بہار شریعت

وضو توڑنے والی چیزوں کا بیان

بہار شریعت جلد اول کے باب وضو توڑنے والی چیزوں کے بیان کا تفصیلی مطالعہ

وضو توڑنے والی چیزوں کا بیان

مسئلہ ۱  :   پاخانہ، پیشاب، ودی، مذی، منی، کیڑا، پتھری مرد یا عورت کے آگے یا  پیچھے سے نکلیں وضو جاتا رہے گا (ہندیہ ج ۱ ص ۹، درمختار وشامی ج ۱ ص ۱۲۴)۔

مسئلہ ۲  :  اگر مرد کا ختنہ نہیں ہوا ہے اور سوراخ سے ان چیزوں میں سے کوئی چیز نکلی ابھی ختنہ کی کھال کے اندر ہی ہے جب بھی وضو ٹوٹ گیا۔ (ہندیہ ج ۱ ص ۱۰)۔

متعلقہ مضامین

مسئلہ ۳  :  یونہی عورت کے سوراخ سے نکلی مگر ہنوز اہپر والی کھان کے اندر ہی ہے جب بھی وضو جاتا رہا۔ (ہندیہ ج ۱ ص ۱۰)۔

مسئلہ ۴  :  اسی طرح عورت کے آگے سے جو خالص رطوبت بے آمیزش خون نکلتی ہے ناقص وضو نہیں اگر کپڑے میں لگ جائے تو کپڑا پاک ہے۔

مسئلہ ۵   :           مرد یا عورت سے پیچھے سے ہوا خارج ہوئی وضو جاتا رہا (ہندیہ ج ۱ ص ۹، درمختار ج ۱ ص ۱۲۶)۔

مسئلہ ۶  :  مر د یا عورت کے آگے سے ہوا نکلی یا پیٹ میں ایسا زخم ہوگیا کہ جھلی تک پہنچا تو اس سے ہوا نکلی تو وضو نہیں جائے گا۔

مسئلہ ۷  :  عورت کے دونوں مقام پردہ پھٹ کر ایک ہوگئے اسے جب ریح آئے احتیاط یہ ہے کہ وضو کرلے اگرچہ یہ احتمال ہو کہ آگے سے نکلی ہو گی۔ (درمختارو شامی ج ۱ ص ۱۲۶)۔

مسئلہ ۸  :  اگر مرد نے پیشاب کے سوراخ میں کوئی چیز ڈالی پھر وہ اس میں سے لوٹ آتی تو وضو نہیں جائے گا (ہندیہ ج ۱ ص ۱۰)۔

مسئلہ ۹  :   حقنہ لیا اور دوا باہر آگئی یا کوئی چیز پاخانہ کے مقام میں ڈال اور باہر نکل آئی تو وضو ٹوٹ گیا (ہندیہ ج ۱ ص ۱۰)۔

مسئلہ ۱۰ : مرد نے سوراخ ِ ذکر میں روئی رکھی اور وہ اوپر سے خشک ہے جب نکالی تو تر نکلی تو نکالتے ہی وضو ٹوٹ گیا یونہی عورت نے کپڑا رکھا اور فرج خارج میں اس کپڑے پر کوئی اثر نہیں مگر جب نکالا تو خون یا کسی اور جناست سے تر نکلا اب وضو جاتا رھا (ہندیہ ج ۱ ص ۱۰)۔

مسئلہ ۱۱ :  خون یا پیپ یا درد پانی کہیں سے نکل کی بہا ااور اس بہنے میں ایسی جگہ پہنچنے کی صلاحیت تھی جس کا وضو یا غسل میں دھونا فرض ہے تو  وضو جاتا رہا مگر صرف چمکا یا ابرا اور بہا نہیں جعسے سوئی کی نوک یا چاقہ کا کنارہ لگ جاتا ہے اور خون ابھر یا چمک جاتا ہے یا خلال کیا یا مسواک کی انگلی سے دانت مانجھے یا دانت سے کوئی چیز کاٹی اس پر خون کا اثر پایا، ناک میں انگلی ڈالی اور اس پر خون کی سُرخی آگئی مگر وہ بہنے کے قابل نہ تھا وضو نہیں ٹوٹا (ہندیہ ج ۱ ص ۱۰)۔

مسئلہ ۱۲ : اور اگر بہا مگر ایسی جگہ بہہ کر نہیں آیا جس کا دھون رفض ہو تا وضو نہیں ٹوٹا۔ مثلاً آنکھ میں دانہ تھا اور ٹوٹ کر آنکھ کے اندر ہی پھیل گیا باہر نہیں نکلا یا کان کے اندر دانہ ٹوٹا اور اس کا پانی سوراخ سے باہر نہ نکلا تو ان صورتوں میں وجو باقی ہے۔

مسئلہ ۱۳ : زخم پر گڑھا بڑ گیا اور اس میں سے کوئی رطوبت چمکی مگر ہی نہیں تو وضو نہیں ٹوٹا۔

مسئلہ ۱۴ : زخم سے خون وغیرہ نکلتا رہا اور یہ بار بار پونچھتا رہا کہ بہنے کی نوبت یہ آئی تو غور کرے کہ اگر نہ پونچھتا تہ بہہ جاتا یا نہیں اگر بہہ جاتا تو وضو ٹوٹ گیا ورنہ نہیں یونہی اگر مٹی یا راکھ ڈال ڈال کر سکھاتا رہا اس کابھی وہی حکم ہے (درمختار و شامی ج ۱ ص ۱۲۵، ہندیہ ج ۱ ص ۱۱)۔

مسئلہ ۱۵ : آنکھ، کان، ناف، پستان وغیرہا میں دانا یا ناسور یا کوئی  بیماری ہو ان وجوہ سے جو آنسو یا پانی بہے وضو توڑ دے گا (ہندیہ ج ۱ ص ۱۰)۔

مسئلہ ۱۶ : زخم یا ناک یا کان یا منہ سے کیڑا یا زخم سے کوئی گوشت کا ٹکڑا (جس پر خون یا پیپ کوئی نجس رطوبت قابل سیلان نہ تھی) کٹ کر گرا وضو نہیں ٹوٹے گا۔ (درمختار و شامی ج ۱ ص ۱۲۷)۔

مسئلہ ۱۷ : کان میں تیل ڈالا تھا اور ایک دن بعد کان یا ناک سے نکلا وضو نہ جائے گا (یونہی اگر منہ سے نکلا جب بھی ناقص وضو نہیں ہاں اگر یہ معلوم ہو کہ دماغ سے اتر کر معدہ میں گیا اور م عدے سے آیا ہے تو وضو ٹوٹ گیا۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۰)۔

مسئلہ ۱۸ : چھالا نوچ ڈالا مگر اس میں کا پانی بہہ گیا وضو جاتا رہا ورنہ نہیں۔ (ہندیہ ج۱ ص ۱۱)۔

مسئلہ ۱۹ : منہ سے خون نکلا اگر تھوک پر غالب ہے وضو توڑ دے گا ورنہ نہیں ۔

فائدہ   :     غلبہ کی شناخت یوں ہے کہ تھوک کا رنگ اگر سرخ ہو جائے تو خون غالب سمجھا جائے اور گر زرد ہو تو مغلوب ۔ (درمختار و شامی ج ۱ ص ۱۲۸، ہندیہ ج ۱ ص ۱۱)۔

مسئلہ ۲۰ : جونک یا بری کلّی نے خون چوسا اور اتنا پی لیا کہ اگر خود نکلتا تو بہہ جاتا وضو ٹوٹ گیا ورنہ نہیں۔ (ہندیہ ج ۱ ص ۱۲)۔

مسئلہ ۲۱ : اگر چھوٹی کلّی یا جوں یا کھٹمل، مچھر، مکھی، پُسو نے خون چُوسا تو وضو نہیں جائے گا۔ (ہندیہ ج ۱ ص ۱۱)۔

مسئلہ ۲۲ : ناک صاف کی اس میں سے جما ہوا خون نکلا وضو نہیں ٹوٹا۔ (ہندیہ ج ۱ ص ۱۱)۔

مسئلہ ۲۳ :            نادر (ایک قسم کا زخم ہوتا ہے جس میں لمبے کیڑے پڑ جاتے ہیں) سے رطوبت بہے وضو جاتا رہے گا اور ڈورا نکلا تو وضو باقی ہے۔

مسئلہ ۲۴ :            اندھے کی آنکھ سے جو رطوبت بوجہِ مرض نکلتی ہے ناقص وضو ہے۔

مسئلہ ۲۵ :            منہ بھر قے یا پانی یا صفرا کی وضو توڑ دیتی ہے

فائدہ    :    منہ بھر کے یہ معنی ہیں کہ اسے بے   تکلّف نہ روک سکتا ہو (ہندیہ ج ۱ ص ۱۱، درمختار و شامی ج ۱ ص ۱۲۷)۔

مسئلہ ۲۶ : بلغم کی قے وضو نہیں توڑتی جتنی بھی ہو۔ (ہندیہ ج ۱ ص ۱۱)۔

مسئلہ ۲۷ :            بہتے خون کی قے وضو تور دیتی ہے جب تھوک سے مغلوب نہ ہو اور اگر جما ہوا خون ہے تو وضو نہیں جائے گا جب تک منہ بھر نہ ہو۔ (درمختار و شامی ج ۱ ص ۱۲۷، ہندیہ ج ۱ ص ۱۱)۔

مسئلہ ۲۸ :            پانی پیا اور معدے میں اتر گیا اب وہی پانی صاف شفاف قے میں آیا اگر منہ بھر ہے وضو ٹوٹ گیا اور وہ پانی نجس ہے اور اگر سینہ تک پہنچا تھا کہ اچھو لگا اور نکل آیا تو نہ وہ ناپاک ہے نہ اس سے وض کیا جائے ۔ (ہندیہ ج ۱ ص ۱۱)

مسئلہ ۲۹ : اگر تھوری تھوڑی چند بار قے آئی کہ اس کا مجموعہ منہ بھر ہے تو اگر ایک ہی متلی سے ہے تو وضو توڑدے گی اور اگر متلی جاتی رہی اور اس کا کوئی اثر نہ ہرا پھر نئے سرے سے متلی شروع ہوئی اور قے آئی اور دونوں مرتبہ کی علحیدہ علحیدہ منہ بھر نہیں دونوں جمع کی جائیں تو منہ بھر ہو جائیں تو یہ ناقص وضو نہیں پھر اگر ایک ہی مجلس میں ہے تو وضو کر لینا بہتر ہے۔ (ہندیہ ج ۱ ص ۱۱، درمختار و شامی ج ۱ ص ۱۳)۔

مسئلہ ۳۰ :            قے میں صرف کیڑے یا سانپ نکلے تو وضو نہ جائے گا اور اگر اس کے ساتھ کچھ رطوبت بھی ہے تو دیکھیں گے کہ منہ بھر ہے یا نہیں۔ منہ بھر ہے تو ناقص ہے  ورنہ نہیں۔ (درمختار و شامی ج ۱ ص ۱۲۸)۔

مسئلہ ۳۱ : سو جانے سے وضو جاتا رہتا ہے بشرطیکہ دونوں سیرین خوب نہ جمے ہوں اور نہ ایسی ہیّات پر سویا ہو جو غاجل ہو کر نیند آنے کو مانع ہو مثلاً افڑوں بیٹھ کر سویا یا چت یا پٹ یا کروٹ پر لیٹ کر یا ایک کہنی پر تکیہ لگا کو سویا مگر ایک کروٹ کو جھکا ہو کہ ایک یا دونوں سرین اٹھے ہوئے ہیں یا ننگی پیٹھ پر سوار ہے اور جانور ڈھال میں اتر رہا ہے یا دو زانو بیٹھا اور پیٹھ رانوں پر رکھا کہ دونوں سرین جمے نہ رہے یا چار زانو ہے اور سر زانو یا پنڈلیوں پر ہے یا جس طرح عورتیں سجدہ کرتی ہیں اسی ہیات پر سوگیا ان سب صورتوں میں وضو جاتا رہا اور اگر نماز میں ان صورتوں پر قصداً سویا تو وضو بھی گیا نماز بھی گئی وضو کر کے سرے سے نیت باندھے اور اگر بلا قصد دویا تو وضو جاتا رہا نماز نہیں گئی ۔ وضو کر کے جس رکن میں سویا تھا وہاں سے ادا کرلے اور ازسرِنو پڑھنا بہتر ہے۔ (درمختار ج ۱ ص ۱۳۱،۱۳۲، ہندیہ ج ۱ ص ۱۲)۔

مسئلہ ۳۲ :            دونوں سرین زمین یا کرسی یا بیچ پر ہیں اور دونوں پاؤں ایک طرف پھیلے ہوئے یا دونوں سرین پر بیٹھا ہے اور گھٹنے کھڑے ہیں اور ہاتھ پنڈلیوں پر محیط ہوں خواہ زمین پر ہوں ۔ دو زانو سیدھا ہو یا چار زانو پالتی مارے یا زین پر سوار ہو یا ننگی پیٹھ پر سوار ہے مگر جانور چڑھائی پر چڑھ رہا ہے یا راستہ ہموار ہے یا کھڑے کھڑے سو گیا یا رکوع کی صورت پر یا مردوں کے سجدہ مسنونہ کی شکل پر تو ان سب صورتوں میں وضو نہیں جائے گا اور نماز میں اگر یہ صورتیں پیش آئیں تو نہ وضو جائے گا نہ نماز ۔ ہاں اگر پورا رکن سوتے ہی ادا کیا تو اس کا اعادہ ضروری ہے اوراگر جاگتے میں شروع کی اور پھر سو گیا تو اگر جاگتے میں بقدرے کفایت ادا کر چکا ہے تو وہی کافی ہے ورنہ پورا کرے۔ (ہندیہ ج ۱ ص ۱۲۔)

مسئلہ ۳۳ :            اگر اس شکل پر سویا جس میں وضو نہیں جاتا اور نیند کے اندر وہ ہیات پیدا ہو گئی جس سے وضو جاتا رہتا ہے تو اگر فوراً بلا وقفہ جاگ اٹھا وضو نہ گیا ورنہ جاتا رہا۔ (ہندیہ ج ۱ ص ۱۲)۔

مسئلہ ۳۴ :            گرم تنور کے کنارے پاؤں لٹکائے بیٹھ کر سو گیا تو وضو کر لینا مناسب ہے۔ (ہندیہ ج ۱ ص ۱۲)۔

مسئلہ ۳۵ :            بیمارلیٹ کر نماز پڑھتا تھا نیند آگئی وضو جاتا رہا۔ (ہندیہ ج ۱ ص ۱۲)۔

مسئلہ ۳۶ :            اونگھنے یا بیٹھے بیٹھے جھونکے لینے سے وضو نہیں جاتا۔

مسئلہ ۳۷ :            جُھوم کر گر پڑا اور فوراً آنکھ کھل گئی وضو نہ گیا۔ (درمختار ج ۱ ص ۱۳۲، ہندیہ ج ۱ ص ۱۲)۔

مسئلہ ۳۸ :            نماز وغیرہ کے انتظار میں بعض مرتبہ نیند کا غلبہ ہوتا ہے اور یہ دفع کرنا چاہتا ہے تو بعض وقت ایسا غافل ہو جاتا ہے کہ اس وقت جو باتیں ہوئیں ان کی اسے بالکل خبر نہیں بلکہ دو تین آواز میں آنکھ کھلی اور اپنے خیال میں یہ سمجھتا ہے کہ سویا نہ تھا اس کے اس خیال کا اعتبار نہیں اگر معتبر شخص کہے کہ تُو غافل تھا۔ پکارا ، جواب نہ دیا یا باتیں پوچھی جائیں اور وہ بتا نہ سکے تو اس پر وضو لازم ہے۔

فائدہ  :     انبیاء علیم السلام کا سونا ناقض نہیں ان کی آنکھیں سوتی ہیں۔ دل جاگتے ہیں۔ علاوہ نیند کے اور ناقض سے انبیاء علیم السلام کا وضو جاتا ہے یا نہیں اس میں اختلاف صحیح یہ ہے کہ جاتا رہتا ہے بوجہ ان کی عظمت شان کے نہ بسبب نجاست کے کہ انکے فضلات شریفہ طیّب و طاہر ہیں جن کا کھانا پینا ہیں حلال اور باعث برکت۔ (شامی ج ۱ ص ۱۳۵)۔

مسئلہ ۳۹ : بیہوشی اور جنوں اور غشی اور اتنا نشہ کہ چلنے میں پاؤں لڑکھڑائیں ناقض وضو ہیں ۔ (درمختار ج ۱ ص ۱۳۳)۔

مسئلہ ۴۰ :            بالغ کا قہقہہ یعنی آواز سے ہنسی کہ آس پاس والے سنیں اگر جاگنے میں رکوع سجدہ والی نماز میں ہو وض ٹوٹ جائے گا اور نماز فاسد ہو جائے گی۔ (شامی ج ۱ ص ۱۳۰۔۱۳۴)۔

مسئلہ ۴۱ : اگر نماز کے اندر سوتے میں یا نماز جنازہ یا سجدہ تلاوت میں قہقہ لگایا تو وضو نہیں جائے گا وہ نماز یا سجدہ فاسد ہے ۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۲)۔

مسئلہ ۴۲ :            اور اگر اتنی آواز سے ہنسا کو خود اس نے سنا، پاس والوں نے نہ سنا تو وضو نہیں جائے گا نماز جاتی رہے گی۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۲)۔

مسئلہ ۴۳ :            اگر مسکرایا کہ دانت نکلے اور آواز بالکل نہیں نکلی تو اس سے نہ نماز جائے گی نہ وضو۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۲)۔

مسئلہ ۴۴ :            مباشرت فاحشہ یعنی مرد اپنے آلہ کو تندی کی حالت میں عورت کی شرمگاہ یا کسی مرد کی شرمگاہ سے ملائے یا عورت عورت باہم ملائیں بشرطیکہ کوئی شے حائل نہ ہو ناقض وضو ہے۔ (درمختار و شامی ج۱ ص ۱۳۶)۔

مسئلہ ۴۵ :            اگر مرد نے اپنے آلہ سے عورت کی شرمگاہ کو مس کیا اور انتشار آلہ نہ تھا عورت کا وضو اس حالت میں بھی جاتا رہے گا اگرچہ مرد کا وضونہ جائے گا۔ (شامی ج ۱ ص ۱۳۶، عالمگیری ج ۱ ص ۱۳)۔

مسئلہ ۴۶ :            بڑا استنجا ڈھیلے سے کرکے وضو کیا اب یاد آیا کہ پانی سے نہ کیا تھا اگر پانی سے استنجا مسنون طریق پر یعنی پاؤں پھیلا کر سانس کا زور نیچے کو دے کر کرے گا وضو جاتا رہے گا اور ویسے کرے گا تو نہ جائے گا مگر وض کر لینا مناسب ہے۔

مسئلہ ۴۷ :            پھڑ یا بالکل اچھی ہو گئی اس کا مُردہ پوست باقی ہے جس میں اوپر منہ اور اندر خلا ہے اگر اس میں پانی بھر گیا پھر دبا کر نکالا تو نہ وضو جائے گا نہ وہ پانی ناپاک ہاں اگر اس کے اندر کچھ تری خون وغیرہ کی باقی ہے تو وضو بھی جاتا رہے گا اور وہ پانی بھی نجس ہے۔

مسئلہ۴۸ :            عوام میں مشہور ہے کہ گھٹناپا ستر کھلنے یا اپنا پرایا ستر دیکھنے سے وضو جاتا رہتا ہے محض بے اصل بات ہے۔ ہاں وضو کے آدب سے ہے کہ ناف سے زانو کے نیچے تک سب ستر چھپا ہو بلکہ استنجا کے بعد فوراً ہی چھپا لینا چاہیئے کہ بغیر ضرورت ستر کھلا رہنا منع ہے اور دوسروں کے ستر کھولنا حرام ہے ۔

فائدہ  :     ستر عورت کھلنے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔

متفرق مسائل:

                        جو رطوبت بدن انسان سے نکلے اور وضو نہ توڑے وہ نجس نہیں مثلاً خون بہہ کر نہ نکلے یا تھوڑی قے کہ منہ بھر نہ ہو پاک ہے۔

مسئلہ ۱  :   خارش یا پھڑیوں میں جب کہ بہنے والی رطوبت نہ ہو بلکہ صرف چپک ہو کپڑا اس سے بار بار چھو کر اگرچہ کتنا ہی سن جائے پاک ہے۔

مسئلہ ۲  :  سوتے میں رال جو منہ سے گرے اگرچہ پیٹ سے آئے بدبودار ہو پاک ہے۔

مسئلہ ۳  :  مردے کے منہ سے جو پانی بہے نجس ہے۔

مسئلہ ۴  :  آنکھ دکھنے میں جو آنسو بہتا ہے نجس و ناقض وضو ہے اس سے احتیاط ضروری ہے۔

مسئلہ ۵  :  شیر خوار بچے نے دودھ ڈال دیا اگر وہ منہ بھر ہے نجس ہے  درہم سے زیادہ جگہ میں جس چیز کو لگ جائے ناپاک کر دے گا لیکن اگر یہ دودھ معدہ سے نہیں آیا بلکہ سینہ تک پہنچ کر پلٹ آیا تو پاک ہے۔

مسئلہ ۶  :  درمیان وضو میں اگر ریح خارج ہو یا کوئی ایسی بات ہو جس سے وضو جاتا ہے تو نئے سرے سے پھر وضو کرے وہ پہلے دھلے ہوئے بے دُھلے ہو گئے۔

مسئلہ ۷  :  چلّو میں پانی لینے کے بعد حدش ہوا وہ پانی بے کار ہو گیا کسی عضو کے دھونے میں نہیں کام آسکتا۔

مسئلہ ۸  :  منہ سے اتنا خون نکلا کہ تھوک سرخ ہو گیا اگر لوٹے یا کٹورے کہ منہ سے لگا کہ کلی کو پانی لیا تو لوٹا کٹورا اور کل پانی نجس ہو جائے گا۔ چلّو سے پانی لے کر کلی کرے اور پھر ہاتھ دھو کر کلی کے لئے پانی لے۔

مسئلہ ۹  :   اگر درمیان وضو میں کسی عضو کے دھونے میں شک واقع ہوا او ر یہ زندگی کا پہلا واقعہ ہے تو اس کو دھولے  اور اگر اکثر شک پڑا رہتا ہے تو اسکی طرف التفات نہ کرے یونہی اگر بعد وضو کے شک ہو تا اس کا کچھ خیال نہ کرے۔ (درمختار و شامی ج ۱ ص ۱۳۹)۔

مسئلہ ۱۰ : جو باوضو تھا اب اسے شک ہے کہ وضو ہے یا ٹوٹ گیا تو وضو کرنے کی اسے ضرورت نہیں۔ ہاں کر لینا بہتر ہے جب کہ یہ شبہہ بطور وسوسہ نہ ہوا کرتا ہو اور اگر وسوسہ ہے تو اسے ہرگز نہ مانے اس صورت میں احتیاط سمجھ کر وضو کرنا احتیاط نہیں بلکہ شیطان لعین کی اطاعت ہے۔

مسئلہ ۱۱ :  اور اگر بے وضو تھا اب اسے شک ہے کہ میں نے وضو کیا یا نہیں تو وہ بلا وضو ہے اس کو وضو کرنا ضروری ہے۔

مسئلہ ۱۲ : یہ معلوم ہے کہ وضو کے لئے بیٹھا تھا اور یہ یاد نہیں کہ وضو کیا یا نہیں تو اسے وضو کرنا ضروری نہیں۔

مسئلہ ۱۳ : یہ یاد ہے کہ پاخانہ یا پیشاب لے لئے بیٹھا تھا مگریہ یاد نہیں کہ پھرا بھی یا نہیں تو اس پر وضو فرض ہے۔

مسئلہ ۱۴ : یہ یاد ہے کہ کوئی عضو دھونے سے رہ گیا مگر معلوم نہیں کہ کون سا عضو تھا تو بایاں پاؤں دھولے۔ (درمختار و شامی ج ۱ ص ۱۳۹)۔

مسئلہ ۱۵ : میانی میں تری دیکھی مگر یہ معلوم نہیں کہ پانی ہے یا پیشاب تو اگر عمر کا پہلے واقعہ ہے تو وضو کرلے اور اس جگہ کو دھولے اور اگر بار ہا ایسے شبے پڑتے ہیں تو اس کی طرف توجہ نہ کرے شیطانی وسوسہ ہے۔

ماخوذ از:
بہار شریعت، جلد1مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button