ARTICLES

وادیٔ عُرَنَہ حُدودِ حرم میں ہے یا نہیں

استفتاء : ۔کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اِس مسئلہ میں کہ فقہاء کرام کی عبارات میں ہے کہ ’’وادیٔ عُرنہ عرفات سے خارج ہے ‘‘ اگر عرفات سے خارج ہے تو کیا حُدودِ حرم سے بھی خارج ہے یا نہیں ؟ عرفات کی مسجد کہا ں ہے ، عرفات میں ہے یا اُس سے باہر؟

(السائل : حافظ محمد فاروق، میٹھادر، کراچی)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : وادیٔ عُرَنہ مکہ مکرمہ کی ایک وادی ہے اور مسجد نمرہ کا اَگلاحصہ اُس وادی میں ہے اور یہ حُدودِ عرفات اور حُدودِ حرم دونوں سے باہر حِل میں واقع ہے ، حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ا نے اس وادی میں مشہور ترین خطبہ ارشاد فرمایا، جو خطبہ حجۃ الوداع کے نام سے معروف ہے ، اس اعتبار سے اس وادی کی شان نرالی ہے ، اسی طرح’’تاریخ مکہ‘‘ (257) میں ہے ۔ اور علامہ حسن بن محمد سعید عبد الغنی مکی حنفی لکھتے ہیں :

و قال العلامۃ طاہر سنبل فی حواشیہ المسمّاۃ ’’ضیاء الأبصار‘‘ عند قول صاحب الدر المختار : ’’عرفات کلّہا موقف إلا بطن عرنۃ بفتح الراء و ضمہا وادٍ من الحرم غربی مسجد عرفۃ‘‘،ما نصّہ قولہ : واد من الحرم فیہ نظر، فإن المشاہدۃ تقتضی خلافَ ذلک… ثم رأیت فی ’’الروضۃ‘ ‘ للإمام الناطفی ما نصّہ : و عُرنۃ لیست من عرفۃ، عُرنۃ و عرفۃ لیستا من الحرم.(258)

یعنی، علامہ طاہر سنبل حنفی نے ’’ضیاء الأبصار‘‘ کے نام سے لکھے ہوئے اپنے حواشی میں صاحبِ در مختار (265)کے قول کہ ’’پورا عرفات وقوف کی جگہ ہے سوائے بطنِ عُرنہ کے اور عُرنہ مسجد عرفہ کی مغربی جانب ایک واوی ہے ‘‘، صاحبِ دُر نے جو اپنے قول میں تصریح کی کہ حرم کی ایک وادی ہے اس میں نظر (و فکر) ہے ، پس بے شک مشاہدے کا تقاضا اِ س کے خلاف ہے (یعنی وہ حرم سے نہیں ہے )۔پھر میں نے امام ناطفی کی کتاب ’’الروضہ‘‘ میں دیکھا جوانہوں نے تصریح فرمائی ہے وہ یہ ہے کہ (وادیٔ) عُرفہ عرفات سے نہیں ہے اور (وادیٔ) عُرفہ اور (میدان) عرفات دونوں حرم سے نہیں ہیں ۔ اور وادی عُرَنَہ کے عرفات سے خارج ہونے پر عباراتِ مُتون سے استدلال کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

ففیہا (أی عبارات المتون) : ثم صلّ بعد الزّوال الظُّہر و العصرَ إلخ… ثم رح بعد الجمع إلی الموقف، فدلّ علی أن موضع الجمع لیس من الموقف و صرّح بہ فی ’’غایۃ البیان‘‘ بأنہ لیس من عرفۃ، و کذا فی ’’غایۃ السروجی‘‘ کما فی ’’المنسک الکبیر‘‘ (259)

یعنی، پس مُتون کی عبارت میں ہے کہ پھر زوال کے بعد ظہر اور عصر پڑھ الخ… پھر جمع بین الصّلاتین کے بعد وقوف کی جگہ کی طرف جا۔ تو مُتون کی عبارت نے اس بات پر دلالت کی کہ جمع بین الصلاتین کی جگہ (یعنی بطنِ عُرنہ) وقوف کی جگہ نہیں ہے اور ’’غایۃ البیان‘‘(260) میں اس کی تصریح کی کہ وہ وادی عرفات میں (شامل) نہیں ہے ، اِسی طرح ’’غایۃ السروجی‘‘ میں ہے جیسا کہ ’’منسک کبیر‘‘(1 26) میں ہے ۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا کہ عرفات کی مسجد پوری کی پوری نہ خارج عرفات ہے اور نہ داخل چنانچہ ملا علی قاری حنفی متوفی 1014ھ لکھتے ہیں :

و ہو (أی مسجد نمرۃ) فی أواخر عرفات بقُرْبہا بل قیل : إن بعضہ منہا (262)

یعنی، مسجد نمرہ عرفات کے آخر میں اس کے قریب ہے بلکہ کہا گیا کہ اُس کا کچھ حصہ عرفات میں ہے ۔ اور مناسک ملا علی قاری کے ’’ حاشیہ‘‘ میں علامہ حسین بن محمد سعید عبدالغنی مکی حنفی لکھتے ہیں :

جزم صاحب ’’الغایۃ‘‘ بأن مسجد عرفۃ لیس من عرفات، و قال الطرابلسی، قیل : مقدم ہذا المسجد فی طرف وادی عُرنۃ لا فی عرفات (263)

یعنی، صاحب غایہ(264) نے اس بات پر جزم کیا کہ مسجد عرفہ عرفات میں نہیں ہے اور طرابلسی نے فرمایا کہ اس مسجد کا اگلا حصہ وادیٔ عُرنہ میں ہے نہ کہ عرفات میں ۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم الأربعاء، 14ذی القعدۃ1427ھ، 6دیسمبر 2006 م (272-F)

حوالہ جات

257۔ تاریخ مکہ، وادی عُرنہ، ص131

258۔ إرشاد الساری إلی مناسک الملاّ علی القاری، باب الوقوف بعرفات، فصل فی الجمع بین الصلاتین بعرفۃ، تحت قولہ : وھو فی أواخر عرفۃ بقولھا، ص 271۔272

259۔ إرشاد الساری إلی مناسک الملاّ علی القاری، باب الوقوف بعرفات، فصل فی الجمع بین الصلاتین بعرفۃ، تحت قولہ : وھو فی أواخر عرفۃ بقولھا، ص272

260۔ غایۃ البیان، کتاب الحج، ق 207/ب

261۔ جمع المناسک ، باب الوقوف بعرفۃ وأحکامہ، فصل فی الوقوف، ص228، أفغانستان

262۔ المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط، باب الوقوف بعرفۃ وأحکامہ، فصل فی الجمع بین الصّلاتین، بعرفۃ، تحت قولہ : فإذا اغتسل الخ، ص271

263۔ إرشاد السّاری إلی مناسک الملا علی القاری ،باب الوقوف بعرفات، فصل فی الجمع بین الصَّلاتین بعرفۃ، تحت قولہ : وھو فی أواخر عرفۃ بقربھا، ص281

264۔ غایۃ البیان، کتاب الحج، ق207/ب

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button