ARTICLES

وطن اقامت سے مدت سفر کو روانگی سے ہی وطن اقامت باطل ہو جاتا ہے

استفتاء : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہم مدینہ شریف میں پندرہ روز سے زائد کی نیت سے اقامت پذیر تھے ، اسی دوران ایک دن ہم بدر شریف گئے اس سے قبل تو ہم نماز پوری پڑھ رہے تھے ، واپسی پر پریشان ہوئے کہ نماز پوری پڑھیں یا قصر کریں کہ واپسی کے بعد ہمارے پاس قیام کے لئے پندرہ دن نہ تھے کہ پندرہ دن سے قبل ہماری واپسی تھی، اب اس صورت میں شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے ؟

(السائل : ابو طالب قادری، جمشید ٹاؤن، کراچی)

متعلقہ مضامین

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں اپ بدر شریف کے ارادے سے مدینہ طیبہ سے جب نکلے تو اپ مسافر ہو گئے کیونکہ بدر شریف اور مدینہ طیبہ کے مابین مسافت سفر ہے ، مدینہ شریف واپس ائے تو پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کا ارادہ تھا اس لئے مدینہ شریف میں مسافر ہی رہے ۔ وطن تین ہوتے ہیں ، وطن اصلی، وطن اقامت اور وطن سکنیٰ،علامہ حسن بن عمار شرنبلالی حنفی متوفی 1069ھ لکھتے ہیں :

الوطن ھو الذی ولد فیہ، او تزوج او لم یتزوج و قصد التعیش لا الارتحال عنہ

یعنی، وطن اصلی وہ ہے جہاں کوئی شخص پیدا ہوا ہو یا اس نے شادی کی ہو یا نہ کی لیکن وہاں سکونت پذیر ہونے کا ارادہ کیا وہاں سے جانے کا ارادہ نہ کیا۔ و وطن الاقامۃ موضع نوی الاقامۃ فیہ نصف شھرٍ فما فوقہ یعنی، وطن اقامت وہ ہے جہاں نصف مہینہ یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کا ارادہ کیا۔

وطن السکنٰی وھو ما ینوی الاقامۃ فیہ دون نصف شھرٍ (178)

یعنی، وطن سکنیٰ اور یہ وہ جگہ ہے جہاں نصف ماہ سے کم ٹھہرنے کا ارادہ کیا۔ اور محققین نے اس اخری کا اعتبار نہیں کیا ہے چنانچہ علامہ حسن بن عمار شرنبلالی لکھتے ہیں :

و لم یعتبر المحققون وطن السکنٰی (179)

یعنی، محققین نے وطن سکنیٰ کا اعتبار نہیں کیا۔ چنانچہ علامہ عالم بن علاء انصاری ہندی حنفی متوفی 786ھ لکھتے ہیں :

و عبارۃ المحققین من مشایخنا : ان الوطن وطنان : وطن اصلی، ووطن سفر و لم یعتبروا وطن السکنی وطنا و ھو الصحیح (180)

یعنی، ہمارے مشائخ میں سے محققین کی عبارت یہ ہے کہ بے شک وطن دو وطن ہیں ، وطن اصلی اور وطن سفر اور وطن سکنیٰ کے وطن ہونے کا اعتبار نہیں کیا اور یہی صحیح ہے ۔ اور وطن اقامت کو وطن سفر، جیسا کہ مندرجہ ذیل عبارت میں ہے وطن مستعار اور وطن حادث بھی کہتے ہیں جیسا کہ ’’رد المحتار‘‘ (181) میں مذکور ہے ۔ اور وطن اصلی صرف وطن اصلی سے باطل ہوتا ہے جب کہ وطن اقامت اپنی مثل کے ساتھ اور وطن اصلی کے ساتھ اور انشاء سفر کے ساتھ بھی باطل ہو جاتا ہے چنانچہ علامہ عبد اللہ بن احمد بن محمود نسفی متوفی 710ھ لکھتے ہیں :

و یبطل الوطن الاصلی بمثلہ لا السفر، و وطن الاقامۃ بمثلہ و السفر والاصلی (182)

یعنی، وطن اصلی اپنی مثل کے ساتھ باطل ہوتا ہے نہ کہ سفر کے ساتھ اور وطن اقامت اپنی مثل کے ساتھ اور سفر اور وطن اصلی کے ساتھ۔ اور امام محبوبی صاحب وقایۃ الروایہ لکھتے ہیں :

و یبطل الوطن الاصلی مثلہ لا السفر و وطن للاقامۃ مثلہ و السفر و الاصلی (183)

یعنی، وطن اصلی کو اس کا مثل باطل کرتا ہے نہ کہ سفر اور وطن اقامت کو اس کا مثل، سفر اور وطن اصلی باطل کرتا ہے ۔ اور علامہ ابو الحسن علی بن ابی بکر مرغینانی حنفی متوفی 593ھ لکھتے ہیں :

لان الاصل ان الوطن الاصلی یبطل بمثلہ دون السفر و وطن الاقامۃ یبطل بمثلہ و بالسفر و بالاصلی (184)

یعنی، کیونکہ قاعدہ یہ ہے کہ وطن اصلی اپنی مثل کے ساتھ باطل ہوتا ہے سوائے سفر کے اور وطن اقامت اپنی مثل کے ساتھ اور سفر کے ساتھ اور وطن اصلی کے ساتھ باطل ہوتا ہے ۔ علامہ حسن بن عمار شرنبلالی حنفی متوفی 1069ھ لکھتے ہیں :

(ویبطل وطن الاقامۃ بمثلہ و) یبطل ایضا (ب) انشاء (السفر) بعدہ (وب) العود للوطن (الاصلی) (185)

یعنی، وطن اقامت اپنی مثل کے ساتھ باطل ہوتا ہے اور اس کے بعد سفر شروع کرنے کے ساتھ اور وطن اصلی کو لوٹنے کے ساتھ بھی باطل ہوتا ہے ۔

الوطن الاصلی یبطل بمثلہ لا غیر و یبطل وطن الاقامۃ بمثلہ و بالوطن الاصلی و بانشاء السفر، ملخصا (186)

یعنی، وطن اصلی اپنی مثل کے ساتھ باطل ہو جاتا ہے نہ اس کے غیر سے اور وطن اقامت اپنی مثل سے اور وطن اصلی سے اور سفر شروع کرنے سے باطل ہو جاتا ہے ۔

و اما وطن الاقامۃ فلہ ما یساویہ و ما فوقہ فیبطل بکلٍ منھما و بانشائ السفر ایضا لانہ ضدہ (187)

یعنی، مگر وطن اقامت تو اس کے لئے باطل کرنے والا وہ ہے جو اس کے برابر ہے اور وہ جو اس سے اوپر ہے پس وہ دونوں میں سے ہر ایک کے ساتھ باطل ہو جائے گا اور انشائ سفر سے بھی کیونکہ وہ اس کی ضد ہے ۔ وطن اقامت انشائ سفر سے باطل ہو جاتا ہے اور انشائ سفر سے مراد ہے کہ کوئی شخص وطن اقامت سے ایسی جگہ کے ارادے سے نکلے جو جگہ اس وطن اقامت سے تین دن تین رات کی راہ پر ہو یعنی اس سے 92 کلومیٹر دور ہو چنانچہ علامہ اکمل الدین محمد بن محمود بابرتی حنفی متوفی 786ھ لکھتے ہیں :

و الاصل ان الوطن الاصلی یبطل بالوطن الاصلی دون وطن الاقامۃ و انشاء السفر، و ھو ان یخرج قاصدا مکانا یصل الیہ فی مدۃ السفر لان الشیئ انما یبطل بما فوقہ او ما یساویہ (188)

یعنی، قاعدہ ہے کہ وطن اصلی باطل ہوتا ہے وطن اصلی کے ساتھ سوائے وطن اقامت اور انشائ سفر کے اور وہ انشائ سفر یہ ہے کہ وہ ایسی جگہ کا ارادہ کر کے نکلے جہاں مدت سفر میں پہنچے کیونکہ شئے اپنے اوپر کے ساتھ یا اپنے مساوی کے ساتھ باطل ہوتی ہے ۔ اور امام کمال الدین محمد بن عبد الواحد ابن ہمام حنفی متوفی861ھ لکھتے ہیں :

و وطن الاقامۃ ینتقض بالاصلی و وطن الاقامۃ و السفر (189)

یعنی، وطن اقامت ٹوٹ جاتا ہے اصل کے ساتھ اور وطن اقامت کے ساتھ اور سفر کے ساتھ۔ اور علامہ جلال الدین خوارزمی حنفی لکھتے ہیں :

و من حکم وطن السفر انہ ینتقض بالوطن الاصلی لانہ فوقہ و ینتقض بوطن السفر لانہ مثلہ و ینتقض بانشائ السفر لانہ ضدہ (190)

یعنی، وطن سفر (یعنی وطن اقامت) کے حکم سے ہے کہ وہ وطن اصلی کے ساتھ ٹوٹ جاتا ہے کیونکہ وہ اس سے اوپر ہے اور ٹوٹ جاتا ہے وطن سفر کے ساتھ کیونکہ وہ اس کی مثل ہے اور ٹوٹ جاتا ہے سفر شروع کرنے کے ساتھ کیونکہ وہ اس کی ضد ہے ۔ اور وطن اقامت وطن اصلی کے ساتھ باطل ہو جاتا ہے کیونکہ وطن اصلی وطن اقامت سے زیادہ قوی ہے ، چنانچہ امام قوام الدین امیر کاتب بن امیر عمر اتقانی حنفی متوفی 758ھ لکھتے ہیں :

و وطن الاقامۃ یبطل بالاصلی لانہ اقوی منہ (191)

یعنی، اور وطن اقامت کو باطل کر دیتا ہے وطن اصلی کیونکہ وہ اس سے زیادہ قوی ہے ۔ اور اس کی مثال یہ ہے کہ کوئی شخص مکہ میں پندرہ دن کی اقامت کی نیت سے ٹھہرا ہوا ہو پھر منیٰ کو اپنا وطن اصلی بنا لے ، چنانچہ علامہ سید محمد ابن امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی 1252ھ لکھتے ہیں :

قولہ : و’’بالوطن الاصلی‘‘ کما اذا توطن بمکۃ نصف شھرٍ ثم تاھل بمنی، افادہ ’’القھستانی‘‘ (192)

یعنی، وطن اقامت وطن اصلی کے سات باطل ہو جاتا ہے جیسا کہ جب مکہ مکرمہ کو ادھے مہینے کے لئے وطن بنایا پھر منی میں شادی کی ’’قہستانی‘‘ (193) نے اس کا افادہ کیا ہے ۔ اور وطن اقامت اپنی مثل کے ساتھ باطل ہو جاتا ہے یعنی ایک جگہ پندرہ روز اقامت کی نیت سے ٹھہرا پھر دوسری جگہ اقامت کی نیت کر لی تو پہلا وطن اقامت باطل ہو جائے گا چاہے ان دونوں کے مابین مسافت سفر ہو یا نہ ہو چنانچہ علامہ شامی لکھتے ہیں :

قولہ : ’’بمثلہ‘‘ ای : سوائ کان بینھما مسیرۃ سفرٍ او لا ’’قہستانی‘‘ (194)

یعنی، وطن اقامت اپنی مثل کے ساتھ باطل ہو جاتا ہے یعنی برابر ہے کہ ان دونوں کے مابین مسافت سفر ہو یا نہ ہو ’’قہستانی‘‘ (195) اور دوسرا وطن اقامت پہلے وطن اقامت سے زیادہ قوی ہے چنانچہ امام اتقانی حنفی لکھتے ہیں :

و بوطن الاقامۃ لانہ مثلہ بل الثانی اقوی من الاول، لان الاول انتقض حقیقۃً، و انما بقی حکمہ، و ھو انہ یصیر مقیما متی عاد الیہ قبل ان یصیر مسافرا (196)

یعنی، (ایک وطن اقامت دوسرے ) وطن اقامت کے ساتھ باطل ہوتا ہے کیونکہ وہ اس کی مثل ہے بلکہ پہلے سے زیادی قوی ہے کیونکہ پہلے کا حقیقۃً وطن اقامت ہونا ٹوٹ گیا اور اس کا صرف حکم باقی ہے اور وہ حکم یہ ہے کہ وہ شخص مقیم ہو جائے گا جب مسافر ہونے سے قبل اس کی طرف لوٹا۔

واللٰہ تعالی اعلم بالصواب

یوم الاربعاء ، 8 ذوالحجۃ 1433ھ، 18 اکتوبر 2012 م 820-F

حوالہ جات

178۔ نور الایضاح، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ص110

179۔ نور الایضاح، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ص110

180۔ الفتاوی التاتارخانیۃ، کتاب الصلاۃ، الفصل الثانی و العشرون، نوع اخر فی بیان ما یصیر المسافر بہ مقیما، 2/511

181۔ رد المحتار، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، مطلب : فی الوطن الاصلی و وطن الاقامۃ، تحت قولہ : الوطن الاصلی، 2/739

182۔ کنز الدقائق، کتاب الصلاۃ، باب السفر، ص188

183۔ مختصر الوقایۃ مع شرحہ للدرکانی، کتاب الصلاۃ، باب المسافر، 1/193، 194

184۔ الھدایۃ، کتاب الصلاۃ، باب المسافر، 1۔2/98

185۔ نور الایضاح وشرحہ مراقی الفلاح، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ص165

186۔ الدر المختار، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ص106

187۔ العنایۃ، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ السفر، 2/437

188۔ العنایۃ، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ السفر، تحت قولہ : من کان لہ وطن الخ، 2/437

189۔ فتح القدیر، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، تحت قولہ : وھذا لان الاصل….الخ، 2/16

190۔ الکفایۃ، کتاب الصلاۃ، باب المسافر، 2/17

191۔ غایۃ البیان و نادرۃ الاقران، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ق109/ا، ب

192۔ رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، تحت قولہ و بالوطن الاصلی، مطلب فی الوطن الاصلی و وطن الاقامۃ، 2/739

193۔ جامع الرموز، کتاب المسافر، فصل صلاۃ المسافر، 1/258

194۔ رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، تحت قولہ : بمثلہ، مطلب فی الوطن الاصلی و وطن الاقامۃ، 2/739

195۔ جامع الرموز، کتاب الصلاۃ، فصل صلاۃ المسافر، 1/258

196۔ غایۃ البیان و نادرۃ ااقران، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ق109/ب

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button