بہار شریعت

وصیت پر شہادت کے متعلق مسائل

وصیت پر شہادت کے متعلق مسائل

مسئلہ ۱: دو وصیوں نے گواہی دی کہ میت نے ان کے ساتھ فلاں کو وصی بنایا ہے اور خود وہ بھی وصی ہونے کا دعویدار ہے تو یہ شہادت قبول کرلی جائے گی اور اگر وہ فلاں دعویدار نہیں ہے تو ان کی شہادت قبول نہیں کی جائے گی(محیط السرخسی از عالمگیری ج ۶ ص۱۵۸)

مسئلہ ۲: میت کے دو بیٹوں نے گواہی دی کہ ان کے باپ نے فلاں کو وصی کو بنایا اور وہ فلاں بھی اس کا مدعی ہے تو یہ شہادت استحساناً قبول کرلی جائے گی لیکن اگر وہ فلاں مدعی نہیں ہے بلکہ انکاری ہے اورباقی ورثہ اس کے وصی ہونے کا دعوی نہیں کررہے تو ان (بیٹوں ) کی شہادت مقبول نہیں (عالمگیری ج ۶ ص۱۵۸)

مسئلہ ۳: دو آدمیوں نے جن کا میت پر قرضہ ہے گواہی دی کہ میت نے فلاں کو وصی بنایا ہے اور اس نے وصی ہونا قبول کرلیا ہے اور فلاں بھی اس کا مدعی ہے تو یہ شہادت استحساناً مقبول ہے لیکن اگر وہ مدعی نہیں ہے تو یہ شہادت قبول نہ ہوگی (عالمگیری ج ۶ ص۱۵۹)

مسئلہ ۴: ایسے دو آدمیوں نے جن کا میت پر قرضہ ہے گواہی دی کہ میت نے فلاں کو وصی بنایا ہے اور وہ فلاں بھی مدعی تو استحساناً ان کی گواہی مقبول ہے اور اگر وہ فلاں مدعی نہیں تو مقبول نہیں (عالمگیری ج ۶ ص۱۵۹)

مسئلہ ۵: وصی کے دو بیٹوں نے گواہی دی کہ فلاں نے ہمارے باپ کو وصی بنایا ہے اور وصی بھی دعویدار ہے لیکن ورثہ اس کے مدعی نہیں ہے تو یہ شہادت نا مقبول ہے قاضی کے لئے جائز نہیں کہ وہ اس کو وصی مقرر کرے(عالمگیری ج ۶ ص۱۵۹)

مسئلہ ۶: دو وصیوں میں سے ایک وصی کے دوبیٹوں نے گواہی دی کہ میت نے ہمارے باپ کووصی بنایا اور ساتھ ہی فلاں کو بھی وصی بنایا تو اگر باپ اس کا مدعی ہے تو ان کی شہادت نے باپ کے حق میں قابل قبول ہے نہ اجنبی کے حق میں قابل قبول، ہاں اگرباپ وصی ہونے کا مدعی نہیں بلکہ دعوی ورثہ کی طرف سے ہے اس صورت میں ان کی شہادت قبول کرلی جائے گی(عالمگیری ج ۶ ص۱۵۹)

مسئلہ ۷: دو گواہوں نے گواہی دی کی میت نے اس شخص کو وصی بنایا اور اس سے رجوع کرکے اس دوسرے کو وصی بنایا تو یہ شہادت قبول کرلی جائے گی(عالمگیری ج ۶ص ۱۵۹)

مسئلہ ۸: دو گواہوں نے گواہی دی کہ میت نے اس شخص کو وصی بنایا پھر وصی کے دو بیٹوں نے گواہی دی کہ موصی نے ان کے باپ کو معزول کردیا اور فلاں کو وصی بنادیا تو ان دونوں بیٹوں کی گواہی مقبول ہے، (عالمگیری ج ۶ ص۱۰۵)

مسئلہ ۹: دو گواہوں میں سے ایک گواہ نے گواہی دی کہ میت نے جمعرات کے دن وصیت کی اور دوسرے گواہ نے گواہی دی کہ ا س نے جمعہ کے دن وصیت کی تو یہ شہادت مقبول ہے۔(عالمگیری ج ۶ ص۱۵۹)

مسئلہ ۱۰: دو وصیوں نے نابالغ وارث کے حق میں شہادت دی کہ میت نے ان کے لئے اپنے کچھ مال کی وصیت کی ہے یا کسی دوسرے کے کچھ مال کی وصیت کی ہے تو ان کی شہادت قبول نہیں کی جائے گی یہ شہادت باطل ہے، اگر انھوں نے یہ شہادت بالغ وارث کے حق میں دی تو امام اعظم علیہ الرحمہ کے نزدیک میت کے مال میں نا مقبول ہے اور غیر کے مال میں قبول کرلی جائے گی، او رصاحبین کے نزدیک دونوں قسم کے مال میں شہادت جائز ہے(ہدایہ از عالمگیری ج ۶ ص۱۵۹)

مسئلہ ۱۱: موصی لہ معلوم ہے لیکن موصی بہ معلوم نہیں ، گواہوں نے موصی لہ کے لئے اس کی وصیت کی گواہی دی تو یہ گواہی مقبول ہے اور موصی بہ کی تفصیل ورثہ سے معلوم کی جائے گی(محیط از عالمگیری ج ۶ ص۱۵۹)

مسئلہ ۱۲: دو شخصوں نے دوسرے دو آدمیوں کے حق میں گواہی دی کہ ان کا میت پر ایک ہزار روپے دین ہے اور ان دونوں نے پہلے دو شخصوں کے حق میں گواہی دی کہ ان کا میت پر ایک ہزار روپے دین ہے تو ان دونوں فریقوں کی شہادت ایک دوسرے کے حق میں قبول کرلی جائے گی لیکن اگر ان دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کے لئے ایک ایک ہزار کی وصیت کی گواہی دی تو اس صورت میں ان کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی(عالمگیری ج ۶ کتاب الوصایا ص ۱۵۹)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button