بہار شریعت

وقف کی شرائط:۔

وقف کی شرائط:۔

مسئلہ۱۳: وقف چونکہ ایک قسم کا تبرع ہے کہ بغیر معاوضہ اپنا مال اپنی ملک سے خارج کرنا ہے لہذا تمام وہ شرائط جو تبرعات میں ہیں یہاں بھی معتبر ہیں اور انکے علاوہ بھی شرطیں ہیں ۔وقف کے شرائط یہ ہیں ۔

(۱) واقف کا عاقل ہونا

(۲) بالغ ہونا ۔ نا بالغ اور مجنون نے وقف کیا یہ صحیح نہیں ہوا

(۳)آزاد ہونا۔ غلام نے وقف کیا صحیح نہ ہوا۔ اسلام شرط نہیں لہذا کافر ذمی کا وقف بھی صحیح ہے ۔ مثلاًیوں کہ اولاد پر جائداد وقف کی کہ اس کی آمدنی اولاد کو نسلاًبعد نسل ملتی رہے اور اولادمیں کوئی نہ رہے تو مساکین پر صرف کی جائے یہ وقف جائز ہے اور اس نے اپنے ہم مذہب مساکین کی تخصیص کی یا یہ شرط لگادی کہ اس کی اولاد سے جوکوئی مسلمان ہو جائے اسے اس کی آمدنی نہ دی جائے تو جس طرح اس نے کہا یا لکھا ہے اسی کے موافق کیا جائے ۔اور اگراولاد پر اس نے وقف کیا اور ہم مذہب ہونے کی شرط نہیں کی ہے تو اسکی اولاد میں جوکوئی مسلمان ہو جائے گا اسے بھی ملے گا کہ اس صورت میں اسکی شرط کے خلاف نہیں ۔

(۴)وہ کام جس کے لئے وقف کرتا ہے فی نفسہ ثواب کا کام ہو یعنی واقف کے نزدیک بھی وہ ثواب کا کام ہواور واقع میں بھی ثواب کا کام ہو اگر ثواب کاکام نہیں ہے تو وقف صحیح نہیں مثلاًکسی نا جائز کام کے لئے وقف کیا اور اگر واقف کے خیال میں وہ نیکی کا کام ہو مگر حقیقت میں ثواب کا کام نہ ہو تو وقف صحیح نہیں اور اگر واقع میں ثواب کا کام ہے مگر واقف کے اعتقاد میں کار ثواب نہیں جب بھی وقف صحیح نہیں لہذا اگر نصرانی نے بیت المقدس پر کوئی جائداد وقف کی کہ اس کی آمدنی سے اس کی مرمت کی جائے یا اسکے تیل بتی میں صرف کی جائے یہ جائز ہے یا یوں وقف کیا کہ ہرسال ایک غلام خرید کر آزادکیا جائے یا مساکین اہل ذمہ یا مسلمین پر صرف کیا جائے یہ جائز ہے اور اگر گرجا یا بت خانہ کے نام وقف کیا کہ اس کی مرمت یا چراغ بتی میں صرف کیا جائے یا حربیوں پر صرف کیا جائے تو یہ باطل ہے کہ یہ ثواب کاکام نہیں اور نصرانی نے حج وعمرہ کے لئے وقف کیا جب بھی وقف صحیح نہیں کہ اگر چہ یہ کار ثواب ہے مگر اعتقاد میں ثواب کا کام نہیں ۔( درمختار ‘ ردالمحتار‘ عالمگیری ‘ بدائع وغیرہا)

مسئلہ۱۴: کافر نے گر جا یا بت خانہ کے لئے وقف کیا اور یہ بھی کہہ دیا کہ اگر یہ گرجا یا بت خانہ ویران ہو جائے تو فقرا ومساکین پر اسکی آمدنی صرف کی جائے تو گرجا یا بت خانہ پر آمدنی صرف نہ کی جائے بلکہ فقرأ و مساکین ہی پر صرف کریں ۔(عالمگیری)

مسئلہ۱۵: اگر کافر ذمی نے امور خیر کے لئے وقف کیا اور تفصیل نہ کی تو اگر چہ اسکے اعتقاد میں گر جا وبت خانہ و مساکین پر صرف کرنا سب ہی امور خیر ہیں مگر مساکین ہی پر صرف کی جائے دیگر امور میں صرف نہ کریں اور اگر اپنے پڑوسیوں پر صرف کرنے کے لئے اس شرط سے وقف کیا کہ اگر کوئی پڑوس والا باقی نہ رہے تو مساکین پر صرف کیا جائے تو یہ وقف جائز ہے ۔اور اسکے پڑوس میں یہود و نصاری وہنود و مسلمان سب ہوں تو سب پر صرف کیا جائے اور مردوں کے کفن دفن کے لئے کیا تو ان میں صرف کیا جائے ۔(عالمگیری)

مسئلہ۱۶: ذمی نے اپنے گھر کو مسجد بنایا اور اسکی شکل وصورت بالکل مسجد سی کردی اور اس میں نماز پڑھنے کو مسلمانوں کو اجازت بھی دیدی اور مسلمانوں نے اس میں نماز پڑھی بھی جب بھی مسجد نہیں ہوگی اور اسکے مرنے کے بعدمیراث جاری ہوگی۔یونہی اگر گھر کو گرجا وغیرہ بنا دیا جب بھی اس میں میراث جاری ہوگی۔(عالمگیری) (۵) وقف کے وقت وہ چیز واقف کی ملک ہو۔

مسئلہ۱۷: اگر وقف کرنے کے وقت اسکی ملک نہ ہو بعد میں ہو جائے تو وقف صحیح نہیں مثلاًایک شخص نے مکان یا زمین غصب کرلی تھی ا سے وقف کردیا پھر مالک سے اس کو خرید لیا اور ثمن بھی ادا کردیا یا کوئی چیز دے کر مالک سے مصالحت کرلی تو اگرچہ اب مالک ہوگیا ہے مگر وقف صحیح نہیں کہ وقف کے وقت مالک نہ تھا۔( بحرالرائق)

مسئلہ۱۸: ایک شخص نے دوسرے شخص کے لئے اپنے مکان کی وصیت کی اور اس موصی لہ نے ابھی سے اسے وقف کردیاپھر موصی مرا تو یہ وقف صحیح نہ ہواکہ وقف کے وقت موصی لہ اس کا مالک ہی نہ تھا۔ یونہی کسی سے زمین خریدی تھی اور بائع کو خیار شرط تھا مشتری نے وقف کردی پھر بائع نے بیع کو جائز کردیا یہ وقف جائز نہیں اور اگر مشتری کو خیار تھا اور بعد وقف مشتری نے خیار ساقط کردیا تو وقف جائز ہے ۔ موہوب لہ نے قبضہ سے پہلے وقف کردیا پھر قبضہ کیا تو وقف جائز نہیں اور اگر ہبہ فاسد تھا مگر قبضہ کے بعد موہوب لہ نے وقف کیا تو وقف صحیح ہے اور موہوب لہ پر اسکی قیمت واجب ہے ۔(فتح القدیر)

مسئلہ۱۹: بیع فاسد سے مکان خریدا تھااور قبضہ کرکے وقف کیا تو وقف صحیح ہے اور قبضہ سے پہلے وقف کیا تو نہیں اور بیع صحیح سے خریدامگر ابھی نہ تو ثمن ادا کیا ہے نہ قبضہ کیا ہے اور وقف کردیا تو یہ وقف موقوف ہے اگر ثمن اداکرکے قبضہ کرلیا جائز ہوگیا اور مرگیا اور کوئی مال بھی ایسا نہیں چھوڑا کہ اس سے ثمن ادا کیا جائے تو وقف صحیح نہیں مکان فروخت کرکے بائع کو ثمن ادا کیا جائے ۔(خانیہ ‘ عالمگیری)

مسئلہ۲۰: ایک مکان خرید کر وقف کیا اس پر کسی نے دعوی کیا کہ یہ میرا ہے جس نے بیچا تھا اس کا نہ تھا اور قاضی نے مدعی کی ڈگری دیدی یا اس پر شفعہ کا دعوی کیا اور شفیع کے حق میں فیصلہ ہوا تو وقف شکست ہوجائیگا اور وہ مکان اصلی مالک یا شفیع کو مل جائے گا اگر چہ خریدار نے اسے مسجد بنادیا ہو۔( درمختار)

مسئلہ۲۱: مرتد نے زمانہ ٔ ارتداد میں وقف کیا تو یہ وقف موقوف ہے اگر اسلام کی طرف واپس ہوا وقف صحیح ہے ورنہ باطل ۔ (عالملگیری)

( ۶) جس نے وقف کیا وہ اپنی کم عقلی یا دین کی وجہ سے ممنوع التصر ف نہ ہو۔

مسئلہ۲۲: ایک بیوقوف شخص ہے جسکی نسبت قاضی کو اندیشہ ہے کہ اگر اس کی روک تھام نہ کی گئی تو جائداد تباہ و بربادکردیگا قاضی نے حکم دیدیاکہ یہ شخص اپنی جائداد میں تصرف نہ کرے اس نے کچھ جائداد وقف کی تو وقف صحیح نہ ہوا۔(فتح القدیر)

مسئلہ۲۳: شخص مذکور نے اپنی جائداداسطرح وقف کی کہ میں جب تک زندہ ہوں اسکے منافع اپنی ذات پر صرف کرتا رہوں اور میرے بعد مساکین یا مسجد یا مدرسہ میں صرف ہو تو محققین کے نزدیک وقف صحیح ہے ۔اور اس وقف کی صحت کا حاکم نے حکم دیدیا جب تو سبھی کے نزدیک صحیح ہے ۔( فتح القدیر)

مسئلہ۲۴: مریض پر اتنا دین ہے کہ اسکی تمام جائداددین میں مستغرق ہے اسکا وقف صحیح نہیں ( ردالمحتار)

( ۷) جہالت نہ ہونا یعنی جسکو وقف کیا یا جس پر وقف کیا معلوم ہو۔

مسئلہ۲۵: اپنی جائداد کا ایک حصہ وقف کیا اور یہ تعیین نہیں کی کہ وہ کتنا ہے مثلاً تہائی چوتھائی وغیرہ تو وقف صحیح نہ ہوا اگر چہ بعد میں اس حصہ کی تعیین کردے ۔وقف میں تردید کرنا کہ اس زمین کو یا اس زمین کو وقف کیا یہ وقف بھی صحیح نہیں ۔( بحر)

مسئلہ۲۶: وقف صحیح ہونے کے لئے زمین یا مکان کا معلوم ہونا ضروری ہے اسکے حدود ذکرکرنا شرط نہیں ۔( ردالمحتار)

مسئلہ۲۷: ا س مکان مین جتنے سہام میرے ہیں ان کو میں نے وقف کیا اگرچہ معلوم نہ ہو کہ اسکے کتنے سہام ہیں یہ وقف صحیح ہے کہ اگر چہ اسے اسوقت معلوم نہیں مگر حقیقۃً وہ متعین ہیں مجہول نہیں ۔ یونہی اگر یوں کہا کہ اس مکان میں میرا جو کچھ ہے اسے وقف کیا اور وہ ایک تہائی ہے مگر حقیقۃً اس کا حصہ تہائی نہیں بلکہ نصف ہے جب بھی وقف صحیح ہے اور کل حصہ یعنی نصف وقف ہو جائے گا۔( خانیہ ‘ بحر)

مسئلہ۲۸: ایک شخص نے اپنی زمین وقف کی جس میں درخت ہیں اور درختوں کو وقف سے مستثنی کیا یہ وقف صحیح نہ ہوا کہ اس صورت میں درخت مع زمین کے مستثنی ہونگے تو باقی زمین جس کو وقف کررہا ہے مجہول ہو گئی۔( بحر)

مسئلہ۲۹: موقوف علیہ اگر مجہول ہے مثلاًاس کو میں نے اللہ کے لئے وقف مؤ بدکیا یا اپنی قرابت والے پر وقف کیا یا یہ کہا کہ زید یا عمر و پر وقف کیا اور اسکے بعد مساکین پر صرف کیا جائے یہ وقف صحیح نہیں (عالمگیری)

(۸) وقف کو شرط پر معلق نہ کیا ہو۔

مسئلہ ۳۰: اگر شرط پر معلق کیا مثلاً میرا بیٹا سفر سے واپس آئے تو یہ زمین وقف ہے یا اگر میں اس زمین کا مالک ہو جاؤں یا اسے خریدلوں تو وقف ہے یہ وقف صحیح نہیں بلکہ اگر وہ شرط ایسی ہو جس کا ہونا یقینی ہے جب بھی صحیح نہیں مثلاًاگر کل کا دن آجائے تو وقف ہے ۔( ردالمحتار)

مسئلہ۳۱: میری یہ زمین وقف ہے اگر میں چاہوں اسکے بعد فوراً متصًلا یہ کہا کہ میں نے چاہا اور اس کو وقف کردیا تو وقف صحیح ہے اور نہ کہا تو وقف صحیح نہیں اور اگر یہ کہا کہ میری زمین وقف ہے اگر فلاں چاہے اور اس شخص نے فوراً کہا میں نے چاہا تو وقف صحیح نہیں ۔( عالمگیری)

مسئلہ۳۲: اگر ایسی شرط پر معلق کیا جو فی الحال موجود ہے تو تعلیق باطل ہے اور وقف صحیح مثلاًیہ کہا کہ اگر یہ زمین میری ملک میں ہو یا میں اسکا مالک ہو جاؤں تو وقف ہے اوراس کہنے کے وقت زمین اسکی ملک ہے تو وقف صحیح ہے اور اس وقت ملک نہیں ہے تو صحیح نہیں ۔( خانیہ)

مسئلہ۳۳: کسی شخص کا مال گم ہو گیا ہے اس نے یہ کہا کہ اگر میں گمشدہ مال کو پالوں تو مجھ پر اللہ کے لئے اس زمین کو وقف کردینا ہے یہ وقف کی منت ہے یعنی اگر چیز مل گئی تو اس پر لازم ہو گا کہ زمین کو ایسے لوگوں پر وقف کرے جنھیں زکاۃ دے سکتا ہے اور اگر ایسوں پر وقف کیا جن کو زکاۃ نہیں دے سکتا مثلاًاپنی اولاد پر تو وقف صحیح ہو جائے گا مگر نذر بدستور اسکے ذمہ باقی ہے ۔( عالمگیری)

مسئلہ۳۴: مریض نے کہا اگر میں اس مرض سے مرجاؤں تو میری یہ زمین وقف ہے صحیح نہیں اور اگر یہ کہا کہ میں مرجاؤں تو میری اس زمین کو وقف کردینایہ وقف کے لئے وکیل کرنا ہے اس کے مرنے کے بعد وکیل نے وقف کیا تو صحیح ہو گیا کہ وقف کے لئے تو کیل درست ہے اور توکیل کو شرط پر معلق کرنا بھی درست ہے مثلاًیہ کہا اگر میں اس گھر میں جاؤں تو میرا مکان وقف ہے یہ وقف صحیح نہیں اور اگر یہ کہتا ہے کہ میں اس گھر میں جاؤں تو تم میرے مکان کو وقف کردینا تو وقف صحیح ہے ۔( جوہر ‘ نیرہ خلاصہ) یعنی اس صورت میں صحیح ہے کہ وہ زمین اس کے ترکہ کی تہائی کے اندر ہو یا ورثہ اس وقف کو جائز کردیں اور ورثہ جائز نہ کریں تو ایک تہائی وقف ہے باقی میراث کہ یہ وقف وصیت کے حکم میں ہے اور وصیت تہائی تک جاری ہوگی بغیر اجازت ورثہ تہائی سے زیادہ میں وصیت جاری نہیں ہوسکتی ۔

مسئلہ ۳۵: کسی نے کہا اگر میں مر جاؤں تو میرا مکان فلاں پر وقف ہے یہ وقف نہیں بلکہ وصیت ہے یعنی وہ شخص اگر اپنی زندگی میں باطل کرنا چاہے توباطل ہوسکتی ہے اورمرنے کے بعد یہ وصیت ایک تہائی میں لازم ہوگی ورثہ اس کو رد نہیں کرسکتے اگرچہ وارث ہی پر وقف کیا ہو مثلاًیہ کہا کہ میں نے اپنے فلاں لڑکے کو اور نسلاًبعد نسل اسکی اولاد پر وقف کیا اورجب سلسلۂ نسل منقطع ہو جائے تو فقرا ومساکین پرصرف کیا جائے تو اس صورت میں دو تہائی ورثہ لے گے اور ایک تہائی کی آمدنی تنہا موقوف علیہ لے گا اس کے بعد اس کی اولاد لیتی رہے گی۔( درمختار ‘ ردالمحتار )

( ۹) جائداد موقوفہ کو بیع کرکے ثمن کو صرف کر ڈالنے کی شرط نہ ہو۔ یونہی یہ شرط کہ جس کو میں چاہوں گا ہبہ کردوں گایا جب مجھے ضرورت ہوگی اسے رہن رکھدوں گا غرض ایسی شرط جس سے وقف کا ابطال ہوتا ہو وقف کو باطل کردیتی ہے ہاں وقف کے استبدال کی شرط صحیح ہے ۔ یعنی اس جائداد کو بیع کرکے کوئی دوسری جائداد خریدکر اسکے قائم مقام کردی جائے گی اور اسکا ذکر آگے آتا ہے ۔

مسئلہ۳۶: وقف اگر مسجد ہے اور اس میں اس قسم کو شرطیں لگائیں مثلاًاسکو مسجد کیا اور مجھے اختیار ہے کہ اسے بیع کر ڈالوں یا ہبہ کردوں تو وقف صحیح ہے اور شرط باطل ( ردالمحتار)

مسئلہ۳۷: امام محمد رحمہ اللہ تعالی کے نزیک وقف میں خیار شرط نہیں ہوسکتا اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ تعالی کے نزدیک ہوسکتا ہے مثلاًیہ کہ میں نے وقف کیا اور تین دن تک کا مجھے اختیار ہے کہ تین دن گزر جانے پر وقف صحیح ہو جائے گا ۔اور مسجدخیار شرط کے ساتھ وقف کی ہے تو بالاتفاق شرط باطل ہے اور وقف صحیح۔(عالمگیری)

(۱۰) تابید یعنی ہمیشہ کے لئے ہونا مگر صحیح یہ ہے کہ وقف میں ہمشیگی کا ذکر کرنا شرط نہیں یعنی اگر وقف مؤبد نہ کہا جب بھی مؤ بد ہی ہے اور اگر مدت خاص کا ذکر کیا مثلاًمیں نے اپنا مکان ایک ماہ کے لئے وقف کیا اور جب مہینہ پورا ہوجائے تو وقف باطل ہو جائیگاتو یہ وقف نہ ہوا اور ابھی سے باطل ہے ۔( خانیہ )

مسئلہ ۳۸: اگر یہ کہا کہ میری زمین میرے مرنے کے بعد ایک سال تک صدقہ ٔموقوفہ ہے تو یہ صدقہ کی وصیت ہے اور ہمیشہ فقرا پر اسکی آمدنی صرف ہوتی رہے گی۔(عالمگیری)

مسئلہ۳۹: اگر یہ کہا کہ میری زمین ایک سال تک فلاں شخص پر صدقہ موقوفہ ہے اور سال پوراہونے پر وقف باطل ہے تو ایک سال تک اسکی آمدنی اس شخص کو دی جائے گی اور ایک سال کے بعد مساکین پر صرف ہوگی اور اگر صرف اتنا ہی کہا کہ ایک سال تک فلاں شخص پر صدقۂ موقوفہ ہے تو ایک سال تک اس کی آمدنی اس شخص کو دی جائے گی۔اور سال پورا ہونے پر ورثہ کا حق ہے ۔( خانیہ)

(۱۱)وقف بلآخر ایسی جہت کے لئے ہو جس میں انقطاع نہ ہو مثلاًکسی نے اپنی جائداد اپنی اولاد پر وقف کی اور یہ ذکر کردیا کہ جب میری اولاد کا سلسلہ نہ رہے تو مساکین پر یا نیک کاموں میں صرف کی جائے تو وقف صحیح ہے کہ اب منقطع ہونے کی کوئی صورت نہ رہی۔

مسئلہ۴۰: اگر فقط اتنا ہی کہا کہ میں نے اسے وقف کیا اور موقوف علیہ کا ذکر نہ کیا تو عرفاً اسکے یہی معنی ہیں کہ نیک کاموں میں صرف ہوگی اور بلحاظ معنی ایسی جہت ہوگی جس کے لئے انقطاع نہیں لہذا یہ وقف صحیح ہے ۔(ردالمحتار)

مسئلہ۴۱: جائداد کسی خاص مسجد کے نا م وقف کی تو چونکہ مسجد ہمیشہ رہنے والی چیز ہے اسکے لئے انقطاع نہیں لہذا وقف صحیح ہے ۔( ردالمحتار)

مسئلہ۴۲: وقف صحیح ہونے کے لئے یہ ضرور نہیں کی جائداد موقوفہ کے ساتھ حق غیر کا تعلق نہ ہو بلکہ حق غیر کا تعلق ہو جب بھی وقف صحیح ہے ۔مثلاًوہ جائداد اگر کسی کے اجارہ میں ہے اور وقف کردی تو وقف صحیح ہو گیا جب مدت اجارہ پوری ہوجائے یا دونوں میں کسی کا انتقال ہو جائے تو اب اجارہ ختم ہو جائے گا اور جائداد مصرف وقف میں صرف ہوگی۔( بحر)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button