ARTICLES

وعدہ خلافی کرکے عمرہ کرنے کاحکم

الاستفتاء : کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص عمرہ پرجارہاہے اوریہ وعدہ کرکے کہ میں عمرہ سے اکرتمہاراکام کردوں گا چاہے اس پرمیراپانچ ہزار نہیں دس ہزار روپے خرچہ ائے اورواپس انے پر وہ کام نہ کرے تو اس کے عمرہ پرکیااثرہوگا؟اگرہوگاتواسکے ازالے کاطریقہ کیاہوگا؟

(سائل : محمدحنیف ولدمحمدیوسف،کھارادر،کراچی)

متعلقہ مضامین

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں اگروعدہ کرتے وقت اسے پورانہ کرنے کی نیت تھی تووہ شخص گنہگارہوگاورنہ نہیں ۔باقی رہا اس کاعمرہ تواس فعل کی وجہ سے اس کے عمرے پرکوئی اثرنہیں پڑے گااورمذکور شخص کوچاہیے کہ اگرکوئی عذر نہیں تووہ اپنے وعدے کو ضرور پوراکرے ۔ چنانچہ وعدہ خلافی کاحکم بیان کرتے ہوئے علامہ زین الدین بن ابراہیم حنفی متوفی970ھ لکھتے ہیں :

الخلف في الوعد حرام كذا في اضحية الذخيرة وفي القنية.وعده ان ياتيه فلم ياته لا ياثم ولا يلزم الوعد الا اذا كان معلقًا كما في كفالة
البزازية۔()

یعنی،وعدہ خلافی حرام ہے ایسے ہی’’ذخیرہ‘‘میں اضحیہ کے بیان میں ہے اور ’’قنیہ‘‘میں ہے کہ کسی سے انے کاوعدہ کیاپھر اس کے پاس نہ ایاتووہ گنہگارنہیں ہوگا اورنہ ہی اسے وعدہ لازم ہوگامگرجبکہ اس نے وعدہ کومعلق کیاہو،جیساکہ’’بزازیہ‘‘ میں کفالت کے بیان میں ہے ۔ اورامام حافظ الدین محمدشہاب الدین بن بزارکردری حنفی متوفی827ھ لکھتے ہیں : من وعد غیرہ بقضاء دینہ بان قال : بدھم، لا یجب شیء۔() یعنی،جس نے اپنے غیرسے وعدہ کیاکہ اس کاقرض اداکرے گابایں طورپر کہ اس نے کہاکہ میں دوں گاتوکچھ بھی واجب نہیں ہوگا۔ اوروعدے کے خلاف کرنااس وقت حرام ہے کہ جب وعدہ کرتے وقت اسے پورانہ کرنے کی نیت ہواوراگرنیت اسے پورا کرنے کی ہوتوپھرحرام وگناہ نہیں ۔ چنانچہ علامہ سیداحمدبن محمدحموی حنفی متوفی1098ھ لکھتے ہیں :

قال بعض الفضلاء : فان قیل : ما وجہ التوفیق بین ھذین القولین، فان الحرام یاثم یفعلہ ، وقد صرح فی ’’ القنیۃ‘‘بنفی الاثم. قلت یحمل الاول علی ما اذا وعد،وفی نیتہ الخلف،فیحرم لانہ من صفات المنافقین،والثانی علی ما اذا نوی الوفاء وعرض مانع۔()

یعنی،بعض فضلاءنے کہاپس اگرکہاجائے کہ ان دونوں اقوال کے درمیان تطبیق کی صورت کیاہے کیونکہ حرام فعل کے ارتکاب سے گناہ ہوتاہے حالانکہ
’’قنیہ‘‘میں گناہ نہ ہونے کی تصریح کی گئی ہے .میں کہتاہوں کہ پہلے کواس پرمحمول کیا جائے کہ جب وہ وعدہ کرے اورنیت یہ ہوکہ وعدہ خلافی کرے گاتوحرام ہے کیونکہ یہ منافقین کی صفات میں سے ہے ،اوردوسرے قول کواس پر محمول کریں گے کہ جب وعدہ پوراکرنے کی نیت ہو،اورکوئی رکاوٹ پیش اجائے ۔(تووہ گنہگارنہیں ہوگا) اورشیخ محمدعلی رافعی لکھتے ہیں : والتوفیق بینہ وبین الاول بحمل الاول علی ما اذا وعد وفی نیتہ الخلف فیحرم والثانی علی ما اذا نوی الوفاء وعرض مانع۔() یعنی،اس کے اوراول قول کے درمیان مطابقت اس طرح ہوگی کہ اول کواس پرمحمول کیاجائے گاکہ وعدہ کرے اورنیت یہ ہوکہ وعدہ خلافی کرے گاتوحرام ہے ۔اوردوسراقول اس پرمحمول کیاجائے گاکہ وہ وعدہ کرے اورنیت ہوکہ وہ اسے پوراکرے گااورکوئی رکاوٹ پیش اجائے ۔ اورسچے دل سے وعدہ کرنے کے بعدبلاعذراس کے خلاف کرنااگرچہ حرام وگناہ نہیں لیکن مکروہ تنزیہی ہے ۔ چنانچہ علامہ سیدمحمدامین ابن عابدین شامی حنفی متوفی1252ھ لکھتے ہیں :

ان خلف الوعد مكروه لا حرام، وفي الذخيرة : يكره تنزيهًا؛ لانه خلف الوعد ويستحب الوفاء بالعهد. سائحاني۔()

یعنی،وعدہ خلافی مکروہ ہے حرام نہیں ،اور’’ذخیرہ‘‘میں ہے کہ مکروہ تنزیہی ہے ؛کیونکہ اس نے وعدے کے خلاف کیاہے حالانکہ وعدے کوپوراکرنامستحب ہے (سائحانی)۔ اورامام اہلسنت امام احمدرضاخان حنفی متوفی1340ھ لکھتے ہیں : اگرکوئی عذر ومصلحت نہیں بلاوجہ نسبت(یعنی منگنی) چھڑائی جاتی ہے تویہ صورت مکروہ تنزیہی ہے …حرام وگناہ نہیں ،حضورپرنور سیدالعالمینﷺفرماتے ہیں :

’’ليس الخلف ان يعد الرجل ومن نيته ان يفي ولكن الخلف ان يعد الرجل ومن نيته ان لا يفي‘‘

وعدہ خلافی یہ نہیں کہ مرد وعدہ کرے در انحالیکہ اس کی نیت وعدہ کو پورا کرنے کی ہو، لیکن وعدہ خلافی یہ ہے کہ مردوعدہ کرے درانحالیکہ اس کی نیت اس وعدہ کو پورا نہ کرنے کی ہو۔ اس کو ابویعلی نے اپنے ’’مسند‘‘ میں حضرت زیدبن ارقم رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے بسندحسن روایت فرمایا۔()

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب منگل،8شعبان1442ھ۔23مارچ2021م

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button