بر والدین

غیر مسلم والدین سے حسن سلوک

عربی حدیث:

حدثنا محمد بن عمر بن یوسف، حدثنا إسرائیل، حدثنا سماک، عن مصعب بن سعد، عن أبیہ سعد بن أبی وقاص رضی اللہ عنہ؛ قال: نزلت فی أربع آیات من کتاب اللہ عز وجل: حلفت أمی أن لا تأکل ولا تشرب حتى تفارق  محمدا صلى اللہ علیہ وسلم، فأنزل اللہ تعالى: ۔{وإن جاہداک على أن تشرک بی ما لیس لک بہ علم فلا تطعہما وصاحبہما فی الدنیا معروفا} والثانیۃ: أنی کنت أخذت سیفا فأعجبنی، فقلت: یا رسول اللہ، ہب لی ہذا، فنزلت: {یسألونک عن الأنفال} والثالثۃ: أنی کنت مرضت, فأتانی النبی صلى اللہ علیہ وسلم، فقلت: یا رسول اللہ، إنی أرید أن أقسم مالی، أفأوصی بالنصف؟ قال: لا، فقلت: الثلث؟ فسکت، فکان الثلث بعد جائزا، والرابعۃ: إنی شربت الخمر مع قوم من الأنصار، فضرب رجل منہم أنفی بلحی جمل، فأتیت النبی صلى اللہ علیہ وسلم فأنزل عز وجل تحریم الخمر

اردو ترجمہ:

حضرت مصعب بن سعدرحمۃ اللہ علیہ اپنے والد محترم سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:  قرآن پاک میں چار آیات میرے بارے میں نازل ہوئیں:

  • میری والدہ نے یہ قسم اٹھائی کہ جب تک میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ چھوڑ دوں تب تک وہ کچھ نہ کھائیں پئیں گی تو اللہ رب العزت نے یہ آیت نازل فرمائی۔

{وإن جاہداک على أن تشرک بی ما لیس لک بہ علم فلا تطعہما وصاحبہما فی الدنیا معروفا}ترجمہ: اور ا گروہ دونوں تجھے اس بات پر مجبورکریں کہ تو اس چیزکومیراشریک مان جس کی حقیقت کا تجھے علم نہیں ہے تو ان کی بات نہ مان اور (اس کے باوجود) دنیا میں ان کے ساتھ حسن سلوک سے وقت بسرکر ۔(لقمان:15)

  • میں نے (مال غنیمت میں) ایک تلوار پائی جو مجھے بہت پسند آئی تو میں نے عرض کی :

 ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ مجھے تحفے میں دے دیں ۔“

تو یہ آیت نازل ہوئی ہوئی۔

سْــــَٔـلُوْنَک عَنِ الْاَنْفَالِ  ۭقُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰہ وَالرَّسُوْلِ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰہ وَاَصْلِحُوْا ذَاتَ بَینِکمْ  ۠ وَاَطِیعُوا اللّٰہ وَرَسُوْلَہٓ اِنْ کنْتُمْ مُّؤْمِنِینَ}ترجمہ: اے حبیب ! مسلمان آپ سے اموال غنیمت کے بارے میں پوچھتے ہیں ، فرما دیجئے :” اموالِ غنیمت اللہ اور رسول کے ہیں پس اگر تم ایمان رکھتے ہو تو اللہ سے ڈرو، آپس کے تعلقات درست رکھو اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو۔      (الانفال،1)

  • حالت مرض میں میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے عرض کیا:

” یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں چاہتا ہوں کہ میں اپنے مال کو تقسیم کر دوں،کیا میں آدھے مال کو تقسیم کرنے کی وصیت کر دو ں؟“

آپ نے ارشاد فرمایا:                 ”نہیں ۔“

میں نے پوچھا:” تو پھر ایک تہائی کی وصیت کر دوں؟“

             اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم خاموش ہو گئے(منع نہیں فرمایا)۔ اس کے بعد ایک تہائی مال کی وصیت کرنا جائز ہو گیا۔

  • میں نے انصار کے کچھ لوگوں کے ساتھ  شراب پی ، ان میں سے ایک آدمی نے میری ناک پر اونٹ کے جبڑے کی ہڈی ماردی ۔

میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ یا تو اللہ عزوجل نے شراب کی حرمت کی آیت نازل فرمادی۔

تخریج الحدیث:

احمد(۳۹۹۸،۱۰۳،۷)

 ابن حبان(۱۴۷۶)

وابو یعلی(۵۳۲۹)

کتاب: والدین سے حسن سلوک

کتاب: بر الوالدین، مؤلف: امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ

ماخوذ از:
کتاب: بر الوالدین، مؤلف: امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ
حوالہ جات:
کتاب: والدین سے حسن سلوک

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button