسے اختیار دیا یعنی چاہے تو اس نکاح کو جائز کر دے یا رد کر دے۔

مسائل فقہیہ

ولی وہ ہے جس کا قول دوسر ے پر نافذ ہو ، دوسرا چاہے یا نہ چاہے۔ ولی کا عاقل بالغ ہونا شرط ہے بچہ اور مجنون ولی نہیں ہو سکتا۔ مسلمان ولی کا مسلمان ہونا بھی شرط ہے کہ کافر کو مسلمان پر کوئی اختیار نہیں ۔ متقی ہونا شرط نہیں ۔ فاسق بھی ولی ہو سکتا ہے۔ ولایت کے اسباب چار ہیں :۔

(۱) قرابت (۲) ملک (۳) ولا (۴) امامت (درمختار وغیرہ)

مسئلہ ۱: قرابت کی وجہ سے ولایت عصبہ بنفسہٖ کے لئے ہے یعنی وہ مرد جس کو اس سے قرابت کسی عورت کی وساطت سے نہ ہو یا یوں سمجھو کہ وہ وارث کہ ذوی الفروض کہ بعد جو کچھ بچے سب لے لے۔ اور اگر ذوالفروض نہ ہوں تو سارا مال یہی لے۔ ایسی قرابت والا ولی ہے۔ اور یہاں بھی وہی ترتیب ملحوظ ہے جو وراثت میں معتبر ہے یعنی سب میں مقدم بیٹا پھر پوتا پھر پرپوتا اگرچہ کئی پشت کا فاصلہ ہو یہ نہ ہوں تو پھر باپ پھر دادا پھر پردادا وغیرہم اصول اگرچہ کئی پشت اوپر کا ہو پھر حقیقی بھائی پھر سوتیلا بھائی پھر حقیقی بھائی کا بیٹا، پھر سوتیلے بھائی کا بیٹا پھر باپ کا حقیقی چچا پھر سوتیلا چچا پھر باپ کے حقیقی چچا کا بیٹا، پھر سوتیلے چچا کا بیٹا پھر دادا کا حقیقی چچا پھر سوتیلا چچا پھر دادا کے حقیقی چچا کا بیٹا پھر سوتیلے چچا کا بیٹا خلاصہ یہ ہے کہ اس خاندان میں سب سے زیادہ قریب کا رشتہ دار جو مرد ہو وہ ولی ہے اگر بیٹا نہ ہو تو جو حکم بیٹے کا ہے وہی پوتے کا ہے وہ نہ ہو تو پھر پر پوتے کا اور عصبہ کے ولی ہونے میں اس کا آزاد ہونا شرط ہے اگر غلام ہے تو اس کو ولایت نہیں بلکہ اس صورت میں ولی وہ ہو گا جو اس کے بعد ولی ہو سکتا ہے۔ (عالمگیری، درمختار وغیرہ)

مسئلہ ۲: کسی پاگل عورت کے باپ اور بیٹا یا دادا ور بیٹا ہیں تو بیٹا ولی ہے اور باپ دادا نہیں مگر اس عورت کا نکاح کرنا چاہیں تو بہتر یہ ہے کہ باپ اس کے بیٹے (یعنی اپنے نواسے) کو نکاح کر دینے کا حکم دے۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۳: عصبہ نہ ہو تو پھر ماں ولی ہے پھر دادی پھر نانی پھر بیٹی پھر پوتی پھر نواسی پھر پرپوتی پھر نواسی کی بیٹی پھرنانا پھر حقیقی بہن پھر سوتیلی بہن پھر اخیافی بھائی بہن یہ دونوں ایک درجے کے ہیں ان کے بعد بہن وغیرہا کی اولاد، اسی ترتیب سے پھر پھوپھی پھر ماموں پھر خالہ پھر چچازاد بہن پھر اسی ترتیب سے ان کی اولاد۔ (خانیہ، درمختار، ردالمحتار)

مسئلہ ۴: جب رشتہ دار موجود نہ ہوں تو ولی مولی الموالاۃ ہے یعنی وہ جس کے ہاتھ پر اس کا باپ مشرف باسلام ہوا۔ اور یہ عہد کیا کہ اس کے بعد یہ اس کا وارث ہو گا یا دونوں نے ایک دوسرے کا وارث ہونا ٹھہرا لیا ہو۔ (خانیہ، ردالمحتار)

مسئلہ ۵: ان سب کے بعد بادشاہ اسلام ولی ہے پھر قاضی جب کہ سلطان کی طرف سے اسے نابالغوں کے نکاح کا اختیار دیا گیا ہو۔ اور اگر اس کے متعلق یہ کام نہ ہو اور نکاح کر دیا پھر سلطان کی طرف سے یہ خدمت بھی اسے سپرد ہوئی اور قاضی نے اس نکاح کو جائز کر دیا تو جائز ہو گیا۔ (خانیہ)

مسئلہ ۶: قاضی نے اگر کسی نابالغہ لڑکی سے اپنا نکاح کر لیا تو یہ نکاح بغیر ولی کے ہوا۔ یعنی اس صورت میں قاضی ولی نہیں ۔ یونہی بادشاہ نے اگر ایسا کیا تو یہ بھی بے ولی کے نکاح ہوا۔ اور قاضی نے اگر نابالغہ لڑکی کا نکاح اپنے باپ یا لڑکے سے کر دیا تو یہ بھی جائز نہیں ۔ (عالمگیری، درمختار)

مسئلہ ۷: قاضی کے بعد قاضی کا نائب ہے جب کہ بادشاہ اسلام نے قاضی کو یہ اختیار دیا ہو اور قاضی نے اس نائب کو اجازت دی ہو یا تمام امور میں اس کو نائب کیا ہو۔ (ردالمحتار)

مسئلہ ۸: وصی کو یہ اختیار نہیں کہ یتیم کا نکاح کرد ے۔ اگرچہ اس یتیم کے باپ دادا نے یہ وصیت بھی کی ہو کہ میرے بعد تم اس کا نکاح کر دینا۔ البتہ وہ قریب کا رشتہ دار یا حاکم ہے تو کر سکتا ہے کہ اب وہ ولی بھی ہے۔ (درمختار)

مسئلہ ۹: نابالغ بچے کی کسی نے پرورش کی مثلاً اسے متبنی کیایا لاوارث بچہ کہیں پڑا ملا۔ اسے پال لیا تو یہ شخص اس کے نکاح کا ولی نہیں ۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۱۰: لونڈی غلام کے نکاح کا ولی ان کا مولی ہے اس کے سوا کسی کو ولایت نہیں اگر کسی اور نے یا اس نے خود نکاح کر لیا تو وہ نکاح مولی کی اجازت پر موقوف رہے گا جائز کر دے گا جائز ہو جائے گا رد کر دے گا باطل ہو جائے گا اور اگر غلام دو شخص میں مشترک ہے تو ایک شخص تنہا اس کا نکاح نہیں کر سکتا۔ (خانیہ)

مسئلہ ۱۱: مسلمان شخص کافرہ کے نکاح کا ولی نہیں ۔ مگر کافرہ باندی کا ولی اس کا مولی ہے یونہی بادشاہ اسلام اورقاضی بھی کافرہ کے ولی ہیں کہ ان کو اس کا نکاح کرنے کی اجازت ہے۔ (درمختار)

مسئلہ ۱۲: لونڈی غلام ولی نہیں ہو سکتے یہاں تک کہ مکاتب اپنے لڑکے کا ولی نہیں ۔ (درمختار)

مسئلہ ۱۳: کافر اصلی کافر اصلی کا ولی ہے اور مرتد کسی کا بھی ولی نہیں یہ مسلم کا نہ کافر کا یہاں تک کہ مرتد مرتد کا بھی ولی نہیں ۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۱۴: ولی اگر پاگل ہو گیا تو اس کی ولایت جاتی رہی اور اگر اس قسم کا پاگل ہے کہ کبھی پاگل رہتا ہے اور کبھی ہوش میں تو ولایت باقی ہے افاقہ کی حالت میں جو کچھ تصرفات کرے گا نافذ ہوں گے۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۱۵: لڑکا معتوہ یا مجنون ہے اور اسی حالت میں بالغ ہوا تو باپ کی ولایت اب بھی بدستور باقی ہے اور اگر بلوغ کے وقت عاقل تھا پھر مجنون یا معتوہ ہو گیا تو باپ کی ولایت پھر عود کر آئے گی۔ اور کسی کا باپ مجنون ہو گیا تو اس کا بیٹا ولی ہے، اپنے باپ کا نکاح کر سکتا ہے۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۱۶: اپنے بالغ لڑکے کا نکاح کر دیا اور ابھی لڑکے نے جائز نہ کیا تھا کہ پاگل ہو گیا۔ اب اس کے باپ نے نکاح جائز کر دیا تو جائز ہو گیا۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۱۷: نابالغ نے اپنا نکاح خود کیا اور نہ اس کا ولی ہے نہ وہاں حاکم تو یہ نکاح موقوف ہے بالغ ہو کر اگر جائز کر دے گا ہو جائے گا۔ اور اگر نابالغ نے بالغ عورت سے نکاح کیا پھر غائب ہو گیا پھر عورت نے دوسرا نکاح کیا۔ اور نابالغ نے بلوغ کے وقت نکاح جائز کر دیا تھا اگر دوسرا نکاح اجازت سے پہلے کیا تو دوسرا ہو گیا۔ اور بعد میں تو نہیں اور اب پہلا ہو گیا۔ (درمختار، ردالمحتار)

مسئلہ ۱۸: دو برابر کے ولی نے نکاح کر دیا۔ مثلاً اس کے دو (۲) حقیقی بھائی ہیں دونوں نے نکاح کر دیا تو جس نے پہلے کیا۔ وہ صحیح ہے اور اگر دونوں نے ایک ساتھ کیا ہو یا معلوم نہ ہو کہ کون پیچھے ہے کون پہلے تو دونوں باطل۔ (درمختار)

مسئلہ ۱۹: ولی اقرب غائب ہے اس وقت دور والے ولی نے نکاح کر دیا تو صحیح ہے۔ اور اگر اس کی موجودگی میں نکاح کیا تو اس کی اجازت پر موقوف ہے محض اس کا سکوت کافی نہیں ۔ بلکہ صراحۃً یا دلالۃً اجازت کی ضرورت ہے یہاں تک کہ اگر ولی اقرب مجلس میں موجود ہو تو یہ بھی اجازت نہیں ۔ اور اگر اس ولی اقرب نے نہ اجازت دی تھی نہ رد کیا اور مر گیا یا غائب ہو گیا کہ اب ولایت اسی دور والے ولی کو پہنچی تو وہ قبل میں اس کا نکاح کر دینا اجازت نہیں ۔ بلکہ اب اس کی جدید اجازت درکار ہے۔ (درمختار، ردالمحتار)

مسئلہ ۲۰: ولی کے غائب ہونے سے مراد یہ ہے کہ اگر اس کا انتظار کیا جائے تو وہ جس نے پیغام دیا ہے اور کفو بھی ہے ہاتھ سے جاتا رہے گا اگر ولی ٔقریب مفقود الخبر ہو یا کہیں دورہ کرتا ہو کہ اس کا پتہ معلوم نہ ہو یا وہ ولی اسی شہر میں چھپا ہوا ہے مگر لوگوں کو اس کا حال معلوم نہیں ۔ اور ولی ابعد نے نکاح کر دیا۔ اور وہ اب ظاہرہوا تو نکاح صحیح ہو گیا۔ (خانیہ وغیرہا)

مسئلہ ۲۱: ولی اقرب صالح ولایت نہیں مثلاً بچہ ہے یا مجنون تو ولی ابعد ہی نکاح کا ولی ہے۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۲۲: مولی اگر غائب بھی ہو جائے اور اس کا پتہ بھی نہ چلے جب بھی لونڈی غلام کے نکاح کی ولایت اسی کو ہے اس کے رشتہ دار ولی نہیں ۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۲۳: لونڈی آزاد ہو گئی اور اس کا عصبہ کوئی نہ ہو تو وہ عصبہ ہے جس نے اسے آزاد کیا۔ اور اسی کی اجازت سے نکاح ہو گا۔ وہ مرد ہو یا عورت اور ذوی الارحام پر آزاد کنندہ مقدم ہے۔ (جوہرہ نیرہ)

مسئلہ ۲۴: کفو نے پیغام دیا اور وہ مہر مثل بھی دینے پر تیار ہے مگر اب ولی اقرب لڑکی کا نکاح اس سے نہیں کرتا بلکہ بلاوجہ انکار کرتا ہے تو ولی ابعد نکاح کر سکتا ہے۔ (درمختار)

مسئلہ ۲۵: نابالغ اور مجنون اور لونڈی غلام کے نکاح کے لئے ولی شرط ہے بغیر ولی ان کا نکاح نہیں ہو سکتا اور حرہ بالغہ عاقلہ نے بغیر ولی کفو سے نکاح کیا تو نکاح صحیح ہو گیا۔ اور غیر کفو سے کیا تو نہ ہوا اگرچہ نکاح کے بعد راضی ہو گیا۔ البتہ اگر ولی نے سکوت کیا اور کچھ جواب نہ دیا اور عورت کے بچہ بھی پیدا ہو گیا تو اب نکاح صحیح مانا جائے گا۔ (درمختار، ردالمحتار)

مسئلہ ۲۶: جس عورت کا کوئی عصبہ نہ ہو وہ اگر اپنا نکاح جان بوجھ کر غیر کفو سے کرے تو نکاح ہو جائے گا۔ (ردالمحتار وغیرہ)

مسئلہ ۲۷: جس عورت کو اس کے شوہر نے تین طلاقیں دے دیں بعد عدت اس نے جان بوجھ کر غیر کفو سے نکاح کر لیا اور ولی راضی نہیں یا ولی کو اس کا غیر کفو ہونا معلوم نہیں تو یہ عورت شوہر اول کے لئے حلال نہ ہوئی۔ (درمختار)

مسئلہ ۲۸: ایک درجہ کے چند ولی ہوں ۔ بعض کا راضی ہو جانا کافی ہے اور اگر مختلف درجے کے ہوں تو اقرب کا راضی ہونا ضروری ہے کہ حقیقتاً یہی ولی ہے اور جس ولی کی رضا سے نکاح ہوا جب اس سے کہا گیا تو یہ کہتا ہے کہ یہ شخص کفو ہے تو اب اس کی رضا بے کار ہے۔ اس کی رضا سے بقیہ ورثہ کا حق ساقط نہ ہوگا۔ (ردالمحتار وغیرہ)

مسئلہ ۲۹: راضی ہونا دو طرح ہے۔ ایک یہ کہ صراحۃً کہہ دے کہ میں راضی ہوں ۔ دوسرے یہ کہ کوئی ایسا فعل پایا جائے جس سے راضی ہونا سمجھا جاتا ہو مثلاً مہر پر قبضہ کرنا یا مہر کا مطالبہ یا دعوی کر دینا یا عورت کو رخصت کر دینا کہ یہ سب افعال راضی ہونے کی دلیل ہیں ۔ اس کو دلالۃً رضا کہتے ہیں اور ولی کا سکوت رضا نہیں ۔ (درمختار)

مسئلہ ۳۰: شافعیہ عورت بالغہ کنواری نے حنفی سے نکاح کیا۔ اور اس کا باپ راضی نہیں تو نکاح صحیح ہو گیا یونہی اس کا عکس۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۳۱: عورت بالغہ عاقلہ کا نکاح بغیر اس کی اجازت کے کوئی نہیں کر سکتا۔ نہ اس کا باپ نہ بادشاہ اسلام کنواری ہو یا ثیب۔ یونہی مرد بالغ آزاد اور مکاتب و مکاتبہ کا عقد نکاح بلا ان کی مرضی کے کوئی نہیں کر سکتا۔ (عالمگیری، درمختار)

مسئلہ ۳۲: کنواری عورت سے اس کے ولی یا ولی کے وکیل یا قاصد نے اذن مانگا یا ولی نے بلا اجازت لئے نکاح کر دیا۔ اب اس کے قاصد نے یا کسی فضولی عادل نے خبر دی اور عورت نے سکوت کیا یا ہنسی یا مسکرائی یا بغیر آواز کے روئی تو ان سب صورتوں میں اذن سمجھا جائے گا کہ پہلی صورت میں نکاح کر دینے کی اجازت ہے دوسری میں نکاح کیا ہوا منظور ہے۔ اور اگر اذن طلب کرتے وقت یا جس وقت نکاح ہو جانے کی خبر دی گئی۔ اس نے سن کر کچھ جواب نہ دیا بلکہ کسی اور سے کلام کرنا شروع کیا مگر نکاح کو رد نہ کیا تو یہ بھی اذن ہے۔ اور اگر چپ رہنا اس وجہ سے ہوا کہ اسے کھانسی یا چھینک آگئی تو یہ رضا نہیں اس کے بعد رد کر سکتی ہے۔ یونہی اگر کسی نے اس کامنہ بند کر دیا کہ بول نہ سکے تو رضا نہیں ۔ اور ہنسنا اگر بطور استہزا کے ہو یا رونا آواز سے ہو تواذن نہیں ۔ (درمختار، عالمگیری)

مسئلہ ۳۳: ایک درجہ کے دو ولی نے بیک وقت دو شخصوں سے نکاح کر دیا اور دونوں کی خبر ایک ساتھ پہنچی عورت نے سکوت کیا تو دونوں موقوف ہیں اپنے قول یا فعل سے جس ایک کو جائز کرے جائز ہے اور دوسرا باطل۔ اور دونوں کو جائز کیا تو دونوں باطل اور دونوں نے اذن مانگا اورعورت نے سکوت کیا تو جو پہلے نکاح کر دے وہ ہو گا۔ ( درمختار، ردالمحتار)

مسئلہ ۳۴: ولی نے نکاح کر دیا عورت کو خبر پہنچی اس نے سکوت کیا مگر اس وقت شوہر مر چکا تھا تو یہ اذن نہیں اور اگر شوہر کے مر جانے کے بعد کہتی ہے کہ میرے اذن سے میرے باپ نے اس سے نکاح کیا۔اور شوہر کے ورثا کا انکار کریں تو عورت کا قول مانا جائے گا لہذا وارث ہو گی اور عدت واجب۔ اور اگر عورت نے یہ بیان کیا کہ میرے اذن کے بغیر نکاح ہوا مگر جب نکاح کی خبر پہنچی میں نے نکاح کو جائز کیا تو اب ورثا کا قول معتبر ہے اب نہ مہر پائے گی نہ میراث۔ رہا یہ کہ عدت گزارے گی یانہیں اگر واقع میں سچی ہے تو عدت گزارے ورنہ نہیں مگر نکاح کرنا چاہے تو عدت تک روکی جائے گی کہ جب اس نے ا پنا نکاح ہونا بیان کیا تو اب بغیر عدت کیونکر نکاح کریگی۔ (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)

مسئلہ ۳۵: عورت سے اذن لینے گئے اس نے کہا کسی اور سے ہوتا تو بہتر تھاتو یہ انکار ہے اور اگر نکاح کے بعد خبر دی گئی اور عورت نے وہی لفظ کہے تو قبول سمجھا جائے گا۔ (درمختار)

مسئلہ ۳۶: ولی اس عورت سے خود اپنا نکاح کرنا چاہتا ہے اور اجازت لینے گیا اس نے سکوت کیا تو یہ رضا ہے اور اگر نکاح اپنے سے کر لیا اب خبر دی اور سکوت کیا تو یہ رد ہے۔ رضا نہیں ۔ (درمختار)

مسئلہ ۳۷: کسی خاص کی نسبت عورت سے اذن مانگا اس نے انکار کر دیا مگر ولی نے اسی سے نکاح کر دیا۔ اب خبر پہنچی اور ساکت رہی تو یہ اذن ہو گیا اور اگرکہا کہ میں تو پہلے ہی سے اس سے نکاح نہیں کرنا چاہتی ہوں تو یہ رد ہے۔ اور اگر جس وقت خبر پہنچی انکار کیا پھر بعد کو رضا ظاہر کی تو یہ نکاح جائز نہ ہوا۔ (درمختار، ردالمحتار)

مسئلہ ۳۸: اذن لینے میں یہ بھی ضروری ہے کہ جس سے نکاح کرنے کا ارادہ ہو اس کا نام اس طرح لیا جائے جس کو عورت جان سکے۔ اگر یوں کہا کہ ایک مرد سے تیرا نکاح کر دوں یا یوں کہ فلاں قوم کے ایک شخص سے نکاح کر دوں تو یوں اذن نہیں ہو سکتا۔ اور اگر یوں کہا کہ فلاں یا فلاں سے تیرا نکاح کر دوں اور عورت نے سکوت کیا تو اذن ہو گیا۔ ان دونوں میں جس ایک سے چاہے کر دے یا یوں کہا کہ پڑوس والوں میں سے کسی سے نکاح کر دوں یا یوں کہا کہ چچا زاد بھائیوں میں کسی سے نکاح کر دوں اور سکوت کیا اور ان دونوں صورتوں میں ان سب کو جانتی بھی ہو تو اذن ہو گیا۔ ان میں جس ایک سے کرے گا ہو جائے گا اور سب کو جانتی نہ ہو تو اذن نہیں ۔ (درمختار، ردالمحتار)

مسئلہ ۳۹: عورت نے اذن عام دے دیا مثلاً ولی نے کہا کہ بہت سے لوگوں نے پیغام بھیجا ہے عورت نے کہا جو تو کرے مجھے منظور ہے یا جس سے تو چاہے نکاح کر دے تو یہ اذن عام ہے جس سے چاہے نکاح کردے مگر اس صورت میں بھی اگر کسی خاص شخص کی نسبت عورت پیشتر انکار کر چکی ہے تو اس کے بارے میں اذن نہ سمجھا جائے گا۔ (درمختار، ردالمحتار)

مسئلہ ۴۰: اذن لینے میں مہر کا ذکر شرط نہیں ۔ اور بعض مشائخ نے شرط بتایا۔ لہذا ذکر ہو جانا چاہیئے کہ اختلاف سے بچنا چاہیئے او اگر ذکر نہ کیا تو ضرور ہے کہ جو مہر باندھا جائے وہ مہر مثل سے کم نہ ہو اور کم ہو تو بغیر عورت کے راضی ہوئے عقد صحیح نہ ہو گا۔ اور اگر زیادہ کمی ہو تو اگرچہ عورت راضی ہو اولیاء کو اعتراض کا حق حاصل ہے یعنی جب کہ کسی غیر ولی نے نکاح کیا ہو۔ اور ولی نے خود ایسا کیا تو اب کون اعتراض کرے۔ (ردالمحتار)

مسئلہ ۴۱: ولی نے عورت بالغہ کا نکاح اس کے سامنے کر دیا اور اسے اس کا علم بھی ہوا۔ اور سکوت کیا تو یہ رضا ہے۔ (درمختار)

مسئلہ ۴۲: یہ احکام جو مذکور ہوئے ولی اقرب کے ہیں اگر ولی بعید یا اجنبی نے نکاح کا اذن طلب کیا تو سکوت اذن نہیں بلکہ اگر عورت کنواری ہے تو صراحۃً اذن کے الفاظ کہے یا کوئی ایسا فعل کرے جو قول کے حکم میں ہو مثلاً مہر یا نفقہ طلب کرنا۔ خوشی سے ہنسنا ،خلوت پر راضی ہونا، مہر یا نفقہ قبول کرنا۔ (درمختار)

مسئلہ ۴۳: ولی نے عورت سے کہا میں یہ چاہتا ہوں کہ فلاں سے تیرا نکاح کردوں ۔ اس نے کہا، ٹھیک ہے، جب چلا گیا تو کہنے لگی، میں راضی نہیں اور ولی کو اس کا علم نہ ہوا نکاح کر دیا تو صحیح ہو گیا۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۴۴: بکر (کنواری) وہ عورت ہے جس سے نکاح کے ساتھ وطی نہ کی گئی ہو لہذا اگر زینہ پر چڑھنے یا اترنے یا کودنے یا حیض یا زخم یا بلا نکاح زیادہ عمر ہو جانے یا زنا کی وجہ سے بکارت زائل ہو گئی جب بھی وہ کنواری ہی کہلائے گی۔ یونہی اگر اس کا نکاح ہوا مگر شوہر نامرد ہے یا اس کا عضو تناسل مقطوع ہے اس وجہ سے تفریق ہو گئی بلکہ اگر شوہر نے وطی سے پہلے طلاق دے دی یا مر گیا اگرچہ ان سب صورتوں میں خلوت ہو چکی ہو جب بھی بکر ہے مگر جب چند بار اس نے زنا کیا کہ لوگوں کو اس کا حال معلوم ہو گیا یا اس پر حد زنا قائم کی گئی اگرچہ ایک ہی بار واقع ہوا ہو تو اب وہ عورت بکر نہیں قرار دی جائے گی اور جو کنواری عورت نہ ہو اس کو ثیب کہتے ہیں ۔ (درمختار)

مسئلہ ۴۵: لڑکی کا نکاح نابالغہ سمجھ کر اس کے باپ نے کر دیا وہ کہتی ہے میں بالغہ ہوں میرا نکاح صحیح نہ ہوا اور اس کا باپ یا شوہر کہتا ہے نابالغہ ہے اور نکاح صحیح ہے تو اگر اس کی عمر نو برس کی ہو اور مراہقہ ہو تو لڑکی کا قول مانا جائے گا اور اگر دونوں نے اپنے اپنے دعوے پیش کئے تو بلوغ کے گواہ کو ترجیح ہے۔ یونہی اگر مراہق لڑکے نے اپنے بلوغ کا دعوی کیا تو اس کا قول معتبر ہے مثلاً اس کے باپ نے اس کی کوئی چیز بیچ ڈالی۔ یہ کہتا ہے میں بالغ ہوں اور بیع صحیح نہ ہوئی۔ اس کا باپ یا خریدار کہتا ہے نابالغ ہے تو بالغ ہونا قرار پائے گا جب کہ اس کی عمر اس قابل ہو۔ (درمختار)

مسئلہ ۴۶: نابالغ لڑکا اور لڑکی اگرچہ ثیب ہو اور مجنون و معتوہ کے نکاح پر ولی کو ولایت اجبار حاصل ہے یعنی اگرچہ یہ لوگ نہ چاہیں ولی نے جب نکاح کر دیا ہو گیا۔ پھر اگر باپ دادا یا بیٹے نے نکاح کر دیا ہے تو اگرچہ مہر مثل سے بہت کم یا زیادہ پر نکاح کیا یا غیر کفو سے کیا جب بھی ہو جائے گا بلکہ لازم ہو جائے گا کہ ان کو بالغ ہونے کے بعد یا مجنون کو ہوش آنے کے بعد اس نکاح کے توڑنے کا اختیار نہیں ۔ یونہی مولی کا نکاح کیا ہوا بھی فسخ نہیں ہو سکتا ہاں اگر باپ دادا یا لڑکے کا سؤ اختیار معلوم ہو چکا ہو۔ مثلاً اس سے پیشتر اس نے اپنی لڑکی کا نکاح کسی غیر کفو فاسق وغیرہ سے کر دیا اور اب یہ دوسرا نکاح غیر کفو سے کرے گا تو صحیح نہ ہوگا۔ یونہی اگر نشہ کی حالت میں غیر کفو سے یا مہر مثل میں زیادہ کمی کے ساتھ نکاح کیا تو صحیح نہ ہوا۔ اور اگر باپ دادا یا بیٹے کے سوا کسی اور نے کیا ہے اور غیر کفو یا مہر مثل میں زیادہ کمی و بیشی کے ساتھ ہوا تو مطلقاً صحیح نہیں ۔ اور اگر کفو سے مہر مثل کے ساتھ کیا ہے تو صحیح ہے مگر بالغ ہونے کے بعد اور مجنون کو افاقہ کے بعد اور معتوہ کو عاقل ہونے کے بعد فسخ کا اختیار ہو گیا اگرچہ خلوت بلکہ وطی ہو چکی ہو۔ یعنی اگر نکاح ہونا پہلے سے معلوم ہے تو بکر بالغ ہوتے ہی فوراً اور اگر معلوم نہ تھا تو جس وقت معلوم ہوا اسی وقت فوراً فسخ کر سکتی ہے۔ اگر کچھ بھی وقفہ ہوا تو اختیار فسخ جاتا رہا۔ یہ نہ ہو گا کہ آخر مجلس تک اختیار باقی رہے مگر نکاح فسخ اس وقت ہو گا جب قاضی فسخ کا حکم بھی دیدے لہذا اسی اثناء میں قبل حکم قاضی اگر ایک کا انتقال ہو گیا تو دوسرا وارث ہو گا اور پورا مہر لازم ہو گا۔ (درمختار، خانیہ، جوہرہ وغیرہا)

مسئلہ ۴۷: عورت کو خیار بلوغ حاصل تھا جس وقت بالغ ہوئی اسی وقت اسے یہ خبر ملی کہ فلاں جائداد فروخت ہوئی جس کا شفعہ یہ کر سکتی ہے۔ ایسی حالت میں اگر شفعہ کرنا ظاہر کرتی ہے تو خیاربلوغ جاتا ہے اور اپنے نفس کو اختیار کرتی ہے تو شفعہ جاتا ہے اور چاہتی یہ ہے کہ دونوں حاصل ہوں لہذا اس کا طریقہ یہ ہے کہ کہے میں دونوں حق طلب کرتی ہوں پھر تفصیل میں پہلے خیاربلوغ ذکر کرے۔ اور ثیب کو ایسا معاملہ پیش آئے تو شفعہ کو مقدم کرے اور اس کی وجہ سے خیار بلوغ باطل نہ ہوگا۔ (درمختار)

مسئلہ ۴۸: جس وقت بالغہ ہوئی اسی وقت کسی کو گواہ بنائے کہ میں ابھی بالغ ہوئی اور اپنے نفس کو اختیار کرتی ہوں اور رات میں اگر اسے حیض آئے تو اسی وقت اپنے نفس کو اختیار کرے۔ اور صبح کو گواہوں کے سامنے اپنا بالغ ہونا اور اختیار کرنا بیان کرے مگر یہ نہ کہے کہ رات میں بالغ ہوئی بلکہ یہ کہ اس وقت بالغ ہوئی اور اپنے نفس کو اختیار کیا اور اس لفظ سے یہ مراد لے کہ میں اس وقت بالغ ہوں تاکہ جھوٹ نہ ہو۔ (بزازیہ وغیرہما)

مسئلہ ۴۹: عورت کو یہ معلوم نہ تھا کہ اسے خیار بلوغ حاصل ہے اس بناء پر اس نے اس پر عملدرآمد بھی نہ کیا اب اسے یہ مسئلہ معلوم ہوا تو اب کچھ نہیں کر سکتی کہ اس کے لئے جہل عذر نہیں اور لونڈی کسی کے نکاح میں ہے اب آزاد ہوئی تو اسے خیار عتق حاصل ہے کے بعد آزادی چاہے اس نکاح پر باقی رہے یا فسخ کرالے۔ اس کے لئے جہل عذر ہے کہ باندیوں کو مسائل سیکھنے کا موقع نہیں ملتا اور حرہ کو ہر وقت حاصل ہے اور نہ سیکھنا خود اسی کا قصور ہے لہذا قابل معذوری نہیں ۔ (درمختار وغیرہ)

مسئلہ ۵۰: لڑکا یا ثیب بالغ ہوئے تو سکوت سے خیار بلوغ باطل نہ ہوگا جب تک صاف طور پر اپنی رضا یا کوئی ایسا فعل جو رضا پر دلالت کرے (مثلاً بوسہ لینا، چھونا، مہر لینا دینا، وطی پر راضی ہونا) نہ پایا جائے مجلس سے اٹھ جانا بھی خیار کو باطل نہیں کرتا کہ اس کا وقت محدود نہیں ، عمر بھر اس کا وقت ہے۔ (خانیہ) رہا یہ امر کہ فسخ نکاح سے مہر لازم آئے گا یا نہیں اگر اس سے وطی نہ ہوئی تو مہر بھی نہیں اگرچہ فرقت جانب زوج سے ہو اور وطی ہو چکی ہے تو مہر لازم ہو گا اگرچہ فرقت جانب زوجہ سے ہو۔ (جوہرہ)

مسئلہ ۵۱: اگر وطی ہو چکی ہے تو فسخ کے بعد عورت کے لئے عدت بھی ہے ورنہ نہیں اور اس زمانۂ عدت میں اگر شوہر اسے طلاق دے تو واقع نہ ہوگی اور یہ فسخ طلاق نہیں لہذا اگر پھر انھیں دونوں کا باہم نکاح ہو تو شوہر تین طلاق کا مالک ہو گا۔ (ردالمحتار)

مسئلہ ۵۲: ثیب کا نکاح ہوا اس کے بعد شوہر کے یہاں سے کچھ تحفہ آیا اس نے لے لیا۔ رضا ثابت نہ ہوئی۔ یونہی اگر اس کے یہاں کھانا کھایا یا اس کی خدمت کی اور پہلے بھی خدمت کرتی تھی تو رضا نہیں ۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۵۳: نابالغ غلام کا نکاح نابالغہ لونڈی سے ان کے مولی نے کر دیا پھر ان کو آزاد کر دیا۔ اب بالغ ہوئے تو ان کو خیار بلوغ حاصل نہیں اور اگر لونڈی کو آزاد کرنے کے بعد نکاح کیا تو بالغہ ہونے کے بعد اسے خیار حاصل ہے۔ (عالمگیری)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button