شرعی سوالات

نیلامی کی بیع میں اگر اصل مالک راضی ہو جائے تو بیع نافذ ہو جائے گی

نیلامی کی بیع میں اگر اصل مالک راضی ہو جائے تو بیع نافذ ہو جائے گی

بیع  الوفاء رہن کی ایک صورت ہے

سوال:

  زید کی زمین مع عمارت بینک میں گروی تھی بینک کو متعینہ وقت پر روپے کی عدم ادائیگی کی وجہ سے نیلامی کا وقت آ گیا۔ زید اپنی زمین پر مع عمارت اپنے چھوٹے بھائی کے نام سے خریدنا چاہتا تھا لیکن جس کے پاس روپے تھے وہ جان بوجھ  کر فرار ہو گیا بکر جو اسی گاؤں کا حاکم کہلا تا ہے اور مدرسہ کا صدر ہے زید کو خبر  بھجوائی کہ یا  زید خودلے ورنہ بکر وہ زمین مع عمارت مدرسہ کے لیے بتیس  ہزار ہی میں لے گا جب کہ اس وقت اس کی قیمت دولا کھ تک تھی اور بکر نے مدرسہ دستگیر یہ کے سابق ناظم اعلی اور زید کے چھوٹے بھائی کے سامنے یہ وعدہ کیا تھا کہ جب مطلوبہ روپے دے گا تو اس کو زمین مع عمارت واپس کر دے گا یہ وعدہ کر کے رجسٹری کرا لیا ۔ اب زید کو جب کچھ دنوں کے بعد مطلوبہ رقم حاصل ہو گئی تو اس نے زمین مع عمارت واپسی کا مطالبہ کیا تو بکر اپنے وعدے سے پھر گیا یہ کہہ کر کہ اس پر مدرسہ بنے گا۔ تواب در یافت طلب امر یہ ہے کہ کیا اس طرح دھو کہ دے کر قبضہ کرنا جائز ہے؟ اس پر کسی طرح کی تعمیر جائز ہے؟ کیا شرع شریف بکر کو زمین مع عمارت واپسی کام دیتی ہے؟ بکر کی وعدہ خلافی کا شرع میں کیا حکم ہے؟

جواب:

 بکر نے زید کی زمین مذکورہ کا دو معاملہ کیا ایک بینک یا کچہری والوں سے یہ بیع فضولی ہوئی اور دوسرا معاملہ خود زید سے کہ اس نے یہ وعدہ کیا کہ زید جب رو پے دیدے گا تو میں اس کی زمین مع عمارت واپس کر دوں گا یہ اگر اپنی شرائط کے ساتھ ہو تو اس کو شریعت میں بیع وفا کہا جا تا ہے۔ پہلے والے معاملہ کا حکم یہ ہے کہ وہ زید پر موقوف تھا زید اس کو رد کر دیتا تو رد ہو جا تا اور بکر زید کی اس زمین کا مالک ہی نہیں ہوتا لیکن سوال کی عبارت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بکر کے اس وعدہ پر بھروسہ کر کے زید بکر کی زمین خریدنے پر راضی ہو گیا اور بیع فضولی ما لک کی رضا اور اجازت پر ہی موقوف ہوتی ہے تو زید کی رضا مندی کی صورت میں پہلا معاملہ صحیح ہو گیا کچہری کی بیچ واقع ہو گئی اور بکر زمین کا مالک ہو گیا۔

 اب دوسرے معاملے میں بیع وفا کا حال سنیے بائع اور مشتری دونوں نے معاملہ اس طرح کیا کہ زمین کی واپسی کی شرط نفس  عقد میں شامل ہو اور خریدار نے اس شرط کو منظور کر لیا تو اب اس معاملہ کا شرعا رہن کا حکم ہو گا خریدار زمین کا مالک نہیں ہو گا اور بیچنے والا جب دام ادا کرے گا اس کو زمین واپس کرنی ہو گی ،اور اگر معاملہ میں شرط مذکور نہ ہو صرف خریدار نے وعدہ کیا ہو تو خریدار زمین کا مالک ہو جا تا ہے اس میں اس کے تصرفات جاری ہوں گے لیکن اگر وعدہ کے موافق اس نے زمین واپس نہ کی تو وہ الگ سے اس وعدہ خلافی کا گنہگار ہو گا۔

(فتاوی بحر العلوم، جلد4، صفحہ21، شبیر برادرز، لاہور)

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button