ARTICLES

وقوف مزدلفہ ترک کرنے کا حکم

الاستفتاء : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص مزدلفہ کی رات منی کو اگیا اور دوبارہ مزدلفہ لوٹا بھی نہیں یہاں تک کہ اس نے منی سے دس کی رمی کی تو اب اس پر کیا لازم ائے گا؟

(C/Oمفتی عبد الرحمن،از عزیزیہ،مکہ مکرمہ)

متعلقہ مضامین

جواب

باسمہ تعالی وتقدس الجواب : ۔ صورت مسؤلہ میں یہ جاننا ضروری ہے کہ وقوف مزدلفہ واجبات حج میں سے ہے ۔ چنانچہ امام شمس الدین ابو بکر محمدسرخسی حنفی متوفی490ھ لکھتے ہیں :

وھذا الوقوف واجب عندنا ولیس برکن۔(85)

یعنی،یہ وقوف ہمارے نزدیک واجب ہے نہ کہ رکن(یعنی فرض)۔ اورعلامہ رحمت اللہ سندھی حنفی متوفی993ھ لکھتے ہیں :

الوقوف بھا واجب۔(86)

یعنی،مزدلفہ میں وقوف واجب ہے ۔ اور اس کا وقت یوم نحر(دسویں ذی الحجہ) کی صبح صادق سے لے کراسی دن کے طلوع افتاب تک ہے ۔ چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی لکھتے ہیں :

واول وقتہ : طلوع الفجر الثانی من یوم النحر،واخرہ طلوع الشمس منہ۔(87)

یعنی،وقوف کا اول وقت یوم نحر کی صبح صادق کا طلوع ہونا ہے اور اس کا اخر وقت اسی روز طلوع افتاب ہے ۔ لہٰذا جو کوئی مذکورہ بالا وقت کے علاوہ وہاں ٹھہرے گاتو اس سے واجب حج کی ادائیگی نہ ہوگی۔ چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی لکھتے ہیں :

فمن وقف بھا قبل طلوع الفجر او بعد طلوع الشمس لا یعتد بہ۔(88)

یعنی،پس جس نے طلوع فجر سے پہلے یا طلوع افتاب کے بعد وقوف کیا تو وہ شمار نہ کیا جائے گا۔ اوریہ بات ذہن نشین رہے کہ اس واجب کے ترک ہونے پر دم لازم ائے گابشرطیکہ کسی نے اسے عذر شرعی کے بغیر ترک کیا ہو۔ چنانچہ امام شمس الدین ابو بکر محمد سرخسی حنفی متوفی490ھ لکھتے ہیں :

حتی اذا ترکہ لغیر علۃٍ یلزمہ دم، وحجہ تام۔(89)

یعنی،یہاں تک کہ جب اسے علت کے بغیر ترک کیا تو اسے دم لازم ہوگا اور اس کا حج مکمل ہوگا۔ اب سوال یہ ہے کہ و ہ کون سے اعذار ہیں کہ جن کا شرعا یہاں اعتبار کیا جائے گاتو واضح رہے کہ اگر کسی کوبیماری لاحق ہو یاایسا شخص کہ جوبڑھاپے یا کم عمری کے سبب سے کمزوری کا شکارہو کہ وقوف مزدلفہ ان کے لیے مشکل ہویا عورت کو بھیڑ کا خوف ہو تو اس صورت میں وقوف مزدلفہ کو ترک کیا جاسکتا ہے جبکہ یہ سب وقوف مزدلفہ پر قادر نہ ہوں ۔ تو جب واقعی کسی کو ان اعذار میں سے کوئی عذر لاحق ہو تو ایسی صورت میں اس کے ترک کرنے والے پر بھی کوئی بھی شے لازم نہ ہوگی۔ چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی اور ملا علی قاری حنفی متوفی1014ھ لکھتے ہیں : (الا اذا کان لعلۃ)ای مرض(او ضعف)ای ضعف بنیۃ من کبر اوصغر(او یکون)ای الناسک (امراۃ تخاف الزحام فلا شیء علیہ).(90) یعنی،مگر جب ترک وقوف کسی مرض یا بڑھاپے اورکم سنی کی وجہ سے کمزورہو یا عورت کو بھیڑ کا خوف ہوتو اس پر کچھ لازم نہیں ہے ۔ اورصدر الشریعہ محمدامجدعلی اعظمی حنفی متوفی1367ھ لکھتے ہیں : دسویں کی صبح کو مزدلفہ میں بلا عذر وقوف نہ کیا تو دم دے ۔ ہا ں کمزور یا عورت بخوف ازدحام وقوف ترک کرے تو جرمانہ نہیں ۔(91) بہرحال وقوف مزدلفہ کے ترک کرنے والے کو اس بات کی حاجت ہے کہ وہ اپنی حالت پرمندرجہ بالا سطور کو مد نظر رکھتے ہوئے خودغور کرے کہ ایا میں نے وقوف مزدلفہ کو ترک کسی عذر کی بناء پرکیا ہے یانہیں ؟تو اگر اس نے اس واجب کوکسی عذر کی بناء پر ترک کیا تھاتو اس پر دم لازم نہیں ہوگا اور اگر بلا عذر اسے ترک کیا تھا تو اب اس پر دم کی ادائیگی لازم ہوگی۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

یوم الثلاثاء،10، ذوالحجۃ1439ھ۔21اغسطس 2018م FU-27

حوالہ جات

(85) کتاب المبسوط للسرخسی، کتاب المناسک ،باب الخروج الی منی،2/57

(86) لباب المناسک و عباب المسالک، باب احکام المزدلفۃ ،فصل فی الوقوف بھا، ص : 147

(87) لباب المناسک و عباب المسالک، باب احکام المزدلفۃ ،فصل فی الوقوف بھا، ص : 147

(88) لباب المناسک و عباب المسالک، باب احکام المزدلفۃ ،فصل فی الوقوف بھا، ص : 147

(89) کتاب المبسوط للسرخسی، کتاب المناسک ،باب الخروج الی منی،2/57

(90) لباب المناسک وشرحہ المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط ،باب احکام المزدلفۃ ،فصل فی الوقوف بمزدلفۃ واحکامہ ،ص : 310

(91) بہارشریعت،حج کابیان،جرم اور ان کے کفارے ،وقوف مزدلفہ،1/1178

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button