بر والدین

والدین  سے صلہ رحمی جنت میں داخل کر دیتی ہے

عربی حدیث:

 حدثنا مالک بن إسماعیل، حدثنا عیسى بن عبد الرحمن، عن طلحۃ، عن عبد الرحمن بن عوسجۃ، عن البراء رضی اللہ عنہ؛ قال: جاء أعرابی فقال: یا نبی اللہ، علمنی عملا یدخلنی الجنۃ، قال: لئن کنت أقصرت الخطبۃ لقد أعرضت المسألۃ، أعتق النسمۃ، وفک الرقبۃ. قال: أولیستا واحد؟ قال: لا. عتق النسمۃ أن تعتق النسمۃ، وفک الرقبۃ أن تعین على الرقبۃ، والمنیحۃ الوکوف ، والفیء على ذی الرحم الظالم، فإن لم تطق، فتأمر بالمعروف، وانہ عن المنکر، فإن لم تطق، فکف لسانک إلا من خیر.

اردو ترجمہ:

حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: یا نبی اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم! مجھے ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت میں داخل کر دے ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

تونے مختصر لیکن تفصیل طلب بات کی ۔نسمہ آزاد کرو اور رقبہ غلام چھڑاؤ۔

 اس نے عرض کیا :               کیا یہ دونوں ایک ہی نہیں ؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

 نہیں، نسمہ کو آزاد کرنا تو یہ ہے کہ غلام آزاد کرو اور رقبہ (غلام چھوڑانا) یہ ہے کہ اس کے چھڑانے میں کسی کی مدد کرو ۔ (اور فرمایا) تیز رفتار اونٹنی تحفے میں دو،ظالم رشتہ دار کے ساتھ صلہ رحمی کرو ، اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو، اگر اس کی استطاعت بھی نہ ہوتو اپنی زبان کو اچھی باتوں کے علاوہ ہر بات سے محفوظ رکھو۔۔

تخریج الحدیث:

البخاری( ۵۹۹۱) ،

الادب المفرد( ۶۸) (۶۹)۔

کتاب: والدین سے حسن سلوک

کتاب: بر الوالدین، مؤلف: امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ

ماخوذ از:
کتاب: بر الوالدین، مؤلف: امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ
حوالہ جات:
کتاب: والدین سے حسن سلوک

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button