بہار شریعت

ولایت کا بیان

بہار شریعت جلد اول کے باب ولایت کے بیان کا تفصیلی مطالعہ

ولایت کا بیان

ولایت ایک قرب خاص ہے کہ مولانا عزوجل اپنے برگزیدہ بندوں کو محض اپنے فضل و کرم سے عطا فرماتا ہے۔

مسئلہ  ۱  :   ولایت وہبی شے ہے کہ نہ یہ کے اعمال شاقہ سے آدمی خود حاصل کرے البتہ غالباً اعمال حسنہ اس عطیہ الہٰی کے لئے ذریعہ ہوتے ہیں اور بعضوں کو ابتدائً مل جاتی ہے۔

متعلقہ مضامین

مسئلہ  ۲  :  ولایت بے علم کو نہیں ملتی خواہ علم بطورِ ظاہر حاصل کیا ہو یا اس مرتبہ پر پہنچنے سے پیشتر اللہ عزّوجل نے اس  پر علوم منکشف کر دئیے ہوں۔

 عقیدہ  ۱  :  تمام اولیائے اوّلین و آخرین سے اولیائے محمدیین یعنی اس اُمّت کے اولیاء افضل ہیں اور تمام محمدیین میں سب سے زیادہ معرفت و قرب الہٰی میں خلفائے اربعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہیں اور ان میں  ترتیب وہی ترتیب افضلیت ہے۔ سب سے زیادہ معرفت و قرب صدیق اکبر کو ہے پھر فاروقِ اعظم پھر ذو النورین پھر مولیٰ مرتضی کو رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ہاں مرتبہ تکمیل پر حضر اقدس ﷺ نے جانب کمالات نبوتِ شیخین کو قائم فرمایا اور جانب کمالات ولایت حضرت مولیٰ مشکل کشا کو تو جملہ اولیائے ما بعد نے مولیٰ علی ہی کے گھر سے نعمت پائی اور انہیں کے دستِ نگر تھے اور ہیں اور رہیں گے۔

عقیدہ  ۲  : طریقت منافی شریعت نہیں وہ شریعت ہی کا باطنی حصہ ہے بعض جاہل متصوف جو یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ طریقت اور ہے شریعت اور محض گمراہی ہے اور اس زعم باطل کے باعث اپنے آپ کو شریعت سے آزاد سمجھنا صریح کُفر و الحاد ۔

مسئلہ  ۳  :  احکامِ شرعیہ کی پابندی سے کوئی ولی کیسی ہی عظیم ہو سُبکدوش نہیں ہو سکتا۔ بعض جہاں جو یہ بَک دیتے ہیں کہ شریعت راستہ ہے راستہ کی حاجت ان کو جو  مقصود تک نہ پہنچے ہوں ہم تو پہنچ گئے۔ سید الطاف الطائفہ حضرت جُنید بغدادی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں فرمایا :

 صَدَقُوْ الَقَدْ وَصَلُو وَلاَ کِنْ اِلٰی اَیْنَ اِ لَی النّّارِ

(وہ سچ کہتے ہیں بیشک پہنچے مگر کہاں ۔ جہنم کو)

                        البتہ اگر مجذد بیت سے عقل تکلیفی زائل ہو گئی ہو جیسے غشی والا تو اس سے قلمِ شریعت اُٹھ جائے گا مگر یہ بھی سمجھ لو جو اس قسم کا ہو گا اس کی ایسی باتیں کبھی نہ ہوں گی شریعت کا مقابلہ کبھی نہ کرے گا۔

مسئلہ  ۴  :  اولیائے کرام کو اللہ عزّوجل نے بہت بڑی طاقت دی ہے ان میں جو اصحابِ خدمت ہیں ان کو تصرت کا اختیار دیا جاتا ہے۔ سیاہ سفید کے مختار بنا دیئے جاتے ہیں یہ حضرات نبی ﷺ کو سچے نائب ہیں ان کو اختیارات و تصرفات حضور کی نیابت میں ملتے ہیں ۔علوم غیبیہ ان پر منکشف ہوتے ہیں ان میں بہت کو ماکان و مایکون اور تمام لوح محفوظ پر اطلاع دیتے ہیں مگر یہ سب حضورِ اقدس ﷺ کو واسطہ و عطا سے ہے بے وساطت رسول کوئی غیر نبی کسی غیب پر مطلع نہیں ہو سکتا۔

عقیدہ  ۳  : کرامت ِ اولیاء حق ہے اس کا منکر گمراہ ہے ۔

مسئلہ  ۵  :  مُردہ زندہ کرنا مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو شفا دینا مشرق سے مغرب تک ساری زمین ویک قدم میں طے کر جانا غرض تمام خوارق عادات اولیاء سے ممکن ہیں سوائے اس معجزہ کے جس کی بابت دوسروں کے لئے ممانعت ثابت ہو چکی ہے جیسے قرآنِ مجید کے مثل کوئی سورت لے آیا یا دنیا میں بیداری میں اللہ عزّوجل کے دیدار یا کلام حقیقی مشرف ہونا اس کا جو اپنے یا کسی ولی کے لئے دعویٰ کرے کافر ہے۔

مسئلہ  ۶  :  ان سے استمداد و استعانت محبوب ہے یہ مدد مانگنے والے کی مدد فرماتے ہیں جب چاہے وہ کسی جائز لفظ کے ساتھ ہو۔ رہا ان کو فاعل مستقل جاننا یہ وہابیہ کافر فریب ہے مسلمان بھی ایسا خیال نہیں کرتا مسلمان کے فعل کو خواہ مخواہ قبیح پر ڈھالنا وہابیت کا خاصہ ہے۔

مسئلہ  ۷  :  ان کے مزارات پر حاضری مسلمان کے لئے سعادت و باعث برکت ہے۔

مسئلہ  ۸  :  ان کو دور و نزدیک سے پکارنا سلف صالح کا طریقہ ہے۔

مسئلہ  ۹  :   اولیائے کرام اپنی قبروں میں حیاتِ ابدی کے ساتھ زندہ ہیں۔ ان کے علم و ادراک و سمع و بصر پہلے کی نسبت بہت زیادہ قوی ہیں۔

مسئلہ  ۱۰  : انہیں ایصالِ ثواب نہایت شرعی نہیں جیسے بادشاہ کو نذر دینا ان میں خصوصاً گیارھویں شریف کی فاتحہ نہایت عظیم برکت کی چیز ہے۔

مسئلہ  ۱۱  :  عرسِ اولیائے کرام یعنی قرآن خوانی و فاتحہ خوانی و نعت خوانی و ایصالِ ثواب اچھی چیز ہے۔ رہے منہیات شرعیہ وہ تو ہر حالت میں مذموم ہیں اور مزاراتِ طیبہ کے پاس اور زیادہ مذموم ۔

تنبیہ:     چونکہ عموماً مسلمانوں کو بحمدہِ تعالیٰ اولیائے کرام سے نیاز مندی اور مشائخ کے ساتھ انہیں ایک خاص عقیدت ہوتی ہے ان کے سلسلہ میں منسلک ہونے کو اپنے لئے فلاحِ دار دین تصوّر کرے اسی وجہ سے زمانہ حال کے وہابیہ نے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے یہ جال پھیلا رکھا ہے کہ پیری بھی شروع کر دی ۔ حالانکہ اولیاء کہ یہ منکر ہیں لہٰذا جب مرید ہونا ہو تو اچھی تفتیش کر لیں ورنہ اگر بدمذہب ہو تو ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے؎

             اے بسا ابلیس آدم روئے ہست

              پس بہر دستے نبا ید دا دوست

                        پیری کے لئے چار شرطیں ہیں قبل از بیعت ان کا لحاظ فرض ہے اول سنی صحیح العقیدہ ہو ، دوم اتنا علم رکھتا ہو کہ اپنی ضروریات کے مسائل کتابوں سے نکال سکے، سوم فاسق نہ ہو، چہارم اس کا سلسہ نبی ﷺ تک متصل ہو۔

                             نسال اللّٰہُ العفو والعافیۃ فیِ الدّین والدُنیا و الاخرۃ وَالاستقامۃ علی الشرعیۃ الطاھرۃ وما توفیقی اِلاَّباللہ علیہ توکلت الیہ انیب و صلی الَّلہ تعالیٰ علیٰ حبیبہِ والٰہِ وصحبہِ و ابنہِ وحزبہِ ابد الا بدین والحمدللّٰہِ رَبِّ العالمین۔     

ماخوذ از:
بہار شریعت، جلد1مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button