بہار شریعت

وصیت سے رجوع کر نے کے متعلق مسائل

وصیت سے رجوع کر نے کے متعلق مسائل

مسئلہ۱: وصیت کرنے والے کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ اپنی وصیت سے رجوع کرلے ، یہ رجوع کبھی صریحا ًہوتا ہے اور کبھی دلالتہً ۔صریحاً کی صورت یہ ہے کہ صاف لفظوں میں کہے کہ میں نے وصیت سے رجوع کرلیا یا اسی قسم کے اور کوئی صریح لفظ بولے۔ اور دلالتہً رجوع کرنے کی صورت یہ ہے کہ کوئی ایسا عمل کرے جو رجوع کرلینے پر دلالت کرے، اس کے لئے اصل کلی یہ ہے کہ ہر ایسا فعل جسے ملک غیر میں عمل میں لانے سے مالک کا حق منقطع ہوجائے، اگر موصی ایسا کام کرے تو یہ اس کا اپنی وصیت سے رجوع کرنا ہوگا۔ اسی طرح ہر وہ فعل جس سے موصی بہ میں زیادتی اور اضافہ ہوجائے اور ا س زیادتی کے بغیر موصی بہ کو موصی لہ کے حوالے نہ کیا جاسکے تو یہ فعل بھی رجوع کرنا ہے، اسی طرح ہر وہ تصرف جو موصی بہ کو موصی کی ملکیت سے خارج کردے یہ بھی رجوع کرنا ہے(عالمگیری ج ۶ ص ۹۲)ان اصولوں سے مندرجہ ذیل مسائل نکلتے ہیں :

مسئلہ۲: موصی نے کسی کپڑے کی وصیت کی پھر اس کپڑے کو کاٹا اور سی لیا یا روئی کی وصیت کی پھر اسے سوت بنالیا یا سوت کی وصیت کی پھر اسے بن لیایا لوہے کی وصیت کی پھر اسے برتن بنالیا تو یہ سب صورتیں وصیت سے رجوع کرلینے کی ہیں (عالمگیری ج ۶ ص ۹۹۳)

مسئلہ۳: چاندے کے ٹکڑے کی وصیت کی پھر اس کی انگوٹھی بنالی یا سونے کے ٹکڑے کی وصیت کی پھر اس کا کوئی زیور بنالیا یہ رجوع صحیح نہیں ہے(محیط از عالمگیری ج ۶ ص۹۳)

مسئلہ۴: اگر موصی نے موصی بہ کو فروخت کردیا پھر اس کو خرید لیا اس نے موصی بہ کو ہبہ کردیاپھر اس سے رجوع کرلیا تو وصیت باطل ہوجائے گی(عالمگیری ج ۶ ص۹۲)

مسئلہ۵: جس بکری کی وصیت کردی تھی اسے ذبح کرلیا یہ بھی وصیت سے رجوع کرلینا ہے لیکن جس کپڑے کی وصیت کی تھی اسے دھویا تو یہ رجوع نہیں (عالمگیری ج ۶ ص۹۳)

مسئلہ۶: پہلے وصیت کردی پھر اسے سے منکر ہوگیا تو اس کا یہ انکار اگر موصی لہ کی عدم موجودگی میں ہو تو یہ رجوع نہیں لیکن اگر موصی لہ کی موجودگی میں انکار کیا تو یہ وصیت سے رجوع ہے(مبسوط از عالمگیری ج ۶ ص۹۳)

مسئلہ۷: موصی نے کہا کہ میں نے فلاں کے لئے جو بھی وصیت کی وہ حرام ہے یا ربو(سود)ہے تو یہ رجوع نہیں لیکن اگر یہ کہا کہ وہ باطل ہے تو یہ رجوع ہے(کافی از عالمگیری ج ۶ ص ۹۳)

مسئلہ۸: لوہے کی وصیت کی پھر اس کی تلوار یا زرہ بنالی تو یہ رجوع ہے(عالمگیری ج ۶ ص ۹۳)

مسئلہ۹: گیہوں کی وصیت کی پھر اس کا آٹا پسوالیا یا آٹے کی وصیت کی پھر اس کی روٹی پکالی تو یہ وصیت سے رجوع کرلینا ہے(عالمگیری ج ۶ ص۹۳)

مسئلہ۱۰: گھر کی وصیت کی پھر اس میں گچ کرایا یااس کو گرادیا تو یہ رجوع نہیں اگر اس کی بہت زیادہ لہسائی کرائی تو یہ رجوع ہے(قاضی خاں ازعالمگیری ج ۶ ص۹۳)

مسئلہ۱۱: زمین کی وصیت کی پھر اس میں انگور کا باغ لگایا یا دیگر پیڑ لگادیئے تو یہ رجوع ہے اور اگر زمین کی وصیت کی پھر اس میں سبزی اگائی تو یہ رجوع نہیں ۔(فتاوی قاضی خان از عالمگیری ج ۶ ص ۹۳)

مسئلہ۱۲: انگور کی وصیت کی پھر وہ منقی ہوگیا یا چاندی کی وصیت کی پھر وہ انگھوٹی تبدیل ہوگئی یا انڈے کی وصیت کی پھر اس سے بچہ نکل آیا ، گیہوں کی بال کی وصیت کی پھر وہ گیہوں ہوگیا اگر یہ تبدیلیاں موصی کی موت سے پہلے وقوع میں آئیں تو وصیت باطل ہوگئی اور اگر موصی کے انتقال کے بعد یہ تبدیلیاں ہوئیں تو وصیت نافذ ہوگی(عالمگیری ج ۶ ص ۹۴ مطبوعہ پاکستان)

مسئلہ۱۳: ایک شخص نے دوسرے کے مال میں ایک ہزار روپے کی وصیت کسی کے لئے کردی یااس کے کپڑے کی وصیت کردی اور اس دوسرے شخص یعنی مالک نے وصیت کرنے والے کی موت سے پہلے یا موت کے بعد اسے جائز کردیا تو اس مالک کے لئے اس وصیت سے رجوع کرلینا جائز ہے جب تک موصی لہ کے سپرد نہ کردے لیکن اگر موصی لہ نے قبضہ لے لیا تو وصیت نافذ ہوجائے گی کیونکہ مال غیر کی وصیت ایسی ہے جیسے مال غیر کو ہبہ کرنا لہذا بغیر تسلیم اور قبضہ کے صحیح نہیں (مسبوط از عالمگیری ج ۶ ص۹۴)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button