بر والدین

والدین کا نا فرمان اور دعائےرسول صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم

عربی حدیث:

حدثنا ابن أبی أویس، حدثنی أخی، عن سلیمان بن بلال، عن محمد بن ہلال، عن سعد بن إسحاق بن کعب بن عجرۃ السالمی ، عن أبیہ، قال إن کعب بن عجرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال النبی صلى اللہ علیہ وسلم: أحضروا المنبر، فلما خرج فرقی المنبر، فرقی أول درجۃ منہ قال: آمین. ثم رقی فی الثانیۃ فقال: آمین. ثم لما رقی الثالثۃ قال: آمین. فلما فرغ ونزل عن المنبر، قلنا یا رسول اللہ: لقد سمعنا منک الیوم شیئا ما کنا نسمعہ منک، قال: وسمعتموہ! قلنا: نعم، قال: إن جبریل علیہ السلام اعترض، قال: بعد من أدرک رمضان فلم یغفر لہ، فقلت: آمین، فلما رقیت  الثانیۃ قال: بعد من ذکرت عندہ فلم یصل علیک، فقلت: آمین، فلما رقیت الثالثۃ قال: بعد من أدرک عندہ أبواہ الکبر أو أحدہما؛ فلم یدخلاہ الجنۃ، فقلت: آمین.۔

اردو ترجمہ:

حضرت کعب بن عجرہ السالمی  رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:      ” منبر لاؤ۔“

منبر لایا گیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم اس کی پہلی سیڑھی پر چڑھے تو فرمایا:

”آمین۔“

 جب دوسری سیڑھی چڑھے تو فرمایا:       ” آمین۔“

 تیسری سیڑھی چڑھے تو فرمایا:              ” آمین۔“

 جب آپ خطبے  سے فراغت کے  بعد منبر سے نیچے تشریف لائے تو صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین  نے عرض کیا:

”یارسول اللہ ! ہم نے آج آپ سے  ایسی بات سنی  ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں سنی۔“

 آپ نے فرمایا :                   ”تم نے سن لیا ہے؟“

 صحابہ کرام نے عرض کیا:      ”جی ۔“

فرمایا:     ” میرے پاس جبرئیل علیہ السلام تشریف لائے  اور کہا :

             ”ہلاکت ہو اس کے لیے جس نے رمضان کا مہینہ پایا  اور اس کی بخشش نہ  ہوئی۔“

میں نے کہا:           ” آمین۔“

جب میں دوسری سیڑھی پہ چڑھا  تو جبرئیل علیہ السلام نے کہا :

”ہلاکت ہو اس شخص کے لیے جس کے پاس آپ کا ذکر ہو اور اس نے آپ پر درود نہ پڑھا۔“

 میں نے کہا:           ” آمین۔“

جب میں تیسری سیڑھی پر چڑھا تو جبرائیل علیہ سلام نے کہا:

” ہلاکت  ہو اس شخص کے لیے جس نے والدین کو یا ان میں سے ایک کو بڑھاپے کی حالت میں پایا اور ان کی وجہ سے وہ جنت میں داخل نہ ہوسکا۔“

 میں نے کہا:           ” آمین۔“۔

تخریج الحدیث:

نتائج الافکار(۲۴،۴)،

الادب المفرد(۶۴۶)،

ابن خزیمۃ(۱۸۸۸)۔

عربی حدیث:

حدثنا أبو نعیم، حدثنا سلمۃ بن وردان، سمعت أنسا؛ یقول: ارتقى رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم على المنبر فرقى درجۃ، فقال: آمین. ثم ارتقى درجۃ، فقال: آمین. ثم ارتقى الدرجۃ الثالثۃ، فقال: آمین. ثم استوى فجلس، فقال أصحابہ: على ما أمنت یا رسول اللہ؟ قال: أتانی جبریل علیہ السلام، فقال: رغم أنف امرئ ذکرت عندہ فلم یصل علیک، فقلت آمین. ورغم أنف امرئ أدرک أبواہ أو أحدہما فــــــــلم یدخل الجنۃ، فقلت: آمین.۔

اردو ترجمہ:

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم منبر کی پہلی سیڑھی پر چڑھے تو فرمایا:

”آمین۔“

 دوسری سیڑھی چڑھے تو فرمایا: ” آمین۔“

 تیسری سیڑھی چڑھے تو فرمایا:              ” آمین۔“

 جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم درست ہو کر بیٹھ گئے تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین  نے عرض کیا:

”یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم !آمین کس چیز پر فرمایا؟“

 آپ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے فرمایا :

            ” میرے پاس جبرئیل علیہ السلام تشریف لائے  اور کہا :

             ”اس شخص  کی ناک خاک آلود ہو جس کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کا ذکر ہو اور اس نے آپ پر درود نہ پڑھا۔“

 میں نے کہا:           ” آمین۔“

(پھر حضرت جبرئیل علیہ السلام نے کہا:)”اس شخص  کی ناک خاک آلود ہو جس نے والدین کو یا ان میں سے ایک کو بڑھاپے کی حالت میں پایا اور ان کی وجہ سے وہ جنت میں داخل نہ ہوسکا۔“

 میں نے کہا:           ” آمین۔“۔

تخریج الحدیث:

التاریخ الکبیر(۲۲۰،۷)،

ابن حبان فی "الثقات”(۴۲۷،۷)

البیھقی فی شعب الایمان(۱۴۷۱)۔

کتاب: والدین سے حسن سلوک

کتاب: بر الوالدین، مؤلف: امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ

ماخوذ از:
کتاب: بر الوالدین، مؤلف: امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ
حوالہ جات:
کتاب: والدین سے حسن سلوک

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button