بہار شریعت

وصیت کے متعلق مسائل

وصیت کے متعلق مسائل

وصیت کرنا قرآن مجید اور احایث نبویہ علی صاحبہا الصلو ۃ والسلام سے ثابت ہے رب تبارک و تعالی قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے ـ:

یوصیکم اللہ فی اولادکم ق للذکر مثل حظ الانثیین ج فان کن نسآئً فوق اثنتین ج وان کانت واحدۃً فلھا النصف ط ولابویہ لکل واحدٍ منھما السدس مما ترک ان کان لہٗ ولدٌ ج فان لم یکن لہٗ ولدٌ و رثہٗ ابواہ فلامہ الثلث ج فان کان لہٗ اخوۃٌ فلامہ السدس من بعد وصیۃٍ یوصی بھا او دینٍ ط ابآئکم وابنآئ کم لا تدرون ایھم اقرب لکم نفعًا ط فریضـۃً من اللہ ط ان اللہ کان علیمًا حکیمًا o(جز ۴ سورۃ النساء رکوع ۲)

متعلقہ مضامین

ترجمہ اس کا یہ ہے:

"اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں کے برابر ہے پھر اگر صرف لڑکیاں ہوں اگر چہ دو سے اوپر، تو ان کو ترکہ کی دو تہائی اور اگر ایک لڑکی ہو تو اس کے لئے آدھا، اور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا حصہ اگر میت کو اولاد ہو، پھر اگر اس کی اولاد نہ ہو اور ماں باپ چھوڑے تو ماں کا تہائی حصہ، پھر اگر اس کی کوئی بہن بھائی ہوں تو ماں کا چھٹا حصہ، بعد اس وصیت کے جو کرگیا اور بعد دین کے، تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے تم کیا جانو کہ ان میں کون تمہارے زیادہ کام آئے گا، یہ حصہ باندھا ہوا ہے اللہ کی طرف سے بیشک اللہ علم والا حکمت والا ہے۔

قرآن مجید کے چوتھے پارے میں سورئہ نساء کے اس دوسرے رکوع میں اللہ تعالی وصیت کا ذکر چار مرتبہ فرمایا جس میں تقسیم وراثت کو ادائیگی وصیت اور ادائیگی قرض کے بعد رکھا اسی رکوع کی آخری آیات سے کچھ پہلے فرمایا

من بعد وصیۃً یوصی بھا او دینٍ غیر مضآرٍ ج وصیۃً من اللہ ط واللہ علیمٌ حکیمٌ ط

میت کی وصیت اور دین نکال کر جس میں اس نے نقصان نہ پہنچایا ہو، یہ اللہ کا ارشاد ہے اور اللہ علم والا حکمت والا ہے۔

اور فرماتا ہے:

یاایھا الذین امنوا شھادۃ بینکم اذا حضر احدکم الموت حین الوصیۃ اثنان ذوا عدلٍ منکم واخران من غیرکم ان انتم ضربتم فی الارض فاصابتکم مصیبۃ الموت ط(سوئہ مائدہ پ ۷)

” یعنی، اے ایمان والو تمہاری آپس کی گواہی، جب تم میں کسی کو موت آئے وصیت کرتے وقت، تم میں کے دو معتبر شخص ہیں یا غیروں میں کے د و جب تم ملک میں سفر کوجاؤ پھر تمہیں موت کا حادثہ پہنچے”۔

احادیث وصیت

حدیث ۱: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کسی مسلمان کے لئے یہ مناسب نہیں کہ اس کے پاس وصیت کے قابل کوئی شے ہو اور وہ بلاتاخیر اس میں اپنی وصیت تحریر نہ کردے۔(مشکوۃ باب الوصایا ص ۲۶۵)

حدیث۲: صحیح بخاری و صحیح مسلم سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی، وہ فرماتے ہیں کہ میں فتح مکہ کے سال اس قدر بیمار ہوا کہ موت کے قریب ہوگیا تو میرے پاس رسول اللہ ﷺ عیادت فرمانے کے لئے تشریف لائے میں نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ میرے پاس کثیر مال ہے اور میری بیٹی کے سوا اس کا کوئی وارث نہیں (اصحاب فرائض میں سے)تو کیا میں اپنے کل مال کی وصیت کردوں ، آپ نے جواب ارشاد فرمایا”نہیں "میں نے عرض کیا تو کیا دو ثلث کی وصیت کردوں ، آ پ نے فرمایا نہیں ، میں نے عرض کیا تو کیا آدھے مال کی آپ نے فرمایا نہیں ، میں نے عرض کیا کہ کیا تہائی مال کی وصیت کردوں ، آ پ نے فرمایا”تہائی مال”اور تہائی مال بہت ہے ، تیرا اپنے ورثاء کو غنی چھوڑنا اس سے بہتر ہے کہ تو انہیں محتاج چھوڑے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائیں اور بلاشبہ تو اللہ کی راہ میں اللہ کی رضا جوئی کے لئے کچھ خرچ نہیں کرے گا مگر یہ کہ تجھے اس کا اجر دیا جائے گا یہاں تک کہ وہ لقمہ جو تو اپنی بیوی کے منہ میں اٹھا کر رکھے۔(متفق علیہ ۔ مشکوۃ)

حدیث۳: امام ترمذی نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا انھوں نے کہا کہ حضور ﷺ میری بیماری میں عیادت کے لئے تشریف لائے آپ نے فرمایا کہ کیا تم نے وصیت کردی میں نے عرض کیا جی ہاں ، آپ نے فرمایاکتنے مال کی وصیت کی، میں نے عرض کیا راہ خدا میں اپنے کل مال کی، آپ نے فرمایا ، اپنی اولاد کے لئے کیا چھوڑا، میں نے عرض کیا وہ لوگ اغنیا یعنی صاحب مال ہیں ، آپ نے فرمایا دسویں حصہ کی وصیت کرو، تو میں برابر کم کرتا رہا۔۔ یہاں تک کہ آپ نے فرمایا ثلث مال کی وصیت کرو اور ثلث مال بہت ہے(مشکوۃص ۲۶۵)

حدیث ۴: ابو داؤد اور ابن ماجہ حصرت ابو امامہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روای، انھوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو حجتہ الوداع کے سال اپنے خطبہ میں ارشاد فرماتے سنا کہ بے شک اللہ تعالی نے ہر حق والے کو اس کا حق عطا فرمادیا پس وارث کے لئے کوئی وصیت نہیں (مشکوۃ ص۲۶۵) ترمذی کی ر وایت میں یہ الفاظ مزید ہیں کہ”بچہ عورت کا ہے اور زانی کے لئے سنگساری، اور ان کا حساب اللہ پر ہے”۔دار قطنی کی روایت میں ہے آپ نے فرمایا”وارث کے لئے کوئی وصیت نہیں مگر یہ کہ ورثہ چاہیں "(مشکوۃ ص ۲۶۵)

حدیث۵: امام ترمذی، ابو داؤد، ابن ماجہ اور امام احمد نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مردو عورت اللہ جل جلالہ کی اطاعت و فرمانبرداری ساٹھ سال( لمبے زمانہ) تک کرتے رہیں پھر ان کا وقت موت قریب آجائے اور وصیت میں ضرر پہنچائیں تو ان کے لئے دوزخ کی آگ واجب ہوتی ہے ،پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے آیت تلاوت فرمائی من بعد وصیۃٍ یوصی بھا او دینٍ غیر مضآرٍ اللہ تعالی کے کلام وذالک الفوز العظیم تک (مشکوۃ ص۲۶۵)

حدیث۶: ابن ماجہ حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایاجس کی موت وصیت پر ہو(جو صیت کرنے کے بعد انتقال کرے) وہ عظیم سنت پر مرا اور اس کی موت تقوی اور شہادت پر ہوئی اور اس حالت میں مرا کہ اس کی مغفرت ہوگئی(مشکوۃ باب الوصایا ص ۲۶۶)

حدیث۷: ابو داؤد حضرت عمر بن شعیب سے روایت کرتے ہیں وہ اپنے باپ شعیب سے اور شعیب اپنے باپ عمر بن العاص رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت بیان کرتے ہیں کہ عاص بن وائل نے وصیت کی کہ ا س کی جانب سے سو (۱۰۰)غلام آز اد کئے جائیں تو اس کے بیٹے ہشام نے پچاس غلام آزاد کئے پھر اس کے بیٹے عمرو نے چاہا کہ اس کی جانب سے بقایا پچاس غلام آزاد کردے پس اس نے(اپنے بھائی یا ساتھیوں یا اپنے دل میں )کہا کہ رسول اللہ سے دریافت کرلوں پس وہ آئے نبی ﷺ کی خدمت میں اور عرض کیا۔ یارسول اللہ ﷺ میرے باپ نے وصیت کی تھی کہ اس کی جانب سے سو(۱۰۰)غلام آزاد کئے جائیں اور یہ کہ ہشام نے اس کی جانب سے پچاس غلام آزاد کردیئے ہیں اور اس پر پچاس باقی رہ گئے ہیں تو کیا میں اس کی طرف سے (اپنے باپ کی طرف سے) یہ پچاس آزاد کردوں تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر وہ مسلمان ہوتا پھر تم اس کی طرف سے غلام آزاد کرتے یا صدقہ کرتے یا حج ادا کرتے تو اس کو یہ پہنچتا (مشکوۃ ص ۲۶۶)

حدیث ۸: ابن ماجہ و بیہقی حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے "جو شخص اپنے وارث کی میراث کاٹے گا اللہ تعالی قیامت کے دن جنت سے اس کی میراث کو کاٹ دے گا(مشکوۃ ص ۲۶۶)

مسائل فقہیہ

وصیت کرنا جائز ہے قرآن کریم سے، حدیث شریف سے اور اجماع امت سے اس کی مشروعیت ثابت ہے۔ حدیث شریف میں وصیت کرنے کی ترغیب دی گئی ہے( جوہر ہ نیرہ ج ۲ و بدائع ج ۷ ص۳۳۰)شریعت میں ایصاء یعنی وصیت کرنے کامطلب یہ ہے کہ بطور احسان کسی کو اپنے مرنے کے بعد اپنے مال یا منفعت کا مالک بنانا(تبیین از عالمگیری ج ۶ ص ۹۰)وصیت کا رکن یہ ہے کہ یوں کہے” میں نے فلان کے لئے اتنے مال کی وصیت کی یا فلاں کو میں نے وصیت کی(محیط السرخسی از عالمگیری ج ۶ ص ۹۰)وصیت میں چار چیزوں کا ہونا ضروری ہے(۱)موصی یعنی وصیت کرنے والا (۲)موصی لہ یعنی جس کے لئے وصیت کی جائے (۳)موصی بہ یعنی جس چیز کی وصیت کی جائے(۴)وصی یعنی جس کو وصیت کی جائے(کفایہ، عنایہ وعالمگیری، کفایہ از عالمگیری ج۶ ۹ مطبوعہ کوئٹہ پاکستان ، مصری چھاپہ)

مسئلہ۱: وصیت کرنا مستحب ہے جب کہ ا س پر حقوق اللہ کی ادائیگی باقی نہ ہو،اگر اس پر حقوق اللہ کی ادائیگی باقی ہے جیسے اس پر کچھ نمازوں کا ادا کرنا باقی ہے یااس پر حج فرض تھا ادا نہ کیا یا روزہ رکھنا تھا نہ رکھا تو ایسی صورت میں ان کے لئے وصیت کرنا واجب ہے( تبیین از عالمگیری ج ۶ ص۹۰ و قدوری، در مختار، رد االمحتار)

مسئلہ۲ : وصیت چار قسم کی ہے(۱)واجبہ جیسے زکوۃ کی وصیت اور کفارات واجبہ کی وصیت اور صدقہ، صیام و صلوۃ کی وصیت (۲) مباحہ، جیسے وصیت اغنیا کے لئے (۳)وصیت مکروہہ، جیسے اہل فسق و معصیت کے لئے وصیت جب یہ گمان غالب ہ ووہ مال وصیت گناہ میں صرف کرے گا(در مختار و رد االمحتار ج ۵ص۴۵۳)۔(۴) اس کے علاوہ کے لئے وصیت مستحب ہے۔

مسئلہ۳: وصیت کا رکن ایجاب و قبول ہے، ایجاب وصی کی طرف سے اور قبول موصی لہ کی طرف سے، امام اعظم اور صاحبین کے نزدیک(بدائع ج ۷ ص ۳۳۱)

مسئلہ۴: موصی لہ صراحتہً یا دلالتہً موصی کی وصیت کو قبول کرلے، صراحتہً یہ ہے کہ صاف الفاظ میں کہہ دے کہ میں نے قبول کیا اور دلالۃً یہ ہے کہ مثلاً موصی لہ وصیت کو منظور یا نا منظور کرنے سے قبل انتقال کرجائے تو اس کی موت اس کی قبولیت سمجھی جائے گی اور وہ چیز اس کے ورثاء کو وراثت میں دیدی جائے گی ۔(الوجیز لکردری از عالمگیری ج ۶ ص ۹۰)

مسئلہ ۵: وصیت قبول کرنے کا اعتبار موصی کی موت کے بعد ہے اگر موصی لہ نے موصی کی زندگی ہی میں اسے قبل کیا یا رد کیا تو یہ باطل ہے، موصی لہ کو اختیار رہے گا کہ وہ موصی کے انتقال کے بعد وصیت کو قبول کرے(سراجیہ از عالمگیری ج ۲ ص ۹۰)

مسئلہ۶: وصیت کو قبول کرنا کبھی عملاً بھی ہوتا ہے جیسے وصی کا وصیت کو نافذ کرنا یا موصی کے ورثاء کے لئے کوئی چیز خریدنا یا موصی کے قرضوں کو اداکرنا وغیرہ(محیط السرخسی از عالمگیری ج ۶ ص ۹۰)

مسئلہ ۷: وصیت کی شرط یہ ہے کہ مالک بنانے کا اہل ہو اور موصی لہ مالک بننے کا اہل ہو اور موصی بہ موصی کی موت کے بعد قابل تملیک مال یا منفعت ہو، (کفایہ عالمگیری ج ۶ ص ۹۰، بدائع ج ۷ ص ۴۳۲، رد االمحتار ج ۵ ص ۴۵۴)

مسئلہ ۸: ایصاء کا حکم یہ ہے کہ مال وصیت موصی لہ کی ملکیت میں اسی طرح داخل ہوجاتا ہے جیسے ہبہ کیا ہوا مال(کفایہ از عالمگیری ج ۶ ص ۹۰، در مختار و بدائع ج ۷ ص۲۳۳)

مسئلہ۹: مستحب یہ ہے کہ انسان اپنے تہائی مال سے کم میں وصیت کرے خواہ ورثاء مالدار ہوں یا فقراء (ہدایہ و عالمگیری ج ۶ ص ۹۰، قدوری ، جوہرہ نیرہ)

مسئلہ۱۰: جس کے پاس مال تھوڑا ہو اس کے لئے افضل یہ ہے کہ وہ وصیت نہ کرے جب کہ اس کے وارث موجود ہوں اور جس شخص کے پاس کثیر مال ہو اس کے لئے افضل یہ ہے کہ وہ اپنے ثلث مال سے زیادہ وصیت نہ کرے( رد االمحتار ج ۵، بدائع ج ۷، خزانتہ المفتیین از عالمگیری ج۶ ص ۹۰)

مسئلہ ۱۱: موصی لہ وصیت قبول کرتے ہی موصی بہ کا مالک بن جاتا ہے خواہ اس نے موصی بہ کو قبضہ میں لیا ہو یا نہ لیا ہو اور اگر موصی لہ نے وصیت کو قبول نہ کیا رد کردیا تو وصیت باطل ہوجائے گی۔(کافی از عالمگیری ج ۶ ص۹۰)

مسئلہ۱۲: وصیت ثلث مال سے زیادہ کی جائز نہیں مگر یہ کہ وارث اگر بالغ ہیں اور نابالغ یا مجنون نہیں ،اور وہ موصی کے موت کے بعد ثلث مال سے زائد کی وصیت جائز کردیں تو صحیح ہے۔موصی کی زندگی میں اگر وارثوں نے اجازت دی تو اس کا اعتبار نہیں ۔موصی کی موت کے بعد اجازت معتبر ہے۔(عالمگیری ج ۶ ص ۹۰ وہدایہ)

مسئلہ۱۳: وارثوں کی اجازت کے بغیر اجنبی شخص کے لئے تہائی مال میں وصیت صحیح ہے۔(تبیین از عالمگیری ج ۶ ص ۹۰)

مسئلہ۱۴: موصی نے اگر اپنے کل مال کی وصیت کردی اور اس کا کوئی وارث نہیں ہے تو وصیت نافذ ہوجائے گی بیت المال سے اجازت لینے کی حاجت نہیں (خزانتہ المفتیین از عالمگیری ج ۶ ص ۹۰)

مسئلہ۱۵: احناف کے نزدیک وارث کے لئے وصیت جائز نہیں مگر اس صورت میں جائز ہے کہ وارث اس کی اجازت دیدیں اور اگر کسی نے وارث اور اجنبی دونوں کے لئے وصیت کی تو اجنبی کے حق میں صحیح ہے اور وارث کے حق میں ورثہ کی اجازت پر موقوف رہے گی اگر انھوں نے جائز کردی تو جائز ہے اور اجازت نہیں دی تو باطل، اوریہ اجازت موصی کی حیات میں معتبر نہیں یہاں تک کہ اگر وارثوں نے موصی کی حیات میں اجازت دی تھی پھر بھی انھیں موصی موت کے بعد رجوع کرلینے کا حق ہے(فتاوی قاضی خان از عالمگیری ج ۶ ص۹۰)

مسئلہ۱۶: وارث اور غیر وارث ہونے کا اعتبار موصی کی موت کے وقت ہے کہ بوقت وصیت یعنی اگر موصی لہ بوقت وصیت موصی کا وارث تھا اور موصی کی موت کے وقت وارث نہ رہا تو وصیت صحیح ہوگی اور بوقت وصیت وارث نہیں تھا پھر بوقت موت وارث ہوگیا تو وصیت باطل ہوجائے گی۔ مثال کے طور پر اگر موصی نے اپنے بھائی کے لئے وصیت کی اس حال میں کہ بھائی وارث تھا پھر موت سے پہلے موصی کے لڑکا پیدا ہوگیا تو بھائی کے حق میں وصیت صحیح ہوگئی۔اور اگر اس نے اپنے بھائی کے لیے اس حال میں وصیت کی کہ موصی کا لڑکا موجود ہے پھر موت سے پہلے اس کے لڑکے کا انتقال ہوگیا تو بھائی کے حق میں وصیت باطل ہوجائے گی(تبیین از عالمگیری ج ۶ ص۹۱)

مسئلہ۱۷: وارثوں کی اجازت سے جب وصیت جائز ہوگئی تو جس کے حق میں وصیت جائز کی گئی وہ موصی بہ کا مالک ہوجائے گا خواہ اس نے قبضہ نہ لیا ہو وارث کو اب رجوع کرنے کا حق نہیں رہا، وارث کی اجازت صحیح ہونے کے لئے شیوع مانع نہیں (یعنی موصی بہ کا مشترک ہونا)۔(کافی از عالمگیری ج ۶ ص۹۱)

مسئلہ۱۸: کسی نے وارث کے لئے وصیت کی دوسرے وارث نے اس کی اجازت دیدی اگر یہ اجازت دینے والا وارث بالغ مریض ہے تو اگر یہ اپنے مرض سے صحت یاب ہوگیاتو اس کی اجازت صحیح ہوگئی اور اگر اس بیماری میں فوت ہوگیا تو اس کی یہ اجازت بمنزلہ ابتدائے وصیت کے قرار پائے گی یہاں تک کہ اگر موصی لہ اس متوفی اجازت دینے والے کا وارث ہے تو یہ وصیت جائز نہ ہوگی مگر یہ کہ متوفی کے دوسرے ورثاء اس کی اجازت دیدیں اور اگر اس صورت میں موصی لہ وارث نہیں بلکہ اجنبی تھا تو یہ وصیت صحیح ہوگی مگر ثلث مال میں جاری ہوگی(محیط از عالمگیری ج ۶ ص ۹۱ مطبوعہ پاکستان)

مسئلہ۱۹: جس وصیت کا جواز و نفاذ ورثہ کی اجازت پر ہے ان میں اگر بعض ورثاء نے اجازت دے دی اور بعض نے اجازت نہ دی یعنی بعض نے رد کردی تو اجازت دینے والے ورثہ کے حصہ میں نافذ ہوگی اور دوسرے کے حق میں باطل(کافی از عالمگیری ج ۶ ص۹۱)

مسئلہ۲۰: ہر وہ مقام جہاں ورثہ کی اجازت کی حاجت ہے اس اجازت میں شرط یہ ہے کہ مجیز اہل اجازت سے ہو مثلاً بالغ اور عاقل اور صحیح یعنی غیر مریض ہو(خزانتہ المفتیین از عالمگیری ج ۶ ص۹۱)

مسئلہ۲۱: موصی کی وصیت اپنے قاتل کے لئے جائز نہیں خواہ موصی کا قتل اس نے عمداً کیا ہو یا خطائً، خواہ موصی نے اپنے قاتل کے لئے وصیت زخمی ہونے سے قبل کی ہو یا بعد میں لیکن اگر وارثوں نے اس وصیت کو جائز کردیا تو امام ابو حنیفہ اور امام محمد رحمہما اللہ تعالی کے نزدیک جائزہے(مسبوط از عالمگیری ج ۶ ص ۹۱ وقدوری)

مسئلہ۲۲: ان صورتوں میں قاتل کے لئے وصیت جائز ہے جب کہ قاتل نابالغ بچہ یا پاگل ہو اگر چہ ورثاء اس کو جائز نہ کریں یا یہ کہ قاتل کے علاوہ موصی کا کوئی وارث نہ ہو یہ امام ابو حنیفہ اور امام محمد رحمہما اللہ تعالی کے نزدیک ہے۔(عالمگیری ج ۶ ص۹۱)

مسئلہ۲۳: کسی عورت نے مرد کو کسی دھار دار لوہے کی چیز سے یا بغیر دھار چیز سے مارا پھر اسی مرد نے اس قاتلہ کے لئے وصیت کی پھر اس سے نکاح کرلیا تو اس عورت کو اس مرد کی میراث نہ ملے گی نہ وصیت،اس کو صرف اس کا مہر مثل ملے گا، مہر مثل مہر معین سے جس قدر زیادہ ہوگا وہ صیت شمار ہوکر باطل قرار پائے گا(عالمگیری ج ۶ص۹۱)

مسئلہ۲۴: عمداً قتل میں معاف کردینا جائز ہے اور خطائً قتل ہوا اور معاف کردیا تو یہ وصیت شما رہوگالہذا ثلث مال میں نافذ ہوگا۔(عالمگیری ج ۶ ص ۹۱)

مسئلہ۲۵: موصی نے کسی شخص کے لئے وصیت کی پھر موصی لہ کے خلاف دلیل قائم ہوگئی کہ وہ موصی کا قاتل ہے اور بعض ورثاء نے اس کی تصدیق کی اور بعض نے تکذیب تو موصی لہ مقتول کی دیت ادا کرنے میں تکذیب کرنے والے ورثاء کو موصی لہ بقدر ان کے حصہ کے دیت ادا کرے گا اور ان کے حصہ میں اس کے لئے وصیت کرنے والے ورثاء کو موصی لہ بقدر ان کے حصہ کے دیت ادا کرے گا اور ان کے حصہ میں اس کے لئے وصیت باطل ہوگی۔ (عالمگیری ج ۶ ص۹۱)

مسئلہ ۲۶: وصیت جائز ہے اپنے وارث کے بیٹے کے لئے اور جائز ہے وصیت قاتل کے باپ دادا کے لئے اور قاتل کے بیٹے پوتے کے لئے۔(فتاوی قاضی خان از عالمگیری ج ۶ ص۹۱)

مسئلہ۲۷: اگر یہ وصیت کی کہ فلاں کے گھوڑے پر ہر ماہ دس روپے خرچ کئے جائیں تو وصیت صاحب فرس(یعنی گھوڑے کے مالک)کے لئے ہے لہذا اگر مالک نے گھوڑا بیچ دیا تو وصیت باطل ہوجائے گی۔(ظہیریہ از عالمگیری ج۶ ص۹۱)

مسئلہ۲۸: مسلم کی وصیت ذمی کے لئے اور ذمی کی وصیت مسلمان کے لئے جائز ہے(کافی ازعالمگیری ج ۶ ص۹۱)

مسئلہ۲۹: ذمی کی وصیت کافر حربی غیر مستامن کے لئے (جو دار السلام میں امان لئے نہ ہو) صحیح نہیں ۔ (بدائع از عالمگیری ج ۴ ص ۹۲)

مسئلہ۳۰: کافر حربی دار الحرب میں ہے اور مسلمان دار الاسلام میں ہے اس مسلمان نے اس کافر حربی کے لئے وصیت کی تو یہ وصیت جائز نہیں اگرچہ ورثہ اس کی اجازت دیں اور اگر حربی موصی لہ دار الاسلام میں امان لے کر داخل ہوا اور اپنی وصیت حاصل کرنے کا قصد و ارادہ کیا تو اسے مال وصیت سے کچھ لینے کا اختیار نہیں خواہ ورثاء اس کی اجازت دیں اور اگر موصی بھی دار الحرب میں ہو تو اس میں مشائخ کا اختلاف ہے(محیط از عالمگیری ج ۶ ص۹۲)

مسئلہ۳۱: کافر حربی دار الاسلام میں امان لے کر آیا مسلمان نے اس کے لئے وصیت کی تو یہ وصیت ثلث مال میں جائز ہوگی خواہ ورثاء اس کی اجازت دیں یا نہ دیں لیکن ثلث مال سے زائد میں ورثاء کی اجازت کی ضرورت ہے، کافر حربی مستامن کے لئے یہ حکم ہبہ کرنے اور صدقہ نافلہ دینے کا ہے(تاتار خانیہ از عالمگیری ج ۶ ص ۹۲)

مسئلہ۳۲: مسلمان کی وصیت مرتد کے لئے جائز نہیں (فتاوی قاضی خاں از عالمگیری ج ۶ ص ۹۲)

مسئلہ۳۳ـ: کسی شخص نے وصیت کی لیکن اس پر اتنا قرض ہے کہ اس کے پورے مال کو محیط ہے تو یہ وصیت جائز نہیں مگر یہ کہ قرض خواہ اپنا قرض معاف کردیں (ہدایہ از عالمگیری ج ۶ ص۹۲)

مسئلہ۳۴: وصیت کرنا اس کا صحیح ہے جو اپنا مال بطور احسان و حسن سلوک کسی کو دے سکتا ہو لہذا پاگل ، دیوانے اور مکاتب و ماذون کا وصیت کرنا صحیح نہیں اور یونہی اگر مجنون نے وصیت کی پھر صحت پاکر مرگیا یہ وصیت بھی صحیح نہیں کیوں کہ بوقت وصیت وہ اہل نہیں تھا(ہدایہ والاختیار شرح المختار از عالمگیری ج ۶ ص۹۲)

مسئلہ۳۵: بچہ کی وصیت خواہ وہ قریب البلوغ ہوجائز نہیں (فتاوی قاضی خاں از عالمگیری ج ۶ ص ۹۲)

مسئلہ۳۶: وصیت مذاق میں ،جبر و اکراہ کی حالت میں اور خطائً منہ سے نکل جانے سے صحیح نہیں (بدائع از عالمگیری ج ۶ ص ۹۲)

مسئلہ۳۷: آزاد عاقل خواہ مرد ہو یا عورت اس کی وصیت جائز ہے اور وہ مسافر جو اپنے مال سے دور ہے اس کی وصیت جائز ہے(فتاوی قاضی خاں از عالمگیری ج ۶ ص۹۲)

مسئلہ ۳۸: پیٹ کے بچہ کی اور پیٹ کے بچے کے لئے وصیت جائز ہے بشرطیکہ وہ بچہ وقت وصیت سے چھ ماہ سے پہلے پہلے پیدا ہوجائے(عالمگیری ج ۶ ص۹۲)

مسئلہ ۳۹: اگر کسی شخص نے یہ وصیت کی کہ”میری یہ لونڈی فلاں کے لئے ہے مگر اس کے پیٹ کا بچہ نہیں "تو یہ وصیت اور استثناء دونوں جائز ہیں (کافی از عالمگیری ج ۶ ص ۹۲)

مسئلہ ۴۰: موصی نے اپنی بیوی کے پیٹ میں بچہ کے لئے وصیت کی پھر وہ بچہ موصی کے انتقال اور اسکی وصیت کے ایک ماہ بعد مرا ہوا پیدا ہوا تو اس کے لئے وصیت صحیح نہیں اور اگر زندہ پیدا ہوا پھرمرگیا تو وصیت جائز ہے موصی کے تہائی مال میں نافذ ہوگی اور اس بچہ کے وارثوں میں تقسیم ہوگی، اورا گر موصی کی بیوی کے دو جڑواں بچے ہوئے یعنی ایک ہی حمل میں اور ان میں سے ایک زندہ اور ایک مردہ ہے تو وصیت زندہ کے حق میں نافذ ہوگی اور اگر دونوں زندہ پیدا ہوئے پھر ایک انتقال کرگیا تو وصیت ان دونوں کے درمیان نصف نصف نافذ ہوگی اور جس بچہ کا انتقال ہوگیا اس کا حصہ اس کے وارثوں کی میراث ہوگا(عالمگیری ج ۶ ص۹۲)

مسئلہ۴۱: موصی نے یہ وصیت کی کہ اگر فلاں عورت کے پیٹ میں لڑکی ہے تو اس کے لئے ایک ہزار روپے کی وصیت ہے اور اگر لڑکا ہے تو اس کے لئے دو ہزار روپے کی وصیت ہے پھر اس عورت نے چھ ماہ سے ایک یوم قبل لڑکی کو جنم دیااور اس کے دو دن یا تین دن بعد لڑکا جنا تو دونوں کے لئے وصیت نافذ ہوگی اور موصی کے تہائی مال سے دی جائے گی(عالمگیری ج ۶ ص۹۲)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button